بیرونی فنڈنگ کے بکھیڑے - عمران زاہد

بہت سے دوست پریشان ہیں کہ پی ٹی آئی کے لیے بیرونی فنڈنگ کیس کیوں ایک مسئلہ ہے۔ بیرونی شہری سیاسی جماعتوں کو چندہ دیتے رہتے ہیں۔ اس میں برائی ہی کیا ہے؟

برائی اور نیکی کی بحث کو چند منٹ کے لیے روک کر قانون کی متعلقہ شقوں کو مطالعہ کر لینا مفید ہوگا۔ دراصل پی ٹی آئی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002ء کی مندرجہ ذیل شقیں ہیں۔ آپ بھی پڑھیے، اس پر تبصرہ بعد میں کرتے ہیں۔

آرٹیکل 6 : ممبرشپ فیس اور مالی تعاون
سیکشن 3: سیاسی جماعتوں کے لئے کسی بھی بیرونی حکومت، ملٹی نیشنل، مقامی طور پر قائم پبلک یا پرائیویٹ کمپنی، فرم، کاروباری یا پیشہ ور ایسوسی ایشن سے، بالواسطہ یا بلاواسطہ، مالی تعاون کا حصول ممنوع ہے اور سیاسی جماعتیں صرف افراد سے چندہ حاصل کر سکتی ہیں۔

آرٹیکل13: پارٹی فنڈ کے ذرائع کے متعلق معلومات
سیکشن 1:
مالی سال ختم ہونے کے ساٹھ دن کے اندر، تمام سیاسی جماعتیں، چیف الیکشن کمشنر کے بتائے گئے طریقے کے مطابق، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے آڈٹ شدہ مالی حسابات الیکشن کمیشن میں جمع کروائیں گی۔ ان میں مندرجہ ذیل دستاویزات شامل ہیں:
ا۔ سالانہ آمدن اور خرچ
ب۔ فنڈز کے ذرائع، اور

سیکشن 2:
پارٹی سربراہ کا دستخظ شدہ ایک سرٹیفکیٹ جس میں سیکشن (1) میں بتائی گئی چیزوں کے علاوہ مندرجہ ذیل چیزوں کا اظہار ضروری ہے:
ا ۔پارٹی نے ممنوعہ ذرائع سے کوئی فنڈ حاصل نہیں کیا۔ اور یہ کہ:
ب۔ حسابات پارٹی کی درست مالی حالت کو ظاہر کرتے ہیں۔

ان دو آرٹیکلز کے علاوہ آرٹیکل 3 بھی اہم ہے جس میں سیاسی جماعتوں کی تشکیل کا ذکر ہے۔ اس میں صاف بتایا گیا ہے کہ "فارن فنڈڈ سیاسی جماعت" ممنوعات میں شامل ہے۔ فارن فنڈڈ سیاسی جماعت ایک ایسی جماعت جو کسی بیرونی حکومت یا بیرونِ ملک جماعت سے منسلک ہو یا بیرونی حکومت، پارٹی یا کسی غیر ملکی شہری سے مالی امداد وصول کرے۔

یہ بھی پڑھیں:   ترک صدر رجب طیب اردوان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تاریخی خطاب ....صبا احمد

پی ٹی آئی کے لیے اس وقت دو مسائل ہیں:
1۔ بیرونی ممنوع ذرائع سے مالی وسائل کو حصول ، جو اس قانون کے مطابق غیر قانونی ہے۔ ان ذرائع میں بھارتی اور اسرائیلی کمپنیاں اور افراد شامل ہیں۔
ان میں زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ وہ مبینہ فنڈز نمل کالج کے نام سے اکٹھے کیے گئے اور نمل کالج میں لگانے کے بجائے پی ٹی آئی میں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہوئے۔

2 ۔ پارٹی سربراہ کی طرف سے جمع کرایا گیا سرٹیفکیٹ جس میں اس چیز کی تصدیق کرنی تھی کہ ان کے مالی وسائل میں ممنوعہ ذرائع سے کوئی رقم نہیں آئی۔ عمران خان صاحب کی طرف سے ایسا ہی سرٹیفکیٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرایا گیا جو موجودہ مقدمے میں غلط ثابت ہونے کی صورت میں ان کے خلاف آئین کی دفعہ 62، 63 کے تحت صادق اور امین نہ ہونے پر نااہلی کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی لئے عمران خان صاحب کے وکیل تکنیکی بنیادوں پر اس کیس کو ناقابلِ سماعت قرار دیکر خارج کرانا چاہتے ہیں۔
:
ہم بہت دلچسپی اس مقدمے کو دیکھ رہے ہیں۔ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ ایک شخص جو ملک میں تبدیلی کا داعی ہو اور ( بے شک اسٹیبلشمنٹ کے تعاون سے ہی سہی ) دوسروں کے احتساب پر کمربستہ ہو، اپنے خلاف کیس کو کتنا ایمانداری سے لڑ سکتا ہے۔ خان صاحب عدالت میں لیت و لعل سے کام لینے کی بجائے اگر سچائی کو تسلیم کر لیں، تو یقین کیجیے دل میں ان کی رتبہ آسمان کو چھونے لگے۔ ان کے سیاسی رویوں کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ وہ سیاست میں روایتی ہتھکنڈوں کے اس مقام پر پہنچ چکے کہ وہاں سے ان کی واپسی ممکن نہیں لگتی۔