کیا خطبہ جمعہ کی ویڈیو بنانا جائز ہے؟ محمد رضی الاسلام ندوی

سوال:
کیا مسجد میں منعقد ہونے والے دینی پروگراموں، خاص طور پر جمعہ کے خطبوں کی ویڈیوگرافی کرکے انھیں یو ٹیوب پر اپ لوڈ کیا جا سکتا ہے؟
بعض حضرات ایسا کرنے سے منع کرتے ہیں. وہ کہتے ہیں کہ تصویر کشی اسلام میں حرام ہے، اس لیے اس کی کوئی بھی صورت جائز نہیں، پھر مسجد میں یہ کام اور بھی قبیح اور باعثِ گناہ ہے، اس لیے اس سے بچنا چاہیے. براہ کرم اس سلسلے میں رہ نمائی فرمائیں.

جواب:
جدید آلات میں فی نفسہ کوئی خوبی ہے نہ خرابی، ان کا استعمال انھیں اچھا یا بُرا بناتا ہے.
اگر خطبہ جمعہ یا مسجد میں منعقد ہونے والے کسی پروگرام کی ویڈیوگرافی کی جائے، پھر اسے یوٹیوب پر اَپ لوڈ کردیا جائے، تاکہ پوری دنیا میں اس سے استفادہ عام ہو، تو اس عمل کو ناجائز نہیں کہا جاسکتا.

یہ بات صحیح ہے کہ اسلام میں تصویر سازی حرام ہے، اس بنا پر مجسّمے تیار کرنا، اسٹیچو کھڑے کرنا، جانداروں کی تصویریں بنانا، انھیں دیواروں یا نمایاں مقامات پر آویزاں کرنا جائز نہیں، لیکن موبائل یا کیمرے سے ویڈیو بنانے پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا. یہ حقیقت میں کسی چیز کا عکس ہوتا ہے، جسے مشین کے ذریعے روک لیا جاتا ہے، اس پر جواز یا عدمِ جواز کا حکم اس کے استعمال کو دیکھ کر لگایا جائے گا، چنانچہ فحش اور گندی چیزوں یا پروگراموں کی ویڈیوگرافی کرنا، انھیں اَپ لوڈ کرنا اور انھیں دیکھنا سب ناجائز ہوگا، جبکہ اچھے دینی، سماجی اور تعلیمی پروگراموں کی ویڈیوگرافی کرنا، انھیں اَپ لوڈ کرنا اور انھیں دیکھنا جائز ہوگا.

یہی بات مسجد میں ہونے والے دینی پروگراموں اور خطباتِ جمعہ کے بارے میں بھی کہی جائے گی کہ ان کی ویڈیوگرافی کرنا اور ان سے افادہ و استفادہ کے مواقع فراہم کرنا بالکل جائز ہے.
البتہ اس معاملے میں دو باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:
اول یہ کہ مسجد میں ویڈیوگرافی کے وقت مسجد کے تقدس اور احترام کا خصوصی خیال رکھا جائے، وہاں ویڈیو گرافی اتنی خاموشی اور سکون سے کی جائے کہ مسجد کی پاکیزہ فضا مجروح نہ ہو، وہاں شوروغل اور دوڑبھاگ نہ ہو، نمازی بےسکونی محسوس نہ کریں اور ان کی نمازوں میں خلل نہ ہو.

یہ بھی پڑھیں:   کہاں ہیں خالد اور ایوبی، مسجد اقصیٰ کی پکار - خطبہ جمعہ بیت اللہ

دوم یہ کہ کسی جائز کام کی زیادتی اور اس کا بلاضرورت استعمال اسے نا پسندیدہ بنا دیتا ہے، اس لیے اس جدید ٹیکنالوجی کا استعمال صرف حسبِ ضرورت کرنا چاہیے، اس میں افراط سے پیسہ بھی ضائع ہوتا ہے اور وقت بھی اور یہ دونوں چیزیں اللہ کی امانت ہیں، جن کے ضائع کرنے پر مؤاخذہ ہوگا.

Comments

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

محمد رضی الاسلام ندوی نے ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے BUMS اورMD کیا. ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی ہند کے رفیق رہے. سہ ماہی تحقیقات اسلامی کے معاون مدیر اور جماعت اسلامی ہند کی تصنیفی اکیڈمی کے سکریٹری ہیں. قرآنیات اور سماجیات ان کی دل چسپی کے خاص موضوعات ہیں. عرب مصنفین کی متعدد اہم کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • آپ کا مضمون پڑھا۔ ایک سوال ذہن میں ہے کہ تصویر لٹکانا تو حرام ہے، تو کیا ہم مسجد میں اپنے بزرگوں کی تصاویر (جلسے کے باتصویر اشتہارات اور دیگر اسی طرز کی تصاویر) پروجیکٹر کے ذریعے عیاں کر سکتے ہیں کیونکہ اس مضمون کی رو سے "یہ حقیقت میں کسی چیز کا عکس ہوتا ہے، جسے مشین کے ذریعے روک لیا جاتا ہے"۔
    تسلی بخش جواب کے متمنی۔۔۔