بیرونِ ملک مقیم مسلمانوں کی پاکستان میں قربانی - مفتی منیب الرحمٰن

بیرونِ ملک سے مسلمان بڑی تعداد میں رفاہی اداروں کو قربانی کے لیے اپنا وکیل بناتے ہیں اور بعض لوگ اپنے کسی رشتے دار یا دوست کو شخصی طور پر اپنا وکیل بناتے ہیں۔ آج کل بعض اوقات مختلف ممالک میں عید الاضحیٰ میں ایک یا دودن کا فرق واقع ہوجاتاہے، چونکہ قربانی عبادت ہے اور بہت بڑی ذمہ داری کا کام ہے، اس لیے عوام اور رفاہی اداروں کی رہنمائی کے لیے اس مسئلے کافقہی حل بیان کیا جاتا ہے:

اس حوالے سے ہماری قدیم کُتبِ فتاویٰ میں صراحت نہیں ہے کیونکہ اس وقت ذرائع ِ ابلاغ ورَسل ورسائل اتنے ترقی یافتہ نہیں تھے۔ اس لیے ہمارے فقہائے کرام کے سامنے شہر یادیہات یا دوشہروں کی مثالیں تھیں اور اُن کی بیان کی ہوئی صورتِ مسئلہ اسی کے مطابق ہے۔ لہٰذا انہوں نے یہ بحث کی کہ ایسی صورت میں کہ قربانی دیہات میں ہواور صاحبِ قربانی شہر میں یا اس کے برعکس، تو قربانی نمازِ عید سے پہلے ہوگی یا بعد میں۔ یعنی اگرقربانی شہر میں کی جارہی ہے، تو شہر میں پڑھی جانے والی پہلی نمازِ عیدالاضحیٰ کے بعدہونی چاہئے، خواہ جس کی قربانی ہورہی ہے، وہ دیہات میں ہی کیوں نہ ہو۔ اوراگر قربانی دیہات میں ہورہی ہے، جہاں نمازِ عید نہیں ہوتی تو دس ذوالحجہ کی طلوعِ فجر کے بعد ہوسکتی ہے، خواہ صاحبِ قربانی شہر میں ہو۔ قربانی کے جواز کے لیے مقامِ ذبح کا اعتبار ہے، مذبوح عنہ (یعنی جس کی طرف سے قربانی کی جارہی ہے ) اس کا اعتبار نہیں ہے، یہ اس حدتک درست ہے۔

لیکن فی نفسہٖ قربانی کے وجوب ِ ادا کا سبب وقت یعنی صاحبِ قربانی کے لیے ایامِ قربانی کاہونا ہے۔ اسی لیے ہمارے فقہاء کرام نے لکھاہے کہ اگرسات اشخاص نے مل کر قربانی کی ایک گائے خریدی اور 9ذوالحجہ کوایک شریک کا انتقال ہوگیا، تواگر اس کے ورثاء اجازت دے دیں، توسب کی قربانی جائز ہوجائے گی، ورنہ کسی کی بھی جائز نہیں ہوگی، کیونکہ کسی صاحبِ نصاب مسلمان پر قربانی کی ادائیگی اس وقت واجب ہوگی، جب اُس کا "یوم النحر" شروع ہوجائے اور 9ذوالحجہ یوم النحرنہیں ہے، لہٰذا 9 ذوالحجہ کو وفات پانے والے شریکِ قربانی پر قربانی واجب ہی نہیں ہوئی۔ اب ظاہر ہے کہ اگر صاحبِ قربانی کینیڈا میں ہے، تو اس کے لیے وہاں کے ایامِ نحر معتبر ہوں گے، پس اگر وہاں یومِ عید ہفتہ کے روز واقع ہوااورپاکستان میں اتوار کو، توپاکستان میں اس کی قربانی پیرتک ہوسکے گی اور اگر وہاں یومِ عید اتوار کوہے، توپاکستان میں اس کی قربانی منگل تک ہوسکے گی۔ البتہ قربانی کے وقت کے لیے مقامِ ذبح کا اعتبار ہوگا۔ تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے: (وَسَبَبُھَاالْوَقتُ) وَھُوَ اَیَّامُ النَّحْرِ وقِیْلَ الرَّأسُ وَقَدَّمَہٗ فِی"التّتَارخَانِیہ"۔

ترجمہ:" اورقربانی کا سبب وقت ہے اوروہ ایامِ نحر (قربانی کے دن) ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ رأس (مسلم عاقل وبالغ صاحبِ نصاب یعنی عبدِ مُکلّف کی ذات) ہے اور فتاویٰ "تتارخانیہ" میں اسے مقدم رکھا"۔ اس کی شرح میں علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: سَبَبُ الْحُکْمِ مَاتَرتَّبَ عَلَیہِ الْحُکْمُ مِمَّا لاَیُدرِکُ الْعقلُ تَأثِیرَہٗ وَلاَیَکَونُ بِصَنعِ المُکَلّفِ کَالْوَقْتِ لِلصَّلوٰۃِ۔ ۔ ۔ ۔ الیٰ اَن قَالَ:ثُمَّ حَقَّقَ اَنّ السَّبَبَ ھُوَالْوَقتُ، لأَِنّ السَّبَبَ اِنَّمَا یُعْرَفُ بِنِسْبَۃِ الْحُکْمِ اِلَیہِ وَتَعَلُّقِہٖ بِہٖ، اِذِالاَصْلُ فِیْ اِضَافَۃِ الشَیٔ الی الشیءِ اَن یَکُونَ سَبَباً۔

ترجمہ:"کسی حکم کا سبب وہ ہوتاہے، جس پر وہ حکم مرتب ہوتاہے، جس کے اثر کا ادراک عقل سے نہیں ہوسکتا اور نہ ہی (عبد) مُکلّف کے کرنے سے ہوتا ہے، جیسے نماز کے لیے وقت۔ آگے چل کر کہا:پھر ثابت ہواکہ سبب وقت ہی ہے، اس لیے کہ سبب وہ ہے جس کی طرف حکم کی نسبت ہویا حکم اس کے ساتھ متعلق ہو، کیونکہ ایک چیز کی دوسری چیزکی طرف نسبت میں اصل یہ ہے کہ وہ سبب ہو، (ردالمحتار علی الدرالمختار، جلد9، ص: 379 ) ۔ "

یہ بھی پڑھیں:   بھینس نر یا مادہ کی قربانی جائز ہے - مفتی منیب الرحمٰن

علامہ علاؤالدین ابوبکر بن مسعود کاسانی حنفی لکھتے ہیں:ـ "رہاوجوبِ قربانی کا وقت، تووہ ایام نحر ہیں، پس وقت داخل ہونے سے پہلے قربانی واجب نہیں ہوگی، کیونکہ واجباتِ مؤقَّتہ( Fixed Time Obligations ) مقررہ وقت سے پہلے واجب نہیں ہوتے، جیسے نماز، روزہ وغیرہ اور "ایامِ نحر" تین ہیں اوروہ ہیں، دس ذوالحجہ کی طلوع ِ فجر سے بارہ ذوالحجہ کے غروب آفتاب تک۔ آگے چل کر لکھتے ہیں: کیونکہ عبادات اورقربانیوں کا وقت نقل وروایت ہی سے معلوم ہوسکتاہے، (بدائع الصنائع، جلد 5، ص:97)۔ "

وہ مزید لکھتے ہیں: "پس جس کی طرف سے قربانی کی جارہی ہے، اگروہ شہر میں ہے اور قربانی کا جانور دیہات میں یا ایسے مقام پر ہے، جہاں نماز عید نہیں ہوتی، اورصاحبِ قربانی نے کسی شخص کووکیل بناکرکہاتھاکہ اُس کی طرف سے قربانی کردے اوراس نے وہاں طلوعِ فجر کے بعد قربانی والے کی عید سے پہلے قربانی کردی، تو اُس کی قربانی اداہوگئی۔ اور اگر صورتِ حال اس کے برعکس ہے کہ صاحبِ قربانی ایسی جگہ ہے جہاں عید کی نماز نہیں ہوتی اور اس کی قربانی شہر میں ہے جہاں نمازِ عید ہوتی ہے، تو اگر اس صورت میں اُس کے وکیل نے شہر میں نمازِ عید سے پہلے اُس کی قربانی کردی، تواُس کی قربانی ادانہیں ہوئی، اس لیے قربانی کے جواز کے لیے صاحبِ قربانی کے مقام کا نہیں بلکہ اُس مقام کا اعتبار ہے جہاں قربانی کی جارہی ہے۔ امام محمد رحمہٗ اللہ تعالیٰ نے "نوادر" میں اسی طرح ذکرکیاہے، انہوں نے کہا: میں ذبح کے مقام کو دیکھوں گا، جس کی طرف سے قربانی کی جارہی ہے، اُس (صاحبِ قربانی)کے مقام کو نہیں دیکھوں گا۔ امام حسن نے امام ابویوسف سے بھی اسی طرح روایت کی ہے، کیونکہ قربانی کرنا عبادت ہے اور اس کے لیے قربانی کی جگہ کا اعتبار ہوگا، نہ کہ "مذبوح عنہ" کے مقام کا۔

البتہ امام حسن بن زیاد نے کہاہے کہ دونوں مقامات (یعنی ایک ذبح کے مقام اور دوسرا صاحبِ قربانی کے مقام) کا اعتبار کیاجائے کہ دونوں جگہ نماز عید ہوجائے اوراگردوسری جگہ کی عید کا پتانہ چل سکے توزوال تک انتظار کرے تاکہ دونوں جگہ نمازِ عید کی ادائیگی متحقق ہوجائے، (بدائع الصنائع، جلد 5، ص:111)‘‘۔ اِس سے معلوم ہوا کہ اُن کے ذہن میں دونوں مقامات کے بعد کا اتنا ہی تصور تھا، مگر اب صورتِ حال اس کے برعکس ہے اور دونوں مقامات میں بعض جگہ بارہ گھنٹے کا فرق ہے۔ علامہ نظام الدین رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں: وَلَوأَنَّ رَجُلًامِن أَہْلِ السَّوَادِدَخَلَ الْمِصْرَ لِصَلاَۃِ الأَضْحٰی وَأَمرَأَہْلَہٗ أَن یُّضَحُّوْا عَنْہُ، جَازَ أَن یَّذْبَحُوا عَنہُ بَعدَطُلُوعِ الْفَجْرِ، قَالَ مُحَمَّدٌرَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی:أَنظُرفِی ھٰذَا اِلٰی مَوضِعِ الذِّبْحِ دُوْنَ الْمَذْبُوحِ عَنْہُ، کَذَافِی"الظَّہِیْرِیّۃِ"، وَعَنِ الْحَسَنِ بن زیادبِخلافِ ھٰذَا، وَالْقَولُ الاؤّلُ أَصَحُّ وَبِہٖ نَاخُذُ کَذَا فِی"الْحَاوِی لِلْفَتَاویٰ"۔

ترجمہ:اوراگر ایک دیہاتی شخص عیدالاضحیٰ کی نماز کے لیے شہر میں آیا اور اپنے گھروالوں کو حکم دیا کہ اس کی قربانی کرلیں، تو اُن کے لیے جائز ہے کہ طلوعِ فجر کے بعد (یعنی شہر میں نمازِ عید سے پہلے) اس کی قربانی کرلیں، (کیونکہ قربانی کے لیے مقامِ ذبح کا اعتبار ہے )۔ امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ نے کہا:میں اس مسئلے میں مقامِ ذبح کو دیکھتاہوں، صاحبِ قربانی کے مقام کو نہیں دیکھتا، "الظّہیریہ" میں اسی طرح ہے، امام حسن بن زیاد کا قول اس کے برعکس ہے اور پہلا قول صحیح ہے اور ہم اسی کو بطور مذہب اختیار کرتے ہیں، "الحاوی للفتاویٰ "میں اسی طرح ہے، (فتاویٰ عالمگیری، جلد5، ص:296)‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   سینگ نظر نہ آنے والے جانور کی قربانی کا حکم - مفتی منیب الرحمٰن

علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: (قَوْلُہٗ وَاوّلُ وَقْتِھَابَعدَالصَّلوٰۃِ)فِیہ تَسَامُحٌ اِذِالتَّضْحِیّۃُ لَایَخْتَلِفُ وَقتُھَابِالْمِصْرِوَغَیرِہٖ بَل شَرطُھَا، فَاوَّلُ وَقْتِھَافِیْ حَقِّ الْمِصْرِیِّ وَالْقَرَوِیِّ، طُلوعُ الْفَجْرِ، اِلّااَنَّہٗ شُرِطَ لِلْمِصْرِیِّ تَقْدِیْمُ الصَّلوٰۃِ، فَعَدمُ الْجَوَازِ لِفَقْدِ الشَّرْطِ لَالِعَدَمِ الْوَقْتِ، ترجمہ:"ماتن کا یہ کہناکہ دس ذوالحجہ کو (شہرمیں)قربانی کا ابتدائی وقت نمازِ عید الاضحیٰ کے بعدہے، اس میں تسامح ہے، کیونکہ قربانی کا وقت شہر اوردیہات کے لیے (اپنی اصل کے اعتبار سے)مختلف نہیں ہے (یعنی ایک ہی ہے) البتہ شہری کے لیے پورے شہر میں کسی بھی مقام پرنمازعیدالاضحیٰ کا اداہونا شرط ہے، سوشہری اور دیہاتی(دونوں )کے لیے قربانی کا اول وقت( دس ذوالحجہ ) کوطلوعِ فجر ہے، فرق بس اتنا ہے کہ شہری کے لیے شرط ہے کہ شہرمیں نمازِ عید اداہوجائے، سوشہرمیں نمازِ عید سے پہلے قربانی کا جائز نہ ہونا شرط کے نہ ہونے کے سبب ہے، نہ کہ اس لیے کہ یہ قربانی کا وقت نہیں ہے، (شامی، جلد9، ص:385) ۔ "

شمس الائمہ علامہ شمس الدین محمد بن احمد سرخسی لکھتے ہیں: ثُمَّ اَوّلُ وَقْتِ الاُضْحِیَّۃِ عِندَ طُلُوعِ الْفَجْرِ الثَّانِی مِنْ یَومِ النَّحْرِ اِلَّااَنَّ فِی حَقِّ اَہْلِ الْاَمْصَارِ یَشْتَرِطُ تَقدِیْمُ الصَّلوٰۃِ عَلَی الْاُضْحِیَّۃِ، وَدخُولُ الْوَقْتِ لَایَخْتَلِفُ فِی حَقِّ اَہلِ الْاَمْصَارِ وَالْقَرَوِیِّ اِنَّمَا یَخْتَلِفُونَ فِی وُجُوبِ الصَّلوٰۃِ فَلَیْسَ عَلٰی اَہلِ القُریٰ صَلوٰۃُ الْعِیْدِ

ترجمہ:" پھر قربانی کا ابتدائی وقت دس ذوالحجہ کی صبح صادق کے طلوع ہونے کا وقت ہے، صرف اتنی بات ہے کہ شہریوں کے لیے قربانی سے پہلے نمازِ عیدالاضحیٰ کاادا ہوجانا شرط ہے، ورنہ قربانی کا وقت اپنی اصل کے اعتبار سے شہری اور دیہاتی کے لیے مختلف نہیں ہے، دونوں کے حکم میں فرق صرف وجوبِ نمازِ عید کا ہے اور دیہاتی پر نمازِ عید واجب نہیں ہے، (المبسوط، جلد12، ص:13)"۔

اِن عبارات سے معلوم ہواکہ قربانی کا اصل سبب وقت یعنی صاحبِ قربانی کے ایامِ قربانی ہیں۔ اورایامِ قربانی کے تعین کے لیے مقامِ قربانی کا نہیں بلکہ صاحبِ قربانی کا اعتبار ہوگا۔ البتہ دن اور رات یانمازعید سے پہلے اوربعد کے لیے مقامِ قربانی کااعتبار ہوگا۔ پس خلاصۂ کلام یہ کہ اگریورپی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے ایامِ نحر شروع ہوچکے ہیں، مگر پاکستان میں ابھی ایامِ نحر شروع نہیں ہوئے، توپاکستان میں اُن کی طرف سے قبل ازوقت ہونے کی وجہ سے قربانی ادانہیں ہوگی۔ اگر یورپی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے ایامِ نحر ختم ہوچکے ہیں، اگرچہ پاکستان میں ایامِ نحر باقی ہیں، لیکن پاکستان میں ان کی طرف سے قربانی بعد از وقت ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہوگی، بعدازوقت قربانی کا صدقہ واجب ہوتاہے، جانور کا ذبح کرنا صرف ایامِ قربانی کے ساتھ مشروط ہے۔ لہٰذا یورپ ودیگرممالک میں مقیم مسلمانوں کی پاکستان میں قربانی صرف اُس صورت میں جائز ہوگی کہ صاحب قربانی کے ایامِ قربانی باقی ہوں اور جہاں قربانی کی جارہی ہے، وہاں کے اعتبار سے بھی قربانی کے ایام جاری ہوں اور وقت بھی درست ہو۔

اس مسئلہ کوعام کرنا اس لیے ضروری ہے کہ بیرونِ ملک مقیم لوگوں کی قربانی کی عبادت صحیح طورپر اداہو۔ ہم نے اپنے عہد کے ممتاز مفتیانِ عظام علامہ مفتی محمد رفیق حسنی، علامہ مفتی محمد ابراہیم قادری، علامہ مفتی محمد الیاس رضوی اشرفی، مفتی ابوبکر صدیق اورمفتی محمد اسماعیل نورانی سے مشاورت کی، اُنہوں نے بھی اس موقف سے اتفاق کیا، فَلِلّٰہ الحمد

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں