کشمیرکی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ پر پابندی - ایس احمد پیرزادہ

جامع مسجد سرینگر ریاست جموں و کشمیر کی سب سے بڑی اور تاریخی مسجد ہے۔ تیرھویں صدی میں سلطان سکندر کے زمانے میں تعمیر ہونے والی اس مسجد کو ریاست جموں و کشمیر میں ہمیشہ مرکزیت کا مقام حاصل رہا ہے۔ ریاست جموں وکشمیر میں اُٹھنے والی آج تک کی تمام تحریکات میں جامع مسجدکا کردار نمایاں رہا ہے۔ اس اعتبار سے یہ تاریخی مسجد کشمیریوں کی مبنی برحق تمام تحریکات کی نہ صرف گواہ رہی ہے بلکہ ان تحریکات کو عوام میں مقبول عام بنانے میں بھی اس مسجد کی شاندار تاریخ ہے۔ برسراقتدار ٹولے نے ہر دور میں جامع مسجد سرینگر کو اپنے اقتدار کے لیے خطرہ تصور کیا ہے۔ اقتداری سیاست کے حریص لوگوں نے جامع مسجد سرینگر کی مرکزیت کو ختم کرنے کے لیے کیا کیا جتن نہ کیے ہیں۔ البتہ کشمیری قوم کے لیے ہمیشہ یہ مسجد اہمیت کی حامل رہی ہے۔

گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے مسلسل چھ بار اس مسجد کو جمعہ کے دن محصور رکھا گیا اور یہاں فرزندانِ توحید کو سربسجدہ ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ جمعہ کے دن جہاں ