نوجوان نسل میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان - ابو نمار

شرعاً خود کشی ایک حرام فعل ہے۔ اس کی شناعت اور قباحت اس سے بخوبی واضح ہوتی ہے کہ تمام آسمانی شریعتوں میں خودکشی کو حرام قرار دیا گیا ہے کیونکہ انسان کے جسد کا مالکِ حقیقی اللہ تعالیٰ کی ذات عالی ہے اور انسان کو اس کا مجازی مالک بنایا گیا۔ یہ بات اصولی طور پر طے ہے کہ جب تک حقیقی مالک موجود ہو تب تک مجازی مالک مختار نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کا خالق و مالک و رازق اور اس کے اُمور کی تدبیر کرنے والی ذات باری تعالیٰ ہے۔ اس لیے شریعت اسلامیہ کے دونوں بنیادی اصول میں اس کے لیے واضح احکامات موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو بلاشبہ اللہ تم پر رحیم ہے"(سورہ النسآء )

عموماً خودکشی کی علامات یا تو نفسیاتی ہوتی ہیں یا کچھ خارجی امور جیسا کہ آفات ہوتی ہیں۔ آفات کی بھی دو قسمیں ہیں قدرتی آفات، جن سے انسان متاثر ہوتا ہے اور دنیاوی آفات، ایک خود انسان کی اپنے اوپر مسلط کی گئی اور دوسری اللہ کی طرف سے آزمائش۔ مگر ان تمام آفات کا تسلط اور حکم اللہ جل شانہ کی طرف سے ہوتا ہے، اور اللہ کی ذات حکیم ہے۔ جو فیصلہ بظاہر انسان کی حالات کے ناموافق ہوتا ہے اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہوتی ہے اور یہ عین رحم ہے کا۔ اس لیے اللہ کے فیصلے پر ناراض و ناگوار ہوکر اپنی جانوں کو تلف مت کرو، بے شک وہ تم پر رحم کرنے والا ہے اور جو ایسا کریں وہ ظالم حد سے گزرنے والے ہیں۔ اس لیے فرمایا "اور جو شخص ایسا کریں حد سے گزرنے ہوئے ظلم کرتے ہوئے، عنقریب ہم اس کو جہنم میں ڈال دیں گے۔"

کئی صحیح اور صریح احادیث مبارکہ میں یہی مضمون وارد ہے کہ جو شخص جس طریقے اور جس انداز سے اپنے اپ کو قتل کرے گا قیامت کے دن وہی آلہ قتل اس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ اسی سے اس کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔ اللہ سبحانہ عزوجل نے قران پاک میں بارہا فرمایا کہ انسان سے ہم اگر کوئی نعمت چھین لیں تو نا امید و ناشکرا بن جاتا ہے اور اگر ہم اس کو اپنی نعمتیں عطاء کریں تو خوش ہوتا ہے اور شیخیاں بکھارتا ہے۔

اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کے صبر اور شکر کا مادّہ انسان کے اندر نہیں، حالانکہ یہی دو چیزیں اخلاق شرعیہ کی بنیاد اور اعمال صالحہ و عقائد صحیحہ کے لیے اساس ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   امیر زادے کی مایوسی اور پہلوان کا شکر - پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

شریعت کے اندر تین چیزیں مطلوب ہیں: (1) ایمان ( یعنی عقائد صحیحہ ) (2 ) عمل صالح (3 ) اخبات۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ اخبات سے مراد اخلاق شرعیہ، تصفیہ قلب، تزکیہ نفس، اصلاح باطن ہیں اور ان تینوں افعال میں انسان کو خوف اور امید کے درمیان اعتدال پر رہنا چاہیے۔ اگر خوف کا غلبہ ہوجائے تو بھی بے صبری ناشکری اور نا امیدی اور احساس کمتری کا شکار، اور اگر امید کا غلبہ ہوجائے تو بھی انسان ناشکری، بے صبری، شیخی خور اور احساس برتری کا شکار ہوتا ہے۔ یہی وہ بنیادی عناصر ہیں جو انسان کو خودکشی کی طرف لے جانے والی ہیں۔

اس لیے حدیث کے اندر اس کی جو سزاء وارد ہے وہ یہ ہے کہ ایسا شخص ہمیشہ جہنمی ہوگا۔

چونکہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر ایک شخص توحید اور ایمان پر مرتا ہے تو وہ ہمیشہ کے لیے جہنمی نہیں ہوتا، اس لیے محدثین اس میں توجیہات کرتے ہیں۔ ایک توجیہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص خود کشی کو حلال اور جائز سمجھ کر کرتا ہے تو وہ کافر ہوجاتا ہے اور ہمیشہ کا جہنمی ہوتا ہے۔ اگر ہمیشہ کا جہنمی نہ بھی ہو تو بھی چونکہ یہ اکبر الکبائر ہے اس لیے سزا بھی اس کی اشد الشدائد ہے۔

مضمون میں خودکشی کے کچھ بنیادی اسباب و علاج بھی آچکے مگر ہم کچھ اسباب اور علاج ضروری الذکر کی طرف اشارہ کرتے ہیں جیسا کہ اسباب مع العلاج۔ بنیادی طور پر خودکشی کے تمام اسباب اگر ایک سبب پر منتہی ہوجاتے ہیں اور وہ ہے " نا امیدی " ۔ اللہ تعالیٰ نے نا امیدی کو حرام ٹھہرایا ہے سخت تحریم کے ساتھ بلکہ اس کو کفر اور گمراہی کا ساتھی قرار دیا ہے۔ فرمایا: "اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہوجاؤ بے شک اللہ کی رحمت سے نااُمید ہونے والے ناشکرے ہیں۔ پھر فرمایا "اور کون اللہ کی رحمت سے نا امید ہوتے ہیں گمراہوں کے علاوہ"

علماء کا اس پر اجماع ہے کہ اللہ کی رحمت سے نا امیدی اکبر الکبائر (بہت بڑا گناہ ) ہے۔ امام قرطبی رحمۃ اللہ نے کبائر کے ذکر میں شرک کے بعد دوسرے نمبر پر ناامیدی ذکر کی ہے اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ کبائر چار ہیں، ان میں دوسرے نمبر پر نااُمیدی کو ذکر کیا ہے، اس لیے کہ نا امیدی اللہ تعالیٰ کے ساتھ بے ادبی ہے۔

امام ابن قیم رحمہ اللہ مدراج السالکین میں فرماتے ہیں کہ کبائر میں سے دوسرے نمبر پر ناامیدی ہے، اور یہ زنا، شراب خوری اور دیگر گناہوں سے بڑا گناہ ہے کہ اس سے دل فاسد ہوتا ہے اور جب دل فاسد ہوجائے تو بدن بھی فاسد ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   امیر زادے کی مایوسی اور پہلوان کا شکر - پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

اس کے بالمقابل امید ایمان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام دروازے کھول دیے۔ ایک حدیث قدسی ہے جس کو امام مسلم رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو مخاطب کرکے فرماتا ہے، تو مجھ سے جو مانگے جو امید رکھے میں سب تجھے دے دوں گا اور مجھے کوئی پروا نہیں۔ اگر تیرے گناہ آسمان کے کناروں تک پہنچے اور تیرے گناہوں سے زمین بھر جائے پھر تو مجھ سے بخشش مانگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ یہ اللہ کا خالص خطاب ہے بندے کے لیے۔ اس لیے اگر تو اللہ کا بندہ ہے تو نا امیدی کو دل میں داخل نہ کر کیونکہ اس کے ساتھ دل میں کفر، گمراہی اور فساد داخل ہوتے ہیں۔

لوگوں کو بھی امید دلانا ضروری ہے۔ حدیث میں ہے "آسانی پھیلاؤ مشکلات نہیں، خوشخبری دو نفرت مت پھیلاؤ۔" یہ فتنہ اور فواحش کا زمانہ ہے اس میں امید ہی کامیابی کی ضمانت ہے، ہوسکتا ہے کہ ان مصائب میں ہمارے لیے خیر کا کوئی دروازہ پوشیدہ ہو۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "ہوسکتا ہے ایک چیز کو تم ناپسند کرو اور اس میں تمہارے لیے خیر ہو اور ایک چیز کو تم پسند کرو اس میں تمہارے لیے شر ہو۔"

اس لیے معاشرے کی تعمیر میں کردار ادا کرنے کے لیے افراد کو بچانا ہوگا اور یہ صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ لوگوں میں دین اور شریعت کی روح اجاگر کی جائے، لہذا یہ ہرشخص کی ذمہ داری ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھ ہوگی۔ اس لیے تمام آفات و بلیات، نفسیاتی اور خارجی و جسمانی و روحانی تمام بیماریوں سے شفاء اللہ تعالیٰ نے قرآ ن اور رسول اللہ کی تعلیمات میں رکھی ہے۔ میں قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ جو شخص خودکشی پر اپنے آپ کو مجبور پائے، وہ وضو کرکے دو رکعت نفل پڑھے، ثابت قدمی کی دعا مانگ کر قرآن پاک اٹھائے اور کچھ تلاوت کرے، اس کے بعد اپنے نفس کو ٹٹولے تو اس کو مطمئن پائے گا۔ یہ بڑی بھول ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ اس حیات سے تو موت بہتر ہے اور خودکشی کرلیں۔ واللہ العظیم! یہ ایک لمحے کی بات ہے اس کے بعد ایسی مشکلات اور عذاب میں پھنس جائے گا کہ کبھی اس سے چھٹکارا نہیں پا سکے گا۔