لنگڑی مرغی کے شکار آنکھوں دیکھا حال - منصور وڑائچ

کاش مرغی کے شکار کے لیے ہانکا (آہ آہ ) کرنے والوں کو پتا ہوتا کہ بوٹی اُن کی قسمت میں نہیں ہے۔ مرغی کوگستاخی کی سزا دینے والاصیادکوئی اور ہے۔

آگے بڑھنے سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ مرغی تو اچھی بھلی چالاک تھی تین مرتبہ ـ "پاڑا مل " ( انڈے پروس) چکی تھی پھر لنگڑی کیسے ہوئی؟ اور ہاں گستاخی کیا سرزد ہوئی؟ ہم اپنی سہولت کے لیے مرغی کا نام 'مٹو ' رکھ لیتے ہیں تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو اور مرغی کی عزت بھی مجروح نہ ہو۔

ہو ا یوں کہ مٹو چونکہ خاصی سمجھدار تھی اس لیے اپنے بچوں کے لیے کچھ دانے کسی اور "ڈیرے" پرچھپاتی تھی تاکہ برے وقتوں میں بچے "دانے دنکے " کے لیے پریشان نہ ہوں۔چو نکہ مٹو کے ڈیرے کی مرغیوں پر صیّاد کی وجہ سے پہلے بھی بر ا وقت آچکاتھا۔

دیکھا دیکھی کچھ اور مرغیاں بھی اپنا دانا دنکا اسی "ڈیرے " پر چھپانے لگیں۔ کچھ ظالم مرغوں نے مرغیوں کی یہ حرکت دیکھ لی اور تنور والی "ماسی" کو بتا دیا۔ دوسرا یہ کہ مٹو چونکہ پابندی سے انڈے دینے لگ گئی تھی اس لیے اپنے آپ کو "پاٹے خاں " کی فرسٹ کزن بھی سمجھتی تھیاور مشورے پر کان دھرنے کی بجائے من مرضی کرنے لگ گئی تھی۔اور چاہتی تھی کہ اسی "گولے " پر واقع کسی اور "ڈیرے " کی مرغیوں اور چند بدنام مر غوں سے تعلقات میں اپنی مر ضی کرے۔

دراصل پرندے شکار کے لیے ہی ہوتے ہیں۔ صحن چمن میں پرندوں کا رقص ساری زندگی کو ن دیکھ؟ اصل مزا تو شکار میں ہے نا؟ بڑے بڑے بوٹ پہنے، بندوق اُٹھائی اور ٹھاہ۔۔۔ ٹھاہ۔۔۔ ٹھاہ!!

صیاد کو یہ بھی ڈر تھا کہ مٹو کی حمایت میں بچے بڑے شرفاء بدمعاش سب جمع نہ ہو جا ویں ۔ اسی لیے صیادنے کچھ ضروری "پری ایکشن" بھی لیے، جس کے :ری ایکشن" میں ایسا طوفان اُٹھا کہ الامان ! لونڈے مرغوں اور شرفاء کا ساتھ دینے والے مرغے ہر سو پھیل گئے۔ بہت گالم گلوچ ہوئی۔

مٹو بڑی "بی چلاکو" بنی پھرتی تھی اور بڑا "اترا اترا " کر چلتی تھی، اس خبر سے بد حواس ہوگئی۔ مگر گلی کے لونڈے مرغوں نے اور دانا دنکا مانگ کر کھانے والی چند مرغیاں نے بھی مٹوکا ساتھ دیا۔ بڑی کڑکڑ کی۔ بہت شور مچایا"اُو بلی، وہ بلی آگئی!! آگئی !! اللہ دی قسمیں بلی آگئی جے" کی رٹ لگائی۔ کچھ نے توبھئی حفاظت کرنے والوں پر بھی الزام دھر دیا۔

اب شرمندگی کی وجہ سے مٹولنگڑا کر چلنے لگی۔ محلے کے شریف لوگوں کا خیال تھا کہ مٹو کو سزا دینی چاہیے اور اس کوذبح کر دینا چاہیے۔ کچھ لونڈے لفڑے بھی پہلی مرتبہ شرفاء کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ مٹو کا ساتھ دینے والے کہتے رہے کہ یہ مرغے بھی دانا چور ہیں۔ کبھی صیاد کے ساتھ ہوتے ہیں کبھی مرغیوں کے ساتھ۔ یہ بھی دانے چھپاتے ہیں اور چوری بھی کرتے ہیں۔ مگر شرفاء ہنس پڑتے تھے چونکہ شرفاء کو اب کھیل میں مزا بھی آ رہاتھا اور کچھ ہاتھ آنے کی بھی امید لگ رہی تھی مگر مٹوکا ساتھ دینے والے لونڈے بھی کم نہ تھے۔ اُن کا کہنا تھاکہ نمبردار کی سات نسلیں بھی مر جائیں مراثی کبھی بھی نمبردار نہیں بن سکتا۔

شرفاء کا خیال تھا کہ یہ لونڈے ہی مٹو کو ذبح کر وائیں گے۔ شرفاء نے مٹو کو پکڑنے کے لیے پورا ز ور لگایا۔ کبھی "کوٹھے " پر ( وہ والا نہیں)، کبھی گلی میں، کبھی "نالی " میں اور کبھی "ٹالی " پر ۔ صیاد کو آخر شرفاء پر ترس آگیا کہ اب "آ ۔۔۔ آ۔۔۔۔ آ۔۔۔۔" کر کے ان کی زبان باہر آگئی ہے اوربھاگ کرمٹو کا شکار کر لیا۔

چند دانے چھپانے کی سزا اتنی بڑی؟ مٹو اب بھی چلا رہی ہے اور شرمندہ پھر رہی ہے۔ صیاد کو بڑے شکارنے بڑا مزا دیا ہے۔ ہانکا کرنے والے بھی بہت خوش ہیں کہ شکار انہوں نے کیا ہے۔ صیاد اپنی چالوں پر خوش کیوں نہ ہو؟

اب شایدمٹو کا ساتھ دینے والے لو فر مرغے اور مرغیاں اپنے دانے دنکے کے لیے نئی مرغی کا ساتھ دینے لگ جائیں کیونکہ شرفاء کی نسبت ان کو اچھی طرح پتہ ہے کہ نئی مرغی بھی صیاد کی پسند کی آئے گی اور آخر شکار ہوگی۔

دراصل پرندے شکار کے لیے ہی ہوتے ہیں۔ صحن چمن میں پرندوں کا رقص ساری زندگی کو ن دیکھ؟ اصل مزا تو شکار میں ہے نا؟ بڑے بڑے بوٹ پہنے، بندوق اُٹھائی اور ٹھاہ۔۔۔ ٹھاہ۔۔۔ ٹھاہ!!

(نوٹ: تمام کردار فرضی ہیں۔ کسی بھی صورت حال پر منطبق ہونا محض "اتفاق" ہوگا)

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com