اقبال کا خطبہ الٰہ آباد اور پاکستان کی اساس - ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

علامہ اقبال نے آل انڈیا مسلم لیگ کے 25 ویں سیشن میں 29 دسمبر 1930ء کو بمقام الہ آباد خطبہ ارشاد فرمایا۔ اس خطبہ میں آ پ نے ہندوستان میں مسلمانوں کو درپیش مسائل و مشکلات کو بیان کرتے ہوئے ان کا حل بیان فرمایا، اور مستقبل کی کامیاب راہ کا تعین کیا۔ اقبال کی فراست مؤمنانہ نے اس بات کا ادراک کر لیا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے مسائل کا حل ایک علیحدہ ریاست کا قیام ہے، اسی لیے آپ نے اپنے اس خطبہ میں ایک نئی سکیم پیش فرمائی۔
آپ نے فرمایا:
"I would like to see the Punjab, North-West Frontier Province, Sind and Baluchistan amalgamated into a single State. Self-government within the British Empire, or without the British Empire, the formation of a consolidated North-West Indian Muslim State appears to me to be the final destiny of the Muslims."
’’میں پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان کو ایک ریاست میں مدغم دیکھنا چاہتا ہوں۔ ایک خود مختار ریاست برطانوی حکومت کے اندر یا برطانوی حکومت کے بغیر۔ شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کی ایک مضبوط ریاست کا بننا ہی مجھے مسلمانوں کی آخری منزل معلوم ہوتا ہے۔‘‘

علامہ اقبال کے خطبہ میں قرآن و سنت اور اسلام کا بار بار ذکر اور اسی راہ کو نجات کا طریق وحید قرار دینا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اقبال لادین نہیں بلکہ عاشق رسول ﷺ تھے اور اسی روحانی بنیاد پر مسلمانوں کی ترقی کے خواہاں تھے۔
اقبال نے فرمایا:
I have given the best part of my life to a careful study of Islam, its law and polity, its culture, its history and its literature. This constant contact with the spirit of Islam, as it unfolds itself in time, has, I think, given me a kind of insight into its significance as a world fact. It is in the light of this insight, whatever its value, that, while assuming that the Muslims of India are determined to remain true to the spirit of Islam, I propose not to guide you in your decisions, but to attempt the humbler task of bringing clearly to your consciousness the main principle which, in my opinion, should determine the general character of these decisions.

What, then, is the problem and its implications? Is religion a private affair? Would you like to see Islam as a moral and political ideal, meeting the same fate in the world of Islam as Christianity has already met in Europe? Is it possible to retain Islam as an ethical ideal and to reject it as a polity, in favor of national polities in which [the] religious attitude is not permitted to play any part? This question becomes of special importance in India, where the Muslims happen to be a minority. The proposition that religion is a private individual experience is not surprising on the lips of a European. In Europe the conception of Christianity as a monastic order, renouncing the world of matter and fixing its gaze entirely on the world of spirit, led, by a logical process of thought, to the view embodied in this proposition. The nature of the Prophet's religious experience, as disclosed in the Quran, however, is wholly different. It is not mere experience in the sense of a purely biological event, happening inside the experient and necessitating no reactions on its social environment. It is individual experience creative of a social order. Its immediate outcome is the fundamentals of a polity with implicit legal concepts whose civic significance cannot be belittled merely because their origin is revelational.

یہ بھی پڑھیں:   اردو زبان کا رسم الخط - محمد ذیشان

Islam does not bifurcate the unity of man into an irreconcilable duality of spirit and matter. In Islam God and the universe, spirit and matter, Church and State, are organic to each other.

One lesson I have learnt from the history of Muslims. At critical moments in their history it is Islam that has saved Muslims and not vice versa. If today you focus your vision on Islam and seek inspiration from the ever-vitalising idea embodied in it, you will be only reassembling your scattered forces, regaining your lost integrity, and thereby saving yourself from total destruction. One of the profoundest verses in the Holy Quran teaches us that the birth and rebirth of the whole of humanity is like the birth and rebirth of a single individual. Why cannot you who, as a people, can well claim to be the first practical exponents of this superb conception of humanity, live and move and have your being as a single individual? I do not wish to mystify anybody when I say that things in India are not what they appear to be. The meaning of this, however, will dawn upon you only when you have achieved a real collective ego to look at them. In the words of the Quran, "Hold fast to yourself; no one who erreth can hurt you, provided you are well guided" (5:104).(14)

’’میں نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ اسلام، اس کے قانون و ریاست، اس کی تہذیب، اس کی تاریخ اور ادب پڑھنے میں گزارا ہے۔ اسلام کی روح سے اس مستقل رابطے نے، جیسا کہ یہ خود کو رفتہ رفتہ وقت پر ظاہر کرتا ہے، میرے خیال میں مجھے ایک قسم کی بصیرت، اس کی معنویت میں ایک دنیاوی حقیقت کے طور پر عطا کی ہے۔ اس بصیرت کی روشنی میں جو بھی اس کی اہمیت ہو، جبکہ یہ گمان کرتے ہوئے کہ انڈیا کے مسلمانوں نے پکا ارادہ کیا ہوا ہے کہ وہ اسلام کی روح کے ساتھ مخلص رہیں گے، میں یہ ارادہ رکھتا ہوں کہ آپ کی آپ کے فیصلوں میں رہنمائی نہ کروں لیکن آپ کے شعور میں واضح طور پر وہ بنیادی اصول لانے کی عاجزانہ کوشش کروں جو ان فیصلوں کی خصوصیات کو متعین کر دیں۔

