اس کو باندھے رکھوں یا اڑنے دوں - حفصہ عبدالغفار

اولاد بدتمیز، اولاد ڈپریسڈ، اولاد نالائق، اولاد بے راہ روی کا شکار۔
یہ مسئلہ آج کس گھر میں نہیں؟ اس کی کئی وجوہات اور کئی حل تجویز کیے جاتے ہیں لیکن اکثر اوقات ایک بہت بنیادی وجہ کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔
لڑکپن سے شروع ہو جائیے، بچہ غیرنصابی کتب پڑھنے لگے تو وقت کے ضیاع اور 'پڑھائی' کو نظرانداز کرنے کے طعنے،
غیر نصابی سرگرمیوں میں متحرک ہونے لگے تو لاپرواہی کے طعنے،
خبریں اور ٹاک شوز سننے لگے تو وزیر اعظم بننے کا طنز،
مذہبی تنظیم سے منسلک ہونے لگے تو دہشت گردی کا الزام،
سیر و سیاحت کرنے لگے تو تنقید،
مطلب آپ اس کو کرنے ہی کیا دیتے ہیں؟
نا کچھ اچھا، نا کچھ برا۔

محترم والدین!
آپ بزرگ ہو رہے ہیں، آپ کی انرجی کم ہو رہی ہے، آپ کی ذمہ داریاں آپ کو مصروف رکھتی ہیں تو آپ سمجھتے ہیں کہ نوجوان کی یہ سب ایکٹیوٹیز بھی غیر ضروری ہیں۔ بھئی اس کے پاس انرجی ہے، نوجوانی ہے، امنگ ہے، ٹیلنٹ اور پوٹینشل ہے۔ اس سب کے لیے اسے آؤٹ لیٹس چاہییں۔ اڑنا اس کے لیے ضروری ہے۔

اگر آپ کی دلیل یہ ہے کہ کسی غلط کام میں نہ پھنس جائے تو اب آپ یا تو اسے خود اڑا لیں، یا پھر اسے اڑ لینے دیں۔ غلطیاں کر کے کہیں نہ کہیں تو پہنچ ہی جائے گا۔ ورنہ دو ہی نتیجے نکلیں گے یا تو باغی و بدتمیز ہو جائے گا اور یا ڈپریس ہو جائے گا، نفسیاتی مریض بن جائے گا۔ موبائل، فیس بک اور یو ٹیوب میں فنا ہو جائے گا۔

ہوتا یہ ہے کہ بیس بائیس سال کی عمر تک اسے آپ جمودیت پسند بنائے رکھتے ہیں، پھر کہنے لگتے ہیں نوکری نہیں ملتی اسے۔ بھئی نوکری ملے گے بھی کیسے، آپ کے پپو نے ساری زندگی رٹے لگا کے ڈگری ہی تو لی ہے، اور رٹے بھی پتہ نہیں کس بے دلی سے لگائے تھے۔

ابو جی فزکس میں آئینرشیا (جمود) کی مثال یوں دیتے ہیں کہ موٹر سائیکل پر دو شخص بیٹھے ہوں اور اچانک ریسٹ سے تیز سپیڈ کے ساتھ موٹر سائکل چلا دی جائے تو پچھلا شخص پیچھے گر جائے گا۔ کیوں؟ اسک ے جسم کا نچلا حصہ موٹر سائیکل کے ساتھ موو کرے گا اور اوپر والا اپنے آئنرشیا کی وجہ سے کہے گا نہیں میں نہیں ہلتا۔ یہی ہمارے نوجوان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسے تبدیلی سے ڈرا دیا جاتا ہے، اسے حرکت سے خوفزدہ کیا جاتا ہے، نتیجتا بیس بائیس سال کی عمر میں جب اسے آزادی ملتی ہے تو وہ گر جاتا ہے۔ وہاں سے آغاز کرتا ہے جہاں سے اسے اس عمر میں ماہر ہونا چاہیے۔ اس عمر تک کم از کم اس نے چند بڑے شہر تو گھومے ہوں، سیاست کی بلیم گیم میں بھی کچھ نہ کچھ حصہ ڈال لیا ہو، اسلامی تنظیموں کے ساتھ بھی اٹھ بیٹھ لیا ہو، چند ایک ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے لیا ہو، کم از کم بیس پچیس کتب پڑھ رکھی ہوں، لکھ بول لیا ہو، کامیابی کو ہضم کرنا اور ناکامی سے حظ اٹھانا سیکھا ہو۔ ان تمام سوچوں، سوالوں اور نفسیاتی مسائل سے گزر چکا ہو جن سے وہ اب گزرے گا۔
خلاصہ یہ کہ کم از کم وہ کچھ "بڑا سیکھنے کے لیے تیار تو ہو!

آپ اسے پڑھائی میں دل لگانے کی تلقین ضرور کیجیے، لیکن کبھی کبھار یہ بھی کہا کیجہے کہ بیٹا نمبروں کی فکر نہیں کرنی، کبھی یہ بھی کہہ دیجیے کہ فیل ہونا صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے، اگر اپنے 'الٹے سیدھے' کاموں کی وجہ سے کسی مسئلے میں پڑ جائے تو ملامت کے بجائے مسکرا کہ یہ بھی کبھی کہا کریں زبردست، اس مسئلے کو اس طرح انجوائے کرو۔
باندھے رکھنے کا مسئلہ ہماری مذہبی فیملیز میں زیادہ ہوتا ہے اور اس کا نقصان بھی زیادہ ہوتا ہے۔ عموما سیکولرز اپنے بچوں کو کھلی چھوٹ اور اسپورٹ دیتے ہیں، بیٹا تم نے فحاشی پھیلانی ہے؟ پھیلاؤ، ہم تمہارے پیچھے ہیں۔ تمہیں غلط کاموں کے لیے آزادی اور پیسہ چاہیے تو اس کی بھی فکر مت کرنا، جبکہ مذہبی لوگ، جن کی اولاد نے انھی وسائل کا مثبت استعمال کرنا ہوتا ہے وہ انہیں باندھے رکھتے ہیں، نتیجتا لادینیت پھیلتی چلی جاتی ہے، مذہبی لوگوں کی خود اعتمادی کھو جاتی ہے اور وہ خود ہی کونے کھدرے لگ جاتے ہیں۔

آزادی تو مذہبی نوجوان کا زیادہ حق ہے۔ مذہبی گھرانوں کی اولاد کے پاس سیکولرز سے زیادہ آزادی ہونی چاہیے، زیادہ ایکسپویر ہونا چاہیے، زیادہ خود اعتمادی ہونی چاہیے۔
ہمارے ہاں نوجوان نسل کے پاس ذاتی موبائل کا رجحان تقریبا 2010ء سے شروع ہوا۔ میں نے تب ایک بات نوٹ کی کہ طلبہ میں جس جس نے غلط استعمال کرنا تھا، اس کے پاس موبائل تھا، اور اچھی بات پھیلانے والوں میں کم کم لوگوں کے پاس۔ تب موبائل ایس ایم ایس کا رجحان بھی بہت زیادہ تھا۔ اب سٹوڈنٹس کے پاس چیٹس کے لیے اچھے لوگ دستیاب نہیں تھے تو برے لوگوں سے ہی کرنی تھی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تبدیلی اور مسائل سے ہم اکثر ڈرتے ہیں جبکہ وہ اکثر اوقات مثبت بھی ہوتے ہیں۔

یہ سب باتیں یونیورسٹی میں سٹوڈنٹس کے ساتھ انٹرایکشن میں آبزرو کیں۔ بعض اوقات تو لگتا ہے کہ ہر دوسرا نوجوان ڈپریس ہے۔ کوئی محبت کہ وجہ سے، کوئی امتحانات کی ٹینشن کی وجہ سے، کوئی خود اعتمادی نہ ہونے کی وجہ سے، یعنی تمام وہ مسائل جنھیں مینج کرنا اسے بہت پہلے سیکھ لینا چاہیے تھا۔ اور اس کی ایک بنیادی وجہ جمود سمجھ میں آئی۔ اکثر لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ فی میلز کی اکثریت 'فوکسڈ' ہوتی ہے، جبکہ میں اسی جملے کو یوں کہتی ہوں کہ فی میلز کی اکثریت 'تبدیلی سے خوفزدہ' ہوتی ہے۔ بھئی فوکسڈ تو تب ہے نا جب وہ عملی زندگی میں بہت کامیاب ہو، آپ کی طالبات کی اکثریت نمبر تو لےلیتی ہے لیکن کیا نوٹس اور پرچے سے باہر بھی کچھ کرسکتی ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔

واضح رہے کہ میں نے یہ ساری باتیں اکثریت کے حوالے سے کی ہیں۔
اگر اس ساری بات کو تین نکات میں سمرائز کروں تو یہ ہیں:
- اس معاملے میں بہترین رویہ اڑانے کا ہے۔ یعنی تربیت کے ساتھ، اسے وقت دے کر۔ اگر وہ نہیں تو خود اڑ لینے دیں۔
- لگی بندھی زندگی کی وجہ سے بدتمیز، مایوس اور ناکام ہو جائے گا۔ اگر آپ کی اجازت کے باوجود فارغ رہتا ہے تو زبردستی کسی ایکٹیویٹی میں مشغول کروائیں۔
- مذہبی گھرانوں کو بالخصوص اپنے نوجوانوں کو آزادی اور اسپورٹ دینی چاہیے۔ اور ان کے بارے میں حسن ظن رکھنا چاہیے۔

Comments

حفصہ عبدالغفار

حفصہ عبدالغفار

حفصہ عبدالغفار ایم فل کیمسٹری کی طالبہ اور موٹیویشنل سپیکر ہیں۔ زاویہ ڈیبیٹنگ سوسائٹی کی صدر رہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */