بے بسی - حیاء مسکان

رئیسہ کھڑکی سے باہر کافی دیر سے اپنے سامنے والے گھر کو دکھی نظروں سے تک رہی تھی جہاں سے رونے کی آوازیں تواتر سے آرہی تھیں ۔

یہ آوازیں اسے بے چین کر گئیں تھی۔ جب اس سے رہ نہ گیا تو وہ دل گرفتہ سی پاس بیٹھی سنبل سے استفسار کرنے لگ گئ۔۔۔جو اپنے کسی کام میں محو تھی۔۔

"تم نے سامنے والے گھر سے زار وقطار رونے کی آوازیں سنیں؟ کتنا درد ہے ان آوازوں میں، کتنی بے بسی ہے، جو کسی کا بھی دل چیر کر رکھ دے"

اس نے ان آوازوں میں چھپے درد کی عکاسی کی

سنبل نے استہزائیہ انداز سے اسے دیکھا اور بڑی بے پروائی سے بولی

"مجھے ایسی کوئی آواز نہیں آئی"

رئیس اس کی بات سن کر حیران تھی کہ بھلا ایسے کیسے ممکن ہے کہ رونے کی آوازیں سنبل تک نہ پہنچ رہی ہوں؟

"سنبل! میں ہر گز یہ نہیں مان سکتی کہ تمہیں آوازیں نہیں آرہیں۔ تم اتنی پتھردل کب سے ہوگئیں؟ مجھے تو اب تک سنائی دے رہی ہیں"

رئیسہ کے چہرے پہ گہری افسردگی چھا گئی جسے دیکھ کر سنبل نے منہ بسورا۔ وہ کوفت میں مبتلا ہو چکی تھی

"ارے چھوڑو رئیسہ! یہ تو اب ہر گھر کی روز کی کہانی ہے۔ روزانہ درجنوں لوگ مر بھی تو جاتے ہیں۔ اب ہم کس کس کا ماتم کرتے پھریں گے؟ فکر چھوڑو اور یہ مزیدار کھانا کھاؤ"

سجی ہوئے ٹرے سامنے دیکھ کر اور سنبل کی ڈھٹائی پر رئیسہ کے دل میں ٹیس سی اٹھی۔ وہ بریانی اور کباب کی پلیٹیں دیکھتی ہی رہ گئي۔ اسے کچھ یاد آیا کہ سامنے والے گھر کی بچی، جسے اس نے خود بھوک سے نڈھال اکثر کچرے میں سےکھانا چن کر کھاتے دیکھا تھا، وہ اس کے لیے زیادہ کچھ نہیں کرسکی تھی، بس کبھی کبھار کچھ مدد کردیا کرتی تھی اور بے بسی سے اسے تکتی رہتی۔ اسی گندے کھانے کی وجہ سے وہ پیٹ کے درد میں مبتلا ہوچکی تھی اور آج درد کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ وہ تاب نہ لاسکی اور اس دار فانی سے رخصت ہوگئی۔

اس کی ماں کے مسلسل رونے اور بین کرنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ ایسی دل سوز آواز، جس نے اسکا دل ہلا کے رکھ دیا تھا۔ اس کا دل کھانے سے یکدم اچاٹ ہوگیا۔

سنبل نے رئیسہ کو گہری سوچ میں ڈوبے دیکھا تو پوچھ بیٹھی "ارے کیا سوچنے لگ گئیں اب تم؟ کھانا کیوں نہیں کھارہیں؟ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔ دیکھو بھئی! سب کو ایک نہ ایک دن تو جانا ہی ہے۔ اس کی موت آنی تھی، سو آگئی، اب اس پر اتنا غم کیوں منانا؟"

رئیسہ نے یاسیت بھری نگاہوں سے سنبل کو دیکھا

"ٹھیک کہتی ہو تم، ہم ویسے بھی بے حسی کا لباس پہنے بڑے آرام سے جی لیتے ہیں۔ یہ سوچے سمجھے بنا کہ کل ان کی جگہ ہم بھی ہوسکتے ہیں۔"

سنبل کو رئیسہ کا کاٹ دار لہجہ بری طرح چبھا تھا، لیکن وہ بات بدل گئی "چلو رئیسہ! اب بور نہ کرو، آؤ موڈ چینج کریں، کہیں باہر شاپنگ پر چلتے ہیں۔"

رئیسہ بے بسی سے اسے تکتی رہ گئی

"اور کرنے کو ہمارے پاس رہ بھی کیا گیا ہے؟"

وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے ساتھ چلنے کے لیے کھڑی ہوگئی۔ اسے اپنی بے بسی پر سخت غصہ آرہا تھا

گھر سے باہر نکلتے ہی اس نے ایک اچٹتی نگاہ سامنے والے پر ڈالی۔ پاس سے گزرتے ہوئے چپ چاپ ایک لفافہ اندر ڈال دیا اور آگے بڑھ گئی۔

اب اس نے سر جھکائے سنبل کے پیچھے چلنا شروع کردیا تھا۔