پھر مسئلہ اور اس کا ضمنی مفہوم کیا ہے؟ کیا مذہب محض ایک شخص معاملہ ہے؟ کیا آپ اسلام کو ایک اخلاقی اور سیاسی تصور کے طور پر دیکھنا چاہیں گے جو اسلامی دنیا میں اسی مقدر کا سامنا کرے جو عیسائیت پہلے ہی یورپ میں دیکھ چکی ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ اسلام کو ایک اخلاقی تصور کے طور پر باقی رکھا جائے اور اس کو ایک منظم معاشرے اور ریاست کے طور پر رد کر دیا جائے، ان قومی سیاسی اکائیوں کی حمایت میں جن میں مذہبی رویہ کو کوئی کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   اردو زبان کا رسم الخط - محمد ذیشان

یہ سوال انڈیا میں خصوصی اہمیت کا حامل بن جاتا ہے جہاں مسلمان اقلیت میں واقع ہوئے ہیں۔ یہ اصول کہ مذہب ایک شخصی انفرادی تجربہ ہے، یورپیوں کے لبوں پر کوئی نیا بیان نہیں۔ یورپ میں عیسائیت کا تصور ایک راہبانہ سلسلے جیسا ہے جو مادی دنیا کو ترک کر کے اپنی نظروں کو مکمل طور پر روحانی دنیا پر جمائے ہوئے ہے، جس کی رہنمائی ایک منطقی طرز فکر سے اس خیال کی طرف کی جاتی ہے جو اس اصول میں ظاہر ہوتا ہے۔

نبی کریم ﷺ کے مذہبی تجربہ کی خصوصیت جیسا کہ قرآن میں منکشف کیا گیا ہے، البتہ مکمل طور پر مختلف ہے۔ یہ محض ایک خالص حیاتیاتی واقعہ کے معنی میں تجربہ نہیں جو تجربہ کرنے والے کے اندر واقع ہو اور اپنے معاشرتی ماحول پر کسی رد عمل کو ضروری نہ بناتا ہو۔ یہ ایک ایسا انفرادی تجربہ ہے جو ایک معاشرتی نظم و ضبط تخلیق کرتا ہے، اس کا فوری نتیجہ ایک منظم معاشرے اور ریاست کے واضح قانونی تصورات کے ساتھ وہ اصول ہیں جن کی دیوانی اہمیت کو محض اس لیے نہیں گھٹایا جا سکتا کہ ان کا منبع وحی الہٰی ہے۔ اسلام انسان کی وحدت کو روح اور مادے کی متضاد ثنویت میں تقسیم نہیں کرتا۔ اسلام میں خدا اور کائنات، روح اور مادہ، مذہب اور ریاست باہم ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں۔

ایک سبق میں نے مسلمانوں کی تاریخ سے سیکھا ہے۔ اپنی تاریخ کے نازک ترین مواقع پر یہ اسلام ہی ہے جس نے مسلمانوں کو نجات عطا کی ہے، نہ اس کے بر عکس۔ اگر آج آپ اپنی نظر کو اسلام پر مرکوز رکھیں اور اس میں موجود ہمیشہ حیات بخش تصور سے فیض حاصل کریں گے تو آپ اپنی منتشر قوتوں کو باہم اکٹھا کر لیں گے اور اس ذریعے سے آپ خود کو مکمل تباہی سے بچالیں گے۔ قرآن کریم کی دقیق ترین آیات میں سے ایک آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ پوری انسانیت کی ولادت اور ولادت نو ایک فرد واحد کی ولادت اور ولادت نو کی طرح ہے۔ آپ کیوں نہیں زندگی گزار سکتے اور تحریک دے سکتے اور اپنے وجود کو ایک فرد واحد کے طور پر قائم کر سکتے جو بحیثیت ایک قوم زیادہ بہتر دعویٰ کر سکتے ہیں، انسانیت کے اس غیر معمولی تصور کے سب سے اول عملی شارح ہونے کے۔

جب میں یہ کہتا ہوں کہ انڈیا میں اشیاء ایسی نہیں ہیں جیسی بظاہر نظر آتی ہیں تو میں کسی کو اچنبھے میں نہیں ڈالنا چاہتا، اس کا مطلب البتہ آپ پر صرف اس وقت منکشف ہوگا جب آپ ایک حقیقی مجموعی خودی کو ان کو دیکھنے کے لیے حاصل کر لیں گے۔ قرآن کریم کے الفاظ میں:
’’اے ایمان والو!تم اپنی جانوں کی فکر کرو،تمہیں کوئی گمراہ نقصان نہیں پہنچا سکتا اگر تم ہدایت یافتہ ہو چکے ہو۔‘‘

آج بھی اہل پاکستان کے لیے اقبال کے اس خطبے میں عمل کے لیے بہت کچھ ہے ۔

Comments

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی شعبہ علوم اسلامیہ، جامعہ کراچی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز پر اسلام کے مختلف موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ علوم دینیہ کے علاوہ تقابل ادیان، نظریہ پاکستان اور حالات حاضرہ دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.