"لوٹ مار کے سال " کے کچھ واقعات - عبد الباسط بلوچ

"یہ آپ 1947ء کو لوٹ مار کا سال کیوں کہتے ہیں؟" میں نے پوچھا۔ اس مرتبہ گاؤں میں ایک باباجی سے بھی ملاقات ہوئی،جس کے دوران زندگی کے حالات و واقعات پر بات ہوئی۔ ذکر قیام پاکستان تک بھی پہنچا تو انہوں نے اسے "لوٹ مار کا سال" قرار دیا۔ میرے سوال پر گویا ہوئے "اس سال بہت کچھ ہوا۔ جمعے کا دن تھا۔ ہمارے علاقے کے سکھ اور ہندو شہر کی طرف جا رہے تھے۔ کچھ دیر بعد باہر نکلا تو ایک آدمی گھوڑی پر بیٹھا آ رہا تھا اور مجھے دیکھ کر بولا پتہ نہیں کہ آج پاکستان بن گیا ہے؟ وہی شخص ہر جگہ یہ اطلاع دیتا پھر رہا تھا۔ نجانے کون تھا؟ مجھے تو کوئی فرشتہ ہی لگتا تھا۔"

ہم نے تو ہمیشہ یہی سنا کہ ہندوستان سے پاکستان ہجرت کرنے والے مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے لیکن بابا جی سے کچھ اور بھی سننے کو ملا۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں والوں نے بھی کچھ کم نہیں کیا تھا۔ بابا جی کے مطابق رینالہ کے اردگرد کے دیہاتوں سے سکھ اور ہندو اکٹھے ہوکر ٹرین کی پٹری کے ساتھ ساتھ اوکاڑہ جا رہے تھے۔ اس دوران پاس سے گزرتی ایک ریل گاڑی میں موجود بھارت سے آنے والے بلوچ رجمنٹ کے سپاہیوں تھے۔ وہ ہندوستان سے آنے والی خون سے لت پت ریل گاڑیاں دیکھ کر آئے تھے، ان لوگوں پر اندھادھند فائرنگ کی اور بہت سے لوگ اور جانور مارے گئے۔ وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا ہمارے مارے، ہم نے بدلہ لیا۔

بحالی مہاجرین کی بات چلی تو ان کے جذبہ خدمت کو سراہنا پڑا۔ دو سال تک مہاجرین کی بحالی کے لیے تعاون کرتے رہے حالانکہ اپنے حالات بھی اتنے اچھے نہ تھے۔ گندم، راشن اور دوسری چیزیں مہاجرین بھائیوں کو پہنچاتے رہے۔ اگر کوئی مہاجر آ جاتا تو اس کو اپنے جانور سستے نرخوں پر دیتے کہ وہ اپنا سب کچھ قربان کرکے یہاں آئے ہیں۔ ان کی آنکھوں سے بہتے آنسو برداشت نہ ہوتے تھے۔

ایک واقعہ سنایا کہ امرتسر سے آنے والا ایک مہاجر ریل گاڑی پر سوار ہونے لگا تو اپنی گھوڑی کو اسٹیشن پر چھوڑ دیا۔ وفادار گھوڑی بعد میں گاڑی کے ساتھ ساتھ بھاگنا شروع ہوگئی۔ ایک سپاہی نے یہ منظر دیکھا تو گاڑی روک کر اسے ریل میں بٹھا لیا اور وہ بھی ہجرت کرکے پاکستان آ گئی اور اپنے اصل مالک تک پہنچا دی گئی۔ کسی نے بیچنے کو کہا تو اس نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ اب یہ ہمارے خاندان کا حصہ ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com