میڈیکل اور انجینیئرنگ کالج میں داخلہ کے خواہشمند طلبا - احمد قیوم

ڈاکٹر اور انجینیئر بننا ہمارے معاشرے میں ایک باعزت پیشہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں اکثر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے پڑھ لکھ کر مستقبل میں کسی اچھے عہدے پر فائز ہوں اور اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کریں۔ اور یہ اچھا عہدہ ان کے نزدیک ڈاکٹر یا انجینیئرکا ہی ہوتا ہے۔ میٹرک کا امتحان دیتے ہی طلبہ ایف ایس سی پری انجینیئرنگ یا پری میڈیکل میں داخلہ لیتے ہیں اور اپنے خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بالترتیب ECAT اور MCAT کے انٹری ٹیسٹ دیتے ہیں۔ یہ امتحان دینے والے طلبا و طالبات کی تعداد تو ہزاروں میں ہوتی ہے مگر بد قسمتی سے اس کے مقابلے میں سیٹوں کی تعداد محض چند ہوتی ہے۔نتیجتاً چند طلبہ کو ہی اپنے خوابوں کی تعبیر کا موقع مل پاتا ہے جبکہ دیگر ہزاروں طلبا ایسے ہوتے ہیں جو اس امتحان کو پاس نہیں کر پاتے اور انجینیئر یا ڈاکٹر بننے کے لیے داخلے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اپنے مستقبل کو 'سیاہ' دیکھتے ہوئے ان میں احساس کمتری پیدا ہو جاتا ہے اور ان کے ذہن پر منفی سوچ کا غلبہ ہو جاتا ہے یہاں تک کہ خودکشی جیسے انتہائی قدم بھی اٹھا لیے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ ایف ایس سی کے بعد انجینیئر یا ڈاکٹر ہی نہیں بلکہ ان کے ہم پلّہ بلکہ بہتر بھی کئی شعبے موجود ہیں جن میں تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے۔ کامرس، سوشل سائنس، ابلاغیات، سماجیات، عمرانیات، اسلامک اسٹڈیز، سائنس، اکنامکس، لائف سائنسز اور قانون محض چند ہیں۔ پھر بی اے کے بعد سول سروسز کے امتحانات دے کر بیورو کریسی اور دیگر اہم شعبوں میں بھی خدمات سرانجام دی جاسکتی ہیں۔

آئیے ان شعبہ جات پر تفصیلی نظر ڈالتے ہیں:

کامرس

اگر کامرس کے شعبے کی بات کی جائے تو ایف ایس سی (F.Sc) کے بعد اس شعبے میں چار سالہ بی کام یا پھر بزنس اینڈ بینکنگ فائنانس (BBA) میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ اس کے لیے اہلیت ایف ایس سی ہونا ہی ضروری نہیں بلکہ سادہ ایف اے اور آئی سی ایس کیے ہوئے طلبابھی داخلہ لے سکتے ہیں۔ کامرس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کسی اچھی بزنس کمپنی میں نوکری کر کے یا پھر اپنا اچھا بزنس سیٹ اپ ترتیب دے کر اپنی خدمات کو با آسانی ملک کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سوشل سائنسز

ایف ایس سی کے بعد سوشل سائنسز کے مختلف شعبوں داخلہ لیا جا سکتا ہے جیسا کہ سیاسیات، سوشل ورک، ابلاغیات، سوشیالوجی و دیگر۔ ان شعبوں میں ایف ایس سی کے ساتھ ساتھ ایف اے پاس کرنے والے طالب علم بھی داخلہ لے سکتے ہیں۔ یہ چار سالہ کورسز ہوتے ہیں جن کی اہمیت کسی دوسری ڈگری سے کم نہیں۔ جیسا کہ ابلاغیات کی تعلیم کے بعد کسی بھی میڈیا گروپ کے ساتھ منسلک ہو کر حالات و واقعات کو عوام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح سیاسیات کی ڈگر ی حاصل کر کے ملکی سیاست کو سمجھنے اور اس میں قدم رکھنے کا موقع میسر آ سکتا ہے۔

اکنامکس

اکنامکس کی فیلڈ میں بھی ایسے کئی شعبے موجود ہیں جن میں ایف ایس سی کے بعد داخلہ لیا جا سکتا ہے۔ ان میں چار سالہ بی ایس اکنامکس ، بی ایس بزنس ایڈمنسڑیشن اور بی ایس بزنس ایڈمنسڑیٹو میں سے کسی کا بھی انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ اور پاکستان کی کئی معروف یونیورسٹیز یہ پروگرام آفر کروا رہی ہیں۔

قانون

ایف اے اور ایف ایس سی کے طلبا و طالبات اپنی اس ڈگری کے بعد لاءمیں ایڈمیشن لے سکتے ہیں۔ پہلے یہ ڈگری تین سالہ ہوتی تھی جس کے لیے بی اے کا امتحان پاس کرنا ضروری ہوتا تھا۔ مگر اب یہ ڈگری پانچ سالہ بھی کروائی جا رہی ہے اور ایف اے یا ایف ایس سی کے بعد اس میں داخلہ لیا جا سکتا ہے کیونکہ اس کے لیے ایف اے شرط ہے۔ قانون کی ڈگری کی اہمیت اپنی جگہ بہت اہم ہے۔ ہم آج بھی پاکستان بھر میں بہت سے ایسے نامور وکلاءکو جانتے اور ان کانام سنتے ہیں جنہوں نے قانون کی ڈگری حاصل کی اور آج پاکستان کی بے لوث خدمت کر رہے ہیں۔

لائف سائنسز

یہ بھی بہت اہم فیلڈ ہے اور اس کی بھی بہت زیادہ اہمیت ہے بلکہ اب تو ترقی یافتہ اور تحقیق کے دور میں ان ڈگریوں کی اہمیت میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ ان میں مالیکیولر بایولوجی، بوٹنی، زولوجی، ایگریکلچر سائنسز، مائیکروبایولوجی، بایو کیمسٹری اور بایوٹیکنالوجی اور دیگر کا شمار ہوتا ہے۔ ان شعبہ جات میں داخلے کے لیے ایف ایس سی پری میڈیکل کا ہونا ضروری ہے۔ یہ سب بھی چار سالہ کورسز ہیں اور پاکستان بھر میں مشہور و معروف جامعات یہ کورسز کروا رہی ہیں۔

فیکلٹی آف سائنس

اس میں انوائرومنٹ سائنسز، جغرافیہ، سپیس سائنسز، جیولوجی، فزکس، کیمسٹری اور ریاضی کا شمار ہوتا ہے۔ یہ ڈگریاں اگرچہ پروفیشنل نہیں مگر ان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ یہ سب بھی چار سالہ کورسز ہیں۔ ان شعبہ جات میں بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مستقبل میں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی نا صرف حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ تحقیق کے میدان میں آگے بھی بڑھا جا سکتا ہے۔مزید برآں کالجز میں لیکچررشپ کے لیے بھی یہ ڈگریاں نہایت موزوں ہیں۔

ایف ایس سی پری میڈیکل کئے ہوئے وہ طلبا جو ایم بی بی ایس کے متمنی ہوں اور ان کا داخلہ میں نہ ہوا ہو تو ان کے لیے میڈیکل کے علاوہ دیگر کئی فیلڈز میں جانے کے مواقع موجود ہیں جن میں طلبا ڈی فارمیسی، بی ڈی ایس اور ڈی وی ایم میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ بی ڈی ایس ڈینٹل سرجری سے متعلق پانچ سالہ کورس ہوتا ہے جس میں داخلہ حاصل کرنے والا طالبعلم ڈینٹل سرجن بن سکتا ہے۔ اسی طرح ڈی وی ایم کا مطلب ڈاکٹر آف ویٹنری میڈیسن ہے۔ ڈی فارمیسی کے طالب علم اس میں داخلہ حاصل کرنے کے بعد ادویات کی تیاری کے عمل کو سیکھتے ہیں۔

اسی طرح جن طلبا کا دین کی طرف رجحان ہے تو وہ اسلامک اسٹڈیز میں داخلہ حاصل کر کے اپنے علم میں ناصرف اضافہ کر سکتے ہیں بلکہ مستقبل میں کئی شعبہ جات میں نوکری بھی کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے مختلف یونیورسٹیڑز میں چار سالہ بی ایس اسلامک اسٹڈیز کروایا جاتا ہے۔

پھر جن طلبا کو تاریخ پڑھنے کا شوق ہوتا ہے وہ تاریخ کی ڈگری میں داخلہ حاصل کر کے اپنے علم میں اضافہ کر سکتے ہیں اور مستقبل میں اس سے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔

مذکورہ بالا بحث میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنی پسند اور دلچسپی کے میدان میں آگے بڑھیں آپ کے لیے بہت سے مواقع موجودہیں جن میں آپ ملک و قوم کی بہتر انداز میں خدمت کر سکتے ہیں۔