تو پیارے بچو! یہ تھی آج کی کہانی - سعود عثمانی

پیارے بچو!
کسی ملک میں ایک بادشاہ رہتا تھا۔ تمہیں پتہ ہے کہ بادشاہ ہمارا تمہارا تو ہوتا نہیں۔ ہمارا تمہارا تو خدا بادشاہ ہوتا ہے۔ خیر یہ تو اچھی بات ہے لیکن بری بات یہ کہ بادشاہ کو بھی پتہ تھا کہ رعایا کا خدا ہی بادشاہ ہوتا ہے۔ جن دنوں کی ہم بات کر رہے ہیں، اس وقت تو ہمارا بادشاہ بادشاہ نہیں صرف شہزادہ تھا، جو بڑا خوش قسمت تھا۔ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوا۔ اس کا چھوٹا بھائی بھی اگرچہ خوش قسمت تھا لیکن چونکہ سونے کا چمچہ بڑا بھائی لے گیا تھا، اس لیے اسے مجبوراً چاندی کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہونا پڑا۔ لیکن ایک نجومی نے زائچہ نکال کر بتایا کہ دونوں بھائیوں کو زندگی بھر سنہری چمچوں کی کمی نہیں ہوگی۔ گول مٹول اور سرخ سفید شہزادہ پیارا تھا۔ دیکھ کر پیار آتا تھا۔ ''اتفاق'' سے شہزادے کا باپ ایک ''شریف'' آہن گر تھا۔ بڑی سمجھ بوجھ والا۔ محنتی، زمانہ شناس اور وضع دار۔ شہزادہ بڑا ہوا تو شہر کی بڑی درس گاہ میں داخل ہوگیا۔ اتالیق چپکے چپکے بتاتے ہیں کہ وہ نہ کوئی خاص ذہین تھا نہ اسے پڑھائی سے کوئی خاص رغبت تھی، لیکن بچو! یاد رکھو شہزادے کا اس میں کوئی قصور نہیں تھا۔ لاہوریوں میں رغبت کا لفظ صرف ماکولات و مشروبات کے لیے مخصوص ہے اور شہزادہ آخر لاہوری بھی تھا اور لوہار بھی۔

شہزادہ بڑا ہوتا گیا۔ کتنا بڑا؟ یہ بعد میں پتہ چلا۔ لیکن جن دنوں وہ بڑا ہو رہا تھا، ان دنوں ملک چھوٹا ہو رہا تھا۔ بڑی بڑی مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ پہلے تو ملک کا ایک حصہ علیحدہ ہوگیا۔ پھر ایک ایسا عجیب راجہ سنگھاسن پر آبیٹھا جو متضاد صفات کا مالک تھا۔ اس نے لوگوں کو مصیبت میں ڈال دیا۔ اسے برا کہتے ہوئے بھی بہت سوچنا پڑتا تھا، اور اچھا کہتے ہوئے بھی شدید جدوجہد کرنی پڑتی تھی۔ بچو! پینے کی بات تو چھوڑتے ہیں بڑے ہو کر آپ کو پتہ چل جائے گی۔ لیکن کھانے سے راجہ کو کوئی خاص رغبت نہیں تھی. البتہ اسے چیزوں کو قومیانے کا خبط تھا۔ سکول، کالج، جامعات، فیکٹریاں، کارخانے، ملیں۔ وہ ہر چیز کو قومیا کر بہت خوش ہوتا تھا۔ شریف آہن گر کا کارخانہ بھی قومیا لیا گیا اور بدلے میں ایک کوڑی بھی نہ دی گئی۔ لوہار کو بڑی تکلیف ہوئی لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور پھر نئے سرے سے کام شروع کر دیا۔ راجہ کی زیادتیوں کا انجام برا ہوا۔ آخر ایک دن اس کے ساتھ بھی ایسی زیادتی ہوئی کہ سپہ سالار نے تختہ الٹا اور راجہ کو دوسرے جہان پہنچا دیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں اسے قدرت نے قومیا لیا۔ اللہ معاف کرے لوگ بھی کیسی کیسی باتیں کرتے ہیں۔

ادھر بادشاہ کے باپ نے سوچا کب تک لوہا بیچتے رہیں گے۔ اب اپنا لوہا منوانے کا وقت آگیا ہے۔ اس نے شہزادے کو سپہ سالار کے قریب کیا اور بالآخر ایک بڑے صوبے میں خزانے کا وزیر لگوا دیا۔ دراصل یہ بادشاہت کا آغاز تھا اور اب شہزادہ بادشاہ بننے کے خواب دیکھ سکتا تھا۔ لیکن اکیلا شہزادہ ہی بڑا نہیں ہوا تھا۔ مرحوم راجہ کی بیٹی راج کماری بھی باپ کی گدّی پر بیٹھنے کے خواب دیکھ رہی تھی۔ دونوں حریف تھے لیکن دونوں کے خوابوں کی قسمت باری یوں کھلی کہ تخت نشیں سپہ سالار کا اڑن کھٹولہ اچانک ایک دن زمین پر آ پڑا۔ وہ بہت مدت سے ہواؤں میں اُڑ رہا تھا، اس لیےاتنی بلندی سے گرنا سپہ سالار کو بہت برا لگا، لہذا وہ احتجاجاً جاں بحق ہوگیا۔ تخت خالی ہو کر وارث کا انتظار کرنے لگا۔ لیکن راج کماری زیادہ تیز تھی۔ وہ فوراً آگے بڑھ کر تخت پر بیٹھ گئی اور مہارانی کہلانے لگی۔ شہزادہ منہ دیکھتا رہ گیا۔ اب مہارانی نے سوچا کوئی سیانا سا بندہ دیکھ کر لگے ہاتھوں شادی بھی کرلیتی ہوں، لیکن دولہا ضرورت سے زیادہ ہی سیانا تھا۔ مہارانی اس کے رنگ ڈھنگ دیکھ کر ہکا بکا رہ گئی لیکن اب وہ کیا کر سکتی تھی۔ اب توجو کچھ کرنا تھا، سیانے نے کرنا تھا۔ دولہا کو ہر شاہی لباس میں جیبوں کی بہت کمی لگتی تھی۔ اور ہر جیب خالی بھی محسوس ہوتی تھی چنانچہ وہ یہ دونوں خلا پر کرنے میں جت گیا۔ دوسری طرف ہمارا شہزادہ صوبے دار بن کر مہارانی کے خلاف علم بغاوت بلند کرچکا تھا۔ مہارانی اس دو طرفہ یلغار کا سامنا نہ کرسکی اور اسے تخت سے اتار دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر! اگلا لائحہ عمل کیا ہے؟ علی حسنین نقوی

اب باری آئی شہزادے کے بادشاہ بننے کی۔ وہ بادشاہ بن کر بہت خوش تھا۔ لوگ بھی خوش تھے اور سچ یہ ہے کہ بادشاہ میں بہت خوبیاں تھیں۔ وہ دیسی بندہ تھا۔ پابند صوم و صلوٰت تھا، خاندانی روایات کا پابند تھا، ماں باپ کا فرماں بردار تھا، ضرورت مندوں کو بہت نوازتا تھا۔ اسی چکر میں وہ دوستوں کو بھی ضرورت سے زیادہ نواز دیتا تھا جس پر وہ لوگ ناراض ہوتے تھے جو نوازے جانے سے رہ جاتے تھے۔ خیر، نوازتا ہوگا۔ ہمیں کیا۔ آخر نام کا کچھ تو اثر آنا ہی تھا۔ عام لوگ بادشاہ کے اوصاف سے مطمئن تھے۔ کئی لوگ بادشاہ کے فضائل میں سری پائے سے رغبت کو بھی شامل کرتے ہیں۔ انصاف کی بات یہ ہے مورّخ نے ایسا کچھ نہیں کہا۔ وہ بادشاہ کا صرف کشمیری النسل ہونے کا بتا کر چپکا ہوجاتا ہے۔

بادشاہ کو سڑکیں بنانے کا بھی شوق تھا۔ انہی دنوں اس نے ایک بڑی جرنیلی سڑک بنا ڈالی۔ اس پر کئی جرنیل بہت خفا ہوئے کہ ہماری سڑک تم نے کیوں بنائی؟ بادشاہ نے بہتیرا کہا کہ ٹھیکے لینا میرا بھی حق ہے لیکن خفگی دور نہ ہوئی۔ پرانی روایت تھی کہ بادشاہوں کے کچھ کھیل ہوتے ہیں، جیسے شطرنج، چوگان، شکار کھیلنا وغیرہ۔ شطرنج کے لیے بہت ذہانت درکار تھی. چوگان میں جھکنا بہت پڑتا تھا اور شکار کے لیے عرب ہونا ضروری تھا. یہ تینوں کام ناممکن تھے، لہذا اس نے چومکھی کھیلنی شروع کر دی۔ کبھی بادشاہ گر سے، کبھی قاضی سے، کبھی لشکری سے اور کبھی مہارانی سے۔ لیکن چومکھی میں بادشاہ گر سے کون جیت سکتا تھا۔ ایک دن اس نے بساط بھی الٹ دی اور تختہ بھی۔ بادشاہ کا تختہ پہلی بار الٹا گیا تھا۔ اس لیے اسے تادیر سمجھ نہیں آئی۔ ادھر مہارانی تاک میں تھی۔ پھر موقع دیکھ کرسیانے میاں سمیت تخت پر آ بیٹھی۔ سرکاری میاں کو یہ افسوس تھا کہ پچھلی بار بہت سی اضافی جیبیں لگنے سے رہ گئی تھیں۔ اب کی بار اس نے اندرکی طرف بھی جیبیں لگوانی اور بھرنی شروع کر دیں اور باہر کی طرف بھی۔ معزول بادشاہ نے کیا کیا کہ ان لوگوں کو دوست بنا لیا جو پہلے اس کے خلاف شور مچا رہے تھے۔ اب ان سب نے مل کر مہارانی کے خلاف شور مچانا شروع کر دیا۔ رعایا کا حافظہ خاصا کمزور تھا اور بادام بہت مہنگے تھے، چنانچہ سب نے مل کر پھر مہارانی کا تختہ الٹ دیا۔

بادشاہ اس بار تاک میں تھا۔ تخت خالی دیکھا تو چھلانگ لگا کر بیٹھ گیا اور ان لوگوں کو ٹھینگا دکھانے لگا جن کے ساتھ مل کر شور مچایا تھا۔ خیر خواہوں نے بہت سمجھایا لیکن ٹھینگا دکھانے کا اپنا لطف تھا۔ سچ یہ ہے بچو کہ بادشاہ کی باری نئی تھی اور شوق وہی پرانے، جس میں چومکھی کھیلنے کا شوق بھی تھا۔ اگرچہ تجربہ زیادہ تھا لیکن اب ایک نئی مصیبت کھڑی ہوئی۔ ایک بد دماغ، بدمعاش لشکری نے، جسے میر سپہ بنایا گیا تھا، بغاوت کر دی۔ نہ صرف بغاوت کر دی بلکہ اسے جیل میں بھی ڈال دیا۔ باہر کے بادشاہ مدد کو آئے۔ جان بخشی کی شرط پر سارا خاندان ملک بدر ہوگیا۔ خدا کے گھر کے پاس رہ کر خدا خدا کرنے لگا۔ بدمعاش لشکری کی بن آئی۔ جن ساتھیوں کو بادشاہ نے اچھے وقتوں میں ٹھینگا دکھایا تھا۔ ان کو ساتھ ملایا اور ٹھاٹ سے حکومت کرنے لگا۔ نہ مہارانی اس کے مقابل رہی نہ بادشاہ۔ دونوں ڈر کر ملک بدر ہو چکے تھے سو اس نے بیٹھ کر طبلہ بجانا شروع کر دیا جس کا اسے بڑا شوق تھا۔ سچ یہ ہے کہ وہ طبلے سمیت کچھ بھی ٹھیک نہیں بجاتا تھا لیکن ہر چیز بجانے کی کوشش ضرور کرتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ ( قسط نمبر 5 )

بادشاہ سرور کے محل میں فارغ بیٹھا کھانا اور پیچ و تاب کھاتا رہتا تھا کہ کسی نے اسے شعر سنایا کہ بیکار مباش کچھ کیا کر۔ شعر سے متاثر ہو کر اس نے کچھ کرنے کی ٹھان لی۔ اسے شبہ سا تھا کہ سر سے ہر بار تاج پھسل جاتا ہے۔ ہو نہ ہو کوئی وجہ تو ہے۔ پس اس نے سر پر بال لگوانے کا ارادہ کر لیا۔ دوسرا کام اس نے یہ کیا کہ مہارانی سے مل کر سالار کے خلاف ایک معاہدہ کرلیا۔ مہارانی خود منتقم سالار سے خائف بھی تھی اور وطن واپسی کی خواہاں بھی۔ اس نے بھی اپنے پرانے حریف سے ہاتھ ملایا تاکہ لشکری سے ہاتھ کیا جاسکے۔ ان دنوں بادشاہ اپنے قریبی دوستوں سے ملاقاتوں میں اپنی غلطیوں پر نادم ہوتا تھا اور قسمیں کھاتا تھا کہ اگر اسے تیسری بار تخت ملا تو وہ رعایا اور ملک کی قسمت بدل دے گا، اور سالار کو تو بغاوت کی ایسی سزا دے گا کہ اس کی نسلیں یاد کریں گی۔ بچو! بادشاہ تخت سے اتر کر ایسی ہی باتیں کیا کرتے ہیں۔

پیارے بچو! وقت سدا ایک سا نہیں رہتا، چنانچہ نہ رہا۔ خونی لشکری کے طبلے سے تنگ آ کر رعایا نے آخر اس کا اپنا طبلہ بجادیا۔ مہارانی کو کسی نے طمنچہ مار ا اور رانی دنیا سے کوچ کرگئی۔ سب کو بڑا دکھ ہوا۔ سرکاری میاں گولی کھاتے وقت رانی کے ساتھ نہیں تھا۔ کیوں نہیں تھا؟ لوگوں کو اس کا دکھ علیحدہ تھا۔ یوں تو سب انگلیاں اسی کی طرف اٹھا رہے تھے لیکن سیانے نے ایسا چکر چلایا کہ پانچ سال کے لیے تخت پر آبیٹھا۔ مغرور سالار جو ہمیشہ کہتا تھا کہ میں ڈرتا ورتا نہیں ہوں، قاضیوں سے ایسا ڈرا کہ کمر پکڑے پکڑے ملک بدر ہوگیا۔ پانچ سال صبر کر کے بادشاہ کا راستہ صاف تھا سو بادشاہ دھوم دھام سے تیسری بار تخت نشین ہوگیا۔ اس بار اس کی واپسی سے بڑی امیدیں تھیں۔ کچھ عرصہ خیر سے گزرا لیکن ایک نئی مشکل یہ آن پڑی کہ کسی نے مخبری کر دی کہ وہ کوہ نور ہیرا پگڑی میں اور ڈھیر اشرفیاں پوشاک میں چھپا کر باہر لے گیا ہے۔ یہ سننا تھا کہ اس کے ایک مخالف نے پہلے خود ہاتھ دھوئے، پھر اپنے ساتھیوں کے ہاتھ دھلوائے، پھر سب ہاتھ دھو کر بادشاہ کے پیچھے پڑگئے۔ بادشاہ بڑا حیران ہوا۔ اس نے اس طرح کسی کو ہاتھ دھو کر پیچھے پڑتے نہیں دیکھا تھا۔ لیکن پھر کسی نے بتایا کہ حیران ہونے کا وقت نہیں ہے۔ شور مچنے لگا کہ بادشاہ سے ہیرے اور اشرفیوں کا پوچھا جائے۔ بادشاہ نے لاکھ منادی کروائی، مجلس شوریٰ اور عدالت میں بہت سی کہانیاں سنائیں اور ہر کہانی کے آخر میں یہ بھی کہا کہ کہانی ختم پیسہ ہضم، لیکن کسی نے ایک نہ سنی۔ سب نے کہا کہ کیسے؟ پیسہ ہضم کیسے؟ آخربادشاہ کو ایک بار پھر، تیسری بار پھر تخت چھوڑنا پڑا۔ البتہ اس بار جاتے جاتے اس نے سونے کا چمچہ اپنے بھائی کے منہ میں ڈال دیا۔ بھائی کی باچھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

تو پیارے بچو! یہ تھی آج کی کہانی۔ کہانی کا پہلا نتیجہ یہ کہ وعدے کرکے پورے کرنے چاہییں۔ دوسرا یہ کہ پیسہ ہضم کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے، خاص طور پر جب وہ بہت زیادہ ہو۔ ٹھینگے والا نتیجہ خود نکال لو۔ خود بھی کچھ کیا کرو۔ بادشاہوں کی طرح فارغ نہ بیٹھے رہا کرو۔

Comments

سعود عثمانی

سعود عثمانی

سعود عثمانی منفرد اسلوب اور جداگانہ لہجے کے حامل شاعر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ 10 متفرق تصانیف و تراجم اور تین شعری مجموعے قوس (وزیراعظم ادبی ایوارڈ)، بارش (احمد ندیم قاسمی ایوارڈ) اور جل پری، شائع ہر کر قبولیت عامہ حاصل کر چکے ہیں۔۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.