میں کیوں غیر جانبدار نہیں - محمد عامر خاکوانی

پچھلے کچھ عرصے میں خاکسار نے خاصا کھل کر سیاسی ایشوز پر پوزیشن لی۔ خاص طور سے پانامہ سکینڈل کے پس منظر میں ن لیگ پر سخت تنقید کا سلسلہ جاری رہا، اس ایشو کو لے کر چلنے والی دو جماعتیں تھیں، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی۔ میں ان دونوں جماعتوں کی اس پالیسی کو سپورٹ کرتا رہا ہوں کہ احتساب کا عمل آگے بڑھا رہی ہیں۔ میں عدلیہ کی جوڈیشل ایکٹوازم کا پچھلے دس برسوں سے خاص طور سے حامی ہوں۔ پانامہ کیس میں بھی عدلیہ کی سپورٹ کی اور عدلیہ کی بنائی ہوئی جےآئی ٹی کی بھی اسی بنیاد پرحمایت کی۔ عدلیہ کے فیصلے کو بھی اسی بنیاد پر سراہا اور اس کی کھل کر حمایت کی۔ فطری طور پر میرا یہ مؤقف مسلم لیگ ن کے خلاف تھا، اس لیے ن لیگی حامیوں کو ناگوار گزرا۔ کئی دوستوں نے اس حوالے سے شکوہ کیا، بہت سے وال پر کمنٹس میں گلہ کرتے رہے، اکا دکا نے بدتمیزی کی کوشش کی اور جواب میں بلاک کا ہتھوڑا سر پر کھا کر، بے آبروئی میں وال سے نکالے گئے ۔

شکوہ بنیادی طور پر یہی تھا کہ آپ تو ہمیشہ معتدل لکھا کرتے تھے، اب کیوں اس قدر کھل کر لکھ رہے ہیں۔
سادہ سا اس کا جواب ہے، کل ایک فقرہ فیس بک پر پڑھا، پسند آیا، میرا وہی جواب ہے کہ ’’ توازن کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی نے ترازو درمیان میں ویلڈ کرا لیا ہے اور ہمیشہ درمیان میں رہ کر ہی بات کرنی ہے۔‘‘ یہ طے میں نے کرنا ہے کہ کس معاملے میں کھل کر پوزیشن لی جائے اور جہاں میں مناسب سمجھ رہا ہوں، اپنے نظریات، سوچ اور آدرشوں کے مطابق کھل کر واضح پوزیشن لے رہا ہوں۔

باقی ہمارے چند دوستوں کو یہ تکلیف ہے کہ یہ جانبداری صحافت میں نہیں ہوتی، اس لیے خاکسار کو صرف اپنی پسند کی جماعت کو ووٹ ڈالنے کی اجازت تو ہونی چاہیے، اس کے علاوہ کبھی کسی سیاسی جماعت کی حمایت، مخالفت میں کچھ لکھنے کی ممانعت ہونی چاہیے۔

عرض یہ ہے کہ آپ صحافت کی کلاسز دوبارہ سے پڑھیں۔ یہ صحافت نہیں، کم از کم اس سے ہم واقف نہیں اور نہ ہی اسے درخوراعتنا سمجھتے ہیں۔ ہمارے نزدیک غیر جانبداری رپورٹنگ میں تو ہونی چاہیے کہ جو بات جس نے جتنی کہی، اتنی ہی آئے، اس میں اینگلنگ نہ کی جائے، اسے تروڑا مروڑا نہ جائے، خبر کو چھیاپا نہ جائے، اپنی پسندیدہ جماعت کی کمزوری اگر سامنے آ جائے تو اسے چھپانے کے بجائے اسی طرح رپورٹ کیا جائے جیسا کہ مخالف جماعت کے خلاف خبر فائل کی جاتی ہے۔ اسی طرح نیوز مینجمنٹ میں بھی اینگلنگ نہ کی جائے۔ متوازن اخبار بنایا جائے۔ ہر کسی کی خبر ہو اور نیوز سینس کے مطابق خبروں کو ڈیل کیا جائے۔

تاہم سمجھا جائے کہ کالم نگاروں کو اپنی رائے ہی ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ وہ اپنے نام اور تصویر کے ساتھ اپنی رائے دیتے اور اس پر سٹینڈ لیتے ہیں۔ کالم نگار بسا اوقات مختلف ایشوز پر پوزیشن لیتے ہیں اور ہماری صحافتی تاریخ کے کئی تابناک باب اسی صحافتی پوزیشن کے مرہون منت ہیں۔ کالم نگار کو البتہ مالی یا کسی بھی دوسرے مفاد کے تحت نہیں لکھنا چاہیے، اسے تعصب میں اندھا نہیں ہوجانا چاہیے، اور اپنے ضمیر کے مطابق وہ جسے درست سمجھتا ہے، لکھے۔ اس کی رائے غلط ہوسکتی ہے، مگر رائے مکمل دیانت داری اور سوچ بچار کے بعد دینی چاہیے۔

اس حوالے سے چند نکات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔
1 - میں چیزوں کو ایشو ٹو ایشو دیکھتا ہوں۔ میں قومی سیاست میں مسلم لیگ ن کی نسبت پی ٹی آئی کو سپورٹ کرتا ہوں، مگر بعض ایشوز میں۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا میں انکشاف کر رہا ہوں، میرے پڑھنے والے جانتے ہیں کہ پچھلے چند برسوں سے میرا پی ٹی آئی کے لیے کسی قدر نرم گوشہ ہے، اس کی اپنی وجوہات ہیں جو میں آگے میں بیان کروں گا۔ جہاں جہاں مجھے درست لگتا ہے میں اس پر لکھتا ہوں، پی ٹی آئی کی کئی پالیسیوں پر تنقید کی۔ عمران خان کے دھرنے کی میں نے برملا مخالفت کی، ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ ان کے اتحاد پر تنقید کی، اسلام آباد کے لاک ڈاؤن پر تنقید کی، عمران خان کی تند وتیز گفتگو اور مختلف سیاسی غلطیوں پر ہمیشہ گرفت کی۔ میں کئی معاملات میں جماعت اسلامی کو سپورٹ کرتا ہوں کہ میرے نزدیک وہ واحد جمہوری جماعت ہے، جہاں باقاعدگی سے پراپر انتخابات ہوتے ہیں، جہاں موروثیت نہیں اور جہاں پوری قومی سیاست کے سب سے بہتر اور ایماندار لوگ موجود ہیں،۔ جماعت کی کئی پالیسیوں سے اختلاف بھی رہتے ہیں۔ میں نظریاتی ایشوز پرعمومی طور پر مذہبی جماعتوں کو سپورٹ کرتا ہوں۔ میں کلچرل ایشوز پر ادبی و علمی تنظیموں کو سپورٹ کرتا ہوں۔ میں کتابوں، علمی سرگرمیوں پر لکھتا رہتا ہوں، فلموں، ناولوں، ڈراموں پر بھی میں نے بہت لکھا۔ میں موٹی ویشنل موضوعات پرلکھتا ہوں۔ یہ سب میری ہی تحریروں کے مختلف شیڈز ہیں۔ ان میں سے کسی ایک جز یا زیادہ سے کسی کو اختلاف ہو سکتا ہے، مگر وہ حتمی رائے دینے سے پہلے میرے مجموعی کنٹری بیوشن کو دیکھے اور ممکن ہو تو اختلاف رائے کو برداشت کرتے ہوئے جینا اور جینے دینا سیکھے۔
2 - آپ صحافت اور فیس بک کی تحریروں میں فرق کریں۔ فیس بک کی تحریریں میری ذاتی رائے ہیں، جن کامیری صحافت سے کوئی تعلق نہیں۔
3 - ہماری صحافت کی تاریخ کے تابناک حصے ہیں ہی وہ جن میں صحافیوں نے واضح پوزیشن لےکر لکھا ہے۔ چاہے وہ بھٹو صاحب کے جبر و استبداد کے خلاف رائٹسٹوں کی جدوجہد ہو، جنرل ضیا کی آمریت کے خلاف ترقی پسند صحافیوں کی سٹرگل، نوے کے عشرے میں نظریاتی ایشوز پر لکھی گئی تحریریں یا میاں نواز شریف کے ہیوی مینڈیٹ کے زعم میں عدالت پر حملے کے خلاف لکھی گئی تحریریں ہوں، یا پھر جنرل مشرف کے دور آمریت میں صحافیوں کی کی گئی جدوجہد ہو۔ عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں ادا کیا گیا کردار ہو، بعد میں آصف زرداری کی کرپشن اور ادارے تباہ کرنے کی کوششوں کی مزاحمت ہو اور آج کل کے دور میں پانامہ سکینڈل کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش ہو۔
4 - آپ جسے جانبداری قرار دے رہے ہیں، میرے نزدیک اسے پوزیشن لینا کہتے ہیں۔ میرے پڑھنے والے اگر مختلف جماعتوں میں ہیں تو انہیں پھر میری بصیرت اور ایمانداری پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ میں ان سب کو خوش نہیں کر سکتا اور نہ ان کی خوشی کے لیے منافقت سے کام لے کر نام نہاد غیر جانبدار بن سکتا ہوں۔

تھری پلرز ایجنڈا
میرا محور تین چیزیں ہیں۔ اسلام ، پاکستان اور عوام ۔
میں نظریاتی اعتبار سے اسلامی نظام کے نفاذ کا حامی ہوں، پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کا ہم خیال اور اس حوالے سے سیکولر سوچ کا شدید مخالف ہوں۔ میرے نزدیک پاکستان اور اسلام ہم آہنگ ہیں کہ پاکستان کو ایک ماڈرن، جمہوری، اسلامی، فلاحی ریاست بنانا چاہیے۔ یہ ہمارا خواب ہے اور اسی کے لیے یہ ملک بنایا گیا۔ اسلامی علمی تحریکوں کو میں سپورٹ کرتا ہوں۔ جیسے اخوان المسلمون، ترکی کے اسلامسٹ، حماس وغیرہ۔ مگر میں کسی بھی حالت میں مسلح جدوجہد کرنے والی مذہبی تنظیموں کی حمایت نہیں کرتا۔ خاص کر میرے نزدیک اسلامی ریاست میں مذہبی بنیاد پر ہتھیار اٹھانا حرام ہے اور ایسا کرنے والے خروج کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے میں القاعدہ، داعش، بوکو حرام وغیرہ اور ٹی ٹی پی، حزب التحریر جیسی تنظیموں کا شدید مخالف ہوں۔ انہیں غلط، حرام اور مبنی بر خروج سمجھا ہوں۔

میرا بہت سے معاملات میں خالصتاً پاکستانی مؤقف ہے۔ میں ایک پاکستانی نیشنلسٹ ہوں۔ پاکستان کے مفادات کو ہر حال میں مقدم رکھتا ہوں۔ ایران، سعودی عرب، افغانستان، چین، امریکہ وغیرہ کی نسبت پاکستانی مفادات اور پاکستان کا فائدہ میرے لیے زیادہ اہم ہے، تاہم میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے مفادات اخلاقی اصولوں کی پیروی کر کے بھی حاصل ہوسکتے ہیں۔ اپنے نیشنلسٹ سٹینڈ کی وجہ سے ہی میں کئی معاملات میں فوج کو سپورٹ کرتا ہوں۔ خاص کر فوج کی کاؤنٹر انڈیا اور پرو چائنا پالیسی۔ میرے نزدیک البتہ اسٹیبلشمنٹ کو سیاست سے باہر رہنا چاہیے اور صرف نیشنل سکیورٹی ایشوز میں سویلین حکومت کی معاونت کرنی چاہیے۔ واضح رہے، صرف معاونت، کلی کنٹرول نہیں۔

میرے ایجنڈےکا تیسرا پلر عوام ہیں۔ پاکستانی عوام۔ میں ریفارمز کا حامی ہوں اور جو جماعت ریفارمز کی بات کرے گی، اس کو سپورٹ کرنا لازمی سمجھتا ہوں۔ تعلیم، صحت، تھانہ کچہری، پٹواراور دیگر محکموں میں اصلاحات لانا میرے نزدیک بہت ضروری ہیں۔ عام آدمی کو اس طرح ہی ریلیف دیا، اس کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکتا ہے۔ سٹیٹس کو کی حامی جماعتوں کی اسی لیے مخالفت اور پرو چینج پارٹیوں کی حمایت کرنا اسی لیے ضروری سمجھتا ہوں۔ میں پی ٹی آئی کو پرو چینج پارٹی سمجھتا ہوں، کہ کم از کم وہ نعرہ تو لگا رہی ہے، باقی ن لیگ اور پیپلزپارٹی تو برائے نام بھی ایسا نہیں کہہ رہی ہیں۔ اسی اصلاحات کی بنا پر جماعت اسلامی کو سپورٹ کرتا ہوں کہ وہ بھی احتساب، ریفارمز اور کرپشن کے خاتمےکی حامی ہے۔ اور بھی کوئی جماعت اگر اصلاحات لانے کی بات کرے تو ہم اس کی بھی حمایت کریں گے، مگر یہ یاد رہے کہ حمایت کا یہ مطلب نہیں کہ تنقید کا حق ختم ہوگیا۔ ہم ایشو ٹو ایشو حمایت کے قائل ہیں۔ جو بات درست لگے، اس کی حمایت، جو غلط لگے، اس پر تنقید۔

یہ چند نکات صرف اس لیے بیان کر دیے تاکہ دوستوں کو علم ہوجائے کہ یہ جو بھی پوزیشن ہے، اس کی ایک باقاعدہ سٹرکچرڈ فکر ہے۔ یہ غلط ہوسکتی ہے، میری آرا، سوچ، تجزیہ سب کچھ غلط ہوسکتا ہے، مگر یہ بہرحال بلاجواز نہیں اور دیانت داری پر مبنی ہے۔