تولنے پر بہت ہلکے نکلے - محمد عامر خاکوانی

یہ ڈھائی ہزار سال پہلے کی بات ہے۔ بابل کا آخری بادشاہ بیلشضر اپنے درباریوں کے ساتھ محل میں محفل نشاط سجائے بیٹھا تھا۔ یروشلم کے معبد سے لوٹے ہوئے مقدس طلائی برتنوں میں شراب پی جا رہی تھی۔ اچانک غیب سے ایک ہاتھ نمودار ہوا اور اس نے دیوار پر چند لفظ لکھے۔ بادشاہ یہ دیکھ کر خوف سے تھرتھر کانپنے لگا۔ غیبی ہاتھ نے چار الفاظ لکھے اور پھر آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔
وہ الفاظ یہ تھے:
Mene-Mene-takel-Peres.

یہ کسی اجنبی اور نامانوس زبان کے الفاظ تھے۔ بادشاہ اور درباریوں نے انھیں سمجھنے کی تمام تر کوشش کی۔ ناکام ہونے پر انہوں نے بابل کے بڑے بڑے عالموں، نجومیوں اور روحانی پیشواؤں کو بلوایا۔ شاہ نے پیشکش کی کہ جو اس عبارت کو پڑھ کر اس کا مطلب سمجھائے گا، اسے سونے میں تولا جائے گا۔ کاہن اور نجومی کوشش کرتے رہے مگر وہ ان الفاظ کا راز نہ جان سکے۔ بادشاہ کی راتوں کی نیند اڑ گئی۔ وہ ہر وقت سوچتا رہتا کہ اس غیبی ہاتھ نے آخر کیا پیغام دیا ہے۔ ایک دن ملکہ نے مشورہ دیا کہ بابل میں دانیال نامی شخص رہتا ہے جس کا جسم تو انسان کا ہے لیکن غالباً روح کسی دیوتا کی ہے، اسے بلایا جائے۔ یہ حضرت دانیال ؑ تھے، اپنے عہد کے سب سے برگزیدہ شخص۔ بادشاہ نے حضرت دانیال ؑ کو بلایا اور کہا ”سنا ہے کہ تم ہر قسم کی گتھی سلجھا لیتے ہو۔ اگر تم دیوار پر لکھی اس عبارت کا مطلب مجھے سمجھانے میں کامیاب رہے تو خلعت فاخرہ کے ساتھ تمہارے گلے میں سونے کی مالا ڈالی جائے گی اور تمہیں سلطنت کا تیسرا بڑا عہدہ بھی سونپا جائے گا“۔ حضرت دانیال ؑنے کہا کہ مجھے تمہارے سونے چاندی کی ضرورت نہیں، مگر میں یہ مسئلہ حل کر دیتا ہوں۔ انہوں نے چند لمحوں کے لیے غور کیا اور پھر بادشاہ سے کہا ”تمہارا باپ بھی اس سلطنت کا فرماں روا تھا، لیکن اس نے عیش و عشرت کا راستہ اپنا کر خود کو تباہ کر لیا۔ اب تم نے بھی اس کی پیروی کی، اسی لیے تباہی اور بربادی تمہارا مقدر ہے“۔ اس کے بعد حضرت دانیال ؑ نے بتایا ”Mene کا مطلب ہے کہ تمہاری بادشاہی کے دن پورے ہو گئے ہیں۔ Takel کا مطلب ہے کہ تمہیں کسوٹی پر پرکھا گیا، لیکن تم ناقص اور ہلکے نکلے۔ Peres سے مراد ہے کہ تمہاری سلطنت عنقریب دشمنوں میں تقسیم ہو جائے گی۔“

یہ قصہ بائبل میں بیان کیا گیا ہے۔ کہانی کے مطابق اسی رات بادشاہ قتل کر دیا گیا اور جلد ہی اس کی سلطنت دو دشمن ریاستوں کے قبضے میں چلی گئی۔ اس کہانی سے انگریزی میں ضرب المثل writing on the wall وجود میں آئی، اردو میں اسے نوشتہ دیوار (دیوار پر لکھا ہوا) کا نام دیا گیا، ویسے یہ ضرب المثل دنیا کی بہت سی زبانوں میں مختلف ناموں سے موجود ہے۔

بائبل کی کہانی تو ختم ہو چکی، مگر تاریخی قصوں کے اثرات صدیوں تک برقرار رہتے ہیں۔ پچھلے دو ڈھائی ہزار سال کی تاریخ کا جائزہ لے کر مؤرخین نے یہ نتیجہ نکالا کہ ہر سلطنت اور حکمران کو خواہ وہ جس قدر عظیم ہو، ایک نہ ایک دن ضرور نوشتہ دیوار سے واسطہ پڑتا ہے۔ مؤرخین کہتے ہیں کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب اس کا انجام واضح دکھائی دینے لگتا ہے مگر بدقسمتی سے بیشتر حکمران دیوار پر لکھے تقدیر کے اٹل اور نہ بدلنے والے فیصلے کا درست ادراک نہیں کر پاتے۔ تاریخ دان اس عمل کو تین مرحلوں میں تقسیم کرتے ہیں۔

پہلے مرحلے میں مختلف حماقتوں اور بدتدبیریوں کے باعث اقتدار پر گرفت کمزور ہونے لگتی ہے۔ غیر محسوس انداز میں معاملات حکمران کی مٹھی سے ریت کی طرح پھسلتے جاتے ہیں۔ اکثر حکمرانوں اور آمروں کو اس کا احساس نہیں ہو پاتا۔ اگر کسی کو اندازہ ہو بھی جائے تو وہ اپنی مقبولیت کی خوش فہمی میں اصلاح احوال کی زحمت نہیں کرتا۔ اس کی مثال ایسی کشتی کی طرح ہے جس کے پیندے میں سوراخ ہو گیا اور پانی آہستہ آہستہ اندر آنے لگا ہے۔ بہت بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ ماضی کی غلطیاں زیادہ توانا اور قدآور ہو کر سامنے آ جاتی ہیں۔ ان کو دبانے کی جتنی کوششیں کی جائیں، ناکامی ہوتی ہے، حتیٰ کہ یہ بھیانک خواب بن جاتی ہیں۔ چھٹکارا پانے کی ہر سعی بےسود رہتی ہے۔

دوسرا مرحلہ زیادہ شدید اور تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ ماضی کی غلطیاں کفارہ مانگتی ہیں، مگر حکمرانوں میں اتنی اخلاقی جرات نہیں ہوتی کہ اپنے ہاتھوں کیے غلط کاموں کا اعتراف کر سکیں یا پھر کوشش کر کے ان کی تلافی کریں۔ معاملات درست کرنے، غلطیوں کی اصلاح کے بجائے اکثر حکمران اپنے مخالفین کو کمزور کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ زرومال کی طاقت سے مختلف لوگ خریدے جاتے ہیں، مخالفین کو کمزور بنایا جاتا اور اپنے اتحادیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ حکمران سمجھتے ہیں کہ ہر آواز اٹھانے والے کو سونے، چاندی کی چمک دکھا کر ساتھ ملایا جا سکتا ہے۔ وہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ اس چکر میں خوشامدیوں کا ایک ایسا ٹولہ انہیں گھیر لیتا ہے جو حقائق کو چھپاتا اور گمراہ کن دلکش خواب دکھاتا ہے۔ ایسے مست خواب جو حکمران ٹولے کو فریب میں مبتلا رکھیں۔ عملی طور پر صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جاتی ہے۔ نالائق وزیر، مشیر اور بےسمجھ، نادان دوست مزید گڑ بڑ پیدا کر دیتے ہیں۔ عوام کے دلوں میں اپنے بےحس حکمرانوں کے لیے نفرت بڑھتی جاتی ہے۔ بادشاہ وقت کی حکومت پر گرفت برائے نام رہ جاتی ہے۔ اس کے وزراء اور درباری بےلگام ہو کر اپنے اپنے راگ الاپنے لگتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک سے زیادہ حکومتیں بیک وقت کام کر رہی ہیں۔ حکومتی کمزوری کا فائدہ منافع خور تاجر، ظالم جاگیردار اور دیگر بدعنوان عناصر اٹھاتے ہیں۔ یہ خاموشی سے اپنا منافع دوگنا اور چوگنا کر دیتے ہیں۔ اس سے عوامی نفرت اور غیظ و غضب کو مزید ہوا ملتی ہے۔ ایسے میں تقدیر کا غیر مرئی ہاتھ حکمرانوں کی آنکھوں کے سامنے ان کا انجام رقم کر دیتا ہے۔ تاریخ دان بتاتے ہیں کہ خال خال ہی ایسا حکمران گزرا ہے جس نے نوشتہ دیوار پڑھ کر از خود پسپائی اختیار کر لی۔ حالانکہ اسی طرح وہ اپنی حکومت تو نہیں بچا سکتے لیکن مستقبل میں آنے والی ہزیمت سے ضرور بچ پاتے۔

اس کے بعد تیسرا اور آخری مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ اب معاملات مٹی کی طرح ہاتھ سے پھسلنے لگتے ہیں، مگر ضد اور ہٹ دھرمی صورتحال کی سنگینی سمجھنے کی توفیق نہیں دیتی۔ ایسے میں بیشتر حکمرانوں کو اپنے انجام کا اندازہ ہو جاتا ہے، مگر ان کے پاس بےسود مزاحمت کے سوا کوئی اور چارہ باقی نہیں رہتا۔ ایک زمانہ تھا کہ یہ لوگ اپنا اقتدار بچانے کے لیے طاقت کا بےرحمانہ استعمال کرتے تھے، قید خانے اسیروں سے بھر جاتے اور درجنوں سربلند گردنیں تہہ تیغ ہو جاتیں۔ جدید زمانہ میں یہ نہیں ہو پاتا، مگر اس کی کمی ترغیب اور زورجواہر کی بوریوں کے منہ کھول دینے سے پوری کی جاتی ہے۔ ملک کے نامی گرامی لوگ ساتھ ملائے جاتے ہیں، لکھنے والے، قصیدہ گو، اپنی چرب زبانی سے غلط کو درست ثابت کرنے والے، مخالفین کو تیز دھار جملوں سے زخمی کرنے والے۔ ایک بھیڑ اکٹھی کر لی جاتی ہے، جس کا تمام تر زور حکمرانوں کے دفاع، ان کے اوصاف بیان کرنے میں صرف ہوتا ہے۔ یہ اور بات کہ سب بے سود رہتا ہے۔ جلد ہی وہ وقت آجاتا ہے جس کی پیش گوئی نوشتہ دیوار میں کی گئی تھی۔

ایسے بدنصیبوں کو تب علم ہوتا ہے کہ قدرت نے تو بڑا موقع دیا تھا، کروڑوں لوگوں میں سے چن کر اقتدار کی مسند پر بٹھایا۔ اپنے لوگوں کے لیے کام کرنے، ان کی زندگیاں آسان کرنے کے بجائے لالچ، حرص اور پیسوں کی ہوس نے انہیں مغلوب کر لیا۔ بیرون ممالک جائیداد، منی لانڈرنگ، بےنامی اثاثے، غیرملکی کمپنیوں میں ملازمت کے جعلی سرٹیفکیٹ اور نجانے کیا کیا کچھ .... ایک ایک کر کے یہ سب بداعمالیاں پیاز کے چھلکوں کی طرح الگ الگ ہو کر سامنے آتی جاتی ہیں۔ تب دیوار پر لکھے ہوئے کی تکمیل ہوجاتی ہے۔ تاریخ پھر یہی فیصلہ سناتی ہے کہ انہیں آزمایا گیا، تولا گیا، مگر یہ ہلکے، بہت ہلکے نکلے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.