عمران خان کے لیے یہ یقیناً خوشگوار تجربہ نہ ہوگا - اختر عباس

چند لمحے، جی ہاں چند لمحے کتنے اہم ہو جاتے ہیں، رائے بنانے میں، کسی فیصلے تک جانے کے لیے۔ 28 ویں وزیراعظم کی پہلی تقریر شور شرابے میں شروع ہوئی اور 'پن ڈراپ سائلنس' میں ختم ہوئی۔ شیخ رشید کے جملے کو بھی انہوں نے "بیٹا" کہہ کر یوں اڑایا جیسے کوئی منجھا ہوا پارٹی لیڈر فرنٹ فٹ پر آ کر شاٹ کھیلتا ہے۔ کیا ان لمحوں میں شاہد خاقان عباسی کی پر اعتماد کارکردگی اور پارٹی قیادت سے اظہارِ وفا نے ان کی وزارت عظمیٰ کی عمر بڑھا دی ہے۔ ہم نے تو زبانِ خلق ہمیشہ ہی نقارہ خدا بنتی دیکھی ہے، وزارت عظمیٰ کے پینتالیس دن اب آسانی سے الیکشن 18ء تک بڑھ سکتے ہیں۔ پنجاب میں شہباز شریف کی متوقع مرکز منتقلی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے چینی سے بھی بچا جاسکتا ہے۔ یہاں مجموعی طور پر پارٹی حلقوں کی ہی نہیں عوامی رائے بھی یہی ہے کہ شہباز شریف کو الیکشن تک یہیں رہنا چاہیے۔ ان کے متبادل کے طور پر جن چار کا نام لیا جا رہا ہے، ان میں سوائے ایک کے کوئی بھی عوامی پذیرائی نہیں پا سکے گا اور جو ایک ہے اس کے آنے سے فیصل آباد میں غدر مچنے جیسی کیفیت ہوگی۔ ایسے میں دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ مرکز میں جانے کے بجائے اپنے مرکز کو اگلے دس، بارہ ماہ بھی مضبوطی سے ہمکنار رکھا جائے اور مختلف الزامات اور انکوائری کو 'ایزی' لینے کے بجائے کلیئر کروایا جائے۔

اسمبلی کے فلور پر دو اہم اور بڑے کام ہوئے۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے امیدوار نوید قمر بولے اور حیران کن بات یہ ہے کہ بہت متوازن اور عمدگی سے بولے۔ ان کا روایتی اٹکنا بھی کسی جملے میں حائل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر کچھ نہیں کہا مگر شائستگی کا دامن بھی نہیں چھوڑا۔ یقیناً یہ پرانی دوستی تھی جس نے برسوں بعد بھی سیاسی دوری کے باوجود دل کے قریب رکھا۔ وزیراعظم اپنی پچاس سالہ دوستی کا حوالہ دے کر اعجاز الحق کا شکریہ ادا کرنا نہیں بھولے۔ عمران خان حسب معمول نہیں آئے۔ وہ اپنے امیدوار کی دیوار پر لکھی شکست سے بد مزہ نہیں ہونا چاہتے تھے یا پھر وہ پارلیمنٹ کے ادارے پر ہی یقین نہیں رکھتے۔ ان کے امیدوار پر جس قدر پھبتیاں کسی گئیں اور جتنی بھد اڑائی گئی، عمران خان کے لیے یقیناً یہ خوشگوار تجربہ نہیں ہوگا۔

اسی دن تحریک انصاف کی ایم این اے عائشہ گلالئی کا پارٹی چھوڑنا اور عمران خان اور ان کے کردار کے حوالے سے سنگین الزام لگانا بھی خان صاحب کے ذاتی عوامی اعتبار کے اکاؤنٹ سے کافی سرمایہ نکال لے گیا۔ سوشل میڈیا پر عائشہ کے خلاف مہم حسب معمول شروع ہوچکی ہے مگر اس نے جس خوبصورتی سے اپنا مؤقف پیش کیا اور شیریں مزاری کی پریس کانفرنس کے بعد فوری جواب دیا، وہ پی ٹی آئی کی مشکلات بڑھا گیا. ایک بات جو مجھے دلچسپ لگی وہ پریس کانفرنس کے لیے عائشہ کی تیاری، میک اپ اور کپڑوں کا انتخاب تھا، عائشہ باقاعدہ گلیمرس گرل لگ رہی تھی، خان صاحب کو ابھی تک جواب نہیں سوجھا، وہ جواب دیں گے تو بات بنے گی۔ ترجمان اس معاملے کو بے احتیاطی سے بگاڑ سکتے ہیں جیسے فیاض الحسن نے کشمیر کے وزیراعظم والا معاملہ بگاڑ ڈالا، اس دوران پی ٹی آئی کے چار ترجمانوں نے باری باری عائشہ کو اپنے الزامات کی زد پر رکھ لیا، ایک صاحب نے تو کمال ترجمانی کی کہ عائشہ اڑسٹھ سالہ خان سے شادی کرنے کی خواہاں تھی۔ ناکامی پراس نے پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کر دیا، ایک ترجمان کو یہ قطری خط کی طرح لگا، مگر سچ یہ ہے کہ رات گئے تک خان صاحب کو ہونے والے ڈیمج [نقصان] کا اندازہ آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ شاہزیب خانزادہ اور کامران خان کے پورے پروگرام میں یہی موضوع غالب تھا۔ خیبر پختونخوا کے حالات اور تمام ناراض وزراء اور کارکنان دوبارہ لائم لائٹ میں آچکے تھے۔ اسی دوران پہلی بار ریحام کے انٹرویو کلپس بھی وائرل ہوگئے، اگر یہ درست ہیں تو خان صاحب کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہونے والے ہیں۔ یہ اتفاق ہے یا اس کی ٹائمنگ ایسی شاندار تھی کہ داد دینی پڑتی ہے، اہم ترین خبر وزراعظم کا انتخاب اور حلف شام تک مین لیڈ نہیں رہے تھے، عائشہ گلالئی کا ہی ہر چینل پر راج تھا۔ پہلا تبصرہ نقطہ نظر میں جناب شامی صاحب کے حصے آیا اور انہوں نے انا للہ پڑھ کر معاملہ نمٹانے کی کوشش کی جو اگلے ایک گھنٹے میں ہر سکرین کی زینت بن گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر، مصالحت نہیں عمران خان دھماکہ کریں - محمد عبداللہ گل

کیا یہ کے پی کے میں آنے والے دنوں میں کسی بڑے انقلاب کا پیش خیمہ ہے؟ شیرپاؤ گروپ کو نکالا گیا تو ماہرین کا خیال تھا کہ پی ٹی آئی ایک کھیل کھیلنے جا رہی ہے اور اپنی حکومت تڑوا کر صوبائی اورقومی اسمبلی سے استعفے دینے کا پلان کر رہی ہے تاکہ الیکشن وقت سے پہلے ہو جائیں اور شہباز شریف کو مرکز آنے کا موقع ہی نہ دیا جائے۔ دوسری تھیوری یہ تھی کہ مارچ تک اس حکومت کو چلنے نہیں دینا تاکہ سینیٹ کے انتخابات میں بازی پلٹنے کو روکا جا سکے۔ امیر مقام کے بڑے بڑے جلسوں کے بعد سے مسلم لیگ کی قیادت اس رسک لینے پر تیار نظر آتی ہے جس کا خیال اور آئیڈیا مولانا فضل الرحمٰن کب سے دے رہے تھے، مسلم لیگ، جے یو آئی، شیرپاؤ، اے این پی اور تھوڑی کوشش سے جماعت اسلامی کو بھی نئے اتحاد کا حصہ بنا کر کے پی کے کا نقشہ بدلنے کی کوشش کامیاب ہو سکتی ہے۔ ان دنوں جہاں جماعت اسلامی نے بڑے بڑے شمولیاتی جلسوں کے ذریعے کے پی کے میں اپنے لیے ہر جگہ سپیس بڑھائی ہے وہاں خان صاحب کے لیے ہر آنے والا دن گہرے بادلوں میں گھرا دکھائی دے رہا ہے. سپریم کورٹ، الیکشن کمشن، اب عائشہ گلالئی، اور کے پی کے کی تیزی سے بدلتی سیاسی صورتحال، اسی کا نام سیاست ہے اور یہ مولانا فضل الرحمن سے زیادہ کسی اور کو کہاں آتی ہے۔

وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پر مجھے سب سے کمال حکمت عملی سراج الحق کی لگی، بےشک ان کے امیدوار کو چار ووٹ ملے مگر غور کیجیے کہ توجہ اور وقت اتنا ہی ملا جتنا 47 ووٹ لینے والی پیپلز پارٹی، اور 33 ووٹ لینے والے پی ٹی آئی والوں کو ملا۔ جماعت کے ووٹ مسلم لیگ کو جاتے تو بھی لعن طعن ہونی تھی اورشیخ رشید کو پڑتے تو بھی تحسین کا کوئی امکان نہیں تھا۔ پیپلز پارٹی کو دیے نہیں جا سکتے تھے، مرکزی سیاست میں بظاہر نومولود سراج الحق اس سے اچھا فیصلہ نہیں لے سکتے تھے جو انہوں نے اپنا امیدوار الگ سے کھڑا کیا، صاحبزادہ طارق اللہ کو متعارف بھی کروایا اور ایک دبنگ قسم کی تقریر کا موقع بھی پا لیا۔ کچھ عمرانی سیاسی مبصرین نے سراج الحق اس اقدام کو بہت ہلکا لیا تھا مگر اسمبلی کے فلور پر صاحبزادہ طارق اللہ نے مخصوص پشتون لہجے میں جب بڑی مضبوط اور مدلل بات کی تو بھرپور توجہ اور داد بھی سمیٹی۔ وزیر اعظم کو جہاں مبارک دی وہاں اسلحے پر بندش کی مجوزہ پالیسی پر تعاون کا یقین بھی دلایا مگر آف شور کمپنیوں اور پانامہ والے ساڑھے چار سو لوگوں کو سامنے لانے کی جماعتی پالیسی پر مضبوطی سے بات کی، پورا فلور انھیں سن رہا تھا اور ہر چینل براہ راست دکھا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   کہیں ریاست ِمدینہ کے قیام پر تو یوٹرن نہیں لے لیا گیا؟ انصار عباسی

شام چھ بجے ایک دلچسپ واقعہ ہوا جب خبروں کے لیے جیو، دنیا، 92 سب نے براہ راست کوریج روک دی، اس وقت شیخ رشید کے آخری کلما ت چل رہے تھے۔ ظاہر ہے پی ٹی وی نے بھی یہی کیا۔ مگر حیران کن بات یہ ہے کہ تینوں چینلز پر ایک دم سے ٹکر چلنے لگا کہ سرکاری ٹی وی نے براہ راست نشریات روک دی ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے نیوز ریڈرز نے بھی یہ خبر پڑھی۔ میں سوچ رہا ہوں خبر سنانے اور بنانے کی اسی ادا نے چینلز کی کریڈیبلٹی پر سوال اٹھا دیے ہیں کہ وہ اپنے اپنے محبوب لیڈروں اور پارٹیوں کے لیے کسی بھی غلط بیانی کو بھی اب معیوب نہیں سمجھتے اور اس کام کے لیے ثبوت کی نہیں الزام فریم کرنے کی فوری مہارت کی ہی ضرورت ہوتی ہے، بارِ ثبوت تو بیچارے ملزموں پر ہی ہوتا ہے

Comments

اختر عباس

اختر عباس

اختر عباس مصنف، افسانہ نگار اور تربیت کار ہیں۔ پھول میگزین، قومی ڈائجسٹ اور اردو ڈائجسٹ کے ایڈیٹر رہے۔ نئی نسل کے لیے 25 کتابوں کے مصنف اور ممتاز تربیتی ادارے ہائی پوٹینشل آئیڈیاز کے سربراہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • محترم جناب اختر عباس صاحب اسلام علیکم، امید ہے آپ خیریت سے ہونگے۔ کافی عرصے کے بعد آپ کی تحریر دیکھی بہت خوشی ہوئی۔ آپ بہت اچھا لکھتے ہیں، زیادہ لکھا کیجیے۔