وزرائے اعظم کی ٹرم نامکمل کیوں؟ - پروفیسر جمیل چودھری

رب کائنات کا بے پایاں شکر کہ ملک میں جمعہ کی دوپہر جوسیاسی خلاء پیدا ہواتھاوہ منگل کی شام بحسن وخوبی پُر ہوگیا۔ نئے وزیر اعظم نے حلف اٹھالیا۔ یہ چار دن قوم نے غیر یقینی اور خوف میں گزارے۔ ان چار دنوں میں کوئی بھی انہونی ہوسکتی تھی۔ میں یہاں جہاندیدہ سیاست دان اور چیئرمین سینٹ جناب رضا ربانی کے الفاظ دہرانا پسند کروں گا۔ یہ الفاظ انہوں نے کوئٹہ میں2 اگست کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہے۔ پہلے 58ٹو بی حکومتوں کو گھر بھیجنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ اب ایسے ہی کام کے لیے اور ہی طریقہ اختیار کرلیا گیا ہے۔ 70 سال سے منتخب وزرائے اعظم کو ٹرم پوری ہونے سے پہلے ہی گھر بھیجنے کا عمل جاری ہے۔ 70 سال میں چار مارشل لاؤں سے ہم سب لوگ واقف ہیں۔ مارشل لاء کو جنگل کا قانون بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ کبھی نہیں سنا گیا کہ سپریم کورٹ میں بیٹھے بہت ہی پڑھے لکھے آئین کے پاسبانوں نے کبھی جرات اظہار کی ہو، مارشل لاء کو غیر قانونی قرار دیکر حق کی آواز بلند کی ہو یاپوری عدالت کے جج استعفیٰ دیکر گھر چلے گئے ہوں۔

نظریہ ضرورت جو شاید پاکستان میں وحی کی شکل میں نازل ہواتھا۔ ججوں نے فیصلے اسی نظریہ کو سامنے رکھتے ہوئے دیئے۔ 50ء کی دہائی میں نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے کی ابتداء جسٹس منیر نے کی۔ یحییٰ خان کے خلاف فیصلہ بھی اس کے بطور صدر فراغت کے بعد آیا۔ اس کی موجودگی میں کسی جج کا ضمیر نہیں جاگا۔ بھٹو کو پھانسی پر لٹکانے والی بات تو ابھی تک لوگوں کے ذہنوں سے محو نہیں ہوتی۔ ہو بھی کیسے؟ کروڑوں لوگوں کا نمائندہ جس نے تمام عالم اسلام کو بادشاہی مسجد لاہورمیں اکٹھا کردیا۔ مغرب کو اسی وقت بھٹو سے خوف محسوس ہونے لگاتھا۔ میں نے چند دن پہلے ہی شاہی مسجد لاہور کے خوبصورت تاریخی ہال میں بیٹھے شاہ فیصل، ذوالفقار علی بھٹو اور معمر قذافی اور بہت سے دوسرے اسلامی سربراہوں کی تصویر دیکھی ہے۔ پاکستان کو ایسا تاریخی اجتماع کرنے کادوبارہ کبھی بھی موقع نہ ملا۔ بھٹو کی ذات سے اسلامسٹوں کو کئی اعتراضات ہوسکتے ہیں لیکن اوپر ذکر کردہ تاریخی اجتماع کے بعد قادیانی مسئلہ کاحل بھی اسی جرات مند مسلم وزیر اعظم نے نکالا تھا۔ شراب پر پابندی اور جمعہ کی چھٹی اسی دور کی باتیں ہیں۔ پھانسی سے اسلامی دنیا کے ذہین ترین لیڈر کی کمی اب تک پوری نہیں ہوسکی۔ اب تو اس دور کے سپریم کورٹ کے ججوں نے دباؤ کوتسلیم بھی کرلیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   تقریر تو اچھی، بہت اچھی تھی - فیض اللہ خان

معاف کیجیے میں ذرا ماضی میں چلا گیاتھا۔ مشرف کے مارشل لاء سے اختلاف صرف 2ججوں نے کیااور حلف اٹھانے سے انکار کیا۔ ورنہ اب تک کی روایات یہی ہیں کہ سپریم کورٹ کے ججز آمروں کے سامنے سر تسلیم خم کرتے رہے ہیں اور پھر شریف الدین پیر زادہ جو ہروقت آمروں کی خدمت کے لیے تیار رہتے ہیں۔ شریف الدین پیرزادہ جو سنچری پوری کرنے کے بعد بھی ماشاء اللہ حیات ہیں۔ عین ممکن ہے کہ پھر ان کی کبھی ضرورت پڑجائے۔

موجودہ فیصلے پر ماہرین قانون اور عدلیہ کے ریٹائرڈ جج حضرات بے شمار تبصرے کرچکے ہیں۔ قانون سے نابلد ہمارے جیسے لوگ اس کے بارے کچھ بھی نہیں کہہ سکتے لیکن ایک بات جو پاکستانی قوم کے ہر شخص کی زبان پر ہے۔ وہ یہ کہ پانامہ کے مسٔلے کو نیب کو بھیج دیئے گئے اور اقامہ پر وزیراعظم کو فوری طورپر گھر بھیج دیاگیا اور پھر اپیل کا حق جو دنیا بھر کی عدالتوں میں تسلیم کہاجاتا ہے۔ یہ حق نہ یوسف رضا گیلانی کو ملا تھا اور نہ نواز شریف کے حصے میں آیا۔ مسلم لیگ ن کو پیپلز پارٹی کی وہ باتیں اب یاد آرہی ہوں گی جب وہ62-63۔ پر گفتگو کے لیے کہا کرتے تھے۔ وہ خوشی جو گیلانی کو گھر بھجوانے سے مسلم لیگ نے منائی، استعفیٰ کے مطالبات تب مسلم لیگ کیاکرتی تھی، اب پیپلز پارٹی کرتی رہی "جیسا کروگے ویسا بھروگے۔ "

اگر پارلیمانی نظام کو ملک میں کامیابی سے چلانا ہے تو پارٹیوں کو مضبوط کرنا ہوگا، انہیں خاندانوں سے نکالا جائے، سیاسی اصولوں کی بنیاد پر استوار کیاجائے۔ مسلم لیگ کے لیے تو اب بھی ایک چانس ہے۔ ایک رکن پارلیمان وزیر اعظم منتخب ہوگیا ہے۔ اسے باقی ماندہ ٹرم تک کام کرنے کا موقع دیاجائے۔ اس سے مسلم لیگ بطور ایک سیاسی پارٹی مضبوط ہوگی۔ لوگوں میں اور غیر ملکوں میں یہ پیـغام جائے گا کہ شریف خاندان کے علاوہ بھی مسلم لیگ میں قابل اعتماد قیادت موجود ہے۔

شاہد خاقان عباسی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور مسلم لیگ کے ساتھ30سال سے وابستہ ہیں۔ نواز شریف انہیں مشورے تو ضرور دیں لیکن 2018ء تک کام کرنے دیں۔ تب تک نواز شریف خاندان کے نیب کو ارسال کردہ مقدمات کا فیصلہ بھی ہوجائے گا۔ سیاستدان کبھی ریٹائر توہوتا نہیں۔ شہباز شریف پنجاب کو سنبھالے رکھیں تو بہتر ہے۔ وزیر اعظم کے 2018ء تک کام جاری رکھنے کی خبر ابھی بھی آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   تقریر تو اچھی، بہت اچھی تھی - فیض اللہ خان

یہ بات پہلے بھی کہی گئی ہے کہ پی پی اب بہت پرانی پارٹی ہوچکی ہے۔ اپنی گولڈن جوبلی مناچکی ہے۔ اصل بھٹو میں سے اب کوئی سیاسی میدان میں نہیں رہا۔ زرداری کو لوگ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کا جانشین ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ لہٰذا اسے بھی اپنا کوئی جہاں دیدہ اور تجربہ کار لیڈر آگے لانا چاہیے۔ رضاربانی میں بھی بڑی خصوصیات ہیں۔ تحریک انصاف کی تو ابھی شروعات ہیں۔ پارلیمنٹ کو ایک خصوصی اجلاس میں اس پر گفتگو کرنی چاہیے کہ ان کے نمائندے ٹرم پوری ہونے سے پہلے آخر کیوں گھر بھیجے جاتے ہیں؟۔ ملک میں اس سے عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ غیر یقینی کیفیت کے سائے لمبے ہوتے ہیں۔ دونوں بڑی پارٹیاں سپریم کورٹ کا ایک ایک وار سہہ چکی ہیں کروڑوں لوگوں کے منتخب نمائندے فوری طورپر نہ صرف گھر گئے بلکہ انہیں اپیل کا حق بھی نہیں ملا۔ پارلیمنٹ اس پر ٹھنڈے انداز سے گفتگو کرے۔ اگر کسی پارلیمنٹ کے رکن پر کوئی مقدمہ بنے تو پہلے وہ ٹرائل کورٹ میں چلے۔ خلاف فیصلہ آنے کی صورت میں مقدمہ سپریم کورٹ میں جائے۔ اپیل کا حق ملٹری عدالتوں میں بھی ہوتا ہے اور دنیا کے نظام انصاف میں بھی موجود ہے۔

ملک پر حکمرانی کا حق آئین کے مطابق پاکستان کے عوام کا ہے۔ عوام پارٹیاں بناتے ہیں اور انتخاب کے بعد حکمران منتخب ہوتے ہیں۔ ان کے احتساب کے لیے عدالتیں اور ادارے ضرور ہونے چاہیے۔ کرپشن ہمارے ملک کابہت بڑا مسٔلہ ہے۔ لیکن مسٔلہ ٹرائل کورٹ میں زیر بحث آئے اور پھر سپریم کورٹ میں آئے۔ اور جب کرپشن کے واضح ثبوت مل جائیں تو ٹرائل کورٹ (جو ہائی کورٹ بھی ہوسکتی ہے) رکن پارلیمنٹ کو نااہل کرے اور پھر مسٔلہ اپیل میں اوپر جائے۔ پاکستان میں الٹ ہورہا ہے۔ گیلانی ہو یا نواز شریف احتساب سب کاضرور ہو۔ لیکن بات ٹرائل کورٹ سے شروع ہو، پھر عدالت عالیہ میں جا ئے۔ انصاف کے تقاضے صرف اسی وقت پورے ہوں گے۔