یہ وہ سحر تو نہیں - انعم تسنیم قریشی

"نواز شریف متحدہ عرب امارات کی کمپنی کیپیٹل ایف زیڈ ای کے چیئرمین کی حیثیت سے تنخواہ کے حقدار تھے جس کا انہوں نے 2013 کے کاغذات نامزدگی میں ذکر نہیں کیا، نوازشریف آرٹیکل 62، 63 پر پورا نہیں اترتے، وہ صادق اور ا مین نہیں رہے، لہٰذ ا انہیں نااہل قرار دیا جاتا ہے۔"

ملک کے منتخب وزیراعظم کی نااہلی کی خبر سنتے ہی دل خوشی سے جھوم اٹھا کہ بالآخر پاکستان میں اس دور کی ابتدا ہو ہی گئی جس کے خواب ہم نصف صدی سے اپنی پلکوں پر سجائے جی رہے ہیں۔ کرپٹ حکمرانوں کو مسندِ اقتدار سے اٹھا کر گھر بھیج دینے کا خواب۔ ۔۔ قومی خزانے کو لوٹنے والوں ا ور کرپشن کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں کے کڑے احتساب کا خواب۔ ۔۔ مگر ہماری خوشی اس وقت اڑن چھُو ہو گئی جب اس 'تاریخی اور صدیوں تک یاد رکھے جا نے والے ' عدالتی فیصلے پر ذرا " گہرائی " میں جا کر غور کیا۔

عدالتی فیصلے کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جے آئی ٹی کے معزز ممبران پنامہ کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات میں سے کسی ایک کا بھی واضح جواب تلاش نہ کر پائے۔ نواز شریف پر لگائے گئے الزامات، الزامات ہی رہے، گو کہ ان میں کسی حد تک صداقت بھی تھی مگر الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ٹھوس قانونی شواہد درکار ہوتے ہیں جو جے آئی ٹی کی پہنچ سے دور رہے۔ مگر جے آئی ٹی کے ان ہیروز نے دبئی کی ایف زیڈ ای کمپنی کی صورت میں نوازشریف کا ایک ایسا جرم ڈھونڈ نکالا جس کی پاداش میں ملک کے منتخب وزیراعظم کو وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑے۔

اگر عدالتی فیصلہ خالصتاً عدالتی فیصلہ ہوتا تو یقین جانیے ہمارا شمار بھی مٹھائیاں تقسیم کرنے والوں میں ہی ہوتا۔ مگر وزیراعظم کے 4 سالہ دورِ اقتدار پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات روز ِروشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ ملک کے منتخب وزیراعظم کو وزارت عظمیٰ سے بے دخل کرنے کے پیچھے کون سے عوامل کار فرما تھے۔

اسٹیبلشمنٹ کی کوکھ سے سیاسی جنم لینے والے میاں محمد نوازشریف اپنے پچھلے ادوار کی طرح اس بار بھی 'نادیدہ قوتوں' سے نبردآزما رہے۔ وزیردفاع کا قلمدان خواجہ آصف کو سونپ کر اپنے پاؤں پر خو د کلہاڑی مار بیٹھے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ خواجہ آصف اپنی فوج مخالف تقاریر کی وجہ سے فوج میں ناپسندیدہ سمجھے جاتے تھے، نوازشریف نے فوج سے محازآرائی کی ابتد ا کرلی۔

2014ء میں عمران خان کے دھرنے کو جمہوریت کے خلاف سوچی سمجھی سازش قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر اپنے لیے ناموافق حالات پیدا کرلیے۔ افغانستان او ر بھارت کے حوالے سے حکومت کی خارجہ پالیسی شروع دن سے ہی فوج کی آنکھوں میں کھٹکتی تھی۔ نواز شریف مفاہمتی پالیسی اختیار کرکے بھارت کے ساتھ تمام تنازعات کا حل چاہتے تھے ا ور انہوں نے بیک ڈور پالیسی اپنائی جس پر انہیں اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر نواز حکومت کی جانب سے ہربار یہ تاثر دیا گیا کہ فوج اور سویلین حکومت ایک پیج پر ہے۔

ڈان لیکس کا معاملہ منظر عام پر آنے سے سول ملٹری تعلقات میں دڑار پڑ گئی اور حالات مزید سنگین ہوگئے۔ نیوز گیٹ اسکینڈل نواز شریف کے گلے کی ہڈی بن چکا تھا۔ معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی مگر فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے اپنی ایک ٹویٹ کے ذریعے کمیٹی کی رپورٹ کو مسترد کر دیا۔ فوج کی جانب سے رپورٹ مسترد کیے جانے کے بعد حکومتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ فوج نے ٹویٹ واپس لے کر بیک آف تو کر لیا مگر وہ ڈان لیکس کو بھولی نہیں۔ نواز شریف کا جانا ٹھہر چکا تھا۔

نواز شریف سے اختلافات اپنی جگہ، مگر حقیقت یہ ہے کہ سپریم کورٹ سے فیصلہ کروایا گیا ہے۔ فیصلہ کس کی ایما پر ہو ا ؟ عقلمند کے لیے اشارہ ہی کافی ہے۔ ملک کے منتخب وزیراعظم کے احتساب سے بلاشبہ ایک اچھی روایت قائم ہوئی مگر کیا ہی اچھا ہو کہ کرپٹ جرنیل بھی اس احتسا ب کے شکنجے میں آئیں۔ جج اور بیوروکریٹ بھی قانون کی زد میں آئیں۔۔۔ 'بلڈی سویلینز تو پھر بھی چاروناچار قانون اور آئین کی پاسداری کر ہی لیتے ہیں مگر ان 'فرشتوں' کا کیا جو آئین کو محض چند کاغذات کا پلندہ سمجھتے ہیں جسے کسی بھی وقت پھاڑا جا سکتا ہے، جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ احتساب ہو تو پھر ہر اس شخص کا ہو جو ذاتی مفادات کے لیے ملکی مفاد داﺅ پر لگائے خواہ وہ کسی بھی ریاستی ادارے سے تعلق رکھتا ہو۔ اسی لئے نوازشریف کو نااہل کئے جانے پر ملنے والی خوشی اب کھوکھلی محسوس ہوتی ہے۔۔۔ خوابوں کی تعبیر ابھی باقی ہے!


میری رات منتظر ہے کسی اور صبحِ نو کی
یہ سحر تجھے مبارک جو ہے ظلمتوں کی ماری

Comments

انعم تسنیم قریشی

انعم تسنیم قریشی

انعم تسنیم قریشی دنیا نیوز سے وابستہ صحافی ہیں، ایف ایم ریڈیو پر نیوز پریزنٹر بھی رہیں۔ معاشرتی ناہمواریوں اور دوہرے رویوں کے خاتمے کے لیے قلم اٹھا رکھا ہے۔ رنگ و نسل اور مذہبی بنیادوں پر لوگوں کی تقسیم کو احترام انسانیت کے منافی سمجھتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */