باسٹھ تریسٹھ کا خوف - عمر ابراہیم

آئین پاکستان کی شق 62 اور 63 مروّجہ سیاسی نفسیات پروہ ضرب ہے جس نے بی بی سی اردو کے کالم نگاروں سے اسٹیٹس کو کے ایوانوں تک سب کومضطرب کیا ہے۔ گو، نواز لیگ کا یہ دعوٰی بے محل نہیں کہ نوازشریف کی نااہلی میں محض 62، 63 کا زیادہ ہاتھ نہیں تاہم یہ ایک ایسا آئینی اخلاقی اور قانونی جواز ہے، جوجہاں سیاست میں جہالت کا علاج ہے، وہیں احتساب کا وہ انقلابی ذریعہ ہے، جسے راہِ عمل بناکرسیاست کا نیا رجحان دیا جاسکتا ہے۔ نوازشریف کا نرم احتساب اس کا آغاز قراردیا جاسکتا ہے۔ راست بازسیاستدان امیر جماعت اسلامی سراج الحق ابتدا کرچکے ہیں اور اسے جہد مسلسل سے آگے لے جایا جاسکتا ہے۔ اس آئینی شق کے لیے جنگ، اس کی تکریم، اور اس کی تکرار تضحیک واستہزاء مہم کا احسن ردعمل بن سکتی ہے۔ اسے ہماری سیاست کا عظیم عنوان بن جانا چاہیے، یہی وطن عزیزکی آزادی کا تقاضا ہے۔

62، 63 کی شقیں کیا ہیں؟

شق 62 کہتی ہے:
ایسا شخص پارلیمنٹ رکنیت کا اہل نہیں جو پاکستان کا شہری نہ ہو۔ لازم ہے کہ رکن پارلیمنٹ اچھے کردار کا مالک ہو، نیک نام ہو۔ بنیادی اسلامی تعلیمات سے واقف ہو۔ اسلام کے عائد فرائض کا پابند ہو۔ بڑے گناہوں سے بچتا ہو۔ رکن پارلیمنٹ سمجھدار، ایماندار، سچا اور امانت دارہو۔ عیاش، فضول خرچ اور اوباش نہ ہو۔ کسی اخلاقی جرم میں ملوث یا جھوٹی گواہی پر سزا یافتہ نہ ہو۔

آئین کی شق 63 کہتی ہے:
نظریہ پاکستان اور ملکی سالمیت کیخلاف رائے کا حامل شخص رکن پارلیمنٹ نہیں بن سکتا۔ مسلح افواج اور عدلیہ کی تضحیک کا مرتکب آرٹیکل 63 کے دائرے میں آئے گا۔

مذکورہ صفات وخصوصیات 62، 63 کا مغز ہیں۔ یہ اس قدر جامع ہیں کہ اگرنافذ ہوجائیں، توبقیہ آئین کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔

ایک نظرنوازشریف کی کہانی پر، اور پھر 62، 63 سے جُڑے امکانات کا جائزہ:
'کاروبار سیاست' سرمایہ دارانہ جمہوریت کی صفت خاص ہے۔ یہی نوازشریف کی صفت رہی۔ ہمیشہ سیاست کو کاروبارسمجھا، اور کاروبار کی طرح برتا۔ سب کچھ خرید لینا چاہا، پاکستان کو داؤ پر لگانا چاہا۔ نوازشریف کی نوجوانی کرکٹ کھیلتے اور فلمیں دیکھتے گزری۔ صنعت کاروالد میاں محمد شریف کے ساتھ کاروبارشروع کیا۔ یہ وزیراعظم ذوالفقار بھٹوکا زمانہ تھا، انہوں نے سن 76ء میں اتفاق گروپ قومیالیا تو یہ نوازشریف پرگراں گزرا۔ وہ پیپلزپارٹی سے بدلہ لینے سیاست میں آگئے۔ مسلم لیگ کے فورم سے پنجاب کابینہ میں وزیرخزانہ بنے۔ ضیاء الحق کے بعد نوازشریف نے مسلم لیگ میں توڑ پھوڑ کی۔ اپنے نام جملہ حقوق محفوظ کروائے، پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ بن گئی۔ سیاست کی برکت سے کاروبار دن دونی رات چوگنی ترقی کرتا رہا۔ اسلامی جمہوری اتحاد کا پلیٹ فارم استعمال کیا اور 91ء میں پہلی باروزیراعظم بنے۔ اختیارات کی ہوس نے بے اختیار کردیا، صدرغلام اسحاق خان سے الجھ گئے اور 93ء میں حکومت گنوابیٹھے۔ سن 97ء میں میاں صاحب دوسری باروزیراعظم منتخب ہوئے اور بہت جلد عدلیہ سے بھڑگئے۔ ن لیگ کے کارکنان نے اس موقع پرتاریخ ساز کام کیا کہ سپریم کورٹ پرحملہ کردیا۔ 99ء میں بھارت کی محبت لے ڈوبی اور بالآخر طیارہ سازش کیس میں اقتدارسے ہاتھ دھونے پڑے۔ کئی سال سعودی بادشاہت کی مہمان نوازی کا لطف اٹھایا۔ اگست 2007ء میں وطن لوٹے اور مئی 2013ء میں نوازشریف تیسری بار وزیراعظم منتخب ہوئے۔ پھر اپریل 2016ء میں پاناما پیپرزاسکینڈل سامنے آیا، اور سب کچھ سامنے آگیا۔ منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کے الزامات لگے یہاں تک کہ شق 62 کی خلاف ورزی پرنوازشریف نااہل قرارپائے۔

یہ وہ سادہ سا پروفائل تھا، جس کے ہرموڑ پرنوازشریف 62، 63 کے نافرمان نظر آتے ہیں۔ صرف نوازشریف ہی نہیں، 62، 63 کا معیار بتدریج سیاست سے کرپشن کی آلائشیں صاف کرسکتا ہے۔ صداقت اور امانت نہ صرف اسلامی بلکہ غیراسلامی سیاسی نظام کی بھی ناگزیرضرورت ہے۔ کیا دنیا کی کوئی بھی ترقی یافتہ یا مہذب سیاست کسی خائن اورجھوٹے حاکم کی متحمل ہوسکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔

ہمارے سوشلسٹ اور لبرل نما دانشورسرمایہ دارانہ نظام کی سرپرستی میں 62، 63 پر حملہ آور ہیں۔ یہ سوال بڑے شدّومد سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کوئی کس طرح صادق اور امین ہوسکتا ہے؟ یہ صفات رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مخصوص ہیں۔ چنانچہ ہمیں یہ چاہیے کہ 62، 63 کوآئین سے ہی نکال دیا جائے۔ یہ حضرات انتہائی بھونڈی اور بے تکی تاویلوں سے امانت اور صداقت کوہوا بناکر پیش کررہے ہیں، گویا امانت دار اور سچا ہونا انسانی صفت ہی نہ ہوں، یا یہ کسی اور ہی دنیا باتیں ہوں۔ حالانکہ یہی وہ لوگ ہیں، جومغرب کی سیاست میں امانت داری اورایمانداری کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔ چین، امریکہ، برطانیہ، جاپان، یا اسکینڈینیوین ریاستوں میں کہیں بھی سیاستدان اور ارکان حکومت کے لیے عمدہ کردار، امانتدار اورسچا ہونا لازمی اور بنیادی شرائط ہیں۔

درحقیقت، 62، 63 پر طنز کا سلسلہ اب ایک خوف میں ڈھل چکا ہے کہ کہیں یہ صداقت اور امانت کا مطالبہ مقبول نہ ہوجائے، کہیں یہ سیاست و معاشرت میں سنجیدہ رجحان نہ بن جائے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com