وزیراعظم کی نااہلی، کیا فوج ذمہ دار ہے؟ مجیب الحق حقی

پانامہ فیصلے پر دونوں طرف سے قانونی تبصرے ہو رہے ہیں، کیونکہ میں قانون سے دور کا شغف بھی نہیں رکھتا لہٰذا عام پاکستانی کی حیثیت سے ہی اس کو دیکھتا ہوں۔ ایک عام انسان قانونی موشگافیوں اور فلسفے و منطق پر مبنی تبصروں سے زیادہ سیدھی سادی بات جاننا چاہتا ہے۔ ہم اس کو بہت سادہ سی نظر سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ نااہلی کا فیصلہ عام دانش کی رو سے درست ہے یا نہیں۔

پہلے ایک چھوٹا لطیفہ۔ ایک طالب علم اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے گھر آیا تو ناشتے کی میز پر اس کی ان پڑھ ماں نے پوچھا کہ بیٹا تو کیا پڑھ اور سیکھ کر آیا ہے۔ بیٹے نے کہا کہ امّاں میں فلسفہ اور منطق پڑھ کر آیا ہوں۔ ماں نے پوچھا وہ کیا ہوتا ہے؟ بیٹا سوچ کر بولا کہ آپ کو کیسے بتاؤں؟ یوں سمجھ لیں کہ یہ جو دو انڈے رکھے ہیں، میں ثابت کر سکتا ہوں کہ یہ تین ہیں۔ ماں بڑی حیران ہوئی کہ یہ کیسا علم ہے، اس نے کہا بیٹا ذرا مجھ کو دکھا کہ تو کیسے دو انڈوں کو تین کر سکتا ہے۔ بیٹے نے کہا کہ دیکھیں یہ دو انڈے تو سامنے رکھے ہیں نا، ماں بولی کہ ہاں۔ پھر اس نے ایک انڈے کی پلیٹ اٹھا کر میز کے نیچے کی اور بولا کہ اب کتنے رہ گئے؟ ماں بولی کہ ایک، لڑکے نے کہا دو پہلے تھے اور ایک یہ، اس طرح تین ہوگئے۔ ماں نے اسے بے یقینی سے دیکھا، ایک لمحہ سوچا اور انڈے کی پلیٹ اپنی طرف کر کے کہا کہ بیٹا دوسرا والا اپنے باپ کو دے دو اور تیسرا تم کھا لو۔ تو قانون، منطق اور فلسفے کے زور پر فیصلے کی جو تشریحات ہو رہی ہیں، اس کی حقیقت تو آپ سمجھ گئے ہوں گے۔ ہم یہاں انڈوں کی دو پلیٹ پر ہی بات کرتے ہیں جو سامنے پڑی ہیں یعنی حقائق۔

مختلف معاملات میں فوج کو ڈھکے چھپے مطعون کرنا ہمارے اکثر سیاسی لیڈروں اور دانشوروں کا پسندیدہ مشغلہ بن گیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی اصطلاح کی آڑ میں بڑی بے باکی سے اس طرح تنقیدکی جاتی ہے کہ گویا یہ کوئی عفریت یا ہشت پا ہے جس نے سب کو جکڑا ہوا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ شکایات جائز بھی ہوں لیکن ماضی میں کیا ہوتا رہا، اس کو کو چھوڑیں اور فی الوقت صرف پانامہ کے حوالے سے حالات حاضرہ کے واقعات کے بموجب اس الزام کی صداقت کا جائزہ مناسب ہوگا کہ فوج حکومت کی مشکلات کی ذمّہ دار ہے۔ آئیں موجودہ حالات کا کامن سینس سے جائزہ لیتے ہیں۔

جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی نواز شریف صاحب کو من پسند آرمی چیف بنانے کا ویسا ہی موقع ملا جس کے حصول کے لیے وہ مشرف صاحب کو برطرف کرنے پر تُل گئے تھے، لیکن بھلا ہو کہ اس دفعہ خوش قسمتی سے ان کو اس کا قانونی موقع ملا۔ انھوں نے کئی سینئر جرنیلوں کو نظرانداز کرکے من پسند سپہ سالار کا انتخاب کیا جن کے سیاسی عزائم ہیں ہی نہیں، کیونکہ اس کا اندازہ ISPR کی ٹویٹ کی واپسی سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ 2014ء میں دھرنے کے موقع پر بھی ان کے حوالے سے مشہور ہے کہ بطور کورکمانڈر انھوں نے جمہوریت کے خاتمے یا حکومت کو ہٹانے کی مخالفت کی تھی. ان کے آرمی چیف بننے کے بعد فوج کے طرز عمل سے عوام میں یہ تاثر گہرا ہوا کہ اب فوج سے جمہوریت کو خطرہ نہیں یا فوج جمہوری عمل میں مداخلت نہیں کرے گی۔ یہ کہنے کے باوجود یہ بات سامنے رہے کہ فوج ایک قومی ادارہ ہے، اور اس کے ذمّے قوم کا دفاع ہے جو اس کو ہر لمحہ اندرون ملک اور بیرون ملک کی ہر طرح کی سرگرمیوں کے تئیں چوکس رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ ملکی استحکام کے حوالے سے یہ ادارہ اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتا، ورنہ وہ غیر ذمّہ داری کے زمرے میں آئے گا۔

اب دیکھتے ہیں کہ فوج پر الزام تراشی کی کیا حیثیت ہے؟ سادہ سی بات یہ ہے کہ سارا قضیہ اس طرح شروع ہوا کہ بین الاقوامی سطح پر کالے دھن اور ٹیکس چوری کو آف شور کمپنیوں کے ذریعے چھپانے کا کا بڑا انکشاف ہوا، اس کو پانامہ لیکس کا نام دیا گیا۔ د نیا کے بہت سے مختلف شعبوں سے متعلق ہزاروں افراد بےنقاب ہوئے جس میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی سیاسی اور تجارتی شخصیات بھی ہیں جس میں ہمارے حکمران کا نام بھی آیا۔ ظاہر بات ہے کہ اس بین الاقوامی نوعیت کے انکشاف میں ہماری فوج کا کوئی ہاتھ نہیں ہو سکتا تھا۔ پاکستان کی اہم شخصیات کے نام آنے پر اخبارات میں شور مچا کہ اس کی تحقیق ہونی چاہیے۔ اس پر سیاسی جماعتیں متحرّک ہوئیں۔ زیادہ دباؤ سیاسی پارٹیوں کی طرف سے آیا تو وزیر اعظم خود ہی بولے اور اپنے آپ کو ببانگ دہل احتساب کے لیے پیش کیا۔ اس کے بعد ہی سیاسی پارٹیوں اور وزیراعظم کا عدالت میں آمنا سامنا ہوا۔ وزیراعظم کے قوم اور پارلیمنٹ سے خطاب اور قانونی و عدالتی پیش رفت میں تضاد بیانی کی وجہ سے حکمرانوں کا کیس کمزور ہوتا گیا۔ حکمران اور ان کے خاندان کے پاس اپنی بےگناہی کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا جس سے ثابت یہی ہوا کہ حکمران خاندان نے غلط بیانی کی۔ جج بار بار صرف رقوم کی جائز ترسیل کا ثبوت مانگ رہے تھے کہ کیس ختم کریں جو نہیں دی جاسکی۔ جس سے جج حضرات کی غیر جانبداری ثابت ہوتی ہے۔ اب یہاں غور طلب صرف یہ نکتہ ہے کہ اگر حکمرانوں کے پاس مناسب قانونی دستاویزات ہوتیں تو کیا ہوتا؟ یہی نا کہ مقدمہ خارج ہوجاتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اب کوئی وضاحت کرے کہ اس ساری پیش رفت میں فوج کا کیا کردار ہوا؟ یا فوج اور عدلیہ کا مبینّہ گٹھ جوڑ کیسے ہوا؟ ملزمان عدالت کے سامنے اپنی بےبہا دولت کے جائز ثبوت دے دیتے تو فوج کیا کر لیتی؟ ثابت یہی ہوا کہ فوج اور عدلیہ پر اس معاملے میں تنقید بدنیتی پر مبنی ہے اور مقصد عوام میں کنفیوژن پیدا کرکے سیاسی ساکھ کو بچانا ہے۔

کسی شخص کے پاس موجود اثاثوں اور معیار زندگی سے اس کی آمدنی کا اندازہ لگایا جانا عام بات ہے۔ جائز اور ناجائز آمدنی کا پتہ ظاہر کردہ آمدنی اور معیار زندگی میں ہم آہنگی یا فرق سے چلتا ہے۔ یہ بھی عام طریقہ ہے کہ رشوت لینے والے اپنے بچّوں اور رشتے داروں کے نام جائیداد بناتے ہیں۔ پانامہ مقدمے کے تناظر میں یہ سوال اٹھا کہ کیوں ایک حکمران نے اپنے اثاثے کم سن بچوں کے نہ صرف نام کیے بلکہ ان کی ملکیت چھپانے کے رائج طریقے اپنائے۔ اگر اثاثہ جات قانونی تھے تو چھپانے کی ضرورت نہیں تھی۔ مزید یہ کہ اثاثوں کی ملکیت کے بارے مین بھی بار بار غلط بیانی کی گئی۔ اس سلسلے میں حکمرانوں کی صفائی دیتے ہوئے ایک محترم لکھاری نے کہیں نظیر پیش کی کہ یورپ اور امریکہ میں دس پندرہ سال میں لوگ ارب پتی بن جاتے ہیں تو اس کیس میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا کہ حکمران خاندان نے محنت کر کے اتنی دولت کمائی ہو۔ یہ بڑا دلچسپ نکتہ ہے لیکن بات یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ میں لوگ جائز کاروبار کرتے ہیں جو قوانین کے دائرے میں ہوتا ہے، اور دنیا اس کو پھلتے پھولتے دیکھتی ہے۔ وہ کوئی خفیہ طریقے سے یا ٹیکس میں خورد برد کرکے یا کہیں سے غیر قانونی وصولی کرکے ارب پتی نہیں بنتے لیکن اگر ایسا کریں اور پکڑے جائیں تو سزائیں سخت ہیں۔

اب مزید آگہی کے لیے اس ضمن میں ایک اہم عنصر، آف شور کمپنی کوسمجھتے ہیں۔
آف شور کمپنی کیا ہے؟
قومی سرحدوں سے باہر کسی کے اثاثے آف شور سمجھے جاتے ہیں جس میں غیر ملکی بینک، کارپوریشن، سرمایہ کاری اور انویسٹمنٹ شامل ہیں۔ کوئی کمپنی ٹیکس سے بچنے کے لیے یا کسی جگہ کے نرم قوانین سے فائدہ اٹھانے کے لیے قانونی طور پر آف شور منتقل ہو سکتی ہے۔ لاگت میں کمی اور دوسری سستی سہولیات کے حصول کے لیے آف شور کمپنیاں عام ہیں۔ بڑی ملٹی نیشنلز کی ایشیا میں کارخانے لگانے اور کال سنٹر وغیرہ اس کی مثالیں کہی جاسکتی ہیں۔ لیکن آف شور مالیاتی ادارے غلط مقاصد جیسے ناجائز رقم کو اُجلا کرنا اور ٹیکس کی چوری میں بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ آف شور میں طرح طرح کے اکاؤنٹ ہوتے ہیں۔ بہت سے ملک اور زمینی خطّے آف شور مالیاتی سہولیات بہم پہنچاتے ہیں۔ ان میں مشہور سوئٹزرلینڈ، برمودا، کیمان جزائر، ماریشس، ڈبلن اور بِلائز وغیرہ شامل ہیں۔
ان سہولیات سے بہرہ مند ہو نے کی شرط کیا ہے یہ جان لیں:

In order to qualify as offshore, the accounts must be based in any country other than the customer’s or investor’s home nation, existing somewhat separately from the person’s other resources and assets.

(مالیاتی )آف شور کے لیے کوالیفائی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ گاہگ یا سرمایہ کارکے اکاؤنٹ اس کے اصل ملک کے علاوہ دوسرے ملک میں ہوں جو گاہگ کے دوسرے وسائل اور اکاؤنٹس سے جدا ہوں۔

http://www.investopedia.com/terms/o/offshore.asp

آف شور سے آگہی کے بعد نااہلی کے فیصلے پر ایک اعتراض کا تذکرہ کرنا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ وزیراعظم کی نااہلی کمزور قانونی بنیاد پر ہوئی، کیونکہ بیرون ملک دکھائی گئی نوکری پر تنخواہ نہیں لی گئی، یہ نوکری نمائشی تھی اور محض اقامے کے لیے تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وکیل صفائی نے یہ کہا کہ تنخواہ نکالی (withdraw) نہیں گئی! خبروں کے مطابق امارات کے قانون کے تحت کسی کی تنخواہ روکی نہیں جاسکتی، لہٰذا تنخواہ اکاؤنٹ میں تو گئی لیکن شاید نکالی نہیں گئی۔ میری قلیل پنشن میرے پرانے تنخواہی اکاؤنٹ میں ہر ماہ آتی ہے، مگر میں نے غالباً ڈیڑھ یا دو سال سے withdraw نہیں کی تو کیا وہ میری پراپرٹی نہیں؟ میرے ٹیکس ریٹرن میں میرا یہ اکاؤنٹ دوسرے تجارتی اکاؤنٹ کے ساتھ جاتا ہے۔

مگر یہاں مسئلہ کچھ اور ہے، اور وہ یہ کہ سوئٹزرلینڈ اور دوسرے ٹیکس فری ملکوں میں لوگ آف شور کی شرط کے مطابق اپنے اکاؤنٹ کسی دوسرے یا تیسرے ملک کی شہریت کی بنیاد پر کھولتے ہیں۔ اس طرح ان کا ایک آزاد مالی واسطہ تخلیق ہوجاتا ہے۔ ان اکاؤنٹس کی لین دین بالکل الگ ہوتی ہے جس کا تعلّق رہائشی ملک کے لین دین کے قوانین سے نہیں ہوتا۔ اب اگر رہائشی ملک میں کسی لین دین یا خریداری سے متعلق کوئی ادائیگی یا کک بیک آف شور اکاؤنٹ میں ہو تو اس کا کوئی لنک رہائشی ملک میں ثابت نہیں کیا جا سکتا، مثلا اگر حکومت پاکستان سرکاری طور پر سوئٹزرلینڈ کی حکومت سے ایسے کسی اکاؤنٹ کی تفصیل مانگے تو اس کو یہی جواب ملے گا کہ اس اکاؤنٹ کا تعلّق پاکستان کے باشندے سے نہیں لہٰذا معذرت۔ گویا کک بیکس اور کمیشن بالا ہی بالا ہضم ہو سکتے ہیں۔ اگر سوال یہ کیا جائے کہ اتنی بھاری رقم اکاؤنٹ میں کہاں سے آئی تو جواب یہ کہ ہماری بیرونی بزنس کی کمائی ہے۔ ان حقائق کی موجودگی میں حکمران خاندان کا خفیہ آف شور کمپنی کا بنانا اور چھپانا مشکوک ہوا کہ اس طریقے سے بھی ناجائز آمدنی چھپائی جاسکتی ہے۔ ایسی ہی مالی سرگرمیوں کی قانونی یا غیر قانونی اساس جاننے کے لیے ہی عدالتیں ظاہر شدہ رقوم کی راہداری یا قانونی ترسیل کا ثبوت مانگتی ہیں تاکہ جائز کمائی کا تعیّن ہو جائے۔

دیکھیں جناب! بہت سی کمپنیاں اور افراد مالی فوائد کے لیے ذاتی حیثیت میں ناجائز ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں جس کو پکڑنا FBR اور دوسرے اداروں کا کام ہے۔ یہاں سوال یہ تھا کہ ایک صاحب اختیار کہیں اپنی سرکاری حیثیت کا فائدہ اٹھا کر ناجائز فوائد تو حاصل نہیں کر رہا؟ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کسی کو گورنر مقرر کرتے وقت اس کے اثاثے دیکھ لیتے تھے۔ ایک عام پاکستانی اور ایک سرکاری عہدیدار کا ایک سا جرم مختلف تاویلات رکھتا ہے۔ سرکاری عہدیدار کا فعل ملکی وسائل کا استحصال گردانا جائے گا۔ اطلاع کے مطابق وزیرخزانہ کی غالباً دو سو ارب کی پراپرٹی پاکستان سے باہر ہے۔ یہی بات تو متوجّہ اور متاثر کرتی ہے کہ اس مقروض ملک میں اس کے لیڈران کرام اپنا پیسہ ملک میں کیوں نہیں لاتے۔ غضب خدا کا کہ ایک طرف تو ملک کا قرضہ غالباً دس سال میں 15 ارب ڈالر سے بڑھ کر 75 ارب ڈالر ہو گیا مگر دوسری طرف لیڈروں کے اثاثے کروڑوں سے اربوں کھربوں میں جا پہنچے۔ کیسے؟ کیا یہ سوال پوچھنا جائز نہیں۔ایک ٹی وی اینکر کے مطابق حکمرانوں کی کھلی چھپی دولت چوبیس ارب ڈالر ہے یعنی پاکستان کے مجموعی قرضے کا تقریباً ایک تہائی!
نقل کفر کفر نہ باشد، جھوٹ سچ ان کے سر، حوالہ یہ ہے۔
https://www.siasat.pk/forum/showthread.php?546091-Total-wealth-of-Sharif-Family-is-24-billion-Aftab-Iqbal>
اس ضمن میں عدالت کے پانچوں ججوں کا متفقہ طور پر وزیراعظم کو نااہل قرار دینا ایک بڑا فیصلہ ہے، اور ہو سکتا ہے کہ نااہلی کے فیصلے میں کوئی معمولی سقم ہو، لیکن ایک مصنوعی شک کی فضا پیدا کرنے کے لیے جعلی کاغذات پیش کرنا اور وہ بھی سپریم کورٹ میں تو گناہ کبیرہ ہے، جو ملزمان کی نیت صاف بتا رہا تھا کہ ملزمان بچنے کے لیے اس حد تک جا سکتے ہیں۔ فونٹ کے علاوہ تاریخ کی مہروں کا بےترتیبی سے اوپر نیچے ہونا، مہر پر نوٹری کی اسپیلینگ غلط ہونا کیا ظاہر کرتے ہیں۔ برطانیہ جیسے ملک میں نوٹری پبلک اپنی مہر پر NOTRY کیسے لکھ سکتا ہے۔ یہ جعلسازیاں بھی اناڑیوں نے کیں اور بڑے وکلاء نے آنکھ بند کر کے عدالت میں جمع کرا دیں۔ صفائی کی طرف سے ان کاغذات کا عدالت میں اوراس سے ایک دن پہلے میڈیا پر زور شور سے پیش کرنا ٹرننگ پوائنٹ تھا، جس کا مقصد ابہام اور شک پیدا کرنا تھا، تاکہ اس کی بنیاد پر عدالت بغیر کسی فیصلے کے مزید تفتیش کے لیے مقدمہ ٹرائل کورٹ میں بھیج دے۔ لہٰذا یہاں یہ مقولہ یا استدلال کہ قصور وار کو شک کی بنا پر چھوڑ دینا بےقصور کو سزا دینے سے بہتر ہے، غیر مؤثر ہوجاتا ہے، کیونکہ اب شک رہ کیا گیا تھا؟

ان حالات میں نااہلی کا فیصلہ مکمل انصاف فراہم کرنے میں عدلیہ کی دانش کا اظہار تھا کہ ٹرائل کورٹس میں منتقل ہونے والے ذیلی مقدمات میں مکمّل انصاف کے حصول میں انتظامی قوّت کے حامل حکمران (ملزم) کی طرف سے آئندہ کی قانونی کارروائیوں میں کسی بھی قسم کی ممکنہ کھلی یا چھپی مداخلت کا سدِّباب بھی کر دیا۔

ایک اہم سوال یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے خود عدالت جانے کی پیش کش کیوں کی؟
اس کا ممکنہ جواب یہ ہوسکتا ہے کہ غالباً انہوں نے جاری و ساری نظام میں فیصلہ کرنے کی اوسط مدّت، اس نظام کی دیگر کمزوریوں، انتظامیہ میں اپنی طاقت اور یہاں عدل کی تاریخ کو مدّ نظر رکھ کر سوچا کہ فیصلہ اپنے حق میں کرالیں گے یا اس کو اتنا لٹکا دیں گے کہ الیکشن کا وقت آجائے گا۔ اس طرح خود سرخ رُو ہو جائیں گے، عوام مطمئن ہو جائیں گے اور اپوزیشن بھی زچ رہے گی۔ لیکن عدلیہ عوام کی دلچسپی اور زبردست سیاسی دباؤ کو دیکھتے ہوئے حوصلہ مند ہو کر فعّال ہوئی اور کارروائی تیزی سے شروع ہوئی۔ سوشل اور پرنٹ میڈیا میں ججوں کے سوالات اور ریمارکس کا زبردست چرچا ہوا۔ اس دباؤ میں انصاف کی فراہمی کے حوالے سے عدلیہ کے وقار کا سوال بھی آن پڑا۔ وکلاء کی کارروائی ٹالنے کی مروجہ چالبازیاں نہیں چلنے دی گئیں یہاں تک کہ تہلکہ خیز فیصلہ بھی صادر ہوگیا۔ فوج کے اثرانداز ہونے کے حوالے زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ شاید فوج نے عدلیہ کو بےخوف ہوکر فیصلہ کرنے میں اپنی حمایت کا یقین دلایا ہوگا جس کو حکمرانوں کے حمایتی ناجائز طور پر غلط رنگ دیکر فوج پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔ حالانکہ عدالتی کارروائی کے دوران عوام پر حکومتی مؤقف کی کمزوری عیاں ہوگئی تھی اور دودھ اور پانی الگ ہو چکا تھا۔

اگر فوج کے ادارے کی طرف سے غیر معمولی حالات میں عدلیہ کی خاموش حمایت کی گئی تو ملک کے وسیع تر مفاد میں انصاف کے حصول کے لیے ایسا تعاون اور باہمی ہم آہنگی تو تمام ریاستی اداروں میں ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ پس غالباً غالباًیہی جرم ہے ان دونوں اداروں کا کہ انصاف تک پہنچنے کے لیے ہم رکاب ہوئے، JIT کی ساخت اس کی مثال ہے۔ پس اسی لیے حکومت کے حامی اہم اداروں کو بلا جواز برا بھلا کہہ رہے ہیں کیونکہ وہ غلط کاریوں میں معاون بنے نہ لاتعلّق رہے۔ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر ایک طوفان اسی لیے اُٹھا ہوا ہے تاکہ آئندہ کی متوقع تباہ کن قانونی پیشرفت کو متنازعہ بنایا جائے۔

پاکستان میں مسلسل جمہوریت کے تجربے کے ذریعے معاشرے کی اصلاح کے نظریے کی کار کردگی تو نظر آگئی کہ کس طرح ہر جمہوری حکومت کے کرتا دھرتا اور ملک کے خزانوں کے رکھوالے ہی ہمیشہ اس کو لوٹتے رہے۔ اعلیٰ سطح پر انتظامیہ کی کرپشن تو روز روشن کی طرح عیاں ہے، اسی طرح نچلی سطحوں پر عدلیہ کی کارکردگی بھی چھپی نہیں ہے، مگر اعلیٰ سطح پر عدلیہ نے اپنے امیج کو بہتر کیا ہے۔ اس وقت فوج واحد ادارہ ہے جس کا مجموعی تاثر بہت اچھا ہے۔ لہٰذا امّید کی کرن ان دو اداروں کا باہمی تعاون ہی ہے کہ عدلیہ بے باکی سے انصاف فراہم کر کے بدعنوانوں کو سیاسی عمل سے بےدخل کر دے۔ کرپٹ عناصر کی بےرحمی سے صفائی سے ہی بد عنوان کے لیے خوف کی وہ فضا قائم ہوگی جس میں وہ سامنے آنے کا سوچے گا بھی نہیں اور یہی لمحہ روشن اور تابناک کرپشن فری جمہوری منزل کی طرف آغاز سفر ہوگا۔

پاکستان کا اصل مسئلہ ہے ہی حکمرانوں کی کرپشن جس کا شعور عوام کو بےمعنی اور جذباتی نعروں میں الجھا کر پراگندہ کر دیا گیا تھا۔ دوسرے اداروں اور شعبوں میں کرپشن ہوتی ہی اس لیے ہے کہ انتظامیہ بدعنوان ہوتی ہے۔ ایک ایماندار منتظم ہر شعبے کو غلط افراد سے پاک کرسکتا ہے۔ یہ کہنا کہ دوسرے اداروں کا احتساب بھی ہونا چاہیے، درست ہے لیکن ان سب کو کرپشن کا راستہ عمومی طور پر انتظامیہ کی راہداری سے ہی ملتا ہے۔ یہ بات پاکستان کے مفاد میں ہے کہ بےلاگ انصاف ہونا چاہیے اور تیزی سے ہونا چاہیے خواہ آسمان گر پڑے، قانون کی زد میں جو بھی آئے اس سے رعایت نہ کی جائے خواہ وہ عمران خان ہوں یا زرداری صاحب یا سراج الحق صاحب یا کوئی اور۔ زندہ قوموں کے لیے شخصیات نہیں ٹھوس مقاصد کی اہمیت ہوتی ہے۔ بلاشبہ یہ عمران خان ہے جس نے عوام کی آنکھوں پر پڑے غفلت کے اس پردے کو نوچ دیا۔ لیکن اگر عمران بھی قانون کی زد میں آتا ہے تو آئے کہ اس نے اپنا کام کردیا۔ اب اگر عمران خان منظر سے ہٹتا بھی ہے تو اُس جیسے دس کھڑے ہوجائیں گے کیونکہ اپنی منزل کو پہچان جانے والی قوم آگے اور لیڈر پیچھے ہوتا ہے۔ اب اس کے جانے سے بھی یہ کارواں ان شاء اللہ رکنے والا نہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے عوام میں کرپشن کے خلاف شعور و آگہی بیدار کرنے میں عمران خان کا انتھک مثالی کردار اب تاریخ کا حصہّ بن چکا۔
(واللہ اعلم)

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.