صداقت اور امانت کا سفر -رضوان چوہدری

آف شور کمپنیوں سے شروع ہونے والا معاملہ بالآخر اقامہ پر ختم ہوگیا اور وزیر اعظم نااہل قرار پائے۔ جس دن یہ فیصلہ آیا اس روز ایک دوست نے فون کرکے کہا کہ لگتا ہے اب پاکستان میں انقلاب آ جائے گا۔ سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جہاں ایک بیس، اکیس گریڈ کے افسر کا جرم ثابت کرنا ناممکنات میں سے ہو، وہاں عدالت کا ملک کے بااثر اور مضبوط ترین عہدے پر موجود فرد کو نکال باہر کرنا انقلاب نہیں تو کیا ہے؟ بہرحال، میرا مختصر جواب یہی تھا کہ پاکستان میں ایسے "انقلاب" کئی بار آ چکے ہیں۔
پھر بھی میں خود اس مرتبہ پر امید ہوں کہ آج کے بعد کسی جج کو بعد از ریٹائرمنٹ کتاب لکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اب وطن عزیز میں قانون کی بالادستی قائم ہو کر رہے گی۔ ماضی کی طرح پی سی او کے تحت حلف اٹھانے،فوجی آمریتوں کو قانونی تحفظ دیتے ہوے دوام بخشنے،مقتدر قوتوں کے حکم بجا لاتے ہوئے ملک کو آئین دینے والے منتخب جمہوری وزیراعظم کو پھانسی دینے اور امریکی جاسوس اور سفاک قاتل ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرنے جیسی غلطیوں کو نہیں دہرایا جائے گا ۔ بلکہ سیاستدانوں کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جائے گا ، چاہے وہ کروڑوں لوگوں کے مینڈیٹ سے ہی اقتدارمیں کیوں نہ آئے ہوں لیکن اگر وہ صادق اور امین کی شرط پر پورے نہ اتریں تو ان کو قانون کی طاقت سے گھر بھیجا جائے گا۔ اب یقیناً صادق اور امین کا یہ سفر تمام سیاسی اور غیر سیاسی عہدیداروں کو بھی طے کرنا پڑے گا۔ ہمارے فاضل جج آئین و قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اور قرآن کے احکامات کے مطابق اپنے فرائض سر انجام دیں گے۔ قرآن پاک میں اللہ کہتا ہے "ایمان والو! اللہ کے واسطے کھڑے ہوجایا کرو انصاف کی گواہی دینے کو اور کسی قوم کی دشمنی کے باعث انصاف کو ہرگز نہ چھوڑو عدل کرو یہی بات زیادہ نزدیک ہے تقویٰ سے اور ڈرتے رہو اللہ سے اللہ کو خوب خبر ہے جو تم کرتے ہو"
ہمیں پورا یقین ہے کہ پانامہ پیپرز میں دو ججوں سمیت تمام ناموں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی چونکہ اب ہماری عدالتیں اور جج صاحبان صداقت و امانت کے راستے پر چل نکلے ہیں۔ اب ڈی ایچ اے، لاہور کے 17 ارب روپے کے سکینڈل میں ملوث لوگوں کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائے جائے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی ادارے سے کیوں نہ ہو۔ ایک امریکی صحافی نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل (ر) مشرف اور اشرف پرویز کیانی کے سوئس بینکوں میں اکاؤنٹس ہیں جن میں کروڑوں ڈالرز ہیں۔ اس خبر کی بھی انکوائری کی جائے گی۔
لیکن اب اس معاملے میں ایک مرتبہ پھر سیاست دان رکاوٹ بن رہے ہیں۔ میرا اشارہ مخدوم جاوید ہاشمی کی طرف سے جن کا دعویٰ ہے کہ نواز شریف کو منصوبہ بندی کے تحت نااہل کیا گیا۔ ان کے الزامات بہت سنجیدہ نوعیت کے ہیں۔ امید تو یہی تھی کہ نہال ہاشمی کے بیانات کی طرح عدلیہ جاوید ہاشمی کے بیانات کا بھی سختی سے نوٹس لے گی اور انہیں تاحیات نااہلی کی سزا دے گی لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء پر انہیں بار بار معاف کیا جا رہا ہے۔ امید ہے کہ عدالت بہت جلد کئی چہرے بے نقاب کرے گی اور ملک کو حقیقی انقلاب سے ہمکنار کرے گی۔