میں ہانکا کرنے والا نہیں ہوں - عمران زاہد

نوازشریف کی ذات سے ہمیں ذرہ برابر بھی دلچسپی نہیں ہے، لیکن معاملہ احتساب کا تھا، نہ ہے۔ معاملہ اگلے الیکشن سے پہلے راستہ روکنے کا ہے کیونکہ ووٹ کی طاقت سے میاں نوازشریف کو شکست دینا ناممکن لگ رہا ہے۔ ایسے ناقابلِ شکست اور اپنی حدود سے بڑے لیڈر اسٹیبلشمنٹ کو کبھی پسند نہیں آتے۔
:
ہم نے ہر "کرپٹ" حکومت کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ لاٹھیاں اور گولیاں بھی کھائیں۔ میاں نوازشریف سے دل کی گہرائیوں سے نفرت کی ہے۔ یہی سوچتے رہے کہ یہ حکمران چلا جائے، پھر چاہے کوئی کالا چور ہی آ جائے۔ الحمدللہ کالا چور ہی آیا۔ بینظیر کے خلاف تحریک چلائی تو نوازشریف ملا، نوازشریف کے خلاف تحریک چلائی تو بینظیر ملی۔ دوسری دفعہ اس کے خلاف تحریک چلائی تو مشرف ملا۔ مشرف کے خلاف تحریک چلائی تو زرداری نصیب میں لکھا گیا۔
:
بعد میں اس بات کا علم ہوا کہ ہم پورے اخلاص سے جس حکمران کے خلاف نعرے لگا رہے تھے اور لاٹھیاں کھا رہے تھے، وہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی ناپسند تھا۔ ہمیں لگتا کہ ہم نے اسٹیبلشمنٹ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر لیا ہے۔
:
نوازشریف کے آخری دور میں واجپائی صاحب کی آمد پہ ہمیں پتہ چلا کہ ہمارے غیور جرنیلوں نے واجپائی کو سیلوٹ نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ حکومت کو واجپائی کے اس استقبال سے روکنا ہمارا فرض ہے۔ اُس احتجاج میں ہمیں چوٹ بھی لگی تھی۔ دو ماہ ہسپتال رہنا پڑا تھا۔ لیکن بعد میں یہ جان کر دل ہی ٹوٹ گیا کہ ہمارے جرنیلوں نے گورنر ہاؤس میں واجپائی کو سیلوٹ بھی کیا اور بعد میں جب وہی جرنیل ایک کُو کے نتیجے میں حکمران بنے تو انہوں نے بھارت کے آگے لیٹنے کی تمام حدیں ہی عبور کر لیں۔
:
بھائی لوگو، اسٹیبلشمنٹ کو ہمارا دور سے سلام ہے۔ اس معاملے میں ہم سید منورحسن کے پیروکار ہیں۔ بہت ہو گیا۔ اب جمہوری حکومتوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے تہہ و بالا کرنے کا وقت گزر گیا ہے۔ ہم نے طے کر لیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی ایسی ہر کوشش کی دامے درمے سخنے مزاحمت کریں گے۔ اب جمہوری نظام میں رخنہ ڈالنے کی ہر کوشش کو رد کریں گے۔ ایسے کرنے والے ہر لیڈر کی مخالفت کریں گے۔
(اگر جمہوریت کو مضبوط کرنے اور نظام میں شفافیت لانے کے لیے اصلاحات کی بات کرتے ہیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ لیکن بہانہ کچھ اور نشانہ کچھ قسم کی چالوں کی نفی کریں گے۔)
:
یہ بھی تو دیکھیے کہ کئی سالوں سے اسٹیبلشمنٹ ایک ایک قدم پسپا ہوئی ہے۔ مسلسل ہو رہی ہے۔ یہی کیا کم ہے کہ اب وہ تنِ تنہا حکومت کو چیلنج کرنے کے بجائے عدالت کی مدد لے رہی ہے۔ آج جب نوجوان سیاسی کارکنوں کو پورے اخلاص کے ساتھ موجودہ حکومت کے خلاف احتساب کے نعرے بلند کرتے دیکھتا ہوں تو اپنا دور یاد آ جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ گویا یہ ہانکا کرنے والے ہیں جو شکار کو بندوق کے سامنے لاتے ہیں۔ اس ہانکے کی تھوڑی بہت مزدوری ان کو مل جائے گی، لیکن رہیں گے کامے کے کامے۔ مجھے ان سے نفرت نہیں، ہمدردی ہوتی ہے۔ اپنی جھلک نظر آتی ہے ان میں۔ میں سوچتا ہوں ان مخلص نوجوانوں کو کب اسٹیبلشمنٹ کی چالوں کا احساس ہوگا؟ یقین ہے کہ بہت جلد ہو جائے گا۔
:
موجودہ احتساب نامی ڈرامے کو ہم مکمل طور پر رد کرتے ہیں۔ احتساب اگر کرنا ہے تو پھر 1947ء سے فہرستیں بنا لیں۔ سب کا کریں۔ اس حمام میں کون ننگا نہیں ہے؟ اگر ایسا احتساب ممکن نہیں ہے تو پھر اس پنگے میں مت پڑیں۔ (احتساب کے ضمن میں ہمارا ایک سوچا سمجھا مؤقف ہے جو ہم شئیر کرتے رہتے ہیں۔)
:
موجودہ پانامہ کیس بھی 2014ء سے مسلسل حکومت کو زچ کرنے کی مہم کا حصہ ہے۔ ہم اسے الگ سے ایک انفرادی کیس کی حیثیت سے نہیں دیکھتے۔ یہ بات طے ہے کہ یہ کیس نہ ہوتا تو کچھ اور ہوتا۔ اس کیس میں ہم عدلیہ کے خفیہ اداروں سے پسِ پردہ روابط، جو کئی مواقع پر سامنے آئے ہیں، کے سبب سمجھتے ہیں کہ اس کے فیصلے کو سیاسی ترازو میں تولا جائے گا اور اس کے فیصلے کے گھمبیر سیاسی مضمرات ہوں گے جو بہرحال ملک کے حق میں اچھے نہیں ہوں گے۔
:
مائنس تھری فارمولہ بھی فضاؤں میں گونج رہا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ سیاسی میدان سے ہیوی ویٹس کو نااہل کر کے سیاسی بونوں کو امپلانٹ کر دیا جائے جو اشاروں پر چل سکیں۔ عمران خان صاحب خود ٹیکنوکریٹس کی حکومت کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں اور ان کے ساتھی بھی ایسا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ اس سازش کا حصہ بھی ہیں اور ممکنہ طور پر شکار بھی۔