'دانشور طبقہ' اور ایجادات کا طعنہ - محمد عمیر کاشف

ہمارے ملک کے ایک 'نام نہاد' دانشور کا ماننا ہے کہ وطن عزیز کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مذہبی طبقہ ہے جس نے آج تک نہ کوئی ایجاد کی ہے اور نہ ہی ایسے لوگ تیار کیے جو جدید دور میں ایجادات پر کچھ نہ کچھ کام کر سکیں۔ یہ لوگ ہر وقت عوام کو نماز، روزے، زکوۃ، حج، قربانی اور دیگر مسائل میں الجھائے رکھتے ہیں۔

ان تمام 'متجددین' اور ان کے پیروکاروں کی خدمت میں انتہائی ادب کے ساتھ عرض ہے کہ اگر کوئی چیز ایجاد کرنا ہی ترقی کی بنیاد ہے تو یہ اصول آپ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ پھر تو آپ کا طبقہ بھی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ تمام تر وسائل ہونے کے باوجود آپ کی تان صرف کالم لکھنے پر ہی ٹوٹتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ کسی ٹیلی وژن چینل پر ، بزعم خود، ماہرانہ رائے ہی دے پائے۔ ورنہ ایجاد کی دنیا میں تو آپ بھی سائنس دانوں کے اتنے ہی محتاج ہیں جتنا کہ مذہبی طبقہ ۔۔۔ جی ہاں! کالم لکھنا الگ شعبہ ہے اور سائنس بالکل الگ میدان، آخر کالم لکھنے والا سائنسی ایجادات کس طرح کر سکتا ہے؟

یہی تو عرض کرتے ہیں کہ دینی علوم کا حصول ایک الگ شعبہ ہے اور سائنس بالکل الگ۔ جس طرح آپ صرف لکھ سکتے ہیں، اسی طرح دین کا طالب علم صرف دینی موضوعات پر دسترس رکھ سکتا ہے۔ کسی ڈینٹسٹ سے آنکھوں کا علاج کروائیں گے تو نتیجہ سوائے اندھن پن کے کچھ نہیں نکلے گا۔ جس طرح کالم لکھنا آپ کی ضرورت ہے بالکل اسی طرح نماز، روزہ، حج، قربانی و دیگر دیگر مسائل کا جاننا ہر مسلمان کی ضرورت ہے۔ اس کے حصول کے لیے مسلمانوں کو علمائے دین کی ضرورت ہے اور اسی لیے وہ اپنی ضروریات بالائے طاق رکھ کر تمام اہل ایمان کی ضرورت پوری کرنے میں مصروف ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */