اتفاق میں برکت ہے - فیاض راجہ

کیا یہ محض اتفاق ہے کہ
نوازشریف کے سخت ترین سیاسی مخالف عمران خان جنھوں نے پانامہ پیپرز کی آمد سے ایک دن بعد ان کے استعفے کا مطالبہ کردیا،
اور
نواز شریف کے سب سے پرانے ساتھی چوہدری نثار جنھوں نے پانامہ کیس کے فیصلے سے صرف ایک دن پہلے اپنے استعفی کا شوشہ چھوڑا،
کے درمیان اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں واقعہ غیر ملکی ریستوران اے لانتو میں اتفاقیہ ملاقات ہوئی۔

عملے کے مطابق عمران خان لان میں موجود تھے جب چوہدری نثار ریسٹورنٹ کے ہال میں داخل ہونے سے پہلے ان کی میز پر گئے۔ عمران خان سے ہاتھ ملایا اور ان کی اور ان کے ساتھ موجود کے پی کے صوبائی وزیر علی آمین گنڈاپور اور گلوکار سلمان احمد کی خیریت دریافت کی۔

ریسٹورنٹ کے عملہ نے بتایا کہ عمران خان نے وہاں ڈیڑھ گھنٹا گزارا جبکہ چوہدری نثار نے ایک گھنٹہ۔ اس دوران دونوں نے اپنی اپنی میز اور اپنی کمپنی میں ڈنر کیا۔
چوہدری نثار واپسی پر بھی عمران خان سے مل کر اور حال احوال پوچھ کر روانہ ہوئے۔

کتنا حسین اتفاق ہے کہ میاں نواز شریف کے پیشرو کے انتخاب سے صرف 18 گھنٹے پہلے ان کے بدترین سیاسی مخالف اور گزشتہ چند ہفتوں میں سامنے آنے والے ان کے سخت ترین ناقد نے تقریبا ایک ہی وقت میں گزشتہ رات کا کھانا گھر سے باہر کھانے کا پروگرام بنایا۔

گویا آج کا دن نواز شریف کے سیاسی حامی چوہدری نثار اور سیاسی مخالف عمران خان دونوں ہی کے لیے ایسی سیاسی گھٹن کا حامل ہے کہ نوازشریف کے کرسی چھوڑنے کے بعد بھی دونوں آج وزارت عظمی کی کرسی کے امیدوار نہیں۔

جن دنوں نواز شریف گورنمنٹ کالج لاہور میں اسٹوڈنٹ تھے۔ انہی دنوں عمران خان اور چوہدری نثار، ایچی سن کالج لاہور میں ایک دوسرے کے کلاس فیلو تھے۔ اسی تناظر میں اگست 2014ء کے مشہور زمانہ دھرنوں میں عمران خان اور چوہدری نثار کے درمیان ظاہر اور خفیہ رابطوں کی خبریں اخبارات کی زینت بنتی رہیں۔

نواز شریف، چوہدری نثار اور عمران خان کے اپنی اپنی فیلڈ کے متعلق فیصلوں میں پاکستان کے آمر مطلق جنرل ضیا الحق کا کسی نہ کسی حد تک کردار رہا۔
نواز شریف اور چوہدری نثار کی سیاست کے اولین دور اور عمران خان کے کرکٹ کے آخری دور میں جنرل ضیا کے مشوروں کا کلیدی کردار تھا۔

واقفان حال کا کہنا ہے کہ عمران خان اور چوہدری نثار کے درمیان 50 برس پرانی دوستی ہمالیہ سے اونچی اور بحیرہ عرب سے گہری ہے۔ جس کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ جس ریستوران میں یہ " ڈیٹ " لگی وہ چینی ہے اور جو کھانے کھائے گئے وہ عربی تھے۔

ایف سیون سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر آمر مطلق ضیاالحق کی باقیات کو اگست ہی کے مہینے میں دفن کیا گیا مگر وقت نے ثابت کیا کہ آج 29 برسوں بعد آنے والے مہینے اگست میں ضیا کی روح اسلام آباد میں برستی ساون کی ہر بارش کے ساتھ گیلے ہوتے درختوں کے نیچے اب بھی چہل قدمی کرتی ہے۔

Comments

فیاض راجہ

فیاض راجہ

محمد فیاض راجہ ڈان نیوز کے نمائندہ خصوصی ہیں۔ 16 برس سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نوائےوقت، جیو نیوز، سما ٹی وی اور 92 نیوز کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */