مسلک پرستی کا کم ہوتا اثر اور معاشرتی تبدیلیاں - شاہد یوسف خان

اس رحجان کا اندازہ آپ نے بھی لگایا ہوگا کہ دین کی طرف راغب نوجوان طبقے کی اکثریت، جو کسی مسلک پرست کے ہتھے نہیں چڑھی، معاشرے میں مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔ اب مساجد چاہے جس مسلک کی بھی ہوں، جہاں بظاہر مسلکی زہر نہیں انڈیلا جاتا تو وہاں نوجوان طبقہ نمازیں ادا کرتا نظر آتا ہے۔ اہلحدیث کی مساجد میں بڑی تعداد اہلسنت طریقے سے نماز پڑھتی نظر آئے گی اور دیوبند تو کیا اب اہلسنت بریلویوں کی مساجد میں بھی اہلحدیث ضرور مل جاتے ہیں بلکہ کچھ مقامات پر تو اہلسنت کی مساجد میں اہل تشیع نوجوان بھی نظر آ جاتے ہیں۔ یہ کلچر اور رویہ انتہائی قابل تعریف ہے جس کی وجہ سے فرقہ واریت کے اس زہر کی تاثیر اور نشے میں کمی نظر آ رہی ہے جو نسلوں میں گھولا گیا تھا۔

شاید مساجد میں تعینات ہمارے مولوی صاحبان کےپاس کوئی موضوع نہیں ہوتا اس لیے وہ مسلک پرستی کو ہی پکڑ لیتے ہیں اور یوں لوگوں کو دین سے دور کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ دیہی علاقوں سے لے کر شہروں کی مساجد تک سال بھر جن موضوعات پر خطبات جمعہ دیے جاتے ہیں یقین جانیں ان سے نہ تو دین ہی کو کوئی خاطر خواہ فائدہ پہنچتا ہے اور نہ ہی اصلاح معاشرہ کا فریضہ انجام ہوتا ہے۔ یہاں اہلحدیث حضرات توحید و جہاد کے موضوع سے نہیں ہٹتے، بریلوی مکتب فکر والے بزرگان و اولیاء سے منسوب قصے کہانیوں سے جمعے کا خطبہ مکمل کرتے ہیں، دیوبندی حضرات توحید، روایات اور تبلیغ کو مکس کرکے کام چلاتے ہیں جبکہ اہل تشیع اہل بیت پر مظالم کے بیان سے ہی سال گزار لیتے ہیں۔ حالانکہ ہمارے معاشرے کو جن موضوعات کی ضرورت ہے وہ جدید تعلیم و تحقیق میں مسلمانوںکا کردار ہے، رشتہ داروں، ہمسایوں، بچوں بالخصوص بیٹیوں کے حقوق ہیں، جن پر کوئی بات نہیں کی جاتی ہے۔جنہیں جہیز تو شاید دیا جاتا ہو لیکن وراثت کا حق ادا نہیں کیا جاتا۔ باپ یا بھائی اس کا حصہ کھا جاتے ہیں۔ پھر ملک بھر میں چوراک چوراہوں تک پھیلا سودی جال ہے جو ہمارے روزمرہ معمول کا حصہ بن چکا ہے، علماء کو اس پر بات کرنی چاہیے۔

مساجد میں ایسے لوگ ہونے چاہئیں جو حافظ قرآن کے ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ بھی جانتے ہوں اور بنیادی مسائل پر بات کرنے کے بھی اہل ہوں۔ بدقسمتی سے ملک بھر میں تمام مسالک حفاظ کی فوج تو تیار کرکے گلی محلے کی مساجد میں بھیج دیتے ہیں لیکن انہیں معاشرتی مسائل کا کوئی علم نہیں ہوتا جس کی وجہ سے معاشرتی برائیاں جڑ پکڑتی جاتی ہیں اور اس پر طرّہ ہے مسلکی زہر۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ معاشرتی برائیوں کے ساتھ ساتھ مسلک کی بنیاد پر بھی ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگتے ہیں اور یوں عدم برداشت کا کلچر پروان چڑھتا ہے۔ دور حاضر کو سمجھنے والے علماء بھی آگے آ رہےہیں جو دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کر چکے ہیں اور مختلف نظریات اور فلسفوں کو سمجھتے ہیں اور معاشرے کی اصلاح و ترقی کی بات کرتے ہیں لیکن یہ تعداد ابھی بہت کم ہے۔

یہی وجہ ہے کہ تعلیم یافتہ طبقے کو جدیدیت کے بہانے لوگ لادینیت کی طرف کھینچ لیتے ہیں پھر سائنس و ٹیکنالوجی کے سامنے ان کی نظریں بھی چندھیا جاتی ہیں۔ اب یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مسلمان تمام شعبہ جات میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔ یہ وقت مدارس میں مسالک پڑھانے کا نہیں بلکہ تبدیلی کا ہے۔ بلاشبہ سیاسی و مذہبی اختلافات میں شدت آئی ہے، سوشل میڈیا کی برکت سے، لیکن وہیں پر ایک دوسرے کو سمجھنے اور برداشت کرنے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ایسے وقت میں مسلک پرستی سے گریز کرکے نوجوانوں کو ایک ماڈل مسلمان بنانے کے لیے دینی طبقے کو اپنا کردار اداکرنا ہوگا تبھی ایک باشعور اور ترقی یافتہ معاشرہ بن سکے گا۔