بدکردار - ابوالوفا محمد حمادا ثری

اخلاقیات کا جنازہ نکل رہا تھا تو ہم حاضر نہ تھے، اب جبکہ مرحومہ کو قبر میں اتار ا جا رہا ہے تو ہم آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ عائشہ نامی کسی بنت عائشہ نے ایک سیاسی لیڈر پر کچھ الزام رکھےہیں۔

چند مہینے ہوئے ہیں کہ ایسی ہی کسی خاتون نے ایک مذہبی لیڈر پر اتہام باندھے تھے ۔ یہ دونوں واقعات تقریباً ایک سے ہیں، یعنی حوا کی ایک بیٹی آدم کے ایک بیٹےکو بدکردار ٹھہراتی ہیں۔ مذہبی لیڈرپر جب الزام لگایا گیا تو اسے خوب اچھالا گیا ، سیاسی لیڈر کو جب ایسا ہی مرحلہ درپیش ہے تو اس کی بھی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں۔ یہ سب کچھ ہضم کیا جاسکتا ہے اگر چند مخصوص لوگ ایسا کرتے، اس کی طرف التفا ت نہ کرتے اگر قلیل مقدار ایسا کرنےو الوں کی ہوتی۔ لیکن یہاں تو ہنگام برپا ہے، غالبوں کے پرزے بھی اڑائے جا رہے ہوں اور تماشے بھی ہو رہے ہوں تو دیکھنے والوں کو مایوس لوٹنا بھی نہیں پڑتا۔

کھیل بھی غضب کا ہے، ہم حافظ کے ساتھ بھی ہیں، شیطان کے ساتھ بھی ہیں۔ ہم مسجد میں بھی ہیں، مے خانے میں بھی ہیں۔کل جب مذہبی شخصیت کاسکینڈل میڈیا پر گھوم رہا تھا،تو مخالفین اس شخصیت کو اچھال رہے تھے اورمقلدین الزام لگانے والی خاتون پر پھبتیاں کس رہے تھے،کسی کو غرض اس سے نہیں تھی کہ معاملات کو کلیئر کر لیاجائے۔ صرف اپنا لیڈر سچا تھا اور مخالف جھوٹا تھا ۔

بلا تحقیق معاملے کو اچھالنے والے اسلام کے مخالف تو تھے، لیکن تحقیق کے بعد ملزم اس کے مقام تک پہنچانے کو کوئی بھی تیار نہیں تھا۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے ان کو ڈر ہو، ہمار ا لیڈر جھوٹا نہ نکل آئے ۔ یوں لگتا تھا جیسے مخالف کو خوف ہو کہ وہ خاتون اگر جھوٹی ہوئی تو الزام کس پر لگائیں گے؟ اور تماش بینی کا سامان کہاں سے ہوگا؟

سیاسی لیڈر پر جب اتہام آیا ہے تو مذہبی کارکنا ن پرانے بدلے چکانے بیٹھ گئے ہیںجو لوگ اس وقت اخلاقیات کا درس دیتے تھے، سیاسی لیڈر کی باری آئی ہے تو اس درس کو بھول بیٹھے ہیں۔یعنی وہ لیڈر بدکردار ہے اور الزام لگانے والی معصوم۔

اور ہاں! وہ لوگ اس وقت مذہبی لیڈر کو اچھال رہے تھے، اب کی بارخاتون کو اچھال رہے ہیں۔سیاست کی بساط پر کھیلنے والا یہ کھلاڑی کئیوں کی نظروں میں معصوم ہے، جو گناہ کر ہی نہیں سکتا، لہٰذا اس کی تحقیق کرنا ہی جرم ہے۔میڈیا پر اس الزام کو دہرانے والی کئیوں کی نظر میں عین معصوم ہے، گویا جو اس نے کہہ دیا حق وہی ہے۔

تعجب تو اس پر ہے کہ مذہبی لیڈر پر جب الزام آیا تو اسے معاصر مذہبی جماعت کی سازش قرار دیا گیا ۔ سیاسی لیڈر جب الزامات کی زد میں ہے تو اسے مخالف سیاسی جماعت کی سازش بتایا جا رہا ۔ لیکن تحقیق نہ اس معاملے کی گئی نہ اس معاملے کی ہو رہی ہے، آج ثبوت مانگنے والے، کل بلا ثبوت مان رہے تھے۔ کل جو دلیل مانگ رہے تھے ، آج بلا دلیل مان رہے ہیں۔

ہم بھی عجیب لو گ ہیں کہ مخالف پر پھبتی کسنے کا وقت آئے توہم پوری تندہی سے اس کار خیر میں حصہ لیتے ہیں ، وہ بیچار ا احادیث و سنت کے حوالے دیتا رہ جاتا ہے، مگر ہم اس کی کہاں سنتے ہیں؟ لیکن جب مخالف کو پھبتی کا موقع ملے تو ہم احادیث اور شریعت کاوعظ لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔مگر مخالف ہماری کہاں سنتا ہے؟

کیا معصوم صرف ہمارا ہی لیڈر ہوتا ہے؟ کیا دو جہاں کا گند غیر ہی میں بھر ا ہے؟ کیا ہم نہیں سوچتے کہ کسی کی عزت یوں بلا دلیل اچھالنے سے حضرت محمدﷺنے منع کیا تھا؟کیا غیر کی عزت اچھالنے کے لیے ہمیں کوئی استثناء دیا گیا تھا؟

معاملے کو کلیئر کرنے کی ریت ہم کب اپنائیں گے؟ کب ہم تحقیق کریں گے؟ کب ہم جھوٹ اور سچ میں تمیز کرنا سیکھیں گے؟ ایسا کب ہوگا کہ بنت عائشہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والا سزا پائے گا؟ ایسا کب ہوگا کہ ایک شریف انسان پر بے وجہ الزام لگانے والی سے دلیل کا مطالبہ کیا جائے گا اور بلا تفریق کیا جائے گا۔ یعنی الزام اپنے لیڈر پر ہو تب بھی ، دوسرے کے لیڈر پر تب بھی؟ کب یہ لیڈر نامی مخلوق تقدس کی رِدا اتارے گی اور خود کو احتساب کے لیے پیش کرے گی ؟