'لو ایڈیکشن' اور نوجوان نسل - روبینہ شاہین

ہماری نسل کے حصے میں ایک ایسا جنون اور پاگل پن آیا ہے، جسے "لو" یا محبت کہا جاتا ہے۔ اس جنونی جذبے نے اس کی ساری صلاحیتیں، غیرت اور عزت چھین لی ہے۔ آخر یہ ہے کیا؟ محبت جو جینا سکھاتی ہے، ضد جو کچھ بھی کر سکنے پہ مجبور کرتی ہے، جنون جو پاگل کر دیتا ہے اور پاگل جسے کچھ بھی سجھائی نہیں دیتا؟ نہ رشتے، نہ ان کا احترام، نہ حیا اور نہ اس کے تقاضے۔ کیا دل کی بات ماننی اتنی ضروری ہے کہ اللہ کی بات بھی پیچھے رہ جاتی ہے؟ خودکشی کا بڑھتے ہوئے واقعات کے پیچھے 80 فیصد یہ جذبہ ہے، جسے محبت کہا جا رہا ہے۔ ہر گھر میں کوئی نہ کوئی ایسا کیس موجود ہے جس نے جینا حرام کرر کھا ہے۔آخر اس بیماری اور نشے کا کوئی تو علاج ہوگا؟

ڈاکٹر صداقت کہتے ہیں کہ ایڈیکشن یعنی نشہ ایک قابل علاج بیماری ہے مگر انسان کا انسان کو ایڈیکشن دوہری بیماری ہے کیونکہ اس میں ایک شخص اگر جان چھڑواتا ہے تودوسرا کھینچ لیتا ہے۔ یہ بھی قابل علاج ہے اگر مریض کو سمجھایا جائے کہ آپ کسی بیماری کا شکار ہو آپ کاعلاج ہو سکتا ہے۔ تو نتائج بہت حد تک مثبت ہو سکتے ہیں۔

کچھ ٹپس ہیں جن پر عمل کر کے ہم نئی نسل کو اس جنون سے بچا کر مقصدیت کی طرف لا سکتے ہیں۔

بچوں کو اوائل عمر میں ہی آگاہی دی جائے کہ اس طرح کے حادثات ہو سکتے ہیں۔آپ نے ان کو سنجیدہ نہیں لینا۔آپ کی زندگی سب سے زیادہ اہم ہے۔اسے کبھی بھی کسی بھی حالت میں نہیں چھوڑنا،آپ کی ذات اصل سرمایہ ہے۔باقی چیزیں، جذبے اور لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔

بچوں کو سمجھایا جائے کہ زندگی بے مقصد نہیں ہے۔اللہ نے ہر انسان کو کسی مقصد کے تحت پیدا کیا ہے۔لہذا اپنی زندگی کا کوئی مقصد بناؤ اور جت جاؤ۔جب زندگی میں بڑے مقصد ہوتے ہیں تو پھر باقی چیزوں کے لیے وقت نہیں بچتا۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل کے پاس کوئی بڑا مقصد نہیں ہے۔جبھی وہ لایعنی چیزوں کے پیچھے بھاگ رہی ہے۔

پاکستان کے معروف مصنف اور موٹیویشنل سپیکر اختر عباس کہتے ہیں کہ بچوں کو محبت کی ترتیب سمجھائی جائے۔اگر درست ترتیب ان کی دماغ میں بیٹھ جائے تو ایسے حادثات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔وہ ترتیب یوں ہے: سب سے پہلا حق محبت کا اللہ کی ذات ہے، اس کے بعد نبی اکرمﷺ اور اس کے بعد والدین۔ اس کی حکمت بتاتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ محبت کی ترجیحات کی عدم درستی کے معاملات سے مجھے بارہا واسطہ پڑا، کہیں سمجھانے سے بات بنی تو کہیں ڈرانے سے۔ انسانی رشتوں سے محبت مستقل ہو نہیں پاتی۔ والدین سے محبت چند ہی سالوں بعد کسی لڑکے اور لڑکی کی محبت تلے دب کر کچلی جاتی ہے۔ ہر سال گھرسے بھاگنے والی ہزار لڑکیوں نے بھی تو کبھی اپنے والدین سے محبت کا دم بھرا ہوگا۔ بھاگ کر شادی کرنے والوں کی محبت کی سوئی کب کہیں اور جا کر اٹک گئی۔ وہ خود بھی نہیں بتا سکتے۔ نوکری، عمدہ تنخواہ، اعلیٰ منصب، بااختیار پوزیشن، امیر رشتہ دار، خوبصورت دوست، اپنی اولاد، اپنا گھر، اپنی جائیداد، اپنی دنیا اور اپنی آخرت۔ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ محبت کے مراکز اس تیزی سے بدلتے ہیں کہ خود حیرت ہونے لگتی ہے کیونکہ بظاہر ہر محبت اس وقت سچی، بے لوث، غیر مشروط اور پائیدار لگتی ہے، مگر اپنی اصل سے ہٹ کر کوئی تعلق اور محبت کیسے مستقل اور پائیدار ہوسکتی ہے؟ محبت ضرور کرو مگر اس کی ترتیب ٹھیک رکھو ورنہ یہ بےترتیبی تمہیں کبھی ٹھیک نہ رہنے دے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   معاشرتی نفسیات کی اصلاح - عائشہ یاسین

اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت مقصدیت دیتی ہے اور یہ وہ لذت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔دنیا کی ہر لذت وقتی ہے جب پیٹ بھر جائے تو اسی کھانے سے دل اچاٹ ہو جاتا ہے۔جو تھوڑی دیر پہلے بڑی رغبت سے کھایا جا رہا تھا۔'لومیرجز' والے جوڑوں پہ ریسرچ کی گئی تو پتہ چلا کہ محبت کا بخار صرف شادی کے سات ماہ رتک ہتا ہے پھر وہی نارمل میاں بیوی ہوتے ہیں اور وہی ان کے مسائل، اس لیے بچوں کو ان کے اصل سے جوڑیئے۔یہ بطور والدین اور اساتذہ آپ کا فرض عین ہے۔

بچے اگر اس جذبے کا شکار ہو بھی جاتے ہیں تو ان کو طعنے اور کوسنے دینے کی بجائے پیار سے ہینڈل کریں۔ان کو ایک دوسرے پر ترجیح نہ دیں کہ فلاں کا بچہ تم سے بہتر ہے۔فلاں بہن یا بھائی تم سے زیادہ پڑھائی میں اچھا ہے۔انسان کا مقابلہ انسان سے نہیں، صرف اپنے آپ سے اور آنےوالے کل سے ہوتا ہے۔ان کو اس بات کی ٹریننگ دی جائے کہ تمہارا کل تمہارے آج سے اچھا ہونا چاہیے۔حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ وہ شخص ہلاک ہوا جس کا آج اس کے گذشتہ کل سے اچھا نہیں۔

ہمارے معاشرے کا ایک ناسور یہ میڈیا ہے۔ جنہوں نے نوجوانوں کے اندر ڈراموں اور فلموں کی صورت میں وہ زہر اتار دیا ہے کہ وہ ان جھوٹے واقعات کو سچ سمجھنے لگتے ہیں۔کچی عمر میں دیکھی جانے والی فلمیں اور ڈرامے ان کے لیے مستقبل کا مقصد بن جاتی ہے۔ان کے لاشعور میں بیٹھ جاتی ہے۔اسی لیے افلاطون نے کہا تھا کہ ڈرامہ بچوں کی شخصیت مسخ کر دیتا ہے۔یہ وہ جھوٹ ہے جو ساری عمر ان کی زندگیوں میں زہر گھولتا رہتا ہے۔ میڈیا کا اہم اصول کہ جھوٹ اتنا دکھاؤ کہ یہ سچ لگنے لگے۔فی زمانہ ہم بچوں کو اس میڈیا نامی بیماری سے دور تو نہیں رکھ سکتے مگر انہیں سمجھا تو سکتے ہیں کہ یہ واقعات یہ فلمیں یہ ڈرامے یہ سب حقیقت نہیں ہوتے۔ ایک تحقیق کے مطابق نو دس سال تک بچہ جو دیکھتا ہے اسے حقیقت سمجھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ادھورے لوگ - افسانہ - محمد اویس حیدر

محبت کی شادی میں کوئی قباحت نہیں، اسلام جو دین فطرت ہے، اس نے انسان کے اس جذبے کو نظر انداز نہیں کیا اور شادی کے وقت بڑوں کی رضامندی کے ساتھ ساتھ لڑکی اور لڑکے کی رضامندی کو بہت اہمیت دی ہے۔ مگر ہمارا معاشرہ اتنا تنگ نظر ہے کہ آج بھی پڑھی لکھی فیمیلیز میں پسند کی شادی قباحت سمجھی جاتی ہے۔ ان کی بڑی وجہ غیر خاندان میں شادیوں کا رواج کا نہ ہونا ہے۔نبی کریمﷺ کا فرمان ہے کہ "خاندان سے باہر شادیاں کرو"اس میں بہت ساری حکمتیں پوشیدہ ہیں۔

بچے اللہ کی امانت ہیں اور آپ اللہ کے سامنے جواب دہ ہیں۔وہ کوئی بے جان چیز نہیں ہیں۔نہ ہی آپ ان کے مالک اور وہ آپ کے غلام۔اپنی ذمہ داریاں پوری کیجیے۔جیسے کم توجہ اور پیار بگاڑ کا باعث بنتا ہے ویسے ہی زیادہ لاڈ اور پیار بھی بگاڑ کے رکھ دیتا ہے۔امام غزالی فرماتے ہیں کہ اپنے بچے کو ضد سے بچا لیا تو ہر شر سے بچا لیا۔ضدی اور ہٹ دھرمی انسان کو ہمیشہ سچائی اور حق کے راستے سے روکتی ہے۔لہذا بچے کو ضدی ہونے سے بچانا ہے تاکہ اس کا یہ جذبہ بڑا ہو کر جنون کی شکل اختیار نہ کر لے۔

Comments

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین کا تعلق زندہ دلانِ لاہور سے ہے۔ اسلامک اسٹڈیز میں ایم فِل کیا ہے۔ فکشن کم اور نان-فکشن زیادہ لکھتی ہیں۔ پھول، کتابیں، سادہ مزاج اور سادہ لوگوں کو پسند کرتی ہیں اور علامہ اقبالؒ سے بہت متاثر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.