حافظ محمد سعید کیوں نہیں؟ - احسان کوہاٹی

سیلانی کبھی دائیں جانب دیکھتا اور کبھی اُس کی نظریں بائیں جانب اٹھتیں اور فورا ہی واپس پلٹ پڑتیں۔ وہ کمرہ تھا ہی اتنا چھوٹا سا جس میں پلاسٹک کی پٹیوں والی کرسیاں رکھی ہوئی تھیں، ان کرسیوں کے بیچ میں ایک میز تھی جس پر آنے والے مہمانوں کے لیے چائے ناشتہ رکھا جاتا تھا۔ دیوار کے ایک گوشے میں چھوٹا ساریک رکھا ہواتھا۔ اس قسم کے ریک پرعموماً آرائشی اشیاء رکھی جاتی ہیں ۔ یہ پلاسٹک کی کرسیاں ، میز اور اور دیوار کے گوشے سے لگا ریک اس کمرے کاکل سامان تھا جو مہمان خانہ تھا اور مہمان خانہ بھی کس کا؟وہ جس کی ایک آواز پر لوگوں کے ہاتھ حرکت میں آجاتے ہیں۔ پنڈال میں بیٹھے شاید ہی کسی شخص کے ہاتھ ساکت رہ جاتے ہوں جن کی انگلیاں بٹووں سے نوٹ نہیں کھینچ پاتیں۔ جن کی استطاعت نہیں ہوتی وہ ہاتھوں کو کشکول بنا کر اس شخص کے اکاؤنٹ میں دعائیں جمع کرا نے لگتے ہیں، مائیں اور بہنیں کلائیوں سے کنگن کھینچ لیتی ہیں اورتھوڑی ہی دیر میں لاکھوں روپے جمع ہوجاتے ہیں اور طلائی زیورات کی گٹھڑی بندھ جاتی ہے۔ سیلانی اس وقت لاہور میں اسی حافظ محمدسعید کے مہمان خانے میں تھا۔ حافظ صاحب کی اہلیہ کے انتقال کو چند دن ہوئے تھے۔ میمونہ آپا ان کے کڑے وقتوں کی ساتھی تھیں اور تب سے اپنے رفیق سفر کا ہاتھ بٹا رہی تھیں جب حافظ صاحب سائیکل پر ایک محلے سے دوسرے محلے، ایک مسجد سے دوسری مسجد جا جا کر درس دیا کرتے تھے، اپنا پیغام پہنچایا کرتے تھے۔ سیلانی کا لاہور جانا ہوا تو تعزیت کے لیے جوہر ٹاؤن میں حافظ صاحب کے گھر بھی حاضر ہوا۔ حافظ صاحب کا گھر ویسا ہی تھا جیسا کسی عام پاکستانی کا ہو سکتا ہے بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ سیلانی کے مہمان خانہ اس سے بہتر حالت میں ہے۔

حافظ سعید صاحب فطرتاً سادہ طبیعت اور مضبوط اعصاب کے مالک ہیں۔ ان کے کردار کی طرح لباس بھی سپید اور بے داغ ہوتا ہے۔ سیلانی کو یاد ہے کہ اس روز بھی وہ سفید قمیض شلوار پہنے ہوئے تھے۔ حسب عادت قمیض کے کف کھلے ہوئے اور پاؤں میں چپل تھے۔ دعائے مغفرت کے بعدسیلانی کچھ دیر ان کے ساتھ بیٹھا رہا۔ اس عرصے میں کچھ غیرملکی مہمانوں کے آنے کی اطلاع ملی۔ اسے گمان ہوا کہ شاید ان مہمانوں کو کہیں اور لے جایا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے لیے کوئی الگ سے مہنگی سجاوٹی اشیاء سے سجا، ترکی کے منگوائے گئے قالین والا ڈرائنگ روم ہوگا لیکن اس کے اس غلط اندازے کی عمر چند سیکنڈ ہی نکلی۔ انہیں بھی اسی مہمان خانے میں لایا گیااور وہ بھی اسی پلاسٹک کی کرسیوں پر سیلانی کے ساتھ بیٹھ گئے۔ سیلانی دل ہی دل میں اپنی بدگمانی پر شرمندہ ہوگیا۔

آج حافظ محمد سعید ایک بار پھر اسی چھوٹے سے گھر میں نظربند ہیں اور اسی چھوٹے سے گھر سے ایک بڑی تحریک کا اعلان کرنے کو ہیں۔ اس متوقع اعلان کے چسکے اور بارہ مصالحوں کی خبریں ڈھونے والے ملکی میڈیا کو خبر ہوئی کہ نہیں ہوئی، واہگہ پار براہمنوں کے دیس میں ہائے ہائے ضرور ہونے لگی ہے۔ ہندوستانی میڈیااور ہندوتوا والے ایسے اچھل رہے ہیں، جیسے تشریف تلے گرم توا رکھ دیا گیا ہو۔ بھارتی میڈیا کے بڑے نام انڈیا ٹی وی نے حافظ محمد سعید کے اس ممکنہ اعلان پر تین منٹ چھپن سیکنڈ کی نیوز رپورٹ آن ائیر کی۔ زی نیوز نے چار منٹ تیرہ سیکنڈاور انڈیا ٹوڈے نے تین منٹ پینتیس منٹ کی رپورٹ نشر کی۔ انڈیا ٹی وی کی نیوز اینکر بریکنگ نیوز دیتے ہوئے کہہ رہی تھی "ممبئی آتنک حملے کا ماسٹر مائنڈ اورلشکر طیبہ چیف حافظ سعید اب سیاست کرنا چاہتا ہے، وہ پاکستان میں اب چناؤ لڑنا چاہتا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں آنے کے لیے حافظ سعید نے نئی پولیٹیکل پارٹی بنانے کا فیصلہ کیا۔ سوال یہ ہے کہ حافظ سعید کے نیتا بننے کے فیصلے کے پیچھے اصل وجہ کیا ہے؟ کیوں وہ نیتا بن کر پاکستانی سنسٹھ میں جانا چاہتا ہے" اس 23 سیکنڈ کی تمہید کے بعد بھرپور پروپیگنڈا نیوز رپورٹ میں وہ سب کچھ تھا جو کسی بوکھلائے ہوئے شخص سے ہو سکتا ہے۔

اس خبرنامے کے بعد سیلانی آپ کو پاکستانیوں کے پسندیدہ "زی ٹی وی" کے زی نیوزکے خبرنامے میں لیے چلتا ہے، دیکھیں اس کا نیوز کاسٹر کیا کہتا ہے

"اب ہم آپ کو دیش کے دشمنوں کی دو تصویر دکھانے جا رہے ہیں، پہلی تصویر الگا وادی کے گینگ کی ہے جن کے بارے میں نیا خلاصہ ہوا ہے، آتنک کے لیے فنڈنگ کے لیے گرفتار سات الگا وادی ابھی این آئی اے کی حراست میں ہیں۔ ان الگا وادی کے پاس کروڑوں کی سمپتی کا خلاصہ ہوا ہے۔ گیلانی، شبیر شاہ، یاسین ملک، میر واعظ عمر فاروق کے پاس کشمیر سے لے کر دبئی تک سمپتی کے نئے دستاویز سامنے آئے ہیں۔ گیلانی کے پاس کشمیر اور دلی میں کروڑوں کے فلیٹ کے ساتھ کئی بےنامی سمپتی ہیں۔ میر واعظ عمر فاروق پر آروپ ہے کہ اس نے دبئی اور کئی جگہ اپنے رشتہ داروں کے نام پر غلط طریقے سے نویش کیا ہے۔ دوسری تصویر پاکستان کی ہے جہاں ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ حافظ سعید اب سیاست میں آتنک مچانے کی تیاری کر رہا ہے۔ آتنکیوں کی فوج تیار کرنے والے حافظ نئی راج نیتک پارٹی بنا رہا ہے۔ آتنکی حافظ سعید اب راج نیت میں اترنے کی تیاری کر رہا ہے۔ جماعت الدعوہ نے پاک چناؤ آیوگ میں نئی پارٹی کی عرضی دی ہے۔"

بھارت کے نیوز چینلز کا یہ واویلا اس حدتک بالکل درست ہے کہ جماعت الدعوۃ اب ملّی مسلم لیگ کے نام سے نئے سیاسی سفر کا آغاز کرنے کو ہے۔ بھارت کے لیے ڈرؤانا خواب ثابت ہونے والے حافظ سعید اب ملک کے موروثی سیاسی محلوں کے عشرت کدوں میں سونے والوں کے لیے کیسا خواب ثابت ہوتے ہیں، اس بارے میں سیلانی کیا کہے کہ اس حوالے سے اس کے پاس خدشات وسوسے بھی ہیں اور آس امیدیں بھی۔ آس امید یہ کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہی کرپشن کا ہے اور حافظ صاحب کی آمد سے اس مسئلے کے حل کی امید مزید مضبوط ہو چلی ہے لیکن ساتھ ہی اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ قوم اس مسئلے کو مسئلہ سمجھنے کو تیار نہیں۔ اسے جس سوراخ سے ڈسا جاتا ہے وہاں سے انگلی نکال کر ناک گھسا دیتی ہے۔ جب مریض علاج کے لیے تیار ہی نہ تو سامنے معالج حکیم لقمان ہی کیوں نہ ہو، وہ کیا کر سکتا ہے ؟

ہم نے اپنے اپنے دلوں میں بت تراشے ہوئے ہیں، کوئی اپنے لیڈر کے خلاف لفظ سننے کو بھی تیار نہیں۔ اس کے بارے میں زبان پر سوال رکھنا تو سوچیے بھی نہ۔ پھر الیکشن کی سیاست ڈھیروں منافقت، تعصب کے ساتھ ساتھ کرنسی نوٹوں سے بھری بوریاں بھر کر لانی ہوتی ہیں۔ کیا حافظ محمد سعید یہ سب کر سکے گا؟ سانپوں کی طرح ان خدشات اور وسوسوں کے اٹھے ہوئے سروں کو جماعت الدعوۃ کی قیادت اور کارکنوں کے جذبوں نے کچل دیا۔

2005ء کے کشمیر کے زلزلے سے لے کر آواران میں زمین کی جنبش کے بعدجماعت کے جذبے اور خدمت کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہے۔ حالات تو ابھی بھی بہتر نہیں لیکن تب بلوچستان کی سنگلاخ زمین پنجابیوں کے لیے علاقہ غیر بن چکی تھی۔ اس کے باوجود آواران کے زلزلے میں جماعت الدعوۃ کے پنجابی کارکن اپنے کاندھوں پر سامان ڈھو ڈھو کر بلوچ بستیوں میں پہنچے اور ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ صحرائے تھربھی اسی دھرتی کاحصہ ہے۔ یہاں اکثریت ہندوپاکستانیوں کی ہے۔ بری طرح نظر انداز کئے گئے اس علاقے میں پانی کا گھونٹ خون کی بوند سے زیادہ قیمت رکھتا ہے یہاں زیر زمین پانی تین سو فٹ سے پہلے نہیں ملتا۔ یہاں ایک کنویں پر لاکھوں روپے کی لاگت آتی ہے اور تھر میں جماعت الدعوۃ کی فلاح انسانیت فاؤنڈیشن 1960سے زائد کنویں اور ہینڈپمپ لگواچکی ہے۔ یہ کنویں ہیند پمپس اور سولرپمپس بنا کسی مذہب رنگ و نسل آبادی کی تفریق کے بنائے گئے۔ صحرا سے نکلیے سندھو دریا کے پاس آجایئے۔ یہاں سیلاب کے دنوں مصیبت زدوں کی خدمت کرکے جماعت کے کارکن مہران دھرتی میں محبتوں کے بیچ ڈال چکے ہیں ۔ خدمت انسانیت جماعت الدعوۃ کی پہچان بن چکی ہے اور یہ پہچان صرف پاکستان ہی تک محدود نہیں۔ شام کے مہاجر کیمپوں کے خانماں برباد، غزہ کی پٹی کے پریشان حال عرب اور افریقہ کے قحط زدگان بھی ان دراز ریشوں کا نام شکر گزار آنکھوں سے لیتے ہیں ۔ وادی کشمیر میں حافظ محمد سعید کی آواز صدائے حریت بن چکی ہے، وہ کشمیر کی تحریک آزادی کے عملاً حامی ہیں اورتحریک کشمیر کو تکمیل پاکستان کی تحریک کہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ صاف ستھری آوازپاکستان کی غلیظ سیاست کے شور میں اپنی پہچان بنا سکے گی؟ ایوان میں گونج سکے گی ؟ملّی مسلم لیگ کی قیادت بیمار سسٹم کی مسیحائی کر سکے گی؟ایمان دار، باکردار اور گمنام لوگ میدان سیاست کے لچوں لفنگوں اوربدمعاشوں کامقابلہ کر سکیں گے؟ یہ سوال لے کرسیلانی نے جماعت الدعوۃ کے ایک سینئر رہنماکو فون کیا اور سارے خدشات سامنے رکھ دیے،انہوں نے خاموشی سے ساری بات سنی اور کہنے لگے
"ہم مروجہ سیاست نہیں کریں گے، ہماری سیاست بھی خدمت اور محبت کی ہی ہوگی "
"2018ء کے الیکشن لڑیں گے؟"
"ابھی ایسا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی نیک بھلے مانس کی حمایت کر دیں "
"ایسے آپ لوگوں کو سیاست میں آنے کی کیا سوجھی؟"
"ہمیں اس طرف دھکیل دیا گیا ہے یایوں کہہ لیں کہ صورتحال ہی ایسی ہو گئی کہ ہمیں یہ کڑوا گھونٹ پیناپڑ رہا ہے۔ ہم پریہ جو نان اسٹیٹ ایکٹر کا لیبل لگا کر پابندیاں تھوپ دی جاتی ہیں، اس کا کیا حل کریں۔ حافظ صاحب پر پورے ملک کے کسی تھانے میں ایک مقدمہ نہیں، پھر بھی وہ پانچویں بار نظر بند ہو ئے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ آپ ہیں کون اور کس حیثیت سے قومی ایشوز پر کانفرنسیں، مظاہرے اور پریس کانفرنسیں کرتے ہیں، حالانکہ ہم زیادہ تر نظریہ پاکستان یاکشمیر ہی کی بات کرتے ہیں۔ ہم کہیں رجسٹر ہوں گے تو اس نان اسٹیٹ ایکٹر اور ان سوالوں سے تو جان چھٹے گی۔"

ان کی بات بڑی حد تک درست تھی۔ ویسے بھی سیاست خدمت والوں کے لیے شجر ممنوعہ تو نہیں ہے۔ جب کسی شراب پینے والے، حشیش کے سٹے لگانے والے، اربوں کی ہیریاں پھیریاں کرنے والے، بھتہ نہ ملنے پر مزدوروں کو فیکٹری میں زندہ جلانے والے، قومی پرچم کی بے حرمتی کرنے والے، کوچہ ملامت سے نکل کر ایوان بالا میں پہنچ سکتے ہیں۔ پڑوس میں 'گجرات کا قصاب' راشٹریہ سیوک سنگھ کا نریندر مودی وزیر اعظم بن سکتا ہے تو جوہر ٹاؤن کا بے داغ کرداروالا حافظ محمد سعید نظریہ پاکستان اور تکمیل پاکستان کا نظریہ لیے ایوان میں کیوں نہیں جا سکتا؟

سیلانی نے یہ سوچتے ہوئے مخاطب ہستی کا شکریہ ادا کیا اور اپنے لیپ ٹاپ پر مسکراتے ہوئے 'انڈیا ٹوڈے' کے بوکھلائے ہوئے اینکر کو دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.