میں بیٹی ہوں، میری توقیر سے نہ کھیلو - سید امجد حسین بخاری

کی بورڈ کی ٹک ٹک، ٹی وی کی آواز اور شور شرابا یوں محسوس ہورہا تھا جیسے درجنوں کلرک اپنی فائلوں میں گم اور سائلوں کی درخواستیں نبٹا رہے ہوں۔ لیکن یہ منظر ہے ہمارے آفس کے نیوز روم کا۔ معمول کی خبروں کے علاوہ سب سے اہم خبر وزیر اعظم کا انتخاب تھی، لیکن اچانک مانیٹرنگ ڈیسک سے ایک صحافی نے آواز لگائی "عائشہ گلالئی نے تحریک انصاف چھوڑ دی ہے" اس نے ٹوئٹ کے ذریعے اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی ایک اور صحافی بیٹھا ہوا تھا اس نے کہا کہ عائشہ کا اکاونٹ ہیک ہوگیا ہوگا۔ خیر جتنے منہ اتنی ہی باتیں۔ ابھی ہم کوئی رائے قیام کر ہی رہے تھے کہ ایک چینل نے بریکنگ چلا دی۔ ڈائریکٹر نیوز فوراً آگئے اور آفس میں موجود افراد کو کھری کھری سنانا شروع کردیں کہ ابھی تک خبر بریک کیوں نہیں کی؟ خبر تو بریک کردی لیکن یہ ایک ایسی خبر تھی کہ اس کا فالو اپ ضروری تھا۔ تین سے چار کہنہ مشق افراد اس خبر کے فالو اپ کے لیے مختص کر دیے گئے۔ کی بورڈ کی ٹک ٹک کے ساتھ اب نیوز روم میں عائشہ گلالئی کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات زیر بحث تھے۔ دوپہر شروع ہونے والا بحث و مباحثہ شام تک جاری رہا۔ اس بحث کو تحریک انصاف کی خواتین نے پریس کانفرنس میں آکر ایک نیا رُخ دے دیا۔

تحریک انصاف کی خواتین نے شیریں مزاری کی قیادت میں آکر عائشہ گلالئی کے الزامات کی سختی سے تردید کی اور ساتھ ہی الزام لگایا کہ انہوں نے ایک ٹکٹ کا مطالبہ کیا تھا پارٹی قیادت کی جانب سے مطالبہ رد ہونے کے بعد وہ اس طرح کی الزام تراشی پر اتر آئیں، گو کہ ایسا الزام ناقابل یقین تھا مگر پارٹی موقف کے طور پر اسے ماننا ہمارے لئے لازم و ملزوم تھا،خواتین رہنماوں کی پریس کانفرنس کے دوران بد نظمی بھی دیکھنے میں آئی جس پر سنیئر خاتون رہنما شیریں مزاری نے اپنے ساتھ پریس کانفرنس کے لیے آنے والی خواتین کو جھاڑ بھی پلادی اور ساتھ یہاں تک بھی کہہ دیا کہ یہ پارٹی میں نئی نئی آئی ہیں اس لئے ان میں تہذیب نہیں ہے،خیر یہ ان کی پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے اس پر رائے زنی کا حق مجھے قطعاً حاصل نہیں ہے۔

تحریک انصاف کی خواتین کی پریس کانفرنس کے فوری بعد نیشنل پریس کلب اسلام آباد سے اسائنمنٹ جاری کی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ عائشہ گلالئی آج رات 9 بجے پریس کانفرنس کریں گی حالانکہ اس سے قبل انہوں نے اگلے دن شام 5 بجے پریس کانفرنس کرنے کا اعلان کیا تھا، عائشہ گلالئی نے پریس کانفرنس کی انتہائی گھٹیا الزامات لگائے، یہ الزامات نہ صرف چیرمین پی ٹی آئی پر لگائے بلکہ انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ اور جہانگیر خان ترین کو پر بھی تابڑ توڑ حملے کردئیے، ان کی پریس کانفرنس کا مرکزی خیال یہ" مسلم، پاکستانی اور مشرقی روایات کا حامل معاشرہ ہے اسے یورپ اور مغرب بنایا جا رہاہے" تھا۔ پریس کانفرنس ختم ہوئی تو تحریک انصاف کے مرکزی قائد فواد چوہدری میدان میں آئے انہوں نے عائشہ کی ذات پر بات کرنے کی بجائے اس کی بہن ماریہ طورپکئی کو ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ وہ ساری دنیا میں نیکر پہن کر سکوائش کھیلتی ہے، جس کی بہن ایسی ہو تو وہ مشرقی روایات کی بات کیسے کرتی ہے؟ قبلہ! یہ آپ ہی تھی جو چند دن قبل تھا کہ ماریہ کو عزم و ہمت کی مثال کہتے تھے، آپ ہی کی پارٹی انہیں عورت کی خود مختاری اور جرات کی ایک مثال کے طور پر پیش کرتی تھی، فواد چوہدری کے بیان کے بعد تحریک انصاف کی سائبر فورس میدان میں آگئی اور ماریہ کی کردار کشی مختلف زاویوں سے کرنا شروع کردی۔جو ایک ایک پاکستانی کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھی۔

عائشہ گلالئی ہو یا تحریک انصاف کی قیادت دونوں کو احتیاط کا دامن تھام کر رکھنا چاہیے، عائشہ گلالئی نے جو الزامات لگائے ہیں ان کی تحقیقات ہونی چاہیے مگر ہمارے سیاستدانوں کو بھی سوچنا ہوگا کہ کسی کی ذات پر کیچڑ اچھالتے ہوئے یاد رکھیں اس کے چھینٹے آپ پر بھی پڑ سکتے ہیں، کیوں آخر کیوں ایک عورت ہی تختہ مشق بنتی ہے، اسمبلی جیسی مقدس جگہ، آپ کا کچن یا ڈرائنگ روم عورت کی ہی تذلیل اس معاشرے میں کیوں کی جاتی ہے۔عورت آپ کی بیٹی ہے اس کو ایسے تو بے توقیر نہ کریں، یہ محبت، شفقت، عزت اور توقیر کی مستحق ہے اسے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے بے توقیر تو نہ کریں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */