الیکٹرانک میڈیا کا کردار - تصور سمیع

موجودہ زمانے میں تمدنی تبدیلی، سماجی، معاشرتی اور اخلاقی شعور پیدا کرنے میں سب سے بڑا اور سب سے مؤثر کردار الیکٹرانک میڈیا ادا کر سکتا ہے. کیونکہ عصر حاضر میں لوگ اپنی ترجیحات کی تعیین ٹی وی دیکھ کر کرتے ہیں، اپنے کھانے پینے، رہن سہن اور پہناوے تک کا انتخاب سکرین میں دکھائے گئے کرداروں سے مستعار لیتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ تمام چھوٹی بڑی کمپنیاں اپنی پراڈکٹ کی سکرین پر چند سیکنڈ کی ایک جھلک کے لیے لاکھوں کروڑوں روپے ٹی وی پر نچھاور کرنےمیں خوشی محسوس کرتے ہیں.

یہ لوگ یہ کمپنیاں اور ان کے مشیر ٹی وی، سکرین اور ان پر دکھائے جانے والے مصنوعی ماحول اور نقل و حرکت کرنے والے کرداروں کی قوت اور ہمارے قومی مزاج پر اس کی اثرپذیری سے مکمل طور پر واقفیت رکھتے ہیں، اور ان ذرائع کے سہارے اپنی پراڈکٹ کی مشہوری کے لیے بڑی سے بڑی قیمت چکانے سےگریز نہیں کرتے، اور یہ دولت دوگنی تگنی ہو کر ان کی جیبوں میں واپس لوٹتی ہے، الغرض اس صورتحال پر نگاہ رکھنے والا کوئی بھی باشعور انسان موجودہ زمانے میں الیکٹرانک میڈیا کی وقعت، طاقت اور اثرپذیری سے انکار نہیں کرسکتا.

اس کھلی حقیقت کے باوجود سب سے بڑا المیہ اور قومی نقصان یہ ہےکہ الیکٹرانک میڈیا کی ترجیحات میں معاشرتی شعور پیدا کرنا اور اخلاقیات میں بہتری یا سماجی و ثقافتی تبدیلی لانا اور اس کی کوشش کرنا شامل نہیں ہے، بلکہ الٹا یہ فورم روز بروز معاشرے کے بگاڑ میں اضافے کا ذریعہ بن رہا ہے.

الیکٹرانک میڈیا کی ڈور اس وقت جن سرمایہ دارانہ ہاتھوں میں ہے. ان کا اول و آخر مقصد اپنا بینک بیلنس بڑھانا ہے اور انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ چندلوگوں کے اس بینک بیلنس میں اضافے کےعوض چاہے کسی بھی حدسے گزرنا پڑے یا معاشرتی نقصان کی کوئی بھی قیمت چکانی پڑے، انھیں مطلب معاشرے اور قوم سے نہیں بلکہ ہرحال میں اپنے سرمائے میں اضافے سے ہے.

آپ پیسہ پھینکیے اور چاہے بھانڈوں کو سکرین پر بٹھا کر دانشوری کروا لیجیے، مالکان کا پیٹ بھریے اور نیم عریاں خواتین کا سرعام ڈانس کروا لیجیے، جیب بھاری کیجیے اور پھر چاہے اپنی تہذیبی و ثقافتی اقدار کی دھجیاں اڑا دیجیے، ان کے بینک بیلنس بھریے اور پھر بھلے کسی بھی شخص کسی بھی قوم، کسی بھی تہذیب، کسی جماعت، کسی بھی مذہب کی، کسی بھی محترم شخصیت کی پگڑیاں اچھالیے، بےعزت کیجیے، الزام تراشی کریں، بہتان بازی کریں، آپ کو کوئی پوچھنے، روکنے ٹوکنے والا نہیں کیونکہ ٹی وی مالکان، چینل مالکان اور سکرین والوں کی جیب بھر کر آپ کو سکرین پر آ کر ہر قسم کی اتھارٹی اور بالادستی مل جاتی ہیں کہ جب جس کے ساتھ جو رویہ چاہیں اپنا سکتے ہیں.

ہمارے الیکٹرانک میڈیا کا یہ چہرہ انتہائی مکروہ اور افسوسناک ہے اور ہمارے دانشور طبقے کے لیے باعث فکر ہے. اس رویے کے ساتھ کوئی قوم کبھی ترقی پذیر نہیں ہو سکتی بلکہ ترقی یافتہ اقوام اگر ایسے بھیانک رویے اپنا لیں تو ان کو زوال پذیر ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچا سکتی، اس المیے سےقوم کو بچانے کی شدید ضرورت ہے.

اے دانشوران ملت کچھ گرانقدر وقت اس المیے کے لیے بھی،
اے قلمکاران وطن ایک کالم اس موضوع پر بھی،
اے سکرین پر نمودار ہونے والے تجزیہ کاران ایک پروگرام اس پستی کی فکر میں بھی،
ایک صاحبان حل و عقد ایک مشاورتی مجلس اس طرف بھی،
اے ارباب اقتدار ایک قانون سازی اس زوال سے بچانے کے لیے بھی،
اگر آج آپ نےایسا نہ کیا تو بقول اقبال
"تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں"

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */