احتساب کی گولی - ریحان اصغر سید

تو بھی سادہ ہے کبھی چال بدلتا ہی نہیں
ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آ جاتے ہیں

وطن عزیز میں ایک دفعہ پھر چور چور، پکڑ لو، جھکڑ لو، جانے نہ پائے، دوبارہ آنے نہ پائے کی صدائیں گونج رہی ہیں۔ شالا نظر نہ لگے بڑے صاحبوں کو جو عوام کی محبت میں ہر چند سال بعد یہ کھیل رچاتے رہتے ہیں۔ عوام کی مستقل مزاجی بھی قابل داد ہے جو پرانی کہانی کو ہر دفعہ نئی دلچسپی سے سنتے ہیں۔

اس کھیل کے اصول و ضوابط بڑے سادہ اور دلچسپ ہیں۔ پہلے کچھ بڑے بھگوان کسی چھوٹے سیاست دان کو گود لیتے ہیں اور تب تک اس پر دست شفقت پھیرتے رہتے ہیں، جب تک وہ خود بڑا اژدھا بن کے ان کی راہ نہیں کاٹنے لگتا۔ چونکہ لوہے کو لوہا، سانپ کو سانپ اور زہر کو زہر مارتا ہے، اس لیے پرانے پاپی سے جان چھڑوانے کے لیے صادق و امین فرشتے کسی نئے رنگروٹ کو بھرتی کر کے اس کی سرپرستی شروع کر دیتے ہیں۔ پرانا کھلاڑی چونکہ بذات خود قبل از بلوغت کے زمانے میں بندہ خاکی کے لیے یہ خدمات انجام دے چکا ہوتا ہے، اس لیے وہ آثار پہچانتے ہی ظلم اور سازش کی دہائی دینا شروع کر دیتا ہے۔ یوں یہ سلسلہ ناموں کی تبدیلی کے ساتھ چلتا رہتا ہے۔

چونکہ بادشاہ کو ننگا کر کے رخصت کیے ابھی کچھ ہی دن ہی ہوئے ہیں، اس لیے آج کل بھی سیاسی گہما گہمی اور رونق میلا عروج پر ہیں اور بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو مل رہی ہیں۔ نئے بچہ جمہورا کے بچہ کارکن کافی خوش ہیں اور معصومیت سے پوچھتے ہیں کیسی سازش کون سی سازش؟ خدا کا قہر نازل ہو نونیوں پر جو فرشتہ صفت ججوں اور فرشتہ صورت جرنیلوں پر سازش کا الزام لگاتے ہیں۔ دوسری طرف نونی بھڑک کے کہتے ہیں کہ پانچ میں سے چار ججوں نے نوکری بچانے کے لیے آئین کو پامال کرنے والے کمانڈو کے پی سی او پر حلف اٹھا رکھا ہے۔ گولف کھیلنے والے یونیفارم پہن کے دکانداریاں کرتے اور مال بناتے ہیں۔ چھاج تو بولے سو بولے چھلنی کاہے کو بولے؟ سب سے بڑی بات کہ ہم خود بڑے صاحبوں کے حکم پر ان دونوں کے ساتھ مل کے کئی پاپیوں کو گھر بھیج چکے ہیں، اس لیے ہمارے سامنے پاکی دامن کی داماں کی حکایت کو اتنا نہ بڑھایا جائے، ہم سب جانتے ہیں کہ نمائشی بادشاہ کو گھر کیسے بھیجا جاتا ہے۔

ہمارا ذاتی خیال ہے نونی اپنے وزیراعظم کے نااہل ہونے سے اتنے بدحواس ہوگئے ہیں کہ جو اول فول منہ میں آ رہا ہے، بکے جا رہے ہیں، حالانکہ قوم جانتی ہے کہ ہمارے جرنیل زمینوں کے لین دین اور قبضوں پر ملوث نہیں ہیں۔ نہ یہ آئین توڑتے ہیں نہ سودوں میں کمیشن کھاتے ہیں بلکہ کرپشن کے نام سے ہی نابلد ہیں۔ فرشتہ صفت ججوں پر کیچڑ اچھالنے والوں کی بھی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ آج تک ہماری سپریم کورٹ نے ہمیشہ تاریخی فیصلے دیے ہیں۔ نظریہ ضرورت کسی بلا کا نام ہے۔ جوڈیشنل کلنگ کیا ہوتی ہے؟ لالچ اور دباؤ کے تحت فیصلے کیسے کیے جاتے ہیں۔ فوجی آمروں کو سند جواز کیسے بخشا جاتا ہے، یہ قطعا نہیں جانتے۔ ایسے پاکباز لوگوں پر تہمت لگانا کہاں کا انصاف ہے؟ جب آپ کا میڈیا، عدلیہ، ملڑی اسٹبلشمنٹ اور بیورکریسی ساری دودھ کی دھلی ہو تو اس میں کسی کرپٹ وزیراعظم کی جگہ اور گنجائش بنتی ہی نہیں تھی۔ نونیوں کو الزام تراشی کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔

جاتے جاتے ہم صد واجب الاحترام سپہ سلار اور معزز چیف جسٹس صاحب سے گزارش کریں گے کہ چونکہ جمہوری نظام کافرانہ نظام ہے جہاں بندوں کو تولنے کے بجائے گنا جاتا ہے، اور دراصل یہی نظام پاکستان کے تمام مسائل کی جڑ بھی ہے، اس لیے ہم شیخین سے درخواست کرتے ہیں کہ اس نمائشی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور ملکی سربراہ کا انتخاب شیخین، نیوز چینل اینکرز اور وکلا تنظموں کے نمائندوں کا صوابدیدی اختیار ٹھہرایا جائے۔ ملکی سربراہ کے عہدے کا نام وزیراعظم سے بدل کے بچہ جمہورا رکھا جائے۔ عہدے کی مدت زیادہ سے تین سے چار ہفتے رکھی جائے۔ اس دوران بھی اگر بچہ جمہورا سے کوئی غلطی ہو جائے تو شیخین کو اسے فورا برخاست کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔
امید ہے یہ نظام پاکستان کی تقدیر بدل دے گا۔
پاکستان پائندہ باد