قائدِ اعظم کا پیغام نوجوانوں کے نام - محمد ریاض علیمی

ملک کا مستقبل نوجوانوں کی معیار سوچ اور فکر پر منحصر ہوتا ہے، یہ جتنی بامقصد اور بلند ہوگی، ملک ترقی کی منازل اتنی تیزی سے طے کرنا، بصورت دیگر تنزلی اور پستی کی راہ لے گا۔ یہی وجہ ہے کہ قائدِ اعظم محمد جناح کو نوجوانوں سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ تھیں۔ تقریباً آپ اپنے ہر خطاب میں نوجوانوں کو کوئی نہ کوئی نصیحت یا پیغام ضرور دیتے تھے۔ نوجوان قائدِ اعظم کو مشعلِ راہ بناکر ملکی سلامتی و بقا اور نظریاتی و سیاسی استحکام کے لیے بہت بڑا اور اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

قائدِ اعظم نے ایک موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "پاکستان کو اپنے نوجوانوں بالخصوص طلباء پر فخر ہے جو ہمیشہ مشکل وقت میں آگے آگے رہتے ہیں طلباء مستقبل کے معمار ہیں۔ ان کو چاہیے کہ اعلیٰ تعلیم و تربیت حاصل کریں اور اپنی ذمہ داریوں کا پورا پورا احساس کریں ۔" اسی طرح قائد اعظم کی تقریروں میں اس بات پر زور ہو تا تھا کہ مسلمان اپنی ثقافت، معاشرت، تمدن سے بے گانہ ہوکر غیروں کے اندازِ رہن سہن کو نہ اپنا لیں۔ اسلامی ریاست بنانے کا مقصد ہی یہی تھا جہاں مسلمان اپنی تہذیب و تمدن کے مطابق آزادانہ بلاکسی رکاوٹ کے زندگی بسر کرسکیں۔ ۱۹۳۸ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے قائدِ اعظم نے فرمایا: "میں ہر گز نہیں چاہتا کہ ہماری آنے والی نسلیں اسلامی تمدن اور فلسفہ سے بالکل بے گا نہ ہوجائیں"۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ قائدِ اعظم نوجوانوں کو اسلامی تہذہب و تمدن میں ڈھل جانے کا درس دیتے تھے۔ قائدِ اعظم کی یہ تقریر اُن لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو ہر وقت پاکستان اور پاکستانیوں کو اغیار کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہیے کہ قائدِ اعظم نے پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا اور وہ پاکستانیوں کو بھی اسلامی تہذیب و تمدن کے قالب میں ڈھالنے کا درس دیتے تھے تاکہ پاکستانی نوجوان دینی روح کے حامل ہوں۔ اس کے علاوہ قائدِ اعظم اسلامی تمدن کے ساتھ ساتھ فلسفہ سے بھی آشنا رہنے کا سبق دے رہے ہیں تاکہ نوجوان تعلیم کے ہر شعبے کے ساتھ ساتھ فلسفہ کے میدان میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کرسکیں اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرسکیں نیز عصری تقاضوں کے مطابق نسلیں پروان چڑھ سکیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ نوجوانوں میں ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ موجود ہوتا ہے لیکن خدمت کے اس جذبہ کو بروئے کار لانے کا طریقہ اور اسلوب معلوم نہیں ہوتا۔ اگر کوئی اپنے تئیں ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہے تو وہ کس طرح ملک و قوم کی خدمت کرسکتا ہے؟ وہ کون سے اصول ہیں جن پر چل کر وہ ملک و قوم کی خدمت میں اپنا حصہ شامل کرسکتا ہے؟ قائدِ اعظم جب بھی مسلمانوں کو بیدار کرنے کے لیے مختلف مقامات پر تقریر کیا کرتے تھے تو اس وقت نوجوان یہی سوال اُن سے کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ نومبر ۱۹۳۹ء میں قائدِ اعظم نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا: "نوجوان پوچھتے ہیں کہ وہ اپنے ملک کی خدمت کس طرح کرسکتے ہیں۔ میرے نو جوان دوستو! ہمارا عمل ہادیٔ برحق صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اگر ہم میں سے ہر شخص اپنی تنظیم کرے تو یہ بھی ملک کی خدمت ہوگی۔ کیا ہر فرد کے عمل میں باقاعدگی اور تنظیم ہے؟ کیا ہر شخص مناسب وقت پر سوتا اور بیدار ہوتا ہے؟ کیا ہر شخص ٹریفک اصولوں کا خیال رکھتا ہے؟ اور سڑکوں پر کوڑا کرکٹ پھینکنے سے اجتناب کرتا ہے؟ کیا ہر ایک اپنا کام دیانت اور ذمہ داری سے کرتا ہے؟ کیا ہر شخص دوسرے کو ضرورت کے وقت اتنی امداد دیتا ہے جتنی وہ دے سکتا ہے؟ کیا ہر ایک برد بار اور متحمل ہے؟ یہ باتیں بظا ہر بے حد معمولی نظر آتی ہیں لیکن انہی میں تنظیم مضمر ہے۔ "

لکھنؤ میں خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: " نوجوانو! اپنی تنظیم کرو۔ یک جہتی اور مکمل اتحاد پیدا کرو اپنے آپ کو تربیت یافتہ اور مضبوط سپاہی بنا ؤ۔ اپنے اندر اجتماعی جذبہ اور رفاقت کا احساس پیدا کرو اور ملک و قوم کے نصب العین کے لیے وفاداری سے کام کرو "۔ قائدِ اعظم کی تقریر کے اس اقتباس میں صرف ملک کی خدمت کا طریقہ اور اسلوب ہی موجود نہیں بلکہ اس اقتباس میں انتہائی خوبصورتی سے نوجوانوں کی ذہنی، روحانی، اخلاقی اور جسمانی تربیت کے بھی سنہری اصول بھی بیان کیے گئے ہیں۔ اگر ہر شخص خود اپنی اصلاح کرلے اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرلے تو یقینی طور پر اس کے نتائج بہت اچھے اور ملک کی ترقی کے لیے کارآمد ثابت ہوں گے۔ نوجوانوں میں اتحاد اور اجتماعی جذبہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر اتحاد کے بجائے افتراق و انتشار ہوگا تو کوئی بھی قوم انہیں شکست سے دوچار کرسکتی ہے۔ لیکن اگر جوانوں میں اتحاد ہوگا تو کوئی بھی قوم ان کے سامنے نہیں ٹھہر سکے گی۔ ملک کی خدمت اور ملک کو آگے ترقی کی جانب گامزن کرنے کے لیے اپنی روحانی اور اخلاقی اصلاح کی ضرورت ہے۔

نوجوانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی ضرورت ہے۔ ہر شخص اگر اپنے آپ کی اصلاح کرلے تو یہ بھی ملک کی خدمت میں شمار ہوگا۔ آج کے دور میں بھی اگر نوجوانوں کے شب و روز کے معمولات کا مشاہدہ کیا جائے تو نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ ان کی زندگی کے زیادہ تر معمولات طبعی اور فطری اصولوں کے خلاف ہیں۔ بے جا کا موں میں وقت ضائع کرنا نوجوانوں کا بہترین مشغلہ بن چکا ہے۔ انٹر نیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال اُن کا شیوہ بن چکا ہے۔ اُن کی زندگی میں دیانت داری اور امانت داری کاتصور ہیچ ہے۔ اُن کے اندر اجتماعیت کا فقدان ہے۔ دورِ حاضر کے چیلنجز اس کے متقاضی ہیں کہ نوجوانوں میں اتحاد و یگانگت ہو۔ اُن کی زندگی کا کوئی لمحہ بے مقصد نہ گزرے۔ اُن کے شب و روز کے معمولات تضیع اوقات کا سبب نہ بنیں۔ وہ بہترین تعلیم یافتہ ہوں۔ جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ قائدِ اعظم کو نوجوانوں سے یہی توقع تھی۔

مارچ ۱۹۴۸ء میں ڈھاکہ میں قائد اعظم محمد علی جناح نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "میرے نوجوانو! میں تمہاری طرف توقع سے دیکھتا ہوں کہ تم پاکستان کے حقیقی پاسبان اور معمار ہو۔ دوسروں کے آلۂ کار مت بنو،ان کے بہکاوے میں مت آؤ۔ اپنے اندر مکمل اتحاد اور جمعیت پیدا کرو اور اس کی مثال پیش کر دو کہ جوان کیا کر سکتے ہیں "۔ یعنی نو جوان دوسری اقوام سے مرعوب نہ ہوں، بالخصوص دنیا کی ظالم اور استعماری طاقتوں کے نظریات سے متاثر نہ ہوں، ذہنی طور پر ان کے غلام نہ بنیں۔ اُن کی اپنی ایک شناخت ہو، نہ یہ کہ وہ دوسروں کی تقلید میں اپنی شناخت کھو بیٹھیں۔ ان کی اپنی زندگی ایسی ہو جو دوسروں کے لیے قابلِ تقلید بن سکے۔ دوسروں کے راستے پر چلنے کے بجائے دوسروں کو اپنے راستے پر چلانے کا نمونہ قائم کریں۔ یہ اُسی صورت ممکن ہے جب وہ خود اپنی اصلاح کریں۔ جب ہر شخص اپنی اصلاح کرے گا تو نتیجۃً معاشرہ امن کا گہوارہ بنے گا۔ ہر شخص کے دل میں دوسرے کا احترام ہوگاتو ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ پروان چڑھے گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */