مہاتیر محمد کے دیس میں (2) - راجہ ماجد معظم

گزشتہ سے پیوستہ

24 جولائی کی شام میں الور سیتار پہنچ گیا۔ الور سیتار ایک چھوٹا لیکن انتہائی خوبصورت شہر ہے۔ چہاروں طرف آپ کو انناس، ناریل اور پام آئل کے خوبصورت درخت نظر آئیں گے۔ ملائیشیا ان تمام پھلوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ یہاں کا موسم بارہ مہینے ایک طرح رہتا ہے، نہ زیادہ گرمی پڑتی ہے اور نہ ہی سردی۔ میں ٹیکسی لے کر انسانیہ یونیورسٹی، کولا کتیل پہنچ گیا۔ محترم ابراہیم صاحب نے مجھے ریسیو کیا اور اپنی گاڑی میں مجھے رہائش گاہ چھوڑ آئے۔ محترم ابراہیم صاحب سوڈان سے تعلق رکھتے ہیں۔ عرصہ دراز سے اس یونیورسٹی میں پڑھا رہے ہیں۔ میری رہائش یونیورسٹی انتظامیہ نے یونیورسٹی کے قریب ہی ایک دینی مرکز میں رکھی تھی۔ یہ دینی ادارہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس میں مختلف ممالک کے طلبہ قرآن کی تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ طلبہ اور طالبات کے الگ الگ کیمپس ہیں۔ اس ادارے میں اکثر اساتذہ پاکستان سے ہیں۔ پوچھنے پر معلوم ہواکہ اس ادارےکے بانی کولاکتیل پولیس کے انسپکٹر تھے۔ موصوف تبلیغ کے سلسلے میں پاکستان آئے اور انھیں پاکستان کے دینی اداروں کا نظام بہت پسند آیا اور انھوں نے ادھر ہی ارادہ کر لیا کہ وہ کولا کتیل میں ایک ایسا ہی ادارہ قائم کریں گے اور اساتذہ کا انتخاب پاکستان سےکریں گے۔یوں اس دینی ادارے کی بنیاد پڑی۔ جن اساتذہ سے میری ملاقات ہوئی وہ انتہائی مخلص اور اخلاق حسنہ سے مزین نظر آئے۔ صبح سے شام تک قال اللہ اور قال الرسول کی صدائیں بلند کرتے ہیں۔ محترم خلیل صاحب بڑے اعلی ظرف والے ہیں۔ عرصہ دوسال سے وہ اس ادارے میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ موصوف جدید عصری علوم اور دینی علوم کے حسین امتزاج کے حامل ہیں اور اس کے وہ داعی بھی ہیں۔ ان کے نظریات عام دینی علما سے تھوڑا ہٹ کے ہیں۔ ان کے نزدیک انسانیت کی عزت اور امن وامان کسی بھی قوم کی بنیاد ہوتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ہر دینی طالب علم کو عربی، انگلش اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا چائیے۔ محترم عثمان صاحب عرصہ بیس سال سے اس ادارے میں اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ موصوف انتہائی خوش مزاج اور محبت کرنے والے انسان ہیں۔ خدمت میں پیش پیش رہتے ہیں۔ادارے سے یونیورسٹی تک مجھے لے جانے اور واپس لانے کی ذمہ داری بھی محترم نے ادا کی، اللہ تعالی ان کو جزاخیر دے۔ عبد الرحمان بھائی اور سمیع اللہ بھائی نے بھی ہر لحاظ سے میرا خیال رکھا۔ اللہ تعالی ان سب حضرات کو دنیا و آخرت کی بھلائیوں سے نوازے۔ جنہوں نے مجھ جیسے ناچیز کو اپنا قیمتی وقت دیا۔ اس ادارے کے طلبہ انتہائی درجے کے مودب اور سلیقہ شعار ہیں۔ ہاتھ ملاتے وقت اپنی روایات کے مطابق جھک کر ہاتھ کو بوسہ دیتے ہیں۔ یہ بات مجھے پسند نہیں آئی۔ مغر ب کی نماز ادارے کی مسجد میں ادا کی۔ نماز کے بعد پاکستانی اساتذہ کے ساتھ مل کر کھانا کھایا اور آج مجھے پاکستانی کھانا ، پاکستانی لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانے میں بہت مزہ آیا۔ اساتذہ کے ساتھ گفتگو کرتے کرتے عشا کی نماز کا وقت ہو گیا۔ نماز پڑھی اور آرام کرنےاپنی رہائش گاہ چلاگیا۔

صبح ساڑھے پانچ بجے آنکھ کھلی۔ فجر کی اذانیں ہو رہی تھیں۔ مسجد میں نماز ادا کی۔ محترم عثمان صاحب اور عبدالرحمان بھائی نے ناشتہ کروایا اور عثمان صاحب نے اپنی گاڑی میں مجھے یونیورسٹی چھوڑا۔ آج کانفرنس کا پہلا دن تھا۔ کانفرنس کا بستہ اور کارڑ لیا اور کانفرنس ہال میں چلا گیا۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ ہر طرف ایک روحانیت کا سما باندھ گیا۔تلاوت کے بعد یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر محمد فخر الدین بن عبد المعطی صاحب نے عربی اور ملاوی زبان میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس کے بعد ملائیشیا کے وزیر تعلیم اور صوبہ قدح کے مفتی صاحب نے خطاب کیا۔ آخر میں عربی فیکلٹی کے ڈین ڈاکٹر عبدالغنی بن مددین صاحب نے شکریہ کے کلمات اور الازہر یونیورسٹی مصر کے ڈاکٹر محمود عبدہ احمد فرج نے اپنا تحقیق مقالہ پیش کیا۔ اس سیشن کے اختتام پر میر ی ملاقات انڈیا کے محترم یعقوب ہندی سے ہو گئی۔ یعقوب صاحب اسی یونیورسٹی سے عربی میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں اور تعلیم کےساتھ ساتھ اپنے انکل سے مل کر بزنس بھی کر رہے ہیں۔ یعقوت بھائی ایک دلچسپ انسان ہیں، ان کی محفل میں انسان بور نہیں ہوتا۔ نماز ظہر اور ظہرانہ کے وقفے کے دوران ہم اکھٹے رہے اور مختلف موضوعات پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ دو بجے کانفرنس کا دوسرا سیشن شروع ہوا ۔ اس میں تحقیقی مقالاجات پیش ہوئے اور سوالات وجوابات بھی ہوئے۔ پانچ بجے پہلے دن کا اختتام ہوا۔نماز عصر ادا کی۔ نماز کے بعد یعقوب بھائی نےمجھے گھر لے جانے اور رات ان کے ساتھ رہنے پر اصرار کیا۔ بہرحال مجھے ان سامنے ہتھیار پھینکنے پڑھےاور ہم ان کے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ یعقوب بھائی کا گھر ضلع بالنگ میں ہے،یہ تھائی لینڈ کے باڈر کے قریب ہے۔ تقریبا پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر تھائی لینڈ واقع ہے۔ یہ چھوٹا سا مگر پہاڑوں میں گھرا انتہائی خوبصورت شہر ہے۔ ربڑ کے درخت یہاں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ سرسبز وشادات کھیت، وسیع وکشادہ سڑکیں، خوبصورت مساجد، ملنسار لوگ، معتدل موسم اور ہر طرح کی سہولیات سے مزین ضلع بالنگ نے مجھے مسحور کر دیا۔ یہ علاقہ کافی حد تک کشمیر سے ملتا جلتا ہے۔ ہم نے آدھا سفر بس کے ذریعے کیا اور آدھا سفر حاجی ارشاد صاحب کی گاڑی میں کیا۔ حاجی صاحب ستر سالہ بزرگ ہیں لیکن جوانوں کی طرح گاڑی چلاتے ہیں۔ حاجی صاحب ہمیں اپنے گھر لے گئے۔نماز مغرب ہم نے حاجی صاحب کے گھر کے قریب مسجد میں باجماعت ادا کی۔ نماز اور تواضع کے بعد ہم حاجی صاحب کی معیت میں یعقوب بھائی کے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ رات عشا کے وقت ہم ان کے گھر پہنچ گئے۔ حاجی صاحب ہمیں چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ یعقوب بھائی کے انکل الطاف صاحب سے ملاقات ہوئی۔ الطاف صاحب عرصہ درازسے اس جگہ تجارت کر رہے ہیں۔ دین سے محبت رکھتے والے انسان ہیں۔عشا کی نماز کے بعد انڈیا کی روایتی بریانی نے مزہ دو بالا کر دیا۔ مختصر گپ شپ کے بعد ہم لوگ نیند کی آغوش میں چلے گئے۔

26 جولائی کو ہماری کانفرنس کا دوسرا اور آخری دن تھا۔ نماز فجر اور ناشتے سے فارغ ہوکر ہم آٹھ بجے یونیورسٹی پہنچ گئے۔ آج میں نے اور یعقوب بھائی نے اپنا اپنا مقالہ پیش کرنا تھا۔ ساڑھےنو بجے مجھے مقالہ پیش کرنے کی دعوت دی گئی۔ اسی دوران یونیورسٹی کے چانسلر اور عربی فیکلٹی کے ڈین بھی ہال میں آ گئے۔ میں نے پاکستان میں عربی زبان کو درپیش تحدیات اور ان کے حل کے حوالے سے مقالہ پیش کیا۔ یونیورسٹی کے چانسلر صاحب نے میری باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ جو مسائل پاکستان میں عربی زبان کو بیش آرہے ہیں تقریبا وہی مسائل ملایئشیا میں بھی ہیں۔ ڈین صاحب اور مصر کےاساتذہ نے بھی اس موضوع پر روشنی ڈالی۔سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کسی بھی زبان سیکھنے کے لیے مسلسل مشق، ماحول اور سننے کی صلاحیت کو بڑھانا انتہائی ضروری ہے۔ عربی زبان کی مارکیٹنگ کی ضرورت ہے، اس زبان کے فروغ کے لیے ضروری ہےکہ عوام کے اندر اس کی اہمیت بیان کی جائے۔ عربی زبان اقوام متحدہ کی ۶ سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے۔22 عرب ممالک کی سرکاری زبان عربی ہے۔ عرب ممالک کی بے شمار تنظیموں کی دفتری زبان بھی عربی ہے۔ یہ زبان ان قدیم زبانوں میں سے ایک ہے جو آج تک اپنی اصلی حالت میں زندہ ہے۔ سب سے بڑھ کر اس کی اہمیت اور کیا ہو سکتی ہےکہ اللہ تعالی نے اپنا آخری کلام اس زبان میں نازل فرمایا اور آخری نبی ﷺ کی زبان بھی عربی تھی۔ آج جو مختلف فتنے مسلم ممالک میں پیدا ہو رہے ہیں ان کی بنیادی وجہ بھی عربی زبان سے ناواقفیت ہے کیونکہ جب انسان براہ راست قرآن وحدیث سے راہنمائی نہیں لے گا تو ہر فرد اپنی مرضی کا مطلب لے کر قرآن کی غلط تشریح وتفسیرکرکے لوگوں کو گمراہ کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ علمأ کرام نے عربی سیکھنےکے عمل کو واجب کا درجہ دیا ہے۔اس وقت پوری دینا میں 7 ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ان ہزاروں زبانوں میں سے سب سے زیادہ بولی جانے والی دس زبانوں میں عربی کا پانچواں نمبر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہرسال 18 دسمبر کو عربی زبان کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔یہ زبان اپنی فصاحت وبلاغت کی وجہ سے بہت معروف ہے، جاہلیت کے زمانے میں بھی عرب والوں کواپنی فصاحت وبلاغت پر بہت ناز تھا، اسی وجہ سے وہ غیر عربوں کو عجمی یعنی گونگا کہتے تھے۔اگر ہم عربی کے کلمات اور مفردات کو دیکھیں تو باقی تمام زبانوں سے سب سے زیادہ کلمات اس زبان کے ہیں۔ یہ زبان بہت سی زبانوں کی اصل اور جڑ ہے۔ کئی زبانوں میں عربی زبان کے کلمات بولے جاتے ہیں۔ خاص طور پر اردو، ترکی، فارسی، کردی، انڈونیشی، البانی، ملاوی، اسبانی زبانوں میں بےشمار الفاظ بولے اور سمجھے جاتے ہیں۔ اردو زبان میں تو 60 فی صد کلمات عربی سے ماخوذ ہیں۔بعض محققین کا خیال ہے کہ دنیا کی سب سے پہلی زبان عربی ہے اور حضرت آدم علیہ السلام بھی عربی بولتے تھے۔بعض کہتے ہیں کہ یعرب بن قحطان وہ پہلا شخص تھا جس نے عربی زبان کا آغاز کیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام وہ پہلے نبی ہیں جنہوں نے عربی زبان بولی۔

بارہ بجے یعقوب بھائی نے اپنا مقالہ پیش کیا۔ ان کا موضوع ہندوستان میں عربی زبان کودرپیش مشکلات، ان کے اسباب اور علاج کے حوالے سے تھا۔ان کا مقالہ جامع اور مفصل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا مقالہ بہترین مقالوں میں شمار کیا گیا۔ ان کے مقالے پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی۔نماز ظہر اور ظہرانہ کے وقفے کے بعد 3 بجے اختتامی سیشن تھا۔ اس سیشن میں کانفرنس کی قراردایں پیش کی گئیں۔ کانفرنس کا اختتام یونیورسٹی کے ریکٹر کے خطاب، شیلڈز کےتبادلے اور دعا سے ہوا۔ میں نے یعقوب بھائی اور دیگر احباب سے الوداعی ملاقات کی اورالور سیتار کی طرف روانہ ہو گیا۔ رات الور سیتار ہوٹل میں گزاری اور صبح 8 بجے میں فیر ی کے ذریعے لنگ کاوی روانہ ہو گیا، کیونکہ میں نے واپسی کی فلائیٹ لنگکاوی سے بک کروائی تھی۔ لنگکاوی ایک خوبصورت جزیرہ ہے۔یہ الور سیتار سے دو گھنٹے کی مساوت پر ہے۔ الو سیتار سے کولاقدح آنا پڑتا ہے اور وہاں سے فیر ی کے ذریعے لنگکاوی جانا ہوتا ہے۔ یہ جزیرہ تمام سہولیات سے آراستہ ہے۔ہوٹل، مساجد، کیبل کار، ساحل سمندر کا نظارہ،پارکس، واٹر فال، ویلج، انڈر واٹر ورلڈ اور بےشمار تفریحی سامان موجود ہے۔اسلامی ممالک کے بہت سے شادی شدہ جوڑے ہینی مون کے لیے ادھر کا رخ کرتے ہیں۔ عرب ممالک کی برقعہ پوش اور اسلامی ممالک کی سکارف اوڑھے خواتین جگہ جگہ نظر آتی ہیں۔ میرے پاس وقت کم تھا، ساحل سمندر پر کچھ وقت گھوم کرائیرپورٹ کی طرف روانہ ہو گیا۔ 2 بجے جہاز روانہ ہوا اور ایک گھنٹے میں کولالمپور پہنچ گیا۔کولالمپور سے میر ی فلائیٹ رات گیارہ بجے تھی۔ نماز مغرب اور عشا پڑھ کر کھانا کھایا اور اس کے بعد فلائیٹ کا وقت ہو گیا۔ 28 جولائی صبح 5 بجےمیں شنگائی ائیرپورٹ اتر گیا۔ یوں چند دن کا یہ یاد گار سفر اپنے اختتام کو پہنچا۔ اللہ تعالی کے خاص فضل وکرم سے سفر کی مشکلات آسانی میں بدلتی گئیں اور ہر جگہ اللہ تعالی نے اچھے اور نیک لوگوں کا ہم سفر بنائے رکھا۔ یہ سب اسی رب کا خصوصی کر م وشکر رہا ہے، ورنہ مجھ جیسا بندہ نا چیز اس قابل نہ تھا۔