انجام ابھی باقی ہے! - محمد عرفان ندیم

بات یہیں پر رکنے والی نہیں، نواز شریف پر جو مقدمات چل رہے ہیں، اور ان کے جرائم کی جو فہرست ہے اس کو دیکھتے ہوئے نااہلی تو ایک معمولی سی بات ہے۔ یہ بات کسی صورت پھانسی، جلاوطنی یا کم از کم سیاست سے بے دخلی سے پہلے نہیں رکے گی۔ اس کی وضاحت کے لیے آپ کو ماضی میں جانا پڑے گا۔ اگر آپ موجودہ سیاست کو 70ء کی دہائی کی عینک لگا کر دیکھیں تو آپ کو ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف میں انتہا درجے کی مماثلت نظر آئے گی۔

70ء کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے ابھرتے ہوئے لیڈر تھے، انہو ں نے پاکستان کے مفاد میں کچھ ایسا موقف اپنایا اور اقدامات اٹھائے جو عالمی طاقتوں کے لیے ہرگز قابل قبول نہ تھے۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ ان کے خلاف اتحاد بنا جو بھٹو اور اس کے وژن کو کھو گیا۔ اس کے بعد جو ہوا دنیا جانتی ہے۔ پہلے ذوالفقار علی بھٹو کو مری منتقل کیا گیا، پھر وہ جیل گئے، عدالتوں کے دھکے کھائے اور آخر میں پھانسی کے پھندے پر جھول گئے۔

بھٹو ایک بہت بڑا لیڈر تھا۔ وہ پاکستان کو 'ایشیاء کا ٹائیگر' بناناچاہتا تھا اور لاہو ر میں عالمی اسلا می سربراہی کانفرنس بلا کر پاکستان کو عالم اسلم کا ہیرو بنا دیا تھا۔ وہ پاکستان کے ایٹم بم کا خالق تھا اور کہا کرتا تھا کہ ہمیں گھا س کھا کر بھی گزارا کر نا پڑا تو کر لیں گے لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔ پھر وہ پاکستان میں ورلڈ اسلامک بنک قائم کر کے ساری اسلامی دنیا کا سرمایہ پاکستان میں اکھٹا کر نا چاہتا تھا لیکن اس کے باوجود اس کے جرائم کی فہرست بہت طویل تھی۔مثلاً اس کے جرائم میں یہ بھی شامل تھا کہ وہ سر عام کہا کر تا تھا "ہاتھی مجھ سے ناراض ہے ،" ہم نے عربوں کو ہتھیار سپلائی کیے، ہم نے ایٹمی پلانٹ پر قومی مفاد کے مطابق فیصلہ کیا اور ہم ویت نام اور مشرق وسطٰی کے مسئلے پر اپنے مؤقف پر قائم رہے، اس لیے "ہاتھی مجھے دھمکیاں دیتا ہے ۔" بھٹو کا ایک قصور یہ بھی تھا کہ اس نے ویت نام جنگ میں چین کی اخلاقی مدد کی تھی اور "ہاتھی" کا مؤقف ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ مثلاً وہ کہا کرتا تھا " ہاتھی کا حافظہ بڑا تیز ہے، یہ میرا جرم معاف نہیں کرتا، میں نے چین سے تعلقات بہتر بنائے تو یہ میرا دشمن ہو گیا، میں نے عربوں کی سیاسی اور فوجی حمایت کی ہاتھی برا مان گیا، میں نے اسلا می سر براہی کانفرنس بلا نے کا اعلان کیا، ہاتھی نے اسے ایک ماہ ملتوی کرنے کا کہا۔ میں نے کر دیا، میں نے ایک ماہ بعد دوبارہ کانفرنس بلا نے کا ارادہ کیا تو ہاتھی نے پھر ملتوی کرنے کا کہا میں نے پھر کر دیا، لیکن جب ہاتھی نے تیسری بار ملتوی کر نے کا کہا تو میں سمجھ گیا اور شاہ فیصل کو اعتماد میں لے کر کانفرنس بلا نے کا اعلا ن کر دیا اور یوں ہاتھی ایک بار پھر میرا دشمن بن گیا۔" بھٹو کہا کر تا تھا کہ "ہم نے یونان اور ترکی میں صلح کرائی ہاتھی کو اچھا نہیں لگا، کو ریا نے اپنا تنازع ختم کر نے کے لیے ہم سے رابطہ کیا تو ہاتھی ہمارے بڑھتے ہو ئے قد سے 'جیلس' ہو نے لگا ۔" بھٹو کہا کرتا تھا "شکاری کتے میرے خون کے پیاسے سب سے زیادہ اس وقت ہو ئے جب ہم نے فرانس سے ایٹمی ری پراسیسنگ کا معاہدہ کیا اور اس کے بعد تو مجھے سر عام دھمکیاں دی گئیں کہ ہم تمہیں عبرتنا ک مثال بنا دیں گے ۔" بھٹو کے یہی جرائم تھے جن کی وجہ سے اسے پھانسی کے پھندے پر لٹکاناضروری تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف کی رہائی پر ڈیل یا بیانیہ پر قائم ؟ قادر خان یوسف زئی

اب آپ 2013میں آ جائیں اورنواز شریف کی سیاست کا تجزیہ کریں۔ 2013کے آغاز سے ہی نواز شریف نے بھی وہ غلطیاں دہرانی شروع کر دی تھیں جن کا ارتکاب بھٹو نے کیا تھا۔ مثلاً نواز شریف نے سی پیک کا منصوبہ شروع کیا جو عالمی طاقتوں کو کبھی ہضم نہیں ہو سکتا تھا، پھر نواز شریف نے اصولوں کی سیاست شروع کی، احتجاج کا جواب تحمل اور اپنی پر فارمنس سے دیا۔ نواز شریف نے سعودی-یمن تنازع پر غیر جانبدار رہنے کی پالیسی اپنائی۔ سابق جرنیل پرویز مشرف کا احتساب شروع کیا، اسٹبلشمنٹ کو اپنی اوقات میں رہنے کی ہدایت کی، عالمی طاقتوں سے ڈکٹیشن لینے سے صاف انکار کر دیا، نواز شریف نے معاشی استحکام کی پالیسیوں پر عمل درآمد شروع کیا۔ پھر ملک بھر میں میٹرو اور موٹر وے شروع کرنے کا اعلان کر دیا، پر امن ہمسائیگی کی بات کی، یہ سب وہ جرائم ہیں جن کی بنیاد پر نواز شریف کی نااہلی لازمی ہو چکی تھی۔

اگر نواز شریف کو فوری طور پر نااہل نہ کیا جاتا تو یہ اپنے وژن 2025ء میں کامیاب ہو جاتااور پاکستان دنیا کی ایک بڑی معاشی طاقت بن کر ابھرتا۔ دوسری طرف ن لیگ پاکستان کی مقبول جماعت بن جاتی اور یہ سب باتیں عالمی اور پاکستانی اسٹبلشمنٹ کے لیے ہرگز ہرگز قابل قبول نہ تھیں۔ لہٰذا وہی ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔

یہ بھٹو اور نواز شریف کے وہ سنگین جرائم تھے جن کی وجہ سے انہیں منظر عام سے ہٹانا ضروری ہوگیا تھا۔ جبکہ ان دونوں کے مقابلے میں ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے جرائم بہت چھوٹے اور انتہائی" معمولی " نو عیت کے تھے، اس لیے انہیں ہمیشہ ادب اور احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مثلاً مشرف نے صرف ایک منتخب جمہوری حکو مت کو برطرف کیا تھا، اس نے صرف ایک منتخب وزیراعظم کو جیل بھیجا تھا، اس نے صرف آئین ہی تو تو ڑا تھا، نے صرف رفیق تارڑ کو زبر دستی ایوان صدر سے رخصت ہی تو کیا تھا۔ وہ صرف 2004میں وردی اتارنے کے وعدے سے مکرا تھا، صرف ڈرون حملوں کی اجازت ہی تو دی تھی۔ کیا ہوا جو تین چار سو بندے پکڑ کر امریکہ کے حوالے کردیے؟ پاکستان کے اڈے امریکہ کے حوالے کر کے صرف آٹھ دس لاکھ افغانوں کو ہی تو مروایا تھا۔ پھر صرف چیف جسٹس سمیت پچاس، ساٹھ ججز کو نظر بند کیا، لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر حملہ کر کے سینکڑوں طلباء و طالبات کو شہید کروایا۔ ایل ایف او بھی پرویز مشرف کی ایجاد نہیں تھی، 2002ء کے انتخابات میں سیاسی جماعتوں کو بھی نہیں توڑا تھا، نام نہاد صدارتی ریفرنڈم بھی نہیں کروایا تھا اور اس میں 96 فیصد ووٹ بھی حاصل نہیں کیے تھے، اس نے پاکستان کے ہیرو ز کو گرفتار اور نظر بند بھی نہیں کیا تھا، اس نے شمالی اور جنوبی وزیرستان پر فوج کشی کر کے پاکستان میں دہشت گردی کی بنیاد بھی نہیں رکھی تھی، اس نے اکبر بگٹی کو بھی نہیں اڑا یا تھا اور بلوچوں کے دلوں میں نفرت کی آگ بھی نہیں بھڑکا ئی تھی۔ اس نے سپریم کو رٹ کے حکم کے باوجود نواز شریف کو گھسیٹ کر طیارے میں بھی نہیں دھکیلا تھا، اس نے ایک ہی اسمبلی سے دوسری بار صدر منتخب ہو نے کی کو شش بھی نہیں کی تھی اور اس نے اپنے لیے آئین کی دفعہ 63ون توڑنے کی بھی کو شش نہیں کی تھی۔ لیکن چونکہ یہ جرائم شمار نہیں ہوتے، اس لیے پرویز مشرف آج دنیا بھر میں آزادانہ گھومتا پھرتا ہے، اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   تڑیوں سے ترلوں تک - سید طلعت حسین

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد بات ختم ہو گئی ہے، وہ لکھ لیں کہ "پارٹی ابھی شروع ہوئی ہے،" نواز شریف کے جرائم کی جو فہرست ہے اس کے پیش نظر یہ معاملہ رکتا نظر نہیں آ رہا۔ اگر نواز شریف کا انجام ذوالفقار بھٹو جیسا نہ بھی ہوا تو کم از کم اتنا ضرور ہو گا کہ وہ ہمیشہ کے لیے سیاست سے آؤٹ کر دیے جائیں گے۔

Comments

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • یہ صرف بھرتی کا کالم ھے۔ لکھنے والے کا مطالعاتی ویژن زیادہ نہیں لگتا۔