آج پھر پنجاب بھر کے ہسپتال کیوں بند ہیں؟ - ڈاکٹر عزیر سرویا

گھر سے علی الصبح تیار ہو کر کام پر جانا، اپنا کام کر کے گھر واپس لوٹ آنا، مہینے بعد واجبی سی تنخواہ وصول کرنا اور زندگی آرام سے گزارنا۔ کسی کو اس کے علاوہ اور کیا چاہیے؟ آخر یہ کون بے وقوف لوگ ہیں جو تپتی دھوپ میں سڑکوں پر خجل ہونے نکل پڑے ہیں؟ اور آج سے نہیں، جانے کب سے ان کا یہی شغل ہے۔ کیوں؟

چلیں "پنجاب کے ہسپتال بند ہیں" میں آپ کا چھپا ہوا اقرار تو موجود ہے کہ ینگ ڈاکٹر پنجاب کے سرکاری ہسپتال چلا رہا ہے، وہ ہڑتال کر دے تو ہسپتال بند ہو جاتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ینگ ڈاکٹر صحت کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ نہ رہے تو ڈھانچہ کھڑا نہیں رہ سکتا۔

تو واپس مدعے پر آتے ہیں۔ پنجاب کے ہسپتالوں میں مجموعی بستروں کی گنجائش (bad capacity) اور ان ہسپتالوں میں روزانہ داخل ہونے والے مریضوں کے اعداد کا موازنہ کر لیں تو پتا لگے گا کہ ہسپتال اپنی اوقات سے کہیں دوگنے کہیں تگنے داخلے روز کرتے ہیں۔ ایک بستر پر دو مریضوں کی خبریں روز آپ سنتے اور دیکھتے ہیں۔ جو وارڈ ساٹھ بستروں کے لیے بنا تھا وہاں ڈیڑھ سو تک مریض ٹھنسے ہوتے ہیں۔ برطانیہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک کے بڑے ہسپتالوں میں اعداد و شمار کے مطابق ہر دس بستر کے لیے اوسطاً 15 ڈاکٹر ہوتے ہیں۔ مندے حالات میں بھی ایک ڈاکٹر ایک بستر کے حساب سے دستیاب ہوتا ہے۔

اپنے سرکاری ہسپتالوں کا کبھی چکر لگائیں۔ ایک ڈاکٹر اوسطاً پانچ بیڈز کے لیے ہوتا ہے، ان پانچ بیڈز کا مطلب بھی صرف پانچ نہیں ہوتا، ان پر اکثر دو دو مریض اور بیچ میں اسٹریچر بھی گھسے ہوتے ہیں۔ ابھی میں نے وارڈ کی بات کی ہے، ایمرجنسی کا قصہ نہیں چھیڑا جہاں دس بستر ایک ڈاکٹر کو ملتے ہیں۔ ایسے حالات میں کوئی ذی شعور آدمی سوچے تو اس نتیجے پر پہنچے گا کہ مسئلے کا حل ڈاکٹروں کی بھرتیوں میں اضافہ اور گنجائش بڑھانا یا نئے ہسپتال بنانا ہے۔

مگر اپنے پنجاب حکومت اور بیوروکریسی کے یار لوگوں نے سر جوڑ کر ایک پالیسی "سنٹرل انڈکشن پالیسی" (المعروف CIP) کے نام سے تخلیق کی کہ جس نے ہمیں بندر کے ہاتھ بندوق والے محاورے کی ایک نئی جہت سے آشنا کر دیا۔ جہاں پہلے آٹھ، دس ڈاکٹر سالانہ جنوری اور جولائی میں ہسپتالوں میں آیا کرتے تھے، ادھر اس پالیسی کے تحت فیصلہ ہوا کہ تین یا زیادہ سے زیادہ چار لوگ آئیں گے، اور وہ بھی سال میں ایک دفعہ۔ یعنی جہاں پہلے سے دوگنی بھرتیاں کرنے کی ضرورت تھی وہاں پہلے سے ایک چوتھائی پر راضی ہوئے! جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے! جو سادہ سا حساب ہسپتال کا جمعدار بھی باآاسانی کر کے نتیجے پر پہنچ سکتا ہے، ایک قابل انجینیئر صاحب جو سیکریٹری کی کرسی پر براجمان ہیں کرنے سے قاصر رہے۔

ایک بیڈ پر دو مریض ہوں یا اسٹریچر پر پڑا مریض ہو، اٹینڈنٹ آ کر بیوروکریسی یا حکومت کو گالیاں اور دھکے نہیں دیتے۔ ان کو ملتے ہیں تو ینگ ڈاکٹر۔ دوا ہسپتال میں نہ ہو تو وہ کسی کو برا نہیں کہتے سوائے ینگ ڈاکٹر کے۔ کیونکہ اور ان کو کوئی "ٹکرتا" ہی نہیں۔ ہم لوگ ہی مریضوں کی نگاہ میں اس فرسودہ نظام کے کرتا دھرتا ہیں۔ جس نظام کے معمار جعلی ڈگریوں والے سیاست دان، انجینیئر اور آرٹ مضامین پڑھے ہوئے بیوروکریٹ ہیں، اور جس میں ہمارا سرے سے کوئی عمل دخل ہی نہیں رکھا گیا ہے، اس کی وجہ سے مریضوں اور ان کے اٹینڈنٹس سے دن رات گالیاں اور دھکے ہم کھاتے ہیں۔ ستم ظریفی اور کسے کہتے ہیں؟

ایک شخص جو زندگی کے آٹھ سال انٹر سے ہاؤس جاب تک ایک پیشے پر وقف کرتا ہے، اعصاب شکن امتحان پاس کر کے دن رات ڈیوٹیاں کر کے خود کو مریضوں کی شفاء کا وسیلہ بنانے کی سعی کرتا ہے، آپ اسے اس ساری محنت کے بعد یہ کہیں کہ ہمارے پاس آپ کے لیے کوئی گنجائش نہیں تو وہ کیا کرے گا؟ سینٹرل انڈکشن پالیسی محتاط اندازے کے مطابق آگے پڑھ کر سپیشلسٹ ڈاکٹر بننے کے متمنی کُل امیدواروں میں سے فقط دس فیصد کو موقع دے رہی ہے۔ باقی دریا برد کر دیے جائیں؟ کیونکہ ٹرشری ہسپتالوں کے علاوہ باقی سرکاری ہیلتھ سینٹر بھی انتہائی ناکافی ہیں، تو اس کا حل تلاش کرنے کی ڈیمانڈ کرنا جرم ہے؟ ڈاکٹروں کی شرح ضرورت کے حساب سے رکھنے کی پلاننگ کس کے ذمے ہے؟ ینگ ڈاکٹر کے؟

ڈاکٹروں کی قلت اور بستروں کی نایابی سے پیدا ہونے والے غم و غصے کا شکار ہم روز بنتے ہیں۔ جس کا جی چاہتا ہے وہ ڈیوٹی پے موجود ڈاکٹروں کو کبھی ماں بہن کی گالیاں، کبھی گھونسے اور لاتیں اور کبھی جان سے مارنے کی دھمکیاں دے ڈالتا ہے۔ یہ کسی ایک ینگ ڈاکٹر کا نہیں بلکہ ہر ینگ ڈاکٹر کا مسئلہ ہے۔ آپ کے ٹیکس کے لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپےماہانہ لینے والے "بڑے ڈاکٹر" جس وقت اپنے ذاتی کلینک پر بیٹھے پرائیویٹ پریکٹس کر رہے ہوتے ہیں اس وقت قلیل تنخواہ (اور اکثر بلا معاوضہ بھی) کام کرنے والا ینگ ڈاکٹر ہی سرکاری ہسپتال میں آپ کا علاج کر رہا ہوتا ہے۔ ڈیوٹی پر موجود وہ ینگ ڈاکٹر گدھے کی طرح تین آدمیوں جتنا کام کرے، اور وہ بھی کئی بار مفت میں، ساتھ گالیاں اور دھمکیاں بھی سنے، اور اپنے تحفظ کے لیے قانون سازی کا مطالبہ بھی نہ کرے، یہ آپ کی خواہش ہے تو ہم معذرت خواہ ہیں! کئی ماہ سے ہم ہر فورم پر رو رہے ہیں کہ ہمیں روز کی ماروں سے بچانے کے لیے سیکورٹی فراہم کریں اور قانون سازی کریں، کالی پٹیوں سے لے کر مختصر دھرنوں اور ریلیوں تک سب ہم نے آزما چھوڑا۔ ہمارے لئے آپ نے کون سا رستہ چھوڑا ہے؟

ساہیوال کا حال ہی کا واقعہ کہ جس میں ایک کمشنر صاحب لیڈی ڈاکٹرز ہوسٹل میں گھسے اور دس بارہ "مونہہ متھے" لگتی لیڈی ڈاکٹروں کو وزیر صاحب کی "اُشر" (یعنی دربان) کی ڈیوٹی پر مامور کیا، وہ کیا بے ہودگی تھی؟ ابھی احمد پور شرقیہ کے عوام کے وہ جلے ہوئے جسم بھی آپ کی یادداشتوں میں محفوظ ہوں گے۔ ان کے لیے برن سنٹر اور آئی سی یو ینگ ڈاکٹروں نے بنانے تھے؟

آج ہسپتال بند کر کے ینگ ڈاکٹر اس لئے تپتی دھوپ میں نکل کر آنسو گیس، واٹر کینن، لاٹھی چارج، اور ملازمت سے برخاست کرنے کی دھمکیاں سہہ کر احتجاج کر رہے ہیں کیونکہ

  • اب ایک بیڈ پر ایک مریض سے زیادہ برداشت نہیں ہو گا
  • اب سینٹرل انڈکشن کے نام پر ایک ڈاکٹر کو دس دس بستر اور کئی کئی مریض دے کر مریضوں کی جان اور صحت سے مذاق کرنے والوں کی جواب طلبی ہو گی
  • ہمارے تحفظ کے لیے قانون سازی اور سیکورٹی کی فراہمی ہمارے ذہنی سکون اور پیشہ ورانہ خدمات کی با احسن ادائیگی کے لیے ضروری ہے، اس میں کوئی تاخیر برداشت نہیں ہو گی
  • حکومت وقت کو آئی سی یو، برن سنٹرز، نئے ہسپتال بنانے اور پرانے ہسپتالوں کی گنجائش میں فی الفور اضافے کے انتظامات کو یقینی بنانا ہو گا
  • آرٹ اور دیگر بیک گراونڈ رکھنے والے منتظمین ہمارے اوپر مسلط ہیں، جو ہماری سروس کو "ادنیٰ" اور اپنی سروس کو ارفع یعنی "سوپیریئر" سمجھتے ہیں۔ ہمارا جائز مطالبہ ہے کہ تمام سروسز کو برابری کا درجہ دے کر ہمیں بھی سروس اسٹرکچر دیا جائے۔ اب اس قوم کی بیٹیاں پڑھ لکھ کر مزید کسی کی دربانی کرنے کی متحمل نہیں ہوں گی۔