وقت کی سازش - محمد طیب زاہر

پاکستان مسلم لیگ ن ایک حقیقت ہے، جس طرح متحدہ قومی موومنٹ ایک حقیقت ہے۔ قائد تحریک الطاف حسین کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب ہوئی، اس کے باوجود کراچی سے ایم کیو ایم ہی نے نشستیں جیتیں۔ اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ ووٹر کا ذہن تبدیل نہیں کر سکتی۔ اس کی ایک اور مثال بے نظیر بھٹو کی موت سے لے جا سکتی ہے۔ سب کو پتہ تھا کہ آصف زرداری بدعنوان ہے لیکن اس کے باوجود جذباتی ووٹرز نے ایسے ووٹ دیے کہ پنجاب سمیت ملک بھر سے پیپلز پارٹی نے نشستیں حاصل کیں اور مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔ اسی طرح مسلم لیگ ن ایک حقیقت ہے اور ممکن ہے کہ عدالت کے فیصلے کے بعد جذباتی ووٹر یہ سوچے کہ میرے قائد کو نااہل قرار دیا، اب تو میں ووٹ ڈالوں گا یعنی وہ ووٹر جس نے کبھی ووٹ نہیں دیا، وہ بھی نواز شریف کے حق میں ووٹ دے دے۔

یہ کہنا تو قبل از وقت ہے نواز شریف کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ ن کا وجود سرے سے ختم ہوگیا ہے اور تحریک انصاف کے لیے راہ ہموار ہوگئی ہے۔ البتہ یہ بات یقینی ہے کہ آئندہ انتخابات میں مقابلہ کانٹے دار ہوگا۔ شہباز شریف کا بطور وزیر اعظم نام سامنے آنا اُن حلقوں میں بے چینی پیدا کرے گا جو موروثی سیاست کو اب نہیں دیکھنا چاہتے۔خاص طور پر ن لیگ کی اپنی جماعت کے وہ رہنما، جو نواز شریف کی نا اہلی کے بعد وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھتے رہے تھے۔ شہباز شریف کا نام سامنےآتے ہی ن لیگ اندر سے مزید تقسیم ہوجائے گی۔

بظاہر تو ایسا ہی لگتا ہے کہ نواز شریف اقتدار کو اپنے خاندان تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ پنجاب کو بچانے کے لیے شہباز شریف بھی یہ خیال کرتے ہیں کہ اس کی وزارت اعلیٰ کے لیے ان کے صاحبزادے اہل ہیں۔ اگر حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ پنجاب مقرر کیا جاتا ہے اور شہباز شریف وزیر اعظم بن جاتے ہیں تو عوام کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی جماعت کے لوگ مزید نالاں ہوسکتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ن لیگ موروثی سیاست کے نظام کو جاری رکھ کر اپنے پاؤں پر کلہاڑی نہیں بلکہ کلہاڑی پر اپنا پاؤں مارے گی۔ ایک ایسے موقع پر جب نواز شریف نا اہل ہوچکے ہیں اور وہ اب پارٹی عہدہ بھی نہیں رکھ سکتے، اس صورتحال میں وہ نامزد وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کا تقرر کیسے کرسکتے ہیں؟ کس حیثیت سے وہ سیاسی کاموں میں حصہ لے سکتے ہیں ؟

دوسری جانب تحریک انصاف نے شیخ رشید کو بطور وزیر اعظم نامزد کیا اور عمران خان نے یہ تک کہا کہ شیخ رشید نے جمہوریت کے لیے بہت زبردست کام کیا ہے اور پاناما کیس کو آگے لے جانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب حکومت کے حامی بار بار وہ پرانا کلپ نکال رہے ہیں جس میں عمران خان نے شیخ رشید کے منہ پر کہا تھا کہ میں تمہیں اپنا چپڑاسی بھی نہ رکھوں اور یہ شعر پڑھ کر عمران خان کو باور کرا رہے ہیں "یاد ماضی عذاب ہے یا رب!" ۔ ویسے ان لوگوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بے نظیر اور آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کس نے بنائے تھے؟ کس نے بے نظیر بھٹو کی حکومت گرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا؟ اور یہ کس نے کہا تھا کہ فاروق لغاری اور بے نظیر بھٹو انگریزوں کے کتے نہلاتے تھے؟ بعد ازاں پرویز مشرف کی چھٹی کرانے کے لیے انہی کتے نہلانے والوں کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کیے۔

سیاست کا اصول یہ ہے کہ جب بھی کہیں مشترکہ مفاد نظر آئے، فریقین کا ایک ہی مشترکہ دشمن ہو تو پھر آستینیں نیچے کرلی جاتی ہیں۔ غصے اور انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے بلکہ عام الفاظ میں کہیں تو مشکل وقت میں گدھے کو بھی باپ بنانے والے محاورے پر عمل کیا جاتا ہے۔

ویسے پاناما کیس کا فیصلہ اُس دوائی کی مانند ہے جس کو مریض کھاتا ہے لیکن اُسے فوری آرام نہیں ملتا بلکہ دیر بعد مریض دوائی سے افاقہ محسوس کرتا ہے اور وقت مزید واضح کردے گا کہ نواز شریف کی نا اہلی درست تھی کہ نہیں۔ شہباز شریف وزیر اعظم تو بن جائیں گے لیکن ممکن ہے کہ ان پر بھی مقدمات کی بوچھاڑ ہوجائے۔ ویسے سنا ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے بیانات باقی سب سے مختلف تھے۔ نواز شریف کو بچانے کی بجائے مزید پھنسانے کی کوشش کس لیے ؟یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پہلے جے آئی ٹی کی نگرانی سپریم کورٹ نے کی اور اب نیب میں بھیجے جانے والے ریفرنسز اور اُن پر ہونے والی کارروائی کی نگرانی بھی سپریم کورٹ کرے گی اور یہ زیادتی ہے کیونکہ ایسے میں کام کرنے والے اداروں پر دباؤ ہوگا؟ بھئی کیسا دباؤ ہوگا نگرانی تب ہی کی جاتی ہے جب متعلقہ ادارہ صحیح کام نہ کر۔ سپریم کورٹ یہ کہہ چکی ہے کہ اگر ادارے اپنا کام درست انداز سے کرتے تو آج ہمیں یہ مقدمہ سننا نہ پڑتا۔

ہماری عوام کی یادداشت بہت کمزور ہے ہوسکتا ہے وہ نواز شریف کی نا اہلی بھول جائیں لیکن 6 ماہ بعد نیب کی کرپشن کیسز کارروائی مکمل ہونے کے بعد الیکشن کے نزدیک ن لیگ کو ایک اور بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔ پاناما میں جتنے لوگوں کا نام آیا اُن سب کا احتساب ہونا چاہیے اس کے علاوہ زرداری اور اُن لوگوں کا جو ملک کو اب بھی نقصان پہنچا رہے ہیں اور اس ضمن میں اگر عمران خان بھی ملوث ہیں تو ان کو بھی نا اہل کردیا جائے کیونکہ ملک کی بہتری اور خوشحالی سے بڑی کوئی چیز نہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com