شکست - ام شافعہ

پہلے، بہت پہلے، کئی سال پہلے، کی بات ہے، رات کی تاریکی میں کچھ نہ نظر آنے کی بنا پر ٹھوکر لگنے کے باعث وہ منہ کے بل گر پڑی۔ دور سے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آرہی تھیں، جو اسے بالکل خوفزدہ نہ کر سکیں کہ آج تو انسانی درندوں سے واسطہ پڑا تھا۔ پیچھے سے قریب آتے " جے رام، جے ہنومان" کے خوفناک نعروں نے اسے ہمت متجمع کر کے کھڑے ہونے پر اکسایا اور وہ آگے کو بھاگ پڑی۔ نعروں کا شور قریب آتا جا رہا تھا اور عزت بچنے کی امید دور ہوتی جا رہی تھی کہ اچانک پاس ہی اک کنواں اسے نظر آیا۔ تذبذب کی کیفیت میں کبھی درندوں کی خوفناک دھاڑوں پر دھیان جاتا اور کبھی اپنی ساتھی رشتہ دار خواتین کے ساتھ ہونے والے اذیت ناک سلوک کی جانب۔ نعرے قریب آ کر تھم گئے اور ساتھ ہی اس کے دماغ میں چلنے والی آندھی بھی پرسکوں ہوگئی۔

اس نے فیصلہ کر لیا اپنی عزت پر جان قربان کرنے کا۔ ہندو بنیے کو اب کی بار ناکام لوٹنا ہوگا، آزادی یوں ہی تو حاصل نہیں ہوتی؟ جانیں قربان کرنی پڑتی ہیں، خون سے سیراب ہوتے ہیں انقلاب، اسلام، پاکستان پر اک جان اور قربان سہی اور ساتھ ہی اس نے کنویں میں چھلانگ لگا دی۔ پاس کھڑے وہ شکاری بھیڑے ہکا بکا رہ گئے، گوشت نوچنے کو آنے والوں کو جب ہڈی بھی نہ ملی تو غصے سے پاگل ہونے لگے۔ جو ہوا تھا، وہ ان کی امیدوں سے پرے تھا۔ اک اکیلی لڑکی انہیں یوں شکست دے گئی؟

اپنی شکست پر سیخ پا اک شکاری بھیڑیا کنویں کی دیوار کو ٹھوکر مارتے بولا "آخ تھو، سا****! سمجھتی ہے ہمیں ہرا گئی؟ آج صرف تو بچ گئی ہے۔ دیکھتا ہوں یہ 'مسلے' اپنی آنے والی نسلوں کو کیسے بچاتے ہیں؟ تم لوگوں کو ایسا برباد کریں گے کہ تمھاری لڑکیاں خود اپنے آنچل روند کے ہماری آغوش میں آئیں گی۔ چل اوئے اوتارے! او موہن! یہ بھالا پکڑ، ابھی بڑے شکار پڑے ہیں۔"

یہ بھی پڑھیں:   مسئلہ پنجاب - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

شکاریوں کا وہ غول نئے گھروندے برباد کرنے نکل پڑا۔


اور پھر آگے بہت آگے، ٹھیک اڑسٹھ سال بعد کی بات ہے۔

کیمروں کے بار بار فلیش نے سب کی آنکھیں چندھیا دیں۔ رنگ و نور کا سیلاب ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔ ریڈ کارپٹ نہایت سلیقے سے بچھایا گیا تھا جس پر اس مشہور پاکستانی اداکارہ نے جلوہ افروز ہونا تھا، جو پڑوسی ملک کو اک کامیاب فلم دینے میں کامیاب ہوئی تھی۔ جیسے ہی وہ نمودار ہوئی، تالیاں بجنے لگیں۔ جسم کو نمایاں کرتی باریک ساڑھی پہنے، اٹھلاتی ہوئی، ہاتھ ہلاتی، ریڈ کارپٹ پر واک کرتی آگے بڑھ رہی تھی کہ صحافیوں کے سوالات سن کر رک گئی۔

اک صحافی کے دونوں ملکوں کے کشیدہ تعلقات کے متعلق سوال پر یوں گویا ہوئی،

"دیکھیں! جو فنکار ہوتے ہیں وہ امن کے سفیر ہوتے ہیں، محبتیں بڑھنی چاہییں دونوں ملکوں کے درمیان۔ آخر کب تک یہ نفرت و غصے کی لکیر کھینچے، ہم لوگ جنگ کی آگ میں جلتے رہیں۔ یہ بارڈر پر کھچی لکیریں کوئی معنی نہیں رکھتیں، ہمارے دل مل گئے ہیں تو ایسے ہی اکٹھے کام بھی کرتے رہیں گے۔" بات کے اختتام پر مسکراتی ہوئی وہ سٹیج پر جا پہنچی۔ سٹیج کے سامنے لگی کرسیوں کی پہلی قطار میں بیٹھے اسی فلم کے ہدایتکار کے ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی اور نظروں کے سامنے وہ منظر گھوم گیا جب پاکستان سے آئی اس اداکارہ کو فلم میں کام دینے کے بدلے اس نے اداکارہ سے اس کے آنچل کا سودا کیا تھا۔