امام شافعیؒ کی تصوف پر تنقید کا صحیح محمل - حافظ طاہر اسلام عسکری

سوال: امام شافعیؒ کے بعض اقوال تصوف اور صوفیہ کی تردید میں منقول ہیں ؛ مثلاً مصر آئے تو فرمایا کہ بغداد میں زندیق لوگوں نے ایک بدعت ایجاد کر لی تھی جسے وہ سماع کہتے ہیں۔ (ابن خلکان، الوفیات الاعیان، جلد 2 صفحہ 20) یہاں زندیق لوگوں سے مراد صوفیہ اور سماع سے مراد گانا بجانا بھنگڑے اور دھمال ہے۔ ان کا یہ قول بھی ہے کہ اگر کسی آدمی نے دن کے ابتدائی حصے میں تصوف اختیار کر لیا تو وہ دوپہر سے پہلے احمق بن چکا ہوگا: لو ان رجلاً تصوَّف من أول النھار لم يات عليہ الظھر إلا وجدتہ احمق .(رواہ البيھقي في مناقب الشافعي2 /208) ان کی کیا توجیہ ہوگی کہ امام صاحب متقدمین میں شامل ہیں؟

جواب: تصوف کی ابتدا بہ طور علاحدہ اور مستقل فن خیر القرون میں ہو چکی تھی، چناں چہ دوسری صدی ہجری میں تصوف کا لفظ ملتا ہے۔ اس زمانے میں یہ بحث و نظر کا موضوع بھی بنا۔ تصوف پر تنقید کرنے والے اہل علم دو طرح کے ہیں؛ ایک وہ جنھوں نے اسے کلیتاً مسترد کیا ہے اور دوسرے وہ جن کا نقد کچھ مخصوص صوفیہ یا تصوف کی بعض منحرف صورتوں پر ہے۔ کسی بھی عالم کے تنقیدی ریمارکس کو نقل کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کا شمار کس گروہ میں ہوتا ہے؟ اس کے لیے ان کی تمام آرا کا مطالعہ ضروری ہے۔ جہاں تک امام شافعیؒ کے اقوال کا تعلق ہے تو امام رحمہ اللہ کی رایوں کا مفصل مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں بھی علی الاطلاق لینے کے بجائے منحرف تصوف یا غلط کار صوفیہ پر محمول کیا جائے گا؛ چنانچہ امام صاحبؒ نے سماع کی تخصیص فرمائی ہے اور اکثر صوفیہ بھی اس کے عدم جواز کے قائل ہیں۔ اگر اس قول کو مطلق رکھا جائے تو شیخ جنید بغدادیؒ، شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اور شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ایسے صوفیہ بھی معاذاللہ زندیق قرار پائیں گے، حالاں کہ ایسا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

امام شافعیؒ کا یہ ارشاد بھی منقول ہے کہ ما رأيت صوفياً عاقلاً قط إلا مسلم الخوَّاص. میں نے مسلم الخواص کے علاوہ کسی صوفی کو عقل مند نہیں پایا۔ (رواہ البيھقي في مناقب الشافعي2 /208)اس سے واضح ہوتا ہے کہ جن صوفیہ سے انھیں واسطہ پڑا تھا ان کی اکثریت علم سے بے بہرہ تھی ، یہ معنی نہیں کہ ہر ہر صوفی زندیق یا احمق ہوتا ہے ۔ حافظ ابن قیمؒ نے’’مدارج السالکین ‘‘ (3/128) میں امام شافعیؒ سے نقل کیا ہے کہ میں صوفیہ کے ساتھ رہا تو میں نے ان سے کام کی دو ہی باتیں سیکھی ہیں: ایک یہ وقت تلوار کے مانند ہے ؛ اگر تم نے اسے نہیں کاٹا تو یہ تمھیں کاٹ دے گا اور دوسری یہ کہ اگر تم نے اپنے نفس کو حق میں مشغول نہ کیا تو یہ تمھیں باطل میں مشغول کر دے گا: صحبت الصوفيۃ فما انتفعت منھم الا بكلمتين سمعتھم يقولون : الوقت سيف فان قطعتہ والا قطعك، ونفسك إن لم تشغلھا بالحق والا شغلتك بالباطل.گویا صوفیہ کے یہاں بھی مفید باتیں موجود ہیں۔ اس ضمن میں ایک اصولی نکتہ یہ بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ تصوف مختلف علاقوں میں نشو وارتقا کے مراحل سے گزرا ہے اور اس کے مختلف ورژن وجود میں آ چکے ہیں، پس امام شافعیؒ نے اگر ایک خاص عہد اور مخصوص خطے کے صوفیہ پر جرح کی ہے تو یہ قطعاً ضروری نہیں کہ دیگر علاقوں اور مابعد آنے والے تمام اربابِ تصوف پر ان منفی ریمارکس کو چسپاں کیا جائے، جبکہ امت کی جلیل القدر ہستیاں ان میں شامل رہی ہیں۔

Comments

حافظ طاہر اسلام عسکری

حافظ طاہر اسلام عسکری

حافظ طاہر اسلام عسکری اسلام کے علمی و فکری اور تحریکی موضوعات سے شغف رکھتے ہیں؛ اتحاد ملت اور امت کی نشاَۃ ثانیہ کے خواب کو شرمندہ تعبیر دیکھنا مقصدِ زیست ہے۔ شعر و ادب کو اہل مذہب کے لیے لازمی گرادانتے ہیں تاکہ فکر و خیال کی لطافتوں کا ابلاغ شائستہ تر اسلوب میں ممکن ہو سکے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.