سیکولرازم کا فکری پہلو - فیصل ریاض شاہدؔ

سیکو لرازم ایک مغربی نظریہ ہے جس کے مطابق مذہبی عقائد و فکر، مذہبی تعلیمات اور مذہب سے تعلق رکھنے والی ہر شے کو انسان کی ریاستی، معاشی، معاشرتی، تعلیمی، ادبی غرض ہر طرح کی اجتماعی زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دور کر دیا جانا چاہیے۔ عرف عام میں سیکولرازم سے مذہب کی ریاست سے علیحدگی اور بے دخلی مراد لیا جاتا ہے یعنی سیکولرازم میں ماضی کے انسان کی مذہبی فکر کو اب ہمیشہ کے لیے درگور کر دیا جانا چاہیے یا کم از کم نجی اور انفرادی زندگی تک محدود کر دیا جانا چاہیے۔ صاف لفظوں میں سیکولرازم لادینیت کی بدلی ہوئی، بلکہ یوں کہنا چاہیےکہ ارتقاء یافتہ شکل ہے جس میں لادینیت کو باقاعدہ طور پر جواز فراہم کرنے کے لیے ایک پوری علمیت گھڑی گئی ہے۔

آگے بڑھنے سے پہلے یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ مذہب کی اجتماعی زندگی سے بے دخلی کا مفہوم کیا ہے؟

دراصل مغرب نے جدید الحادی افکار کو ایک دن میں قبول نہیں کیا بلکہ اس کے پیچھے ایک باقاعدہ تاریخ ہے جو یورپ کی نشاۃ ثانیہ سے شروع ہو کر ہمارے دورتک پھیلی ہوئی ہے۔ اس چھ سات سو سالہ تاریخ میں مغرب نے صرف ایک بات سیکھی ہے، اور وہ یہ ہے کہ انسان اس کائنات کی اساس ہے۔ انسانیت سے افضل کچھ بھی نہیں، حتیٰ کہ خدا بھی اب قصہ پارینہ ہوا۔ بلکہ جرمن فلسفی نطشے کے الفاظ میں خدا اب مر چکا، ہم نے اسے مار دیا، وہ اب دوبارہ زندہ نہیں ہو سکے گا۔ (استغفراللہ-نقل کفر کفرنہ باشد)

انسان کو خدا کے مقام پر رکھ کر اس کی پرستش کرنا ہیومن ازم-Humanism یعنی انسان یا انسانیت پرستی کہلاتا ہے۔ یہ مغرب کے تمام افکار کا مرکزی فلسفہ ہےجو جدید دور کے تقریبا تمام افکار کی تہوں میں موجود ہے۔ سیکولرازم بھی ہیومن ازم ہی کا ایک پہلو ہے جو اجتماعی زندگی کے قواعد و ضوابط سے بحث کرتا ہے۔ مغرب کی نگاہ میں مذہب کی ریاستی یعنی اجتماعی زندگی سے بے دخلی سے درحقیقت مراد یہی ہے کہ تمام اجتماعی قواعد وضوابط اور فیصلے نظر نہ آنے والے خدا اور اس کے احکامات یا وحی کی بنیاد پر نہیں بلکہ نظر آنے والے انسان اور اس کی فہم و فراست اور عقل کے مطابق مدون کئے جانے چاہئیں اور انسانیت پرستی ہی ہر اصول کی اصل ہونی چاہیے۔

یہاں یہ سوال بھی قابل غور ہے کہ سیکولرازم مذہب کو ریاستی اور اجتماعی معاملات سے جدا کرکے خالص انسانی نکتہ نظر کے تابع کرنے کی ہدایت کیوں کرتا ہے؟

اس کی بنیادی طور پر دو وجوہات ہیں:
1۔ علمی وجہ
2۔ عملی وجہ

عملی وجہ کو سمجھنا نسبتاً آسان ہے اس لیے پہلے اسی پر کچھ گفتگو کی جاتی ہے۔ ہمارے زمانے میں دنیا مختلف ممالک میں بٹی ہوئی ہیں۔ ہر ملک میں مختلف عقائد و نظریات رکھنے والے لوگ پائے جاتے ہیں، ایک مذہب کے ماننے والے افراد اگر ایک ریاست میں اکثریت میں ہیں تو دوسرے ملک میں اقلیت میں ہیں، اسی طرح براعظموں کی سطح پر بات کی جائے تو یورپ میں مذہب بیزار اور سیکولرطبقہ نسبتاً زیادہ تعداد میں ہے جبکہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیاء میں مذہبی فکر کے حامل لوگوں کی اکثریت بستی ہے۔

ان حالات میں یہ خطرہ ہر وقت لاحق رہتا ہے کہ کسی عقیدے کا ماننے والا فرد مخالف عقیدے اور نظریات کے حامل شخص کو نقصان پہنچا دے، جیسے ہمارے خطے میں مذہب کے نام پر بے گناہ لوگوں کا بے دریغ قتل کیا جاتا ہے۔ ان حالات میں اقوامی و بین الاقوامی امن کے لیے ضروری ہے کہ کوئی ایسا نظام مدون کیا جائے جو تمام شہریوں کے لیے یکساں ہو، جس میں کسی عقیدے، رنگ، نسل اور زبان وغیرہ کی بنیاد پر کسی اقلیت کا استحصال نہ کیا جائے۔

اس مقصد کے حصول کے لیے جو نظام پیش کیا گیا اس کا نام سیکولرازم ہے۔ سیکولرازم کہتا ہے کہ رنگ، نسل، زبان اور خصوصاً مذہب کو سرکاری، اجتماعی اور عوامی و اقوامی معاملات سے الگ رکھنا چاہیے تاکہ اجتماعی معاملات کو پوری غیر جانبداری سے نمٹایا جا سکے اور کسی خاص عقیدے یا نظریے کی بنیاد پر کسی شہری کے بنیادی حقوق کو متاثر نہ کیا جا سکے۔

مذکورہ بالاسطور میں سیکولرازم کی جو تشریح پیش کی گئی ہے، یہ وہ تشریح ہے جو اخبارات، رسالوں، کتب اور میڈیا وغیرہ پر مشہور ہے۔ اگر سطحی نگاہ سے دیکھا جائے تو سیکولرازم کی اس تشریح میں کوئی برائی نہیں ہے۔ بلاشبہ تمام مذاہب امن کا درس دیتے ہیں، بے گناہوں کے قتل سے منع کرتے ہیں اور لوگوں کو آپس میں محبت کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر سیکولرازم کو اپنا لیا جائے تو بظاہر اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دینی فکر کا حامل طبقہ اس نظام کے خلاف کیوں ہے؟ اسے غیر اسلامی نظام کیوں کہا جاتا ہے، آخر اس میں برائی کیا ہے؟

اس سوال کا جواب ہمیں سیکولرازم کے تجزیاتی مطالعے اور تنقیدی جائزے سے حاصل ہو گا۔ یہاں سے ہمیں مذہب کو ریاست سے الگ کرنے کی علمی وجہ بھی سمجھ آجائے گی اور یہ بات کھل کر سامنے آ جائے گی کہ سیکولرازم نے اپنا آشیاں کس شاخ ناپائیدار پر بنایا ہے، اس کی فکری بنیادی کتنی کھوکھلی ہیں اور کس طرح سیکولرازم کے نام پر عوام الناس کو گمراہ کیا گیا ہے۔

سیکولرازم کا باریک بینی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو مندرجہ ذیل نکات سامنے آتے ہیں، (یہی نتائج آپ کو ان مغربی فلاسفہ و اہل علم کی تحاریر میں بھی ملیں گے، جنہوں نے سیکولرازم کا نظریہ پیش کیا)

1۔ سیکولرازم اس زمانے کی پیداوار ہے جب یورپ میں مارٹن لوتھر کی تحریک اصلاح مذہب (جس کے نتیجے میں عیسائیت میں ایک فرقے "پروٹسٹنٹس" کا اضافہ ہوا) کے تحت یورپ کے اکثریتی عیسائی فرقے کیتھولک عیسائیوں کو ظالم و جابر ثابت کرنے کے لیے من گھڑت افسانے لکھے گئے۔ جب من گھڑت کہانیوں اور افواہوں کےذریعے کلیسا، پاپ اور پادریوں کی تصویر مسخ کی گئی، جب انہیں سائنس اور سائنسدانوں کا دشمن ثابت کرنے کی کوشش کی گئی اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ عیسائی علماء ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس من گھڑت اور جھوٹی تاریخ میں عیسائی علماء کا کردار ایسا بنا کر پیش کیا گیا کہ یہ اہل علم مذہب کے نام پر انسانیت کا استحصال کرتے تھے، آزاد فکر کے حاملین کا خون بہاتے تھے اور مذہب کے نام پرعوام الناس کو لوٹنے میں پیش پیش رہتے ہیں حالانکہ حقیقت اس سے قدرے مختلف تھی۔ کلیسا نے اگر کچھ سائنس دانوں کو سزائے موت سنائی تو اس سے پہلے انہیں اپنی صفائی پیش کرنے کا بھرپور موقع دیا گیا، ان سے ان کے نظریات کے حق میں دلائل مانگے گئے، مناظرہ کیا گیا اور جب یہ مادرپدر آزاد مفکر اپنا نظریہ ثابت نہ کر پائے تو انہیں توبہ کی ہدایت کی گئی۔ لیکن جب وہ کلیسا کی مخالفت پر ڈٹے رہے تو تب جا کر انہیں سزا سنائی گئی۔

ایسے حالات میں نئی نسل کو یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی کہ کلیسا ان کی آزاد ی کا سب سے بڑا دشمن ہے لہٰذا بچپن ہی سے بچوں کو کلیسا کے خلاف زہر گھول گھول کر پلایا جاتا رہا۔ جب یہ نسل جوان ہوئی تو ان کے سینوں میں کلیسا کے خلاف لاوا ابل رہا تھا، جدید اہل فکر نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور کھل کر کلیسا کے خلاف لکھا جس کے نتیجے کے طور پر جدید ذہن اور کلیسا کے درمیان کھلی جنگ بپا ہو گئی۔

ایسے حالات میں جب کلیسا کے خلاف عوام الناس اور خصوصا مادرپدر آزاد مفکرین کا پلڑا بھاری ہوا تو انہوں نے ریاستی معاملات سے پاپ کی بے دخلی کا مطالبہ کیا جو بالآخر اجتماعی معاملات سے مذہب ہی کی بے دخلی پر منتج ہوا۔ ان مفکرین نے کلیسا کو ریاست سے بے دخل کرنے کے بعد اجتماعی و ریاستی امور کو چلانے کے لیے جو نظام پیش کیا، وہی تو سیکولرازم ہے!

الحاصل یہ کہ سیکولرازم کوئی ہوا سے نہیں ٹپک پڑا بلکہ اس کی ایک باقاعدہ تاریخ ہے جو تین سے چار صدیوں پر محیط ہے۔ سیکولرازم کن حالات اور کس طریقہ کار کی پیداوار ہے اس کا انتہائی مختصر سا خاکہ سطور بالا میں پیش کر دیا گیا ہے۔

اب ہم یہ دیکھیں گے کہ سیکولرازم کی علمی فکری اساس کیا ہے جس کی بنیاد پر اسے دورحاضر کےمسائل سے ہم آہنگ نظریہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں مطالعے سے یہ بات اظہر من الشمس ہو تی ہے کہ سیکولرازم کے بنیادی نعرے محض تین چار ہیں:

1۔ آزادی
2۔ مساوات
3۔ ترقی
4۔ جمہوریت

جیسا کہ پیچھے یہ بات واضح کی گئی کہ سیکولرازم عالمی امن کا درس دیتا ہے لیکن پھر بھی مذہبی فکر کے حاملین اس کو کفریہ اور غیر جانبدارانہ نظام قرار دیتے ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ سیکولرازم کے بنیادی ارکان تین چار ہیں۔ لیکن الفاظ سے دھوکہ مت کھائیے گا۔ سیکولر آزادی، سیکولر مساوات اور سیکولر ترقی کا مفہوم وہ نہیں ہے جو مذہبی علمیت یا ہمارے اسلامی یا دیگر مذہبی معاشروں میں عام طور سے مشہور ہے۔

الفاظ کے محض لغوی معانی حقیقت حال سے مکمل آگاہی کے لیے کافی نہیں ہوا کرتے کیونکہ بعض الفاظ اصلاحات ہوتی ہیں جنہیں ان کے تاریخی تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔ مثلاً اگر آپ حج ہی کے لغوی معانی کو دیکھیں تو اس سے مراد زیارت ہے لیکن اہل اسلام حج کو خاص شرعی معانی میں استعمال کرتے ہیں۔ گویا حج محض ایک لفظ نہیں کہ جس کے معانی کو لغت سے سمجھا جائے بلکہ یہ ایک اصطلاح ہے جس کے لیے اسلامی تاریخ اور اسلامی علمیت سے رجوع ناگزیز ہے۔ اسی طرح آزادی، ترقی، مساوات اور جمہوریت بھی محض الفاظ نہیں ہیں بلکہ مشرق اور خصوصاً اہل مذہب کے ہاں ان الفاظ کے مطالب ان مفاہیم سے یکسر مختلف بلکہ متضاد ہیں جو مغرب میں مراد لیے جاتے ہیں۔ مغرب کلیتاً سیکولر ہے، اس کی اقدار اور ترجیحات کو سمجھنے کے لیے مغربی افکار کی تاریخ اور ارتقاء کا مطالعہ از حد ضروری ہے۔

سیکولر تصور آزادی، مساوات، ترقی اور جمہوریت کا مختصرمفہوم حسب ذیل ہے جو تمام جدید مغربی افکار کا نچوڑ ہے، ملاحظہ فرمائیے:

سیکولر آزادی:

سیکولرازم میں آزادی سے مراد محض عقیدے کی آزادی نہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ہر انسان اپنی ترجیحات کی ترتیب متعین کرنے میں بھی آزاد ہے۔ یعنی شراب، زنا، بخل، ریاکاری، نماز، زکوۃ اور روزے کی ترتیب متعین کرنے میں ہر انسان بالکل آزاد ہے۔ اگر آپ شراب پینا چاہتے ہیں تو آپ کے والدین کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ آپ کو شراب پینے سے روکیں۔ اسی طرح دنیا کی کوئی طاقت آپ کو کسی نیکی کو کرنے یا برائی سے روکنے کی مجاز نہیں۔ آپ اپنی ذات میں ایک خود مختار انسان ہیں۔ آپ جو کچھ چاہتے ہیں، کر گزرئیے، لیکن اتنا خیال رہے کہ آپ کے افعال سے کسی دوسرے انسان کی آزادی سلب نہ ہو۔

جبکہ مذہبی تناظر میں آزادی کا مفہوم خدائی احکامات کے تابع رہ کر آزاد زندگی بسر کرنا ہے۔ مگر سیکولرآزادی وحی اور مذہبی تعلیمات کو یکسر مسترد کر کے انسان کو عبد کی بجائے معبود سمجھتے ہوئے ہر چاہت کو چاہ سکنے کی آزادی کا نام ہے۔ اہل مذہب کے ہاں انسان کی خواہشات اور افعال کی درجہ بندی مذہبی لٹریچر سے اخذ کی جاتی ہے مثلاً ہم مسلمانوں کے لیے عقائد میں توحید رسالت اور آخرت پر ایمان لانا اولین فرائض ہیں اور افعال میں نماز سب سے پہلی ترجیح ہے لیکن سیکولر فکر میں خواہشات اور افعال کی درجہ بندی کا اختیار اپنے تئیں خدا سے چھین کر انسان کو دے دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق آپ خود ایک کامل الٰہ ہیں،صحیح اور غلط کے فیصلے کرنے کے مجاز صرف آپ ہیں اور آپ کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں، اس کے فیصلے کا اختیار خدا کے پاس نہیں بلکہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ مذہب کو اجتماعی زندگی سے جدا کرنے کے تناظر میں آزادی کا مفہوم محض یہی ہے کہ آپ آزاد ہیں، ہر قید سے آزاد!

سیکولرمساوات:

سیکولرازم میں مساوات سے مراد یہ ہے کہ ہر فرد کی آزادی، خواہشات اور ترجیحات برابر ہیں، ہر شے میں جتنی آزادی آپ کو دی گئی ہے اتنی ہی دوسرے فرد کو بھی بخشی گئی ہے۔ اگر میں اپنی خواہشات، افعال اور ترجیحات کی درجہ بندی کرنے میں آزاد ہوں تو اتنے ہی آزاد آپ بھی ہیں۔ ہم دونوں کلیتا برابر ہیں۔ یعنی اگر میں شرابی ہوں اور آپ نمازی ہیں تو ہم دونوں برابر ہیں۔ حکومت یا کسی بھی فرد کو یہ حق حاصل نہیں کہ جسے آپ اچھا سمجھتے ہیں، اسے وہ برا سمجھ کر آپ کو روکے یا جسے آپ برا سمجھتے ہیں، اسے وہ اچھا جان کر آپ کو اچھائی پر مجبور کرے۔یعنی اچھائی وہ ہے جسے آپ اچھا سمجھیں اور برائی وہ ہے جسے آپ برا سمجھیں۔ اللہ رب العزت اور انبیاء اکرام نے جس کام کو اچھا قرار دیا اور جس کام کو برا قرار دیا اس کی کوئی اہمیت نہیں، اہمیت ہے تو صرف اس بات کی کہ آپ کے نزدیک اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جمہوریت میں ہر فرد کا ووٹ مساوی تسلیم کیا گیا ہے۔ اس سے غرض نہیں کہ کوئی عالم ہے یا جاہل کوئی برا ہے یا اچھا، کوئی کیسا بھی ہے، نفس انسانیت کی بنیاد پر سب برابر ہیں۔ لیکن یہ ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ یہ برابری خدائی احکامات کے تحت رائج نہیں کی گئی بلکہ ہیومن ازم کی عطاکردہ ہے۔ گویا سیکولرازم میں نفس انسانیت مقدس گائے ہے، جسے پوجنا ہر فرد پر لازم ہے! اور یہاں انسانیت کا مذہبی تصور مراد نہیں بلکہ وہ انسانیت جو مغرب سے آئی ہو!

سیکولر ترقی:

سیکولرازم میں ترقی سے مراد مادی اور مال میں ترقی ہے۔ ظاہر ہے جب سیکولرازم آپ کو ہر جائز و ناجائز خواہش کر سکنے کا اختیار دیتا ہے تو وہ ان خواہشات کو حاصل کر سکنے کی طاقت کے حصول کی اجازت بھی دیتا ہے۔ جب تک سرمایہ لامحدود نہیں ہو گا تب تک آپ اپنی متعین شدہ خواہشات کو حاصل کر سکنے میں قاصر ہیں لہٰذا اپنی آزادی سے مستفید ہونے کے لیے سرمائے میں لامحدود بڑھوتری کے لیے ہر وقت کوشاں رہنا ترقی ہے۔ سیکولر فکر کے مطابق ترقی یافتہ ملک وہی ہے جس کے پاس سرمایہ ہے۔ جو جتنا ثروت مند ہے اتنا زیادہ ترقی یافتہ ہے کیونکہ اسی تناسب سے وہ اپنی خواہشات کو پورا کر سکنے کا اہل ہے۔

اسی سیکولر تصور ترقی کی بنیاد پر سول سوسائیٹیاں اور مارکیٹ سوسائیٹیاں وجود میں آئی ہیں جن میں ہر تعلق محبت اور صلہ رحمی نہیں بلکہ مالی مفاد کی غرض سے استوار کیا جاتا ہے۔ پیسہ ہی ایمان ہے اور پیشہ ہی قرآن ہے!(معاذ اللہ)

سیکولر تصور ترقی کی نوعیت اتنی شدید ہے کہ اس نے زندگی کے ہر شعبے کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ ہم اس کے اثرات کو اپنے اردگرد بڑے واضح انداز میں محسوس کر سکتے ہیں۔

یہاں انتہائی مختصر الفاظ میں سیکولرازم کے تین بنیادی ارکان کی وضاحت پیش کر دی گئی ہے لیکن سیکولرازم کے ان ارکان پر لکھنے کے لیے اتنا زیادہ مواد موجود ہے کہ جس پر ایک مستقل کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ بنیادی بات جو سمجھانا مقصود تھی وہ یہ ہے کہ سیکولرازم فکری طور پر ہیومن ازم، ماڈرن ازم، ریشنل ازم، ایمپیرکسزم، کیپٹلزم، سوشل ازم اور انہی کی قبیل کے تمام "ازمز" کی مشترکہ ناجائز اولاد ہے۔

سیکولرافکار کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ سیکولرازم ایک الحادی نظریہ ہے جس میں انسان کو خدا جتنی اہمیت دے دی گئی ہے۔ مذہب کو ریاست سے جدا کرنے کا مطلب دراصل ہے ہی یہ کہ خدائی احکامات کو معطل کر دیا جائے، وحی کی بالادستی کو ختم کر کے عقل انسانی کو عقل کل مان لیا جائے اور انبیاء کرام کی تعلیمات کو یکسر مسترد کر دیا جائے۔

سیکولرازم کو فکری غذا پچھلے پانچ سو سالہ "جدید مغربی فلسفے" سے ملتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جدید مغربی فلسفہ سارا کا سارا الحاد پر مشتمل ہے لہذا اس شاخ نازک پر جو بھی آشیاں ہو گا، ناپائیدار ہو گا۔غرض سیکولرازم ویسا نہیں ہے جیسا پیش کیا جاتا ہے۔ یہ انسانیت کا خیر خواہ نہیں بلکہ ہر چھوٹے سے چھوٹے معاملے سے لے کر بڑے سے بڑے معاملے تک خدا کی مخالفت پر مشتمل ہے۔ یہ انسان کو عبد کی بجائے الصمد بتاتا ہے، یہ انسان کی عبدی حیثیت کو ختم کر کے اسے خدا کے مقابل لانے کا نام ہے، یہ کلمہ طیبہ کو جھٹلا کر لا الہ الانسان وانا افضل البشر کا ورد کرواتا ہے۔

دنیا میں ہمیشہ یہی ہوتا آیا ہے، شیطان ہر بار روپ بدل کر آیا ہے، کبھی تو اسلام کے مقابلے میں مختلف مذاہب لے آتا ہے اور کبھی الحادی افکار!

امت مسلمہ کو کرنا صرف یہ ہے کہ انہیں اپنے دین سے مخلص ہونا ہو گا اور فکری و جسمانی، ہر سطح پر اسلام قبول کرنا ہوگا۔

حضرت اقبال کے الفاظ میں:

زباں سے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں