وادیٔ کشمیر، جنت نظیر - عبیداللہ کیہر

کشمیر اپنے حسن فطرت، دلکش نظاروں اور پرسکون ماحول کی بدولت دنیا بھر میں سیاحوں کی جنت کے نام سے مشہور ہے۔ وادی کشمیر سرسبز پہاڑوں، جھاگ اڑاتے دریاؤں، دل کش وادیوں، جھلملاتی برفوں، کنمناتے جھرنوں اور شور مچاتی آبشاروں سے مالامال ہے۔ جنت نظیر کشمیر کی سیاحت کے لیے سب سے پہلا مرحلہ مظفر آباد پہنچنا ہے جو کہ آزاد کشمیر کا صدر مقام ہے۔ مظفر آباد پہنچنے کے لیے دوراستے معروف ہیں۔ راولپنڈی سے براستہ مری مظفر آباد کی گاڑیاں چلتی ہیں جو اونچے اونچے سرسبز پہاڑوں سے چمٹے پُر پیچ راستوں پر بل کھاتی ہوئی کو ہالہ کے مقام پر دریائے جہلم کو عبور کرکے آزاد کشمیر میں داخل ہو جاتی ہیں اور وہاں سے 35 کلو میٹر دور مظفر آباد شہر تک چند گھنٹوں میں پہنچا دیتی ہیں۔

مظفر آباد پہنچنے کا دوسرا راستہ ایبٹ آباد اور مانسہرہ سے گزرتا ہے۔ مانسہرہ سے چلنے والی گاڑیاں پہاڑی ڈھلوانوں پر چھائے چیڑ اور دیودار کے جنگلوں سے گھری سڑک پر سفر کرکے دریائے کنہار کے شفاف نیلے پانی کی پتھروں سے ٹکراتی شوریدہ سر لہروں کے قریب پہنچتی ہیں اور ایک پُل عبور کرکے گڑھی حبیب اللہ کے قصبے میں سے گزر کر دریائے کنہار کے دوسرے کنارے کے ساتھ ساتھ سفر کرتی ہوئی برارکوٹ کے مقام پر آزاد کشمیر میں داخل ہو جاتی ہیں، جہاں سے مظفر آباد صرف 16 کلو میٹر کے فاصلے پرہے۔

کشمیر کی تین دلکش وادیاں، وادیٔ جہلم، وادیٔ نیلم اور وادیٔ لیپہ حسین مناظر کو اپنی آغوش میں لئے سیاحوں کی چشم حیراں کی منتظر رہتی ہیں۔ دریائے نیلم مظفر آباد میں ’’دو میل‘‘ کے مقام پردریائے جہلم میں شامل ہوجاتا ہے۔ دو میل سے چند کلو میٹر آگے ایک مقام پر وادیٔ کاغان سے آنے والا دریائے کنہار بھی دریائے جہلم میں مل جاتا ہے۔ ان تینوں دریاؤں کا پانی آگے چل کر میرپور کے مقام پر منگلا ڈیم میں داخل ہو جاتا ہے۔ دریائے جہلم کے ساتھ ساتھ تقریباً ساٹھ کلو میٹر طویل سڑک ہے جو وادی کے حسین مقامات سبڑی، گڑھی دوپٹہ، چناری، چکوٹھی، سدھن گلی، چکاراوروادیٔ لیپہ کو آپس میں ملاتی ہے۔

مظفر آباد آزاد کشمیر کا صدر مقام ہے۔ یہ دریائے جہلم اور دریائے نیلم کے سنگم پر واقع ہے۔ مظفر آباد کا موسم گرمیوں میں کافی گرم ہوتا ہے‘ جبکہ سردیوں میں سخت سردی پڑتی ہے۔ مارچ سے اکتوبر تک کا موسم سیاحت کے لئے موزوں ہے۔

وادیٔ نیلم کے دلفریب جھاگ اڑاتے پانیوں کے پس منظر میں پہاڑوں کی سرسبز اور برف پوش اونچائیاں ایک دلفریب تاثر تخلیق کرتی ہیں۔ یہ پوری وادی سرسبز جنگلوں‘ خوش رنگ پھولوں‘ گنگناتے جھرنوں اور شورمچاتی آبشاروں سے پُر ہے۔

دریائے نیلم کے ساتھ ساتھ دو سو کلو میٹر کے فاصلے میں پھیلی ہوئی وادیٔ نیلم آزاد کشمیر کا نہایت خوبصورت علاقہ ہے۔ وادیٔ نیلم کووادیٔ کاغان سے پہاڑوں کا ایک سلسلہ جدا کرتا ہے جو کہیں کہیں ساڑھے چار ہزارمیٹر کی بلندی تک چلا گیا ہے۔ وادیٔ نیلم کے دلفریب جھاگ اڑاتے پانیوں کے پس منظر میں ان پہاڑوں کی سرسبز اور برف پوش اونچائیاں ایک دلفریب تاثر تخلیق کرتی ہیں۔ یہ پوری وادی سرسبز جنگلوں‘ خوش رنگ پھولوں‘ گنگناتے جھرنوں اور شورمچاتی آبشاروں سے پُر ہے۔ دریائے نیلم اس وادی کی جان ہے جواردگرد کے حسن کو دیکھتا ہوا خراماں خراماں اپنی منزل مظفر آباد کی طرف رواں دواں ہے اور اس کے سینے میں ٹراؤٹ مچھلیوں کی کثرت شکار کے دلدادہ لوگوں کے لیے پیغام ہیجان ہے۔

دریائے نیلم کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی سڑک سیاحوں کو تمام خوبصورت مقامات تک آسانی سے پہنچا دیتی ہے۔ وادیٔ نیلم کی ابتداء میں’’ مکڑا‘‘ نامی برف پوش چوٹی دور سے نظر آتی ہے۔ یہ وہی چوٹی ہے جو وادیٔ کاغان میں شوگران سے بھی دکھائی دیتی ہے۔ وادیٔ نیلم کی سمت اس چوٹی کے دامن میں میلوں دور تک پہاڑی ڈھلوانوں پر سبز چراگاہیں ہیں۔ مہم جوئی کے لیے یہاں کئی ٹریک ہیں جو مکڑا کے دامن میں پھیلے سبزہ زاروں تک جاتے ہیں۔

دریائے نیلم کے ساتھ ساتھ سفر کریں تو مظفر آباد سے 84 کلو میٹرکے فاصلے پر کنڈل شاہی ہے، جہاں’’جاگراں‘‘ نالہ دریائے نیلم میں آکر گرتا ہے۔ اس نالے کے طاقت ور پانی سے یہاں ایک یہاں ایک بڑاپن بجلی گھر چلتا ہے۔ کنڈل شاہی سے دس کلو میٹر دور وادیٔ نیلم کا مرکزی شہر اٹھمقام ہے۔ اٹھمقام کا سیب اپنے ذائقے اور لذت میں پورے کشمیر میں مشہور ہے۔ اٹھمقام سے 20کلو میٹر آگے چلیں تو ’’دواریاں‘‘ آتا ہے۔ دواریاں سرسبز گھنے درختوں سے گھرا ہوا ہے۔ یہاں رتی گلی میں دو ہزار آٹھ سو میٹر کی بلندی پر ایک حسین قدرتی جھیل موجود ہے۔ رتی گلی سے مغرب کی طرف تقریباً دس کلو میٹر کا پیدل سفر کرکے وادیٔ کاغان میں پہنچا جاسکتا ہے۔

دواریاں سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پر ’’شاردا‘‘ ہے، جو اپنے حسن اور دلفریبی کے باعث وادیٔ نیلم کا دل کہلاتا ہے۔ یہاں پر دو پہاڑی چوٹیاں شاردا اور ناردا ہیں جن کی وجہ سے اس علاقے کو شاردا کا نام دیا گیا ہے۔ روایت کے مطابق ان دونوں چوٹیوں کو یہ نام قدیم زمانے میں دو شہزادیوں کی نسبت سے دیے گئے تھے۔ یہاں دریائے نیلم کے اوپر ایک معلق پُل ہے۔ دریا کی دوسری طرف قصبے کے عقب میں بلند و بالا پہاڑ ہیں جو دیودار اور چیڑ کے درختوں سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ یہاں دریائے نیلم میں سرگن نالاآکر ملتا ہے۔ اس مقام پر ٹراؤٹ مچھلی کا عمدہ شکار ہوسکتا ہے۔ سرگن نالے کے ساتھ ساتھ سفر کرکے درہ ’’نوری ناڑ‘‘کو عبور کرکے وادیٔ کاغان بھی پہنچا جاسکتا ہے۔ شاردا میں صدیوں پُرانے بدھ مت کے آثار اور ڈوگرہ عہد کا ایک قلعہ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اہم ہے۔

شاردا سے تقریباً ساٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر وادیٔ نیلم کا آخری مقام ’’تاؤبٹ‘‘ ہے جو اپنی قدرتی دلفریبی، بلند و چھتنار درختوں اور وسیع و سرسبز چراگاہوں کی وجہ سے قابل دیدوناقابلِ فراموش ہے۔

وادیٔ جہلم کشمیر کی دوسری خوبصورت وادی ہے۔ اس کے قابل دید مقامات میں سبڑی‘ گڑھی دوپٹہ، سدھن گلی‘ چکار اور لون بنگلہ شامل ہیں۔ سبڑی مظفر آباد سے آٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ مقام مچھلی کے شکاریوں کے لیے نہایت دلچسپی کا باعث ہے۔ اس مقام کی خوبصورتی کا اصل سبب‘ دریائے جہلم کا ٹھہراؤ ہے جوکئی سال قبل دریا میں مٹی کا تودہ گرنے سے پیدا ہوا ہے۔ یہاں دریا میں کشتی رانی کا بھی انتظام ہے۔

وادیٔ جہلم کا ایک اور خوبصورت مقام گڑھی دوپٹہ ہے جو سبڑی سے 16 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سرسبز جنگل‘ دلکش نظارے، خوش گوار موسم اور پُرسکون ماحول کی وجہ سے گڑھی دوپٹہ ایک پُر فضا ہل اسٹیشن قرار پاتا ہے۔ یہاں سیاحوں کے لیے گھنے درختوں کی چھاؤں میں محکمۂ جنگلات کا ریسٹ ہاؤس اور محکمۂ سیاحت کے ٹورسٹ ہٹ موجود ہیں۔ یہاں ایک زرعی انسٹی ٹیوٹ بھی ہے۔

گڑھی دوپٹہ سے سات کلو میٹر فاصلے پر’’دھنی بقالاں‘‘ ہے۔ یہ مقام جنگلات کی لکڑی کے لیے مشہور ہے۔ سیاحوں کو سڑک کے کنارے دور تک کٹے ہوئے درختوں کے شہتیر پڑے نظر آتے ہیں۔ یہاں لکڑی کاٹنے اور چیرنے کا کارخانہ بھی ہے۔

گڑھی دوپٹہ سے دو گھنٹے کی مسافت پر سدھن گلی نامی خوبصورت تفریحی مقام ہے۔ اس کی اصل اہمیت کوہ پیمائی کے شوقین لوگوں کے لیے ہے کیونکہ یہاں ایک جانب تقریباً تین ہزار میٹر بلند گنگا چوٹی موجود ہے جو کوہ پیمائی کے شوق کو اُبھارتی ہے۔ یہاں ایک بازار ہے اور دو ریسٹ ہاؤس ہیں۔ دوردور تک پھیلے ہوئے سبزہ زار اور درختوں سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں کے دامن میں لہلہاتے کھیت سدھن گلی کی دلکشی کوبڑھاتے ہیں۔

دریائے جہلم سے خاصا اوپراور سطح سمندر سے تقریباً دو ہزار میٹر بلند’’ چکار‘‘ کی چھوٹی سی دلکش و دلفریب بستی ہے۔ یہاں سیب اور ناشپاتی کثرت سے پیدا ہوتی ہے۔ یہاں ایک فش ہیچری بھی ہے۔ چکار سے ایک سڑک لون بنگلہ کی سمت جاتی ہے۔ اس راستے پر اخروٹ کے درختوں کے جھنڈ اورفر کے گھنے جنگلات نیلے آسمان کے پس منظر میں کسی خوبصورت تصویر کا حصہ محسوس ہوتے ہیں۔ یہاں جنگل میں کئی چھوٹی بڑی پگڈنڈیاں ہیں جن پر سیر کی جاسکتی ہے۔ جا بہ جا شفاف پانی کے چشمے‘ مہکی ہوا اور پرندوں کی چہچہاہٹ، شہروں سے تفریح کے لیے آنے والوں کو مسحور کر دیتی ہے۔

مظفر آباد کی تیسری اور خوبصورت ترین وادی، ’’وادیٔ لیپہ‘‘ ہے۔ وادیٔ لیپہ کو ایک بار دیکھنے والا اُسے ہمیشہ کے لیے اپنے خوابوں میں سجادیتا ہے۔ حد نگاہ تک بکھرا ہوا سبزہ ہی سبزہ‘ گھنے جنگلات سے ڈھکے پہاڑ اور اُن کے دامن میں اونچے نیچے کھیتوں میں کام کرتے ہوئے کسان ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ یہاں کثرت سے اخروٹ اور سیب کے درخت پائے جاتے ہیں۔ وادیٔ لیپہ جانے کے لیے ایک سڑک دریائے جہلم کے ساتھ چکوٹھی کی طرف جانے والی سڑک سے مظفر آباد سے 45 کلو میٹر کے فاصلے پرایک جگہ الگ ہوتی ہے اور دریا کو عبور کرنے کے بعد پہاڑوں میں بل کھاتی ہوئی 3200 میٹر کی بلندی پر واقع ریشیاں گلی پہنچتی ہے۔ یہاں سے یہ سڑک پھر نیچے اترتی ہے اور سولہ سو میٹر نشیب میں واقع وادیٔ لیپہ تک پہنچ جاتی ہے۔ یہاں مکانات زیادہ تر لکڑی سے بنے ہوئے ہیں اور کشمیر کے روایتی طرز تعمیر کو ظاہر کرتے ہیں۔ وادیٔ لیپہ چاروں طرف سے برف پوش پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے اوراس کے درمیان میں ایک صاف و شفاف ندی رواں ہے۔ اپنے حسین مناظر کی وجہ سے وادیٔ لیپہ کو ’’منی کشمیر‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ وادیٔ لیپہ میں سیاحت کے لیے مئی سے نومبر تک کا موسم مناسب ہے۔ اس کے بعد یہاں شدید برف باری شروع ہوجاتی ہے۔

کو ہالہ کے مقام پر دریائے جہلم کو عبور کرکے بائیں طرف مظفر آباد کی طرف جانے کی بجائے اگر بائیں طرف چلیں تو ایک سڑک پہاڑ کے اوپر جاتی ہوئی ملتی ہے۔ اس سڑک پر تقریباً بیس کلو میٹر سفر کریں تو ’’دھیر کوٹ‘‘ آجاتا ہے۔ دھیر کوٹ بھی ایک مقبول سیاحتی مقام ہے۔ یہاں گرمیوں میں موسم خوشگوار ہوتا ہے اور ہر طرف ہریالی نظر آتی ہے۔ کھیتوں کے تختے سیڑھیوں کی شکل میں پہاڑی ڈھلانوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔ گھنے جنگلات منظر کودلکش بناتے ہیں۔ دھیر کوٹ کے درمیان میں ایک مصروف بازار ہے جہاں ضرورت کی تمام چیزیں مل جاتی ہیں۔

راولاکوٹ ضلع پونچھ کا صدر مقام ہے۔ یہ سولہ سو میٹر بلندی پر واقع ہے۔ یہ ایک خوبصورت وادی ہے۔ بہار کے موسم میں یہ جگہ رنگینی و خوشبو کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ درختوں اور ہریالی کے ساتھ یہاں رنگ برنگے پھولوں کی بھی کثرت ہے۔ یہاں محکمۂ سیاحت کے ٹورسٹ ہاؤس کے علاوہ کئی اچھے ہوٹل بھی موجود ہیں۔ یہاں اسلام آباد سے سیدھے، براستہ کہوٹہ اور آزاد پتن، پہنچا جا سکتا ہے۔ آزاد پتن میں ایک طویل پل پر سے دریائے جہلم کو عبور کر کے آپ آزاد کشمیر کی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں۔ راولاکوٹ سے 25 کلو میٹر دور بنجوسہ کے مقام پر بلند پہاڑی جنگلات میں گھری ہوئی ایک خوابناک جھیل ہے۔ اس جھیل کے کنارے ڈھلواں سبزہ زار ہیں جن پر بیٹھ کر انسان اپنے غم بھول جاتا ہے۔ یہاں جھیل کنارے پی ڈبلیو ڈی کا ایک خوبصورت ریسٹ ہاؤس بھی ہے۔ جھیل میں کشتی رانی بھی کی جا سکتی ہے۔

دریائے پونچھ کے کنارے کوٹلی سے 26 کلو میٹر کے فاصلے پر’’ تتہ پانی‘‘ واقع ہے۔ یہ جگہ گرم پانی کے چشموں کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں دریائے پونچھ کا سبزی مائل شفاف پانی اپنے وسیع پاٹ میں بہت پرسکون انداز میں بہتا ہے۔ یہاں گرم چشموں کے پانی میں نہانا جلدی امراض کے لیے شفایابی خیال کیا جاتا ہے۔ چشمہ کے نزدیک سیاحوں کے لیے غسل خانے تعمیر کئے گئے ہیں۔

کشمیر کا سب سے جنوبی ضلع میر پور ہے۔ یہاں سینکڑوں مربعہ کلو میٹر پر پھیلی ہوئی گہرے نیلے پانی کی منگلا جھیل اس کی شہرت کا سبب ہے۔ یہاں ایک پرا ناقلعہ بھی ہے۔ منگلا ڈیم سے ملحق سبزہ زار کچھ فاصلے پر منگلاڈیم کےSpill Way سے آبشار کی صورت گرتا پانی کا زبردست دھارا دیکھنے والوں کو مبہوت کر دیتا ہے۔ میر پورکا موجودہ شہر منگلا ڈیم کی تعمیر کے بعد آباد ہوا ہے۔ پرانا میر پور منگلا کی جھیل کی گہرائیوں میں سو رہا ہے۔ نئے شہر میں جدید طرز کی عمارتیں ہیں۔ یہ تیزی سے صنعتی شہر بنتا جا رہا ہے۔ یہاں سرکاری ریسٹ ہاؤس اور لا تعداد اعلیٰ ہوٹل موجودہیں۔

’’باغ سر‘‘ میر پور کا ایک خوبصورت اور تاریخی مقام ہے۔ یہ گجرات سے براستہ بھمبر 64 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہاں مغل دور میں تعمیر کردہ کئی باغات موجود ہیں اور ایک بڑا قلعہ بھی ہے۔ یہ قلعہ ایک تاریخی روایت کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ کہتے ہیں کہ شہنشاہ جہانگیر جب دورۂ کشمیر پر آیا تو واپسی میں وہ قلعہ باغ سر میں بیمار ہوا اور یہیں پر اُس نے وفات پائی۔ اس کے جسد کو باغ سرسے لے جاکر لاہور میں دفن کیا گیاتھا۔ مغلوں کے بعد دیگر بادشاہ بھی قلعہ باغ سر میں رہے۔ قلعے کے دامن میں واقع باغ سر جھیل اس جگہ کے حسن کو دوبالا کرتی ہے اور دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

کشمیر جنت نظیر ہے۔ یہ سیاحوں کے لیے دلکش فطری مناظرسے مالامال ہے۔ اس بار چھٹیوں میں کشمیرجائیے اور یہاں کی معطر ہواؤں کو اپنی سانسوں اور مناظر کی دلکشی کواپنی آنکھوں میں بسا لیجیے۔

Comments

عبیداللہ کیہر

عبیداللہ کیہر

عبیداللہ کیہر پیشے کے لحاظ سے میکینیکل انجینیئر، مگر ساتھ ہی سیاح، سفرنامہ نگار، پروفیشنل فوٹوگرافر اور ڈاکومنٹری فلم میکر ہیں ۔ مؤقر قومی اخبارات اور رسائل میں بھی لکھتے رہے ہیں ۔ اردو کی پہلی ڈیجیٹل کتاب "دریا دریا وادی وادی" کے مصنف ہیں۔ اس کےعلاوہ 7 کتابیں مزید لکھ چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • جاگران کی رانی کسی زمانے میں پڑھا تھا اب مل نہیں رہا۔ شاید ناول تھا یا ساید افسانہ۔ کس نے لکھا ۔ کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ مد دفرما ئیے