خدارا! مجھے عوام ہی رہنے دو - عبد الباسط بلوچ

پانامہ ہنگامہ جب اقامہ میں بدلا تو پھر جو کچھ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ہوا، اس سے لگ رہا تھا کہ نجانے اب اس ملک میں کیا ہوگا؟ رات ہی رات میں سب کچھ بدل جائے گا۔ صبح کا سورج سب کچھ تبدیل کردے گا۔ ہر طرف خوشحالی، ہریالی اورچین کی بانسری ہوگی۔ اس خواب پر جتنی محنت کی جا رہی ہے، اگر تخریب کے بجائے تعمیر پر لگا دی جاتی تو شاید حالات واقعی مختلف ہوتے۔

اس ہنگامے میں ہم نے نہ ججوں کو چھوڑا، نہ فوج کو اور نہ مخالفین کو۔ وزیر اعظم نااہل بھی ہوگیا، چلا بھی گیا، نیا بھی آ گیا، ملک بغیر وزیروں کے بہت سکون و امن سے چل رہا ہے۔ 45 دن کے عبوری دور میں نفع نقصان بھگتا کر نیا وزیر اعظم بھی نکل لے گا بلکہ گزشتہ اصول ہی من و عن لاگو کرکے خوب بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے گا۔ بیورو کریٹ ابھی سے اپنے اہداف سیٹ کر رہے ہیں کہ کون کیا کرے گا؟ باقی رہ جائيں گے غریب عوام، وہ عوام کہ جن سے ہاتھ ملانا بھی سکیورٹی رسک ہے۔

وہ جو تمام دن ٹی وی چینلوں پر ایسے لڑ رہے ہیں، جیسے کبھی ایک دوسرے سے بات بھی نہیں کریں گے لیکن وقفے کے دوران ہم پیالہ و ہم نوالہ ہو جاتے ہیں۔ یہ ہو کیا رہا ہے؟ عوام کو بے وقوف بنانے اور ان کے جذبات سے کھیلنے کا یہ کون سا ڈرامہ ہے؟ میں اس ڈرامے سے تھک چکا ہوں۔ بس! اب بہت ہوگیا!

آج میں ذہنی طور پر جنگ ہار چکا ہوں، میں نظریات و ضروریات ميں فرق کرنے سے قاصر ہوں۔ خدا کے لیے مجھے صرف انسان رہنے دیں۔ ہم عوام ضرور ہیں لیکن غلام نہیں۔ ع، غ، م، ن کے جھگڑے میرے لیے نہیں بلکہ اپنی کرسی کے لیے ہیں، انا کے کے ہیں، بے حسی کے ہیں کہ جن کے چنگل میں پھنس کر میں اپنے اعصاب شل کر چکا ہوں۔ اب مجھے نفرت ہونے لگی ہے اس دھوکہ دہی سے۔

خدا کے لیے مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں، مجھے نہ پیرس چاہیے نہ لندن، مجھے میرا پیارا پاکستان چاہیے، جہاں اخلاق بھی ہو، انصاف بھی اور کردار بھی۔ میں عام آدمی ہوں، مجھے عوام ہی رہنے دو!

Comments

عبدالباسط بلوچ

عبد الباسط بلوچ

شعبہ صحافت سے خاص محبت رکھنے والے۔ ایم ایس سی کیمونیکیشن اسٹڈیز، ایم فل اسلامک سٹڈیز اور اب پی ایچ ڈی جاری

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */