قصہ چار دہائیوں کا - ثاقب عمران کھوکھر

بچپن کے حسین دن یاد آتے ہیں تو دل شاد ہو جاتا ہے اور ساتھ ہی ایک گہری آہ بھی نکلتی ہے۔ شرارتی تو ہم غضب کے تھے، پھر بھی کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیں عبادات ہو ہی جایا کرتی تھیں. سکون، اطمینان اور قبولیت کا احساس جو اس عبادات میں ملتا تھا، اب نہ جانے کہیں کھو گیا ہے۔ وہ دن جب ہم بصد شوق نہائے دھوئے نئے کپڑے پہنے نماز پڑھنے مرکزی جامع مسجد کی طرف پیدل واک کر کے جاتے، اس خاص رات پوری مسجد کو دلھن کی طرح سجا پاتے. اسپیکر پر درود و سلام کا ورد ہمارے خون کو اور بھی گرما دیتا اور خود ہم میں بھی حب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نئی روح دوڑ جاتی۔ با آواز بلند یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک پڑھتے نانا جان کا ہاتھ تھامے کن اکھیوں سے گلی محلے کے شرارتی لڑکوں کو پٹاخے پھوڑتے دیکھ کر دل ہی دل میں رشک کرتے لیکن منزل مسجد ہی رہتی۔ نماز عشاء کے بعد واعظ اس رات کی فضیلت پر ایک ولولہ انگیز بیان دیتا جس سے ہمارے سینے میں پوری رات عبادات کا شوق نقطہ عروج پر پہنچ جاتا۔ درود و سلام کی کئی مجالس کے بعد نانا جان ایک کونے میں 100 نفل کی نیت کرتے اور ہم کبھی پانچ دس نفل پڑھتے تو کبھی چپکے سے مسجد کے باہر ہونےوالی پٹاخے بازی میں شامل ہو جاتے، شرارتی لڑکوں کے ساتھ خوب انجوائے کرتے۔ نانا جان ہمیں پکڑ کے واپس مسجد لے آتے اور ان کو محو نماز پاتے ہی ہم دوبارہ وہاں سے کھسک لیتے۔ بلی چوہے کے اس کھیل میں چاہتے نہ چاہتے بھی ہم کوئی تیس چالیس نفل پڑھ ہی لیتے۔ ان نوافل کے بعد اجتماعی بہت لمبی نفلی نماز شروع ہوتی، اتنی لمبی کہ دو تین دفعہ ہم اپنی نیند بھی خوب پوری کر لیتے، پھر بھی نماز نہ جاتی۔ پھر وجد وجدان کی محفل ہمارے طفلی ایمان کو بھی گرما دیتی. رات کے آخری پہر کی پرسوز دعا جس سے ہمیں آج رات تک کے پچھلے سب گناہ معاف ہو جانے کا یقین ہو جاتا ہے، اور اسی حالت میں ہم اپنے پیاروں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے لیے قبرستان حاضری دیتے اور گھر لوٹ جاتے. گھر کی خواتین اس وقت بھی ذکر و اذکار میں مشغول پائی جاتیں۔ اب رمضان کی ستائیسویں شب تک کے لیے نانا جان سے ہمیں چھٹی مل جاتی۔

یہ بھی پڑھیں:   ’’چونیاں ،قصور بچوں کا کیا قصور ! ذمہ دار کون ؟‘‘نسیم الحق زاہدی

اس دور میں رمضان کے آخری عشرے میں اکیسویں رات سے ہی نانا جی کے ساتھ ابا اور ہماری ستائیسویں شب بیداری کی مشق شروع ہو جایا کرتی۔ طاق راتوں میں شب بیداری اور عبادات کا نقطہ عروج ستائیسویں کا آخری پہر ہوا کرتا۔ پرنور گداز دل سے ہم اپنی اس رات کی ذکر و اذکار نوافل اور شب بھر کی عبادات کا ہزار مہینوں سے بہتر ہونے کا یقین لیے کہیں نیند کی آغوش میں کھو جاتے۔ نانا کی کی وفات تک کئی سال یہ سلسلہ جاری رہا۔

نانا جان کی وفات کے ساتھ ہی ایک طرف جہاں نفلی عبادت گزاری کا سلسلہ منقطع ہوا تو دوسری طرف ابا کی رہنمائی میں ہماری رشتہ مقامی مسجد میں نماز پنجگانہ سے استوار ہوگیا۔ کئی سالوں بعد پھر جب ہماری فہم و شعور کی آنکھ مکمل طور پہ کھلی تو اس حقیقیت کا ادراک ہوا کہ نانا جان اپنے ساتھ ساتھ ہمیں بھی 'بدعتی' بناتے رہے، اللہ تعالی کے یہاں توبہ کا دروازہ خوب کھٹکھٹایا، اور شب بارات معراج شریف اور ربیع الاول کی 12 کی شب بیداری سے ہرگز توبہ کرلی۔ پھر کئی 'فضیلت' کی راتیں آئی اور چلی گئیں، ہم لمبی تان کے سوتے رہے اللہ کے فضل سے پھر کبھی بدعتی محافل میں شرکت نہ کی۔ رہی بات رمضان المبارک کی ستائیسویں شب تو اس سے کبھی بھی مکمل کنارہ کشی ممکن نہ ہوئی، مگر ساتھ ہی ناناجان کے ساتھ والا جوش و جذبہ وہ قبولیت کا احساس کبھی نصیب نہ ہوا۔ وجہ اس کی شاید اس بات کا فہم آ جانا تھا کہ اکیس تیئس پچیس ستائیس اور انتیس رمضان سب ایک جیسی فضیلت کی حامل ٹھیریں، گویا ستائیسویں کی خاص فضیلت کا مفحوم بدلنے سے نہ صرف اس کی اپنی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ باقی طاق راتوں کی عبادات میں بھی، سال ہا سال کمی آتی چلی گئی اور آخر تقریبا ختم ہی ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں:   بچوں کی دینی و اخلا قی تربیت کی فکر کیجیے - محمد رضی الاسلام ندوی

دو دہائیاں گزرتی ہیں، یورپ میں مقیم آج ایک دوست نے گزشتہ شب ستائیسویں کی شب بیداری عبادت گزاری کا تذکرہ کیا تو مجھے ہر سال کی طرح امسال پھر خود پر بہت ترس آیا، کیونکہ میں اپنے بچوں کے ساتھ دو دل قبل چھبیس کو ستائیس سمجھے، کچھ ٹوٹی پھوٹی عبادات میں مشغول رہا تھا۔ ایک شہر میں ہوتے ہوئے بھی 'انھی' اور ہماری طاق راتوں میں پورے چوبیس گھنٹے کا فرق ٹھہرا۔ ہم چاند کی پیدائش پر اور وہ چاند کی رؤیت پر رمضان شروع کرتے ہیں۔ جو فضیلت ایک رات کی تھی، اب پانچ نہیں دس راتوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک رات کی عبادت گزاری سے شروع ہوئی بات کا پھیلاؤ اب رمضان کے پورے عشرے کی شب بیداری تک پھیل گیا ہے۔ سوچتا ہوں نانا جان کا ہم کو عبادات کی طرف راغب کرنا انتہائی سہل تھا کیونکہ وہ معصومیت کا دور تھا، اب فہم و شعور کے اس فریب نے ایک ایسے نظام کی بنیاد ڈال دی ہے کہ ہماری آئندہ نسلوں میں دو دو طاق راتیں تو دور تین عیدوں میں سے شاید ایک دن کی رغبت بھی باقی نہ رہے۔