ایڈورٹائزمنٹ: تعارف، شرعی حیثیت، حدود - شاد محمد شاد

تشہیرکو انگریزی میں ایڈورٹائزمنٹ(Advertisement)اورعربی میں ”إعلان“اور” دعاية“ کہتے ہیں، تشہیر کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی ذریعے سے لوگوں کواپنی مصنوعات(Products) یا خدمات (Services)کے بارے میں مطلع کرنا تاکہ اُن کی رغبت بڑھے اور زیادہ سے زیادہ لوگ اُس چیز کو خریدیں یا خدمات حاصل کریں ۔

تشہیر کے وسائل

تشہیر کے لیے عموماً ایسے ذرائعِ ابلاغ کو استعمال کیا جاتا ہے جن کے ذریعے جلد از جلد اور زیادہ لوگوں تک پیغام پہنچے اور اِس کے لیے ایسااسلوب اور طریقہ اختیار کیا جاتا ہے جو مؤثر ترین ہو، مثلا ًپرنٹ میڈیا جیسے اخبارات، جرائد ورسائل اور پمفلٹ وغیرہ میں اشتہارات دیے جاتے ہیں جو ہر روز لاکھوں لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچتے ہیں۔ اسی طرح ملٹی میڈیا، جیسے ٹی وی، ریڈیو اور انٹرنیٹ وغیرہ پرمصنوعات کی تعریف کے لیے دلچسپ الفاظ یا کوئی کہانی یا شارٹ فلم بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جسے کروڑوں لوگ دیکھتے اور سنتے ہیں۔ اس کے علاوہ تشہیر کے لیے سائن بورڈ کا بھی استعمال کیا جاتا ہے، جسے کسی ایسی جگہ نصب کیا جاتا ہے جہاں سے کثیر تعداد میں لوگوں کاآنا جانا ہو، جیسے سڑکوں کے کنارے، چوک میں، بڑی بڑی عمارات اور مارکیٹوں پر، اس کے علاوہ دیگر ذرائع جیسے کیلینڈر اور ڈائری وغیرہ کو بھی تشہیر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

تشہیر کےاقتصادی اثرات

اپنی مصنوعات کی شہرت اور اقتصادی ترقی کے لیے تشہیر ایک مؤثر ترین وسیلہ اور ذریعہ ہے جوکمپنی کی مصنوعات کی مانگ بڑھانے ان کو پھیلانے اور بیچنےمیں ممد ومعاون ثابت ہوتا ہے۔اسی طرح کبھی کبھار نئی پروڈکٹ پر ضخیم سرمایہ خرچ کرلیا جاتا ہےاور کسی بھی نئی پروڈکٹ کومتعارف کرانے اور صارف اور کسٹمر کی نظر میں اُسے وقعت دینے میں تشہیر کابڑا قوی اثر ہوتا ہے،تشہیر کے بغیر نئی پروڈکٹ کو ترویج نہیں ملتی اور کمپنی کو خسارےکے دلدل میں گرنا پڑتا ہے۔

دوسری طرف تشہیر کا فائدہ اخبارات، رسائل اور میڈیا والوں کو بھی پہنچتا ہےجن کی اکثر آمدنی تشہیر کے معاوضہ کی صورت میں ہوتی ہے۔ اگردیکھا جائے تو اس میں عوام کا بھی فائدہ ہے، کیونکہ اگر پرنٹ میڈیا یا ملٹی میڈیا والے تشہیرکا معاوضہ نہ لیتےتو اخبارات ورسائل اور دیگر ذرائعِ ابلاغ اتنے سستے اور کم قیمت میں لوگوں کے ہاتھوں تک نہ پہنچتے،اسی طرح تشہیر ہی کے ذریعے مختلف انواع کی پروڈکٹس اور خدمات کے بارے میں لوگوں کو اطلاع ملتی ہے۔ پروڈكٹز کی کوالٹی وصفات،ایک ہی نوع کی پروڈکٹس میں فرق اور ان کے دستیابی کے مقامات اور بنانے والوں کے بارے میں معلومات تشہیر کے ذریعے ہی حاصل ہوتی ہیں اور ہر فرد کواپنی وسعت کے مطابق اپنی ضرورت کی چیزتک رسائی ہوجاتی ہے۔

اگرچہ تشہیر کا یہ منفی پہلو بھی ہے کہ بعض ادارے اور کمپنیاں تشہیر پر حد سے زیادہ سرمایہ خر چ کرکے اس کے سارے اخراجات (Expenses) پروڈکٹ کی قیمت میں شامل کرلیتے ہیں،جس کی وجہ سے چیز مہنگی ہوجاتی ہے،لیکن اگر اس سلسلے میں اعتدال اور میانہ روی سے کام لیا جائےتو یہ خرابی کسی حد تک کم ہوسکتی ہے۔

4۔شرعی حیثیت

مصنوعات(Products)اور خدمات(Services) کو بیچنے کے لیے ان کی تشہیر کرنا تاکہ لوگوں کے علم میں آجائے اور اگر وہ خریدنا چاہیں تو خرید سکیں، بذاتِ خود جائز ہے،درج ذیل احادیث سے اس کا جواز ثابت ہوتا ہے:

ایک حدیث میں آتا ہےآنحضرت ﷺنے ایک صحابی کی چٹکی بھری اور یہ اعلان کیا کہ:”کون ہے جو مجھ سے یہ غلام خریدے؟“۔(مسند ابی یعلی، حدیث نمبر:3456)

یہ بھی پڑھیں:   کیا شیطان جیت رہا ہے؟ مجیب الحق حقی

اسی طرح ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کوفہ کے بازار میں اپنی تلوار لہراکر اعلان کررہے تھے کہ کون ہے جو مجھ سے میری تلوار خریدےگا۔(المعجم الاوسط،حدیث نمبر:7198)

شیخ یاسر بن طہ نے تشہیر کے جواز پریہ دلیل پیش کی ہے کہ تشہیر ایک طرح سے دلال(ایجنٹ) کے عمل کے مشابہ ہے،کیونکہ دلال بھی مصنوعات کی صفات بیان کرتاہے،کسٹمر کو ترغیب دیکر مصنوعات کے میسر ہونےکے مقامات کی طرف راہنمائی کرتا ہے اورفروخت کنندہ کے لیے گاہک مہیا کرتا ہے، تشہیر کا بنیادی مقصد بھی تقریبا یہی ہے، اور دلال کے عمل کے جائز ہونےپر تقریبا تمام اہلِ علم کا اتفاق ہے،لہذا اگرتشہیر میں شرعی خرابیوں (دھوکہ،جھوٹ،موسیقی اور حرام تصاویر وغیرہ)سے احتراز کیا جائے تو یہ بھی جائز ہے۔
المعاملات المالية المعاصرة في الفكر الاقتصادي الإسلامي (ص: 67)

الإعلان والدعاية فيهما شبه بعمل الدلال، وهو من يعرّف بمكان السلعة وصاحبها، وينادي في الأسواق عليها، وقد أجاز أهل العلم عمل الدلال، وجرى على ذلك عمل المسلمين، ولم ينقل إنكاره عن أحد من أهل العلم، ((وهذا يدل على أنها - أي الدِلالَة - من الأعمال المشروعة الرائجة المتوارثة بلا نكير)).

حدودِ شرعیہ

یہ بات تو اپنی جگہ درست ہے کہ اشتہارات آج کی دنیا میں مصنوعات اور خدمات وغیرہ کی ترویج کا اہم ذریعہ ہیں اور آج کے معاشرے میں یہ ایک بنیادی ضرورت بن چکی ہے،لیکن اشتہارات کی ایک بہت بڑی تعداد فحاشی، موسیقی اور اس جیسی دیگر شرعی خرابیوں پر بھی مشتمل ہوتی ہے،اس لیے ذیل میں تشہیر کےجواز کی حدود بیان کی جاتی ہیں،کسی بھی چیز کی تشہیر کرتےاور اشتہاربناتے وقت اِ ن حدود سے تجاوز کرنا شرعا درست نہیں ہے:

1۔پروڈکٹ کی صفات اور عیوب

سب سے پہلی اور بنیادی شرط تو یہ ہے کہ پروڈکٹ حلال ہو،پھرکبھی تشہیر کے وقت کسی چیز کی محض اطلاع دینا مقصودہوتی ہے،توایسی صورت میں یہ ضروری نہیں ہے کہ اس چیز کے عیوب کو بھی ذکر کیا جائے،البتہ جب عملاً خرید وفروخت کا معاملہ ہورہا ہو تو اس وقت خریدار کو اس چیز کے عیوب کے بارے میں بتانا ضروری ہے۔

لیکن اگر تشہیر کے وقت کسی چیز کا مکمل تعارف کرانا بھی مقصود ہوجس میں اس چیز کی خصوصیات اور فوائدذکر کیے جارہے ہوں تواس چیز کے درست صفات کا تذکرہ ضروری ہوگا،جھوٹ بول کرایسے فوائد کو ذکر کرنا جائز نہیں ہوگا جو درحقیقت اس چیز میں ہو ہی نہ،اسی طرح اس وقت اس چیز کے اندر پائے جانے والے عیوب کا حقیقت پسندی سے تذکرہ کرنا بھی ضروری ہوگا،کیونکہ اگر اس وقت عیوب نہ بتائے گئے تو خریدار صرف فوائد دیکھ کر چیزخرید لے گا، جس کی وجہ سے اُسے دھوکہ ہوگا جو کہ شرعاً جائز نہیں ہے۔(تجارتی کمپنیوں کا لائحہ عمل ص:239)

2۔ تصاویراور انسانی اعضاء کی نمائش

تشہیر میں کسی غیرجاندار چیز(جیسے درخت، پہاڑ وغیرہ) کی تصویر دکھانا بلاشبہ جائز ہے،البتہ جاندار کی تصویر کے حکم سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ذرائعِ ابلاغ دو قسم کے ہیں،ایک وہ ذرائع ہیں جن میں اشتہار کا کوئی پرنٹ نہیں نکالا جاتا، جیسے ملٹی میڈیا (سی ڈی،ٹی وی،کمپیوٹر وغیرہ)ذرائعِ ابلاغ کی دوسری قسم وہ ہے جس میں اشتہار کا باقاعدہ پرنٹ نکال کرشائع کیا جاتا ہے،جیسے پرنٹ میڈیا یعنی اخبارات ورسائل اور سائن بورڈ کے اشتہارات،درج بالا دونوں قسموں کا حکم الگ ہے:

ملٹی میڈیا کے ذریعے تشہیر کرتے وقت کسی جانور یا مرد کی تصویر دکھانا جائز ہے،بشرطیکہ مرد کے ستر کی جگہ نہ دکھائی جائے جو کہ ناف سے لیکر گھٹنوں کے نیچے تک کے حصے پر مشتمل ہے۔جہاں تک عورت کی تصویر کی بات ہے تو عورت کے جسم کا کوئی بھی حصہ دکھانا جائز نہیں ہے،البتہ ضرورت کے وقت صرف ہاتھ اور پاؤں دکھائےجاسکتے ہیں۔( تكملہ فتح الملهم: 4/164)

یہ بھی پڑھیں:   "اِس اشتہار کے تمام کردار فرضی تھے" - اسماعیل احمد

پرنٹ میڈیا اور سائن بورڈ کے اشتہارات میں جاندار کی تصویرکے بارے میں عورت کی تصویر کا وہی حکم ہے جو پہلے گزرچکا، اور اس قسم کے اشتہارات میں مرد، بلکہ کسی بھی جاندارکے چہرے کی تصویر بنانا بھی شرعا جائز نہیں ہے، تاہم تصویر کا اصل مدار چہرے پر ہے، لہذا جو تصویر سر والی ہو جس میں کان، ناک اورآنکھ وغیرہ اعضاء صاف بنے ہوئے ہوں، وہ حرام ہے، اگرتصویر میں سَر نہ ہو، یا سر ہو مگر اس میں آنکھ، ناک، کان صاف بنے ہوئے نہ ہوں بلکہ یہ اعضاء مٹے ہوئے ہوں، یا سر کے اوپر کوئی چیز لگا کر اس کو چھپایا گیا ہو، یا پوری تصویر نہ ہو، بلکہ تصویر کے اعضاء میں سے کوئی ایک عضو ہو، مثلاً صرف آنکھ، کہنی، ہاتھ، بازو، پیر،پیٹھ وغیرہ، یا پشت کی جانب سے لی گئی تصویر ہو جس میں چہرہ سامنے نہ ہوتو ایسی تصاویر شرعاً ممنوع تصویر میں داخل نہیں ہیں، بشرطیکہ مرد کی ہوں۔ (جواہر الفقہ 7/231)

3۔ قانون کی پابندی

تشہیر و اشتہار کے سلسلے میں حکومتِ وقت نے جن قوانین کی پابندی کو لازم قرار دیا ہے،اُن کی رعایت رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اگر حکومت عوامی مصلحت کے لیے کوئی جائز قانون بنائے جس کے ساتھ مملکت کی یا عوام کی مصلحت وابستہ ہو تو عوام کے لیے شرعاً اس کی پابندی ضروری ہے اور اس کی خلاف ورزی جائز نہیں،خلاف ورزی کرنے والا گنہگار ہوگا۔ (تکملہ فتح الملہم 3/323)

4۔ منکرات سے احتراز

تشہیر کرتے وقت جس طرح جھوٹ اور دھوکہ سے اجتناب کرنا ضروری ہے،اسی طرح موسیقی اور گانوں سے بچنا بھی ضروری ہے،اسی طرح یہ بھی ضروری ہےکہ تشہیر میں عورت کی آوازشامل نہ ہو،کیونکہ عورت کی آواز فی نفسہ پردہ میں داخل نہیں ہے،لیکن شرعاً یہ بات نا پسند کی گئی ہے کہ عورتیں بلا ضرورت اپنی آوازغیر محرَم مردوں تک پہنچائے۔

(معارف القرآن جلد:۷،ص:۱۳۲)

5۔مبالغہ آرائی اور فرضی کہانی

کسی پروڈکٹ کی تشہیر کے لیے ایسا مبالغہ کرنا جائز نہیں ہے کہ جو حقیقت کے خلاف اور جھوٹ کے زمرے میں داخل ہو اور خریداروں کو اس سے دھوکہ ہو،جیسے کسی درد کی دوائی سے اگر درد ختم ہونے میں دو،چار گھنٹے لگ جاتے ہیں یا اس دوا کو دو،چار دفعہ استعمال کرنا پڑتا ہے تو اس کے بارے میں یہ کہنا کہ اس دوا سے درد فوراً خاتمہ ہو جائے گا، درست نہیں ہے، البتہ اگر ایسے جملے یا الفاظ استعمال کیے جائیں جو بظاہر مبالغہ آمیز نظر آرہے ہوں، لیکن وہ حقیقت کے خلاف نہ ہوں اور جھوٹ کےزمرے میں داخل نہ ہوں تو اُن کی گنجائش ہے، جیسے ائیر کنڈیشنز کے بارے میں یہ کہنا کہ ”گرمیوں میں سردی کا مزہ“ وغیرہ۔

تشہیر کے لیے فرضی کہانی(Realistic) بنانے کا بھی یہی حکم ہے کہ وہ جھوٹ پر مبنی نہ ہواور کہانی میں جن فوائد وخصوصیات کاتذکرہ کیا جائے وہ واقعی اُس پروڈکٹ میں پائی جارہی ہیں تو ایسی کہانی بنانے کی بھی گنجائش ہے۔ (تجارتی کمپنیوں کا لائحہ عمل ص:242)

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!