نفرت بھرے "شعور" کو "محبت" بھرا سلام - سلمان طارق

بھائی بات سنو! یہ جو سب دِکھ رہا ہے نا؟ 70 سالوں سے یہی دیکھ رہے ہیں۔ انصاف کا بول بالا تو 77ء میں بھی ہوا تھا۔ پھر کیا ہوا؟ کچھ نہیں ہوا نا؟ ہوگا بھی کیسے؟ وجہ یہ ہے کہ نفرت کی تاثیر محبت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی شدت سے آنکھوں میں موتیا آ جاتا ہے، کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ جو پروانے اور لاڈلے منڈلا رہے ہیں نا؟ بڑے بے چین ہیں۔ کیوں نہ ہوں؟ انتھک کوششوں کے بعد تو تدبیر کام آئی ہے۔

آجکل دانشوری ہر سو دکھائی دے گی، ہر زبان دل کی عکاسی کرتی نظر آئی گی۔ دماغ کا زمانہ تو ختم ہو چکا، شعور کی لالٹین تو کب کی بجھ چکی۔ نہ بھائی نا! نشے کی تاثیر کو شعور کہنا غلط ہوگا۔

دراصل ہر دور کا انسان سمجھتا ہے کہ آج کے انسان کو عقل آ گئی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نسل در نسل نفرت کی منتقلی مزید نمو پاتی ہے جس کے اظہار میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے جبکہ انسان کو یہ مغالطہ ہوتا ہے کہ شاید اس کا شعور زیادہ ہو گیا ہے۔ یعنی ارتقاء انسان کا نہیں نفرت کا ضرور ہوا ہے۔ کھل کر بد مزاجی کا اظہار شعور نہیں بلکہ بربادی کی طرف ایک قدم ہوتا ہے۔ نفرت کے سمندر میں ڈوبنے والے سمجھتے ہیں کہ ان کی نفرت جائز ہے۔ اس نفرت کے درمیان کچھ بھی آ جائے کوئی فرق نہیں پڑتا بس جس سے نفرت ہے اس کی ایسی تیسی ہو جائے، چاہے "سب" برباد ہوجائے۔

بہرحال، 70 سال اس ملک میں اقتدار میں آنے والے ہر شخص نے وطن کا کباڑا ہی کیا مگر تاریخ میں ایک ایسے شخص کا نام بھی لکھا جائے گا جس نے بغیر اقتدار میں آئے اس ملک کا کباڑا کیا۔ یہ ایک "سوچ" ہے جو 70 سالوں سے چلی آ رہی ہے کہ نظام کوئی بھی ہو، چلنے نہیں دینا۔ ہر دور میں اس "سوچ' پر عمل درآمد کے لیے مہرے مختلف اشکال میں آتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مایوس کن ردعمل - محمد عامر خاکوانی

میرے خیال میں نواز شریف ایک ذات کا نام ہے، وہ پاکستان بالکل نہیں۔ مگر جس "سوچ" کا میں ذکر کر رہا ہوں وہ کئی دہائیوں سے مخصوص عزائم کے ساتھ پروان چڑھتی اور اثرات مرتب کرتی آ رہی ہے۔ کسی نے کہا کہ "بھائی! اب نہیں، آج معاملہ کچھ اور ہے، اب کرپشن ختم ہوکر رہے گی۔" نادان نفرت کے عالم میں یہ فیصلہ دیکھنا بھی بھول گئے کہ فیصلہ کرپشن پر نہیں ہوا۔ خیر، یہ بنیادی نکتہ نہیں، پیاس بجھنی چاہیے بس!

اصل میں سوچ تو وہی ہے، مقاصد بھی وہی ہیں، مقتدر کو مقدر تسلیم کیا جائے لیکن ہم بار بار بھٹک کر "بلڈی سویلینز" کی طرف رجوع کرتے ہیں، جس پر مقتدر بار بار برہم ہوتا ہے۔ سٹریٹجی بنانا ان کی تربیت میں ہوتا ہے، کہیں اور استعمال نہ کی تو بس ہوم گراؤنڈ میں ہی پریکٹس کر لی۔

انصاف کی آڑ میں ایک وزیر اعظم کو پھانسی دے کر ہم ایک مثال قائم کر چکے ہیں۔ 90ء، 93ء، پھر 96ء ، اس کے بعد 99 میں بھی ایک عظیم چورن "بلڈی سویلینز" کو کھلاتے ہوئے "ہم نے تمہیں بچا لیا" کا راگ الاپا گیا، ایسی تان سے کہ تان سین بھی ہوتا تو عش عش کر اٹھتا۔

زرداری دور میں بھی یہ سوچ اثر انداز ہوئی۔ زرداری بکنا جانتا تھا، سو جھکا رہا اور بچا رہا۔ ان چار سالوں میں بھی کئی بار مختلف بہانوں سے اس "سوچ" کو وار کرتے دیکھا جا چکا ہے:

یار کو ہم نے جا بجا دیکھا

ماضی میں کرپشن ختم کرنے کے نام پر چلتی گاڑی پٹری سے اتار کر تو کبھی پٹری ہی توڑ کر، خوب کرپشن کی گئی۔ اس حوالے سے ہمارے ادیب سب کہانیاں محفوظ کر چکے ہیں۔

خیر، بات ہو رہی تھی "سوچ" کی، تو جناب یہ "سوچ" ایک شخصیت سے نفرت کا وہ عالم رچاتی ہے کہ "بلڈی سویلینز" یہ سمجھنا بھول جاتے ہیں کیا برا ہے اور کیا اچھا؟ جو منہ میں کلمہ دیا گیا، وہی کلمہ حق سمجھ کر نغمہ بے کراں بنا دیا۔ نہ ہم دیکھتے ہیں کون مہرا بنا؟ کس نے فائدہ اٹھایا اور نقصان کیا ہوا؟ مگر جب ہم اگلے دور میں قدم رکھتے ہیں تو تب سب آشکار ہونے لگتا ہے، مگر افسوس تب تک پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ثاقب نثار اور PTI حکومت کا مشترکہ ظلم - انصار عباسی

پچھلے ادوار کے نقصانات تاریخ کی کتابوں میں مل جائیں گے۔ اس "سوچ" کے آج کے مقاصد کچھ اور کے ساتھ ساتھ بیرونی بھی ہیں جس کی تفصیل "شعور" کو "برمودا ٹرائی اینگل" لگتی ہے۔

المیہ یہ ہے کہ یہ "سوچ" مہرا بھی ایسا بناتی ہے کہ جس کو صرف نفرت اتارنے سے غرض ہوتی ہے۔ باقی ماندہ سازشی باتیں بے غرض اور لا تعلق لگتی ہیں، افسانہ لگتی ہیں۔ مگر تاریخ میں یہی افسانوی باتیں اس "سوچ" کی پیروی میں اثرات مرتب کرتی رہی ہیں۔ یقین مانیے، رد عمل دینے سے پہلے تاریخ پڑھ لیجیے۔ شعور کو "عقل کل" اور "ایجوکیٹڈ" کہنا چھوڑ دیجیے۔ آپ کے نومولود، لا علم، بد زبان اور نفرت آمیز "شعور" کو سلام!