عمران خان، عائشہ گلالئی اور ہم - محمد اشفاق

سب سے پہلے خان صاحب کی بات کرتے ہیں. عمران خان ہمارے ملک اور سماج کی ایک معزز، نامور اور قابلِ احترام شخصیت ہیں. ان کی سیاست سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر ان کی سماجی خدمت، ان کی لیڈرشپ اور ان کے مقام و مرتبے سے اختلاف محض تعصب ہی کہلائے گا. یہ درست ہے کہ ماضی میں خواتین کے حوالے سے ان کے کئی سکینڈل سامنے آئے، مگر یہ بات ملحوظِ خاطر رکھی جانی چاہیے کہ وہ تمام سکینڈلز ان کے مغربی معاشروں میں قیام کے دوران کے ہیں، جہاں باہمی رضامندی سے استوار کیے گئے تعلقات کی نوعیت خواہ کچھ بھی ہو، انہیں قابل اعتراض نہیں سمجھا جاتا. یہ حقیقت ہے کہ خان صاحب کا کسی پاکستانی خاتون کے حوالے سے کبھی کوئی سکینڈل نہیں بنا، ریحام خان صاحبہ کو انہوں نے باقاعدہ پروپوز کر کے ان سے نکاح کیا. یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ ان کے ماضی کے کسی بھی سکینڈل کا تعلق سیکشوئل ہراسمنٹ سے نہیں تھا، اس لیے خان صاحب کے ماضی کو لے کر ان پہ اس حوالے سے تنقید کرنا درست نہیں ہوگا. مزید یہ کہ خان صاحب اور ان کے مداحین ان کے نوجوان ہونے کا خواہ جتنا بھی تاثر دیں، سچ یہ ہے کہ عمران خان صاحب ساٹھ پینسٹھ برس کے ایک بزرگ سیاستدان ہیں. انہیں ایک بزرگ کا تمام تر احترام دیا جانا چاہیے. ان کی ذات اور کردار کو لے کر حالیہ سکینڈل کے حوالے سے کوئی بھی ناشائستہ، گھٹیا اور بیہودہ تبصرہ بہرصورت قابل مذمت ہے. موجودہ معاملہ چونکہ فی الوقت محض الزام تک محدود ہے، اس لیے جب تک یہ ثابت نہیں ہو جاتا اصول یہی ہے کہ خان صاحب کو معصوم اور بے گناہ سمجھا جانا چاہیے، یہ الگ بات کہ اس اصول پر خان صاحب خود کبھی عمل پیرا نہیں ہوئے.

عائشہ گلالئی صاحبہ پیپلز پارٹی، آل پاکستان مسلم لیگ اور پی ٹی آئی کی ایک سرگرم رکن رہی ہیں. سیاست میں ایک اچھا خاصہ عرصہ گزارنے کے باوجود ان پر ماضی میں کسی بددیانتی، بے راہ روی یا لغزش کا کوئی الزام نہیں لگا. تحریک انصاف کی نمایاں خاتون ممبران میں سے ایک کی حیثیت سے انہوں نے نہ صرف مختلف فورمز پر اپنی جماعت کی پالیسیوں کی بھرپور ترجمانی کی، بلکہ پارٹی کی کور کمیٹی کی بھی وہ سرگرم ممبر رہی ہیں. اس تمام عرصے میں ان کے سیاسی مخالفین بھی ان کا احترام کرتے رہے ہیں اور پی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں اور اس کے حامیوں میں بھی وہ ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی رہی ہیں. ان کے اس مقام کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ان کے لگائے گئے اس الزام کا جواب کردارکشی، طعن و تشنیع، جوابی الزامات اور دھمکیوں سے دینے کے بجائے ان کی سنجیدہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جائے.

اب آ جائیے بطور معاشرہ اپنے کردار کی جانب.
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں خواتین خصوصا گھر سے باہر نکلنے والی خواتین اور ان میں بھی بالخصوص ایسی خواتین جنھیں اپنے کام کی نوعیت کی وجہ سے سینکڑوں افراد سے ملنا جلنا پڑتا ہو، یا ان کا چہرہ اور شخصیت پورے ملک میں جانی پہچانی ہو، کو مردوں کی جانب سے وہ احترام، وہ عزت، وہ مقام نہیں ملتا جس کا ہم خود اپنی بہنوں، بیٹیوں کو حقدار سمجھتے ہیں. خواتین کی موجودگی میں ذومعنی باتیں، ان سے بلاوجہ بےتکلف ہونے کی کوششیں، بظاہر ہمدرد بن کر ان سے راہ و رسم بڑھانے کی سعی، ان کے لباس، گفتگو، انداز، ہر چیز پر آزادانہ تبصرے، اور یہاں تک کہ ان کو چھونے کی کوششیں ہمارے معاشرے میں عام ہیں، یہی سب سیکشوئل ہراسمنٹ کہلاتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   کیا ہارٹ اٹیک بھی ڈیل کا حصہ ہے؟ انصار عباسی

یہ حقیقت بھی ہم سب جانتے ہیں کہ بہت سی خواتین یہ سب چپ چاپ سہتی رہتی ہیں، اور یہ بھی ہمارا عمومی رویہ ہے کہ جب کوئی خاتون کسی مرد پر اس نوعیت کا کوئی الزام لگاتی ہے تو اس مرد سے پہلے ہم اس خاتون کے کردار کی جانب سے مشکوک ہو جاتے ہیں. ایک بار بازار سے گزرتے مجمع اکٹھا دیکھا، معلوم ہوا کہ کسی بدبخت نے ایک خاتون کے ساتھ سر راہ کوئی بیہودہ حرکت کی تھی، خاتون نے اسے تھپڑ مار دیا اور ہنگامہ کھڑا کر دیا. وہاں موجود کئی افراد کے تبصرے سنے کہ کوئی شریف عورت ایسا نہیں کرتی. گویا شرافت کا تقاضا ہے کہ کوئی آپ پر غلیظ فقرے چست کرے، آپ کو ہوسناک نگاہوں سے گھورے، اپنے ناپاک ہاتھوں سے آپ کے جسم کے نازک حصے چھونے کی کوشش کرے تو آپ خاموشی سے یہ سب سہتی رہیے.

ایسے ماحول اور ایسے معاشرے میں جب کوئی خاتون اپنے ساتھ پیش آنے والے ایسے کسی واقعے کو بیان کرتی ہے تو اس کی جرات اور ہمت کی داد دینی چاہیے. بمشکل ایک ماہ پہلے ایک انگلش بلاگ میں ایک خاتون کا آرٹیکل چھپا جو اپنی والدہ کے ساتھ شہر کے معروف پرائیویٹ ہاسپٹل طبی معائنے کےلیے گئیں تو ایک معروف ڈاکٹر نے معائنے کے دوران ان سے ایک بیہودہ حرکت کی. وہ خاتون اس قدر خوفزدہ ہوئیں کہ انہیں سمجھ نہ آئی کہ اس موقع پر وہ کیا کرتیں، اس لیے والدہ کو لے کر وہ خاموشی سے باہر نکل آئیں. ایک ماہ بعد انہوں نے اس بلاگ کے ذریعے اپنی بپتا سنائی تو اکثریت نے انھیں سراہا اور حوصلہ دیا، تاہم بعض منفی تبصرے وہاں بھی پڑھنے کو ملے. عائشہ گلالئی پر البتہ منفی تبصرے بہت زیادہ ہو رہے ہیں اور ان کا حوصلہ بڑھانے والے بہت کم ہیں.

سب سے بڑا اعتراض جو کیا جا رہا ہے وہ یہ کہ جب پہلا میسج 2013ء کو بھیجا گیا تو محترمہ چار برس خاموش کیوں رہیں؟ بل کوزبی ماضی کے معروف کامیڈین تھے، پی ٹی وی پر ان کا بل کوزبی شو ہم نے بھی بچپن میں دیکھ رکھا ہے. ان پر لگ بھگ سال بھر پہلے جنسی زیادتی کا الزام لگا اور اس کے بعد ستر اور اسی کے عشروں میں ان کے ساتھ پروگراموں میں شریک چند لوگ جو اس وقت بچے تھے، وہ بھی سامنے آئے اور ان الزامات کو دہرایا. امریکا اور یورپ میں گزشتہ کچھ برسوں میں مختلف چرچز کے درجنوں پادریوں کے خلاف جنسی زیادتی کی تحقیقات ہوئیں جن میں وہ لوگ بھی سامنے آئے جو اس وقت سات آٹھ برس کے بچے تھے اور اب کئی بچوں کے ماں باپ ہیں. کہنے کا مقصد یہ کہ یہ کوئی دلیل نہیں ہے کہ جس وقت واقعہ ہوا، اسی وقت کیوں نہ بتایا گیا. خواتین کو جنسی ہراساں کرنے والے ظاہر ہے مرد ہوتے ہیں جو جسمانی طور پر ان سے طاقتور تو ہوتے ہی ہیں، مگر سماجی رتبے اور رسوخ میں بھی ان سے زیادہ آگے ہوتے ہیں، جیسے سینئر کولیگز، جیسے باس، جیسے دیور یا کوئی اور قریبی عزیز، پھر جیسا کہ اوپر عرض کیا الزام لگانے والی خاتون کی اپنی نیک نامی ہمارے ہاں داؤ پر لگ جاتی ہے تو ایسے میں اگر کوئی خاتون ابتدا میں خاموش رہی تو یہ بالکل سمجھ میں آنے والی بات ہے. دوسرا الزام یہ کہ گلالئی نے عمران کو خود شادی کی پیشکش کی تھی، جس کیوہ تردید کر چکی ہیں ،اور خان صاحب اس پر خاموش ہیں. تیسرا سنجیدہ الزام یہ کہ انہوں نے این اے ون پشاور کی سیٹ مانگی تھی، جو عین ممکن ہے، لیکن اگر ایسا ہوا اور اس سے انکار پارٹی چھوڑنے کی وجہ بنا تو بھی ان کے لگائے الزامات کی صداقت جانچے بغیر انھیں محض اس الزام پر رد نہیں کیا جا سکتا.

یہ بھی پڑھیں:   حکومت کو لچک اور فراخدلی دکھانا ہوگی - نصرت جاوید

ان چند سنجیدہ سوالات کے علاوہ عمران خان اور گلالئی دونوں کے حامیوں اور مخالفین کا وہ گھٹیا، شرمناک، متعصبانہ اور بےہودہ رویہ ہے جو پاکستانیوں کے اخلاقی معیار، ہمارے خوفِ خدا، ہماری تربیت اور ہماری نام نہاد اعلیٰ تعلیم پر بہت بڑے سوالیہ نشانات لگا دیتا ہے. گلالئی پر رکیک حملے کرنے والے، اس پر تیزاب پھینکنے کی دھمکیاں دینے والے، اس کی بہن کی کردارکشی کرنے والے وہی بےشرم لوگ ہیں جو عموما خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کے مرتکب ہوتے ہیں، یہی کام اب وہ سوشل میڈیا پر کر رہے ہیں. بالکل اسی طرح عمران خان صاحب کو محض الزام لگنے پر مجرم مان لینے والے، ان کی ازدواجی زندگی، ان کی ذاتی زندگی کے کچھ سابقہ واقعات کو لے کر ان پر کیچڑ اچھالنے والے، ان کی بدنامی کا جشن منانے والے تھڑدلے اور کم ظرف بھی ہم سب کے لیے شرمندگی کا باعث ہیں. جب تک الزامات کسی مناسب فورم پر ثابت نہیں ہو جاتے میری نظر میں عمران خان صاحب بے قصور اور معصوم ہیں، یہ سیدھی سیدھی اصول کی بات ہے.

تحریک انصاف کا تین کروڑ ہرجانے کا نوٹس گرامر کی غلطیوں سے بھرا ہوا اور نہایت عجلت میں لکھا معلوم ہوتا ہے جس میں خان صاحب کی عزت، پارٹی کی سیاست اور ساکھ، کروڑوں ورکروں کے جذبات مجروح کرنے کی قیمت صرف مبلغ تین کروڑ لگائی گئی ہے، ایسا بوکھلایا ردعمل کافی نہیں ہے. یہ ملک کے دوسرے مقبول ترین لیڈر کی عزت کا سوال ہے. گلالئی پر مقدمہ درج کروایا جائے یا عمران خان صاحب کے ذاتی وکیل ان پر ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کریں. دوسری صورت یہ ہے کہ گلالئی ایف آئی اے میں ایف آئی آر درج کروائیں اور اپنے الزام کو قانونی شکل دیں، تاکہ قانونی تحقیقات سے کسی نتیجے تک پہنچا جا سکے. اگر عمران خان صاحب رضاکارانہ طور پر اپنا موبائل فون ریکارڈ بھی پبلک کر دیں تو یہ ان کے لیے بہتر ہوگا.

عمران خان اور عائشہ گلالئی میں سے جو حق پر ہے، اللہ پاک اس کی آبرو اور ساکھ کی حفاظت فرمائیں، جو جھوٹا ہے اسے توبہ کی توفیق دیں، اور ہم پاکستانیوں کو اپنے شرمناک سماجی رویوں پر شرمندہ ہونے کی توفیق بخشیں. آمین