قلم کو سیاہی درکار ہے - شیخ خالد زاہد

مجھے یقین ہے کہ لفظ محنتانہ قارئین کے لیے نیا یا معیوب نہیں ہوگا اگر آپ لفظ محنت سے واقف ہیں تو آپ کو محنتانہ سے بھی واقفیت ہوگی۔ اس مضمون کو لکھنے کے لیے مجھے بہت سوچنا پڑا مگر پھر اسے اپنا استحقاق سمجھ کر لکھ رہا ہوں۔

آج ساری دنیا میں، اچھے یا برے سے قطع نظر، لکھنے والوں کی بھرمار ہے۔ اس بھرمار میں زبان کی کوئی قید نہیں ہے تقریباً دنیا کی ہر زبان عام ہوتی جا رہی ہے۔ ساری دنیا سمٹ کر 'گلوبل ولیج' بن چکی ہے اور رہی سہی کسر گوگل نے پوری کر دی ہے۔ لکھنے والوں میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اس کی اہم ترین وجہ آن لائن شائع ہونے کی سہولت ہے۔ سارا کا سارا فنونِ لطیفہ آن لائن دستیاب ہے، کوئی شعر ہو یا کوئی افسانہ یر پھر کوئی مضمون سب کچھ آن لائن میسر ہے۔ ایک زمانہ تھا جب کوئی لکھنے والا صرف اس وجہ سے نہیں لکھ پاتا تھا کہ لکھ کر اپنے پاس ہی رکھنا پڑے گا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کسی تحریر کی اشاعت مقصود ہوتی تھی تو بہت بھاگ دوڑ کرنی پڑتی تھی اور نوعیت کے مطابق وقت کا تعین کیا جاتا تھا کیونکہ اس وقت اشاعت صرف اور صرف صفحات کی محتاج تھی۔ وقت نے بدلنا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بدلتا چلاگیا اور اب تو بلکل ہی بدل گیا ہے۔ صفحات کی صورت میں شائع ہونے والے اخبارات اور رسائل آج اس وقت سے کئی گنا زیادہ شائع ہو رہے ہیں، تکنیکی ترقی نے ایک ایسا متبادل راستہ پیش کردیا جس نے نئی نسل کو کتاب اور صفحات سے دور کرنے میں اہم کردار ادا کیایہ ترقی انٹر نیٹ اور کمپیوٹر کی ایجاد تھی۔ جب وقت بہت ہوا کرتا تھا اور کرنے کے لیے کچھ کم کام ہوا کرتے تھے تب لکھنے اور پڑھنے والے دونوں ہی نایا ب ہوا کرتے تھے۔ ایک اخبار تقریباً چار سے چھ گھروں کو سیراب کیا کرتا تھااور کبھی کبھی تو جس کے گھر آتا تھا اسے سب سے آخر میں مطالعہ نصیب ہوتا تھا۔ اور تو اور بازاروں میں ایک پڑھنے والا اور دس سننے والے ہوا کرتے تھے۔ اب سب کچھ آپ کو آن لائن دستیاب ہے یعنی کمپیوٹر یا پھر آپ کے ہاتھ میں موجود اسمارٹ فون پر اخبار تو کیا پوری کی پوری کتاب دستیاب ہے۔

جب رش بڑھ جاتا ہے تو اچھے اور برے میں تمیز کرنے میں دقت پیش آتی ہے اور یہاں تو رش میں ہر دن اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ ایک طرف لکھنے والے اپنی زندگیا ں داؤ پر بھی لگا رہے ہیں تو دوسری طرف یہی لکھنے والے اپنے قلم کی بولیاں لگواتے پھر رہے ہیں۔ لکھنے والے اپنی اپنی سوچ معاشرے کو دیتے جا رہے ہیں اور معاشرہ اتنی ساری سوچوں کی آماجگاہ بن چکا ہے کہ ہمارے لیے کسی کو کسی بات پر آمادہ کرنا انتہائی مشکل ترین کام بن چکا ہے۔ کوئی فرقے کے لیے لکھ رہا ہے کوئی اپنی سیاسی جماعت کے لیے لکھ رہا ہے، کوئی کسی کے مفاد کا پرچار کر رہا ہے تو کوئی کچھ لکھ رہا ہے۔ سب سے اہم اور مزے کی بات یہ ہے کہ سب کا سب شائع ہو رہا ہے، ان گنت ویب سائٹس لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کا مشن لیے اپنا اپنا کام کیے جا رہی ہیں اور لکھنے والوں کی شائع ہونے کی خواہش کو بروقت پورا کررہی ہیں۔

دورِ حاضر میں جہاں تک نظر آرہا ہے لکھنے والوں کی کثیر تعداد شوقیہ قلم درازیوں میں مصروف ہے اور ان کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کی تحریریں منظرِ عام پر آرہی ہیں یا شائع ہورہی ہیں۔آج کل اخبارات میں بھی اداریہ کے صفحات پر ایک تحریر درج ہوتی ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ ادارے کا لکھنے والے کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس تحریر کی اشاعت میری نظر میں اخبار اور رسالوں میں لکھنے والوں کی تحریر بھی ایک آن لائن لکھنے والے کے برابر میں لاکر کھڑی کردی جاتی ہے یا رکھ دی جاتی ہے یعنی گدھے اور گھوڑے کا فرق یکسر نظر انداز کردیا جاتاہے ، معذرت کے ساتھ۔ آن لائن لکھنے والے جو انگریزی زبان کا استعمال کر رہے ہیں ان کا بین الاقوامی سطح تک پہنچنا آسان دیکھائی دیتا ہے دوسری طرف اپنی قومی زبان اردو میں لکھنے والوں کی تحریریں بھی بین الاقوامی سطح تک پہنچ رہی ہیں کیوں کہ دنیا کے ہر نہیں تو ہر تیسرے یا چوتھے ملک میں اردو کی ترویج کے لیے کوئی نا کوئی ویب سائٹ کسی ادبی تنظیم کے تحت کام کر رہی ہے۔

بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ دنیا تجارتی (کمرشل) ہوگئی ہے اور ہر شے کے مول لگتے ہیں اور ہوتے ہیں۔ اس بات سے کسی کو انکاری نہیں ہونا چاہیے چاہے لکھنے والا کسی بھی زبان کا ہو وہ اسی معاشرے کا حصہ ہے معاشرے میں معاشیات کی بڑی اہمیت ہے۔ تقریباً تمام کے تمام اشاعتی ادارے یا ایک طرح کہ میڈیا ہاؤسز مستحکم ہوتے جا رہے ہیں اب جب کے ادارے مستحکم ہوچکے ہیں تو ان اداروں کی ناصرف اخلاقی بلکہ پیشہ ورانہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے ادارے سے وابسطہ لکھنے والوں کا کچھ نا کچھ حسبِ حال محنتانہ متعین کریں اور لکھنے والوں کو اور اچھا لکھنے پر اکسائیں۔ امید کرتا ہوں تمام اشاعتی ادارے جو آن لائن لکھے ہیں۔ اس اقدام کی بدولت کسی حد تک صحافتی کرپشن میں کمی کے قوی امکانات ہیں۔ مختصر سا یہ مضمون دیکھنا ہے شائع ہوتا ہے یا نہیں مگر میری اپنی برادری (لکھنے والوں) سے درخواست ہے اپنے اپنے قلم کے محنتانے کے لیے یا پھر سیاہی کے لیے قلم اٹھائیے۔ اگر اس رائے سے اختلاف ہے توبھی ممکن ہوسکے تو میری اصلاح کیجیے۔