گرہن کے وقت نبوی تعلیمات اور ہم - حصہ اول

کسوف یا خسوف ، سورج یا چاند گرہن

سورج اور چاند دونوں اللہ تعالی کی نشانیاں ہیں ، ماہرین فلکیات کے مطابق اگر ان دونوں کے درمیان میں  زمین آ جائے تو چاند گرہن ہوتا ہے اور اگر سورج اور زمین کے درمیان میں چاند آ جائے تو سورج گرہن ہوتا ہے، جو کہ انسان کیلیے  قیامت کے دن کا معمولی سا منظر پیش کرتا ہے کہ کس طرح سورج کی بے پناہ روشنی کو اللہ تعالی یک لخت میں ہی گل فرما سکتا ہے۔

مشاہدے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند مکمل ہو ، اور سورج گرہن چاند کی ابتدائی تاریخوں میں ہوتا ہے۔

کائنات کی  اس تبدیلی میں اسلامی تعلیمات

چونکہ اسلام ایک مکمل دین ہے اس لیے اسلام نے ہمیں اس غیر معمولی تبدیلی کے بارے میں بھی رہنمائی دی ہے اور سب سے پہلے اس کے متعلق فرسودہ نظریات اور عقائد کا قلع قمع فرمایا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ایک بار سورج گرہن ہوا تو اتفاق سے اسی دن آپ ﷺ کے لخت جگر سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تھی  جس پر لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ آج ابراہیم کی موت پر سورج گرہن ہوا ہے ، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

{إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَقُومُوا فَصَلُّوا }

ترجمہ: سورج اور چاند کسی کے فوت ہونے پر گرہن نہیں ہوتے۔ یہ تو اللہ تعالی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جب انہیں گرہن ہوتے دیکھو تو نماز کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ صحیح  بخاری: 1041

گرہن کے وقت ہماری شریعت سے دوری

ہمارے معاشرے میں بھی اس وقت دو انتہائیں پائی جاتی ہیں اعتدال مفقود اور معدوم ہے، ایک طرف تو گرہن کے وقت حاملہ خواتین کو گھروں میں بند کر دیا جاتا ہے اور کسی بچے کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی۔  تو دوسری جانب گرہن کا منظر دیکھنے کیلیے لوگ اونچی عمارتوں اور سمندر کے کناروں پر دور بین اور مخصوص عینکیں لگا بیٹھ جاتے ہیں دونوں ہی اللہ کی یاد اور ذکر سے غافل ہیں۔

بلکہ اگر دیکھا جائے تو ہماری مساجد بھی اس موقع پر خاموش ہوتی ہیں حالانکہ رسول اللہ ﷺ کے حکم کے مطابق اس وقت میں نماز گرہن کا اہتمام کرنا چاہیے جو کہ معدوم کی حد تک پہنچ چکا ہے، ہمارے پورے ملک میں چند ایک مساجد ایسی ہوں گی جہاں پر نماز گرہن کا اہتمام کیا جاتا ہے وہ بھی ایسی مساجد جو کسی دینی مدرسے کے احاطے میں موجود ہیں۔

نماز کسوف کا وقت:

صحیح مسلم کی روایت کے مطابق نماز کسوف اسی جگہ پڑھی جائے گی جہاں پر چاند یا سورج گرہن ہوتا ہوا دکھائی دے، لہذا جہاں پر چاند یا سورج گرہن ہوتا دکھائی نہ دے تو وہاں گرہن کی نماز ادا نہیں کی جائے گی، آپ ﷺ کا فرمان ہے:

{إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَكْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا مِنْ آيَاتِ اللهِ، يُخَوِّفُ اللهُ بِهِمَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ كُسُوفًا، فَاذْكُرُوا اللهَ حَتَّى يَنْجَلِيَا}

ترجمہ: بیشک سورج اور چاند کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالی کی نشانیاں ہیں، اللہ تعالی ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، لہذا جب تم گرہن دیکھو تو اس وقت تک اللہ کا ذکر کرو یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے۔ صحیح مسلم: (901)

اس حدیث میں واضح طور پر گرہن دیکھ کر نماز ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

نماز کسوف کا طریقہ

نماز کسوف یا خسوف ، یا سورج اور چاند گرہن کی نماز  نفل نمازوں میں شامل ہے اس کا طریقہ کار بھی عام نماز جیسا ہی ہے چند ایک خصوصیات اس نماز میں پائی جاتی ہیں، چنانچہ دل میں نیت کے ساتھ اللہ اکبر کہتے ہوئے اس نماز کی ابتدا ہوتی ہے، پھر سورت فاتحہ کے بعد لمبی قراءت کی جاتی، اس کے بعد نمازی لمبا رکوع  کرے پھر رکوع سے اٹھ کر سجدے میں جانے کی بجائے دوبارہ سے سورت فاتحہ پڑھے اور پہلے سے قدرے کم لمبی قراءت کرے اور اس کے بعد پہلے سے قدرے کم لمبا رکوع  کر کے سجدے میں چلا جائے، اسی طرح دوسری رکعت  ادا کرے تو  اس طرح اس کی ایک رکعت میں دو قیام، دو رکوع  اور دو سجدے  ہوں گے، پھر عام نماز کی طرح تشہد کے بعد سلام پھیرے۔

صحیح بخاری کی روایات کے مطابق یہی طریقہ سب سے معتبر ہے، دیکھیں: (صحیح بخاری : 1046، 1052)

{عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ إِلَى المَسْجِدِ، فَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَكَبَّرَ فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقَامَ وَلَمْ يَسْجُدْ، وَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ القِرَاءَةِ الأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ وَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَالَ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ}

نماز کسوف کیلیے جماعت کا اہتمام:

مذکورہ بالا حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے خصوصی طور پر نماز کسوف کیلیے نماز با جماعت کا اہتمام فرمایا ، بلکہ صحیح بخاری  اور مسلم کی احادیث میں یہ بھی ملتا ہے کہ سیدہ عائشہ اور آپ کی بہن اسما رضی اللہ عنہما نے مسجد میں با جماعت نماز کسوف کا اہتمام بھی فرمایا جیسے کہ صحیح بخاری کی حدیث  نمبر (1053) اور مسلم کی حدیث نمبر: (905)  میں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔

نماز کے بعد مختصر خطبہ

امام صاحب نماز کے بعد مختصر خطبہ بھی دیں یہ عمل بھی رسول اللہ ﷺ سے  ثابت ہے، خسوف یا کسوف کے موقع پر رسول اللہ ﷺ سے ثابت شدہ خطبات میں قدر مشترک یہ ہے کہ آپ ان میں اختصار کے ساتھ آخرت کی یاد دلاتے، لوگوں کو حشر نشر اور قیامت کی ہولناکیاں بیان کرتے، انہیں غفلت سے بیدار ہونے کی تلقین کرتے، انہیں صدقہ کرنے کی ترغیب دلاتے اور اس کے ساتھ کثرت سے دعا اور استغفار  کرنے کی تلقین بھی کرتے اور خود بھی دعا مانگتے۔

نبی ﷺ سے ثابت شدہ خطبات کسوف اور خسوف کے متعلق دوسرے حصے میں تفصیلی طور پر بیان کیا جائے گا، ان شاء اللہ

اس لنک میں آپ حرم مکی میں ادا کی گئی نماز کسوف کی مکمل ویڈیو اور مختصر خطاب ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے بی ایس حدیث کے بعد ایم ایس تفسیر مکمل کر چکے ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.