سُورج و چاند گرہن کی تاثیر، ایسے میں کیا کرنا چاہیے؟ - عادل سہیل ظفر

دِین اِسلام نے ہمیں زندگی میں ہونے والے ہر کام کے متعلق ایسی تعلیمات مہیا کر دی گئی ہیں جو ہمارے لیے دِین، دُنیا اور آخرت کی خیر کا سبب ہیں، حتیٰ کہ ایسے کام بھی جو بظاہر ہماری زندگیوں کے معاملات سے بہت دور دِکھائی دیتے ہیں۔ ایسے ہی کاموں میں سے دو کام، سُورج گرہن اور چاند گرہن بھی ہیں۔ اِن دونوں کاموں کے بارے میں، ہمارے محبوب رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے نے اپنے اللہ جلّ جلالہُ کی وحی کے مُطابق، قولی اور عملی طور پر ہمیں یہ سِکھایا کہ اِس کا سبب کیا ہے؟ اور اگر ہماری زندگیوں میں یہ کام ظاہر ہوں تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

اِیمان والوں کی ماں عائشہ رضی اللہ عنہا و أرضاھا کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانے میں سُورج گرہن لگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ باجماعت نمازپڑھائی، اور قیام کو کافی طویل فرمایا، اور پھر رُکوع فرمایا تو رُکوع بھی کافی طویل فرمایا، پھر (دُوسرا )قیام فرمایا جو پہلے والے قیام سے کچھ تھوڑا کم تھا،اور پھر پہلے والے رُکوع سے کچھ کم طویل رُکوع فرمایا، پھر سجدہ فرمایا، اور سجدہ میں کافی دیر رہے، پھر دُوسری رکعت پڑھی اور اُس میں بھی ویسا ہی کیا جیسا کہ پہلی رکعت میں کیا تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے نماز مکمل فرما دِی، اُس وقت تک سُورج گرہن سے نکل چکا تھا، پھر(نماز سے فراغت کےبعد)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے لوگوں سے خطاب فرمایا، اور (اُس کی ابتداء) اللہ کا شکر ادا کیا اور تعریف کی، اور پھر اِرشاد فرمایا

إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لاَ يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ وَكَبِّرُوا، وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا » . ثُمَّ قَالَ « يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، وَاللَّهِ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَزْنِىَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِىَ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا یقیناً سُورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، جنہیں کسی کی موت یاپیدائش کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، لہذا اگر تُم لوگ گرہن دیکھو تو اللہ سے (بخشش اور رحم کی )دُعاء کرو، اور (اللہ کی)بڑائی بیان کرو، اور نماز پڑھو اور صدقہ کرو، اے محمد کی اُمت، اللہ کی قسم اللہ سے بڑھ کو کوئی بھی اِس سے زیادہ اِس بات پر غیرت نہیں کھاتا کہ اُس کا کوئی بندہ یا بندی زِنا کرے، اے محمد کی اُمت، اللہ کی قسم اگر تُم لوگ وہ کچھ جانتے ہو جو میں جانتا ہوں تو تُم لوگ بہت کم ہنسو اور بہت زیادہ رؤ (صحیح بخاری/حدیث/1044کتاب الکسوف/باب2،صحیح مُسلم/ حدیث/2127کتاب الکسوف/پہلا باب)

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے زمانہ میں، جب اُن کے بیٹے إِبراہیم فوت ہوئے تو سورج گرہن لگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا حَتَّى يَنْكَشِفَ بے شک سُورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، کِسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے اُنہیں گرہن نہیں لگتا، لہذا جب تُم لوگ اُنہیں (گرہن لگا ہوا ) دیکھو تو اللہ سے (بخشش اور رحم کی) دُعاء کرو اور نماز پڑھو حتیٰ کہ گرہن ختم ہو جائے (صحیح مُسلم/ حدیث/2161کتاب الکسوف/ باب5) ابی مسعود الانصاری رضی اللہ عنہ ُ سے بھی، بیٹے کی موت کے ذِکر کے بغیر روایت ہے (صحیح مُسلم/ حدیث/2153کتاب الکسوف/ باب5)

اِس حدیث شریف میں سے ہمیں درج ذیل مسائل اور تعلیمات ملتی ہیں،

یہ بھی پڑھیں:   گرہن کے وقت نبوی تعلیمات اور ہم - حصہ اول

1۔ سُورج گرہن اور چاند گرہن دونوں اللہ تبارک و تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں

2۔ سُورج اور چاند کو گرہن کی حالت میں لا کر اللہ عزّ و جلّ اپنے بندوں کو اُس کی قدرت و قوت کا خوف دِلاتا ہے

3۔ سُورج اور چاند کو کسی کی موت، کسی کی پیدائش، یا کسی کی زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، خواہ وہ کوئی بھی شخصیت ہو

4۔ سُورج گرہن کِسی کی زندگی یا موت، کِسی پیدا شُدہ اِنسان، یا پیدا ہونے والے جنین پر، کِسی بھی طور کوئی تاثیر نہیں رکھتے

5۔ عام طور پر سُورج گرہن کو کسوف کہا جاتا ہے، اور چاند گرہن کو خسوف، اگر دونوں کا، یعنی سُورج اور چاند کا اکٹھا ذِکر ہو تو بھی، اور اگر الگ الگ ذِکر ہو تو بھی کسوف اور خسوف دونوں اِلفاظ کا اِستعمال لغوی طور پر دُرُست ہے

6۔ جب سُورج یا چاند کو گرہن لگے تو مُسلمانوں کو نماز پڑھنی چاہیے، اللہ سے بخشش اور رحم کی دُعائیں کرنا چاہیں، اللہ کی تکبیر اور ذِکر کرتے رہنا چاہیے، اور صدقہ کرنا چاہیے، نہ کہ خود ساختہ، یا، کفار کی بنائی ہوئی حرکات،

7۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے اُس کے خلیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اُس کے غیب میں سے عطاء کی گئی خبروں میں سے ایک خبر سے اِنسانوں کو آگاہ کرنا۔

نماز کسوف، نماز خسوف کی شرعی حیثیت:

عُلماء کرام کا اِس مسئلے میں اِتفاق نہیں ہے کہ سُورج گرہن یا چاند گرہن کے وقت میں پڑھی جانے والی نماز سُنّت ہے یا واجب۔ اِس نماز کے واجب ہونے کا فتویٰ دینےو الے عُلماء کرام کی بات زیادہ دُرُست اوربہتر ہے، کیونکہ اگر یہ نماز واجب نہ ہوتی تو رسول اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم "نماز باجماعت " کی آواز لگواتے، اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو مسجد میں جمع نہ فرماتے، اور نہ اُنہیں یہ نماز پڑھاتے، بلکہ اُنہیں صِرف ترغیب فرما دیتے اور خود الگ سے اپنی نماز ادا فرما دیتے

نماز کسوف، نماز خسوف کا طریقہ

اِن دونوں نمازوں کی ادائیگی کا طریقہ نماز کے عام طریقے سے مُختلف ہے

سُورج گرہن (کسوف الشمس) یا چاند گرہن (خسوف القمر) کی نماز کی دو رکعتیں ہوتی ہیں، جن میں چار رُکوع ہوتے ہیں، اور چار ہی سجدے ہوتے ہیں، یعنی ایک رکعت میں دو رُکوع، اور دود سجدے۔

تکبیر تحریمہ کے بعد تسبیح، تحمید اور تمجید کے بعد، سُورت فاتحہ پڑھی جائے گی اور پھر کافی دیر تک قرأت کی جائے گی، پھر کافی دیر تک رُکوع کی حالت میں تسبیحات کی جائیں گی، پھر رُکوع سے کھڑے ہو کر سُورت فاتحہ پڑھی جائے گی اور پہلے کی گئی قرأت سے کچھ کم قرأت کی جائے گی، پھر پہلے دُوسرا رُکوع سے کچھ کم طویل رُکوع کیا جائے گا۔

پھر رُکوع سے کھڑے ہونے کے بعد دو سجدے کیے جائیں گے جن کی طوالت تقریباً قرأت کےبرابر ہو نا چاہیے، لیکن دُوسرا سجدہ پہلے سے کچھ کم طویل ہو۔

پھر اِسی طرح دُوسری رکعت ادا کی جائے، لیکن اِس قرأت، رُکوع و سجود کی طوالت پہلی رکعت سے کچھ کم رکھی جائے گی۔

اِنسانوں کی معمول کے مُطابق فِطری عادات و حالت کے مُطابق، دُوسری رکعت کی طوالت پہلی سے کم رکھنے کی حِکمت یہ سمجھ میں آتی ہے، کہ چونکہ ابتداء میں لوگوں کی ہمت زیادہ ہوتی ہے جو وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جاتی ہے، اور اُنکی توجہ نماز کی بجائے اپنی تھکاوٹ کی طرف ہونے لگتی ہے، لہذا اُس سے پہلے ہی نماز مکمل کر لی جانی چاہیے، واللہ أعلم،

نماز کسوف، نماز خسوف سے متعلقہ کچھ دیگر مسائل

سُورج گرہن کی نماز کے بعد خطبہ سُنّت ہے، لہذا اِس سُنّت پر عمل کیا جانا چاہیے

یہ بھی پڑھیں:   گرہن کے وقت نبوی تعلیمات اور ہم - حصہ اول

نماز کی ابتداء گرہن کے شروع ہوتے ہی کر دی جانی چاہیے، اور گرہن کے ختم ہونے تک نماز کی حالت میں رہنا چاہیے

سُورج گرہن، اور چاند گرہن کی نماز اُن اوقات میں بھی ادا کی جاسکتی ہے جِن اوقات میں عام طور پر نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ اِس نماز کا ایک خاص سبب ہے جو جِس وقت ظاہر ہو گا اُسی وقت یہ نماز پڑھی جائے گی

سُورج گرہن،ا ور چاند گرہن کی نمازمیں، ہر رکعت میں دو رُکوع، تین رُکوع، چار رُکوع اور پانچ رُکوع کرنا بھی صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے، لیکن کسی شک کے بغیر بہتر اور افضل وہی طریقہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے ثابت ہے، یعنی، ایک رکعت میں دو رُکوع، جِس کا بیان ابھی کیا گیا ہے

سُورج گرہن،ا ور چاند گرہن کی نمازمیں دیر سے پہنچنے والوں کے لیے رکعت میں شمولیت پہلے رُکوع میں شامل ہونے کے حساب سے مانی جائے گی، نہ کہ دُوسرے رُکوع میں شامل ہونے کے اعتبار سے، کیونکہ پہلا رُکوع، وہ ہے جو نماز کا رُکن ہے، اور دُوسرا رُکوع سُنّت

یعنی اگر کوئی شخص پہلی یا دُوسری رکعت کے دُوسرے رُکوع میں شامل ہوا تو اُسے وہ رکعت نہیں ملی، پس پہلی رکعت کے دُوسرے رُکوع میں شامل ہونے والے کو إِمام کے سلام کہنے کے بعد اپنی رکعت ادا کرنا ہوگی اور دُوسری رکعت کے دُوسرے رُکوع میں شامل ہونے والے کو دونوں رکعتیں ادا کرنا ہوں گی،

سُورج گرہن،ا ور چاند گرہن کی نمازمیں رُکوع چونکہ کافی طویل ہوتے ہیں، لہذا عموماً یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ رُکوع و سجود کی حالت میں قران کریم کی تلاوت تو نہیں کی جاسکتی تو پھر کیا پڑھا جائے؟ کیا کہا جائے؟

تو اِس کا جواب بھی ہمیں ہمارے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے عطاء فرما رکھا ہے کہ فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ تو جو رُکوع ہے اُس میں رب عزّ و جلّ کی عظمت و پاکیزگی بیان کرو﴾صحیح مُسلم/ حدیث1102/کتاب الکسوف/ باب41

لہذا رُکوع کی حالت میں ہمیں اللہ کی بڑائی اور پاکیزگی بیان کرتے رہنا چاہیے، اور یقیناً وہ اِلفاظ سب سے بہتر، اعلیٰ و أرفع اور اللہ کے ہاں محبوب ہیں جو اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمائے، پس ہمیں رُکوع کی وہ تسبیحات یاد رکھنا چاہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے ثابت ہیں، صِرف کسوف یا خسوف کی نماز کے لیے ہی نہیں، بلکہ ہر ایک نماز کے لیے، کہ اُن الفاظ کو ادا کرنے سے نہ صِرف نماز کا حسن اور اُس میں راحت کا اضافہ ہوتا ہے، بلکہ اللہ کے ہاں اُس کے قُبُولیت کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں

رُکوعوں کی طرح اِس نماز میں سجدے بھی کافی لمبے ہوتے ہیں، لہذا سجدوں میں بھی اللہ کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تعلیم کے مُطابق ہی عمل کرنا چاہیے، اُن صلی اللہ علیہ علی آلہ وسلم کا فرمان شریف ہے کہ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِى الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ اور جو رُکوع ہے اُس میں دُعاء کرنے میں خُوب دُعاء کرو، کہ (اِس سجدے میں)اِس بات کی بہت قوی اُمید ہے کہ تُم لوگوں کی دُعاء قُبُول کر لی جائے(صحیح مُسلم/ حدیث1102/کتاب الکسوف/ باب41)

اِس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھیے کہ سجدے کی حالت میں بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہو جاتا ہے، لہذا اپنی نمازوں کے سجدوں میں کثرت سے دُعاء کیا کیجیے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے نیک اعمال قبول فرمائے اور غلطیوں، کوتاہیوں اور گناہوں سے درگزر فرمائے۔ آمین