اللہ سے ڈرو بھی اور اُس کی رحمت کی اُمید بھی رکھو - عادِل سُہیل ظفر

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے وَ ادعُوہُ خَوفاً و طَعماً اور اُس کو خوف اور لالچ کے ساتھ پُکارو

عُلماء میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ ادعُوہُ کا معنی ہے اعبُدُوہُ اُس کی عبادت کرو اور کچھ کا کہنا ہے کہ اِس کا معنی ٰ ہے "اُس سے دُعاء کرو " اِس مفہوم میں کہ اُس سے ہی خیر طلب کرو اور اُسی سے ہی نقصان کی دُوری طلب کرو۔

حقیقتا دونوں باتوں میں کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ اِس میں کوئی شک نہیں کہ دُعاءء کرنا عِبادات کی بڑی اور أہم اِقسام میں سے ایک ہے، جیسا کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا الدُعاءءُ هو الْعِبَادَةُ دُعاء عِبادت ہے اور تُمہارے رب کا کہنا ہے اور پھر قرأت فرمایا وقال رَبُّكُمْ ادْعُونِی أَسْتَجِبْ لَكُمْ اور تُمہارے رب کا کہنا ہے کہ مجھ سے دُعاء کرو میں ہی تُم لوگوں کی قبول کروں گا (سُنن الترمذی /حدیث 3372/کتاب الدعوات /باب اول، سنن ابو داود /حدیث1479 /کتاب الصلاۃ /باب359، امام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دیا) یہاں اِس بات کا ذِکر بھی مُناسب معلوم ہوتا ہے کہ الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ دُعاء عِبادت کا مغز ہے ایک ضعیف روایت ہے۔

اللہ سے دُعاء کرتے ہوئے ہمیں یہ خُوب یاد رکھنا چاہیے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے دُعاء کرتے ہوئے، اُس کی عِبادت کرتے ہوئے، ہر وقت، ہر عمل میں اللہ سے خوف کرتے رہنا چاہیے اور اُس سے رحمت اور قُبولیت کا لالچ بھی رکھنا ہی چاہیے، کہ اللہ تعالیٰ جس پر غُصہ کرے اُس کے لیے انتہائی شدید گرفت کرنے والا، سخت ترین عذاب دینے والا والا ہے، اور جو اُس کی خوشی حاصل کر سکے اُس کے لیے انتہائی رحم کرنے والا اور آسانیاں عطاء فرمانے والا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے خود ہی یہ خبر ہمیں عطاء فرمائی، اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو حکم دیا کہ یہ خبر دیجیے کہ نَبِّىءْ عِبَادِی أَنِّی أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِیمُ O وَأَنَّ عَذَابِی هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِیمُ (اے محمد آپ ) میرے بندوں کو خبر کر دیجیے ( کہ) بے شک میں بہت بخشش والا اور رحم کرنے والا ہوں O اور بے شک میرا عذاب ہی وہ (ہے جو کہ) انتہائی دردناک عذاب ہے (سورت الحجر(15) /آیات 49، 50)

پس دُعاء کرنے والے کو، اللہ تعالیٰ کی عِبادت کرنے والے کو یہ جاننا چاہیے کہ اُسے اللہ کی بخشش اور رحمت کا یقین رکھتے ہوئے دُعاء کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے اور اِس کے ساتھ ہی ساتھ بالکل اُسی یقین کی طرح اللہ سے خوف بھی کرنا ہے اور یہ بھی یقین رکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب انتہائی شدید ہے۔

لہٰذا، صِرف بخشش اور رحمت کا یقین فائدہ دینے والا نہیں، اور نہ ہی صرف عذاب کا خوف فائدہ دینے والا ہے، بلکہ اللہ کا خوف اور اللہ کی بخشش کی اُمید دونوں کا ساتھ ہونا لازم ہے۔

دُعاء کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی عِبادت کرتے ہوئے، نیک اعمال کرتے ہوئے بندے کے دِل و دِماغ پر یہ خوف بھی رہنا چاہیے کہ کہیں اُس کا یہ عمل اللہ کے ہاں مردُود نہ ہو جائے، اگر ایسا ہو گا تو بندہ اپنے ہر عمل کو ادا کرنے سے پہلے اُس عمل کی قُبولیت کی تمام شرائط پوری کرنے کا عِلم حاصل کرے گا اور اُن شرائط کو پوری کرنے کی بھر پور کوشش کرے گا۔ اِس کے ساتھ اُسے اللہ تعالیٰ سے یہ اُمید ہو جائے گی کہ اللہ پاک اپنی رحمت سے اُس کے عمل کو قُبول فرما لے گا اور اُس پر راضی ہو جائے گا۔ پس دُعاءء کرنے والے کو، کوئی بھی اور عِبادت کرنے والے کو اپنے اندر یہ دونوں کیفیات برقرار رکھنا لازم ہے۔

جو لوگ اِس قِسم کی باتیں کرتے ہیں کہ "جِس نے اللہ کی عِبادت اللہ کے خوف سے کی، یا اللہ کی رحمت کے لالچ میں کی تو اُس کی عِبادت ناقص ہے، کیونکہ اُس نے تو عِبادت اللہ کے خوف کو دُور کرنے کے لالچ میں، اللہ کے عذاب کو دُور کرنے کے لالچ میں، یا اللہ کی رحمت حاصل کرنے کے لالچ میں، اللہ کی جنت حاصل کرنے کے لالچ میں کی، تو اُس نے گویا اپنی عِبادت کے ذریعے تجارت کی، ادلے بدلے کا سودا کیا، لہٰذا یہ عِبادت ناقص ہے، مکمل عِبادت وہ ہے جو اللہ کی عظمت اور اس کے جلال کی وجہ سے کی جائے کسی اور لالچ یا غرض سے نہیں، وغیرہ وغیرہ " اس قِسم کی باتیں کرنے والے اللہ تعالیٰ کے فرامین اور اُس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین کا اِنکار کرتے ہیں۔

صحت مند اور صحیح عقل رکھنے والوں کی دُعاءئیں، خواہشات اور اعمال دو ہدف رکھتے ہیں:

(1) نقصان دہ چیزوں سے بچنا

(2) فائدہ مند چیزوں کو حاصل کرنا

کوئی صحت مند اور ٹھیک عقل رکھنے والا کِسی ایسی چیز کے لیے دُعاء نہیں کرتا، نہ ہی کوئی ایسا عمل کرتا ہے جِس کے نتیجے میں نہ تو کِسی نُقصان سے محفوظ ہونے کی توقع ہو اور نہ ہی کوئی فائدہ حاصل ہونے کی اُمید ہو۔

پس نہ تو اللہ کے خوف سے لا پروا ہو کیونکہ ایسا کرنے سے وہ اُن میں سے ہو جائے گا جو اللہ کے داؤ سے خود کو محفوظ سمجھ رہے ہوتے ہیں اور یوں اللہ تعالیٰ کے ہی ایک داؤ میں پھنسے ہوتے ہیں،

اِس بات کو سمجھنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے اِس فرمان پاک میں تدبر کیجیے أَفَأَمِنُواْ مَكْرَ اللَّهِ فَلاَ یأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ کیا یہ لوگ اللہ کے داؤ سے ڈرتے نہیں (جان رکھو کہ) اللہ کے ڈر سے صِرف نُقصان پانے والے ہی نہیں ڈرتے (سورت الأعراف /آیت 99) اور نہ ہی صِرف خوف ہی رکھے اور خوف میں اِس قدر گم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کی بخشش اور رحمت کی اُمید تک کھو دے اللہ کا فرمان ہے إِنَّهُ لَا ییأَسُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ بے شک کہ اللہ کی رحمت سے بے ایمان لوگ ہی ناامید ہوا کرتے ہیں (سورت یوسف /آیت 87)

پس ایک اِیمان والے کی ساری زندگی اللہ کے خوف میں، اللہ کے عذاب کے خوف میں اُس سے بچنے کے کوشش میں اور اُس کی بخشش اور رحمت کی اُمید میں اُس کے حصول کی کوشش میں گزرنا چاہیے، اور موت کے وقت زندگی کے آخری ترین لمحے تک میں اُس پر اللہ کے لیے حسنء ظن کا غلبہ ہونا چاہیے۔

اللہ عزّ و جلّ ہم سب کو اُس کی رحمت اور بخشش کی اُمید کے ساتھ ساتھ اُس کی ناراضگی اور عذاب کا خوف رکھنے والوں میں سے بنائے، اور ہمیں اِن دونوں صِفات میں سے صِرف کِسی ایک کا حامل ہو کر غلط کاریوں کا شِکار ہونے سے بچائے۔ آمین!