لڈو کھیلنے کا شرعی حکم - حافظ محمد زبیر

دوست کا سوال ہے کہ کیا لڈو کھیلنا حرام ہے کہ مفتی صاحب کا کہنا ہے کہ حدیث میں لڈو کھیلنے سے منع کیا گیا ہے۔

جواب: حدیث میں جس کھیل سے منع کیا گیا ہے، اس کا نام "نرد" یا "نرد شیر" ہے جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ ہیں کہ جس نے "نرد" کھیلا تو اس نے گویا خنزیر اور اس کے خون میں اپنا ہاتھ ڈبویا۔ "نرد" در اصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اہل فارس کا ایک کھیل تھا جسے ہم ان ڈور گیمز میں شامل کر سکتے ہیں۔

اسلام میں کھیل کے مقاصد میں راجت نفس، ذہنی سکون اور جسمانی صحت شامل ہے لہذا ایسے تمام کھیل جائز ہیں کہ جن سے یہ مقاصد پورے ہوتے ہوں اور جو کھیل اذیت نفس، ذہنی بے سکونی اور جسمانی صحت کے لیے نقصان کا باعث بنے تو وہ اسلام میں جائز نہیں ہے۔ یہ تو ایک اصولی بات ہو گئی۔ اب اس میں تفصیل یہ ہے کہ ایسے تمام کھیل کہ جن میں جواء شامل ہو جائے کہ یہ اذیت نفس اور ذہنی بے سکونی کا باعث ہے، حرام ہیں۔ اور جو کھیل جائز بھی ہیں، اگر انہیں اس قدر کھیلا جائے کہ وقت کا ضیاع ہو اور دینی فرائض مثلا نماز وغیرہ سے کوتاہی ہو اور کھیل ایک نشہ [addiction] کی صورت اختیار کر جائے تو ایسی صورت حال میں وہ جائز کھیل بھی ناجائز بن جاتا ہے۔

"نرد" کے کھیل سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے تو اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ اس منع کرنے کی علت یعنی وجہ کیا ہے؟ بعض علماء نے کہا کہ یہ کھیل چونکہ لکڑی کے ایک تختے پر کھیلا جاتا تھا لہذا ایسے تمام کھیل ممنوع ہیں جو لکڑی کے تختے پر کھیلے جاتے ہوں جیسا کہ لڈو، کیرم بورڈ اور اسنوکر وغیرہ۔ کچھ علماء نے کہا کہ "نرد" ایک ایسا کھیل تھا کہ جس میں پاسہ [dice] یعنی دانہ پھینکا جاتا ہے لہذا ایسے تمام کھیل جائز نہیں ہیں کہ جن میں دانہ پھینکا جاتا ہو جیسا کہ لڈو وغیرہ۔

ہماری نظر میں اس کھیل کی ممانعت کی یہ دونوں وجہ اصل نہیں ہیں کیونکہ کسی شیء کے ممانعت کی وجہ معقول [reasonable] ہونی چاہیے اور لکڑی کے تختے کو ممانعت کی وجہ بنانا تو بالکل بھی لاجیکل نہیں ہے البتہ دانے اور ڈائس کو وجہ بنایا جا سکتا ہے کہ یہ جوئے اور قمار کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن اس صورت میں بھی یہ کھیل اسی وقت حرام قرار پائے گا جبکہ اس میں شرط اور جواء وغیرہ شامل ہو جائے۔ پس لڈو اگر شرط اور جوئے کے بغیر ہو تو جائز ہے۔

ہمارے نزدیک "نرد" کی ممانعت کی اصل وجہ یہ تھی کہ اس کھیل کا تعلق شرک سے تھا، ربوبیت کے شرک سے جیسا کہ اس کھیل کی تفصیل کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے مثلا علامہ الدمیری نے "حیاۃ الحیوان" میں لکھا ہے: وقد أغفل ابن خلكان من وصف النرد أشياء منھا: أن الاثني عشر بيتًا التي في الرقعۃ مقسومۃ أربعۃ على عدد فصول السنۃ، ومنھا أن الثلاثين قطعۃ بيض وسود كالايام والليالي. ومنھا ان الفصوص مسدسۃ، إشارۃ إلى ان الجھات ست لا سابع لھا. ومنھا أن ما فوق الفصوص وتحتھا كيفما وقعت سبع نقط عدد الافلاك، وعدد الارضين، وعدد السموات، وعدد الكواكب السيارۃ. ومنھا انہ جعل تصرف اللاعب في تلك الاعداد لاختيارہ وحسن التدبير بعقلہ. كما يرزق العاقل شيئًا قليلا فيحسن التدبير فيہ، ويرزق المفرط شيئاً كثيراً فلا يحسن التصرف فيہ، فالنرد جامع لحكم القضاء والقدر وحسن التصرف لاختيار لاعبہ

دوسری بات یہ ہے کہ کوئی کھیل ایسا ہو کہ جس میں غالب طور شرط اور جواء ہی لگایا جاتا ہو تو ایسا کھیل اگر شرط اور جوِئے کے بغیر بھی کھیلا جائے تو اس سے منع ہی کیا جائے گا کہ شریعت نے ایسے برتنوں کے استعمال سے بھی منع کر دیا کہ جو شراب کے لیے مستعمل ہوں۔ پس تاش کے پتوں اور اسنوکر وغیرہ سے کھیلنے کو اسی اصول کے تحت دیکھ لیا جائے کہ جائز ہے یا نہیں؟ لیکن بغیر شرط کے ایسے کھیل کے کھیلنے کو بھی حرام نہیں بلکہ مکروہ [discouraged] ہی کہیں گے کہ حرام وہ شرط اور جوئے سے ہی ہو گا۔
تیسری بات یہ ہے کہ شریعت میں علل [causes] کے علاوہ مقاصد [objectives] بھی اہم ہیں۔ پس اگر کسی جائز کھیل سے دین کا کوئی مقصد فوت ہو رہا ہو تو اس کھیل سے اس وقت تک منع کر دیا جائے گا جب تک کہ وہ مقصد پورا نہ ہو جائے یعنی نماز کے لیے آذان ہو جانے کے بعد جائز کھیل سے بھی روک دیا جائے گا یہاں تک کہ نماز ادا کر لے۔ اسی طرح اگر کسی جائز کھیل میں اتنی زیادہ انوالومنٹ ہو جائے کہ وہ ایڈکشن بن جائے یا اس سے وقت کا ضیاع ہو تو اس سے بھی منع کیا جائے گا کیونکہ اسلام ایڈکشن کو پسند نہیں کرتا کہ ذہنی بے سکونی کا باعث ہے۔

چوتھی بات یہ کہ بعض کمپیوٹر یا موبائل گیمز ایسی ہیں کہ جن میں آپ کوائنز جیتتے یا ہارتے ہیں تو کیا یہ گیمز کھیلنا جائز ہے؟ ایسی گیمز کا کھیلنا بھی جائز ہے کیونکہ یہ جیتنا اور ہارنا ورچوئل ہے نہ کہ حقیقی لیکن اگر ان گیمز میں انوالومنٹ اس قدر بڑھ جائے کہ یہ اصل جوئے کی طرف جانے کا ذریعہ بن جائیں تو ایسی صورت میں ان گیمز سے بھی منع کر دیا جائے گا۔ اور اگر کوئی کمپیوٹر یا موبائل گیم ایسی ہو کہ جس کے کھیلنے والے غالب طور اس کی ایڈکشن میں مبتلا ہو جاتے ہوں تو ایسی گیم سے بھی منع کیا جائے گا۔

پانچویں اور آخری بات یہ کہ انڈور گیمز میں بھی ان گیمز کو ترجیح دیں کہ جن سے شریعت کے مقاصد پورے ہوں مثلا ایسی گیمز کھیلیں کہ جن سے ذہنی استعداد اور صلاحیت بڑھے یعنی ذہانت میں اضافہ ہو۔ محض گیم کھیلنا کوئی مقصد نہیں ہے جیسا کہ لڈو وغیرہ۔ اس لیے لڈو کھیلنا اگرچہ حرام نہیں ہے لیکن بہتر نہیں ہے کہ اس کھیل سے کسی انسانی صلاحیت کی نشوونما نہیں ہوتی۔ امید ہے کہ اس تفصیل سے معاملے کی وضاحت ہو گئی ہو گی۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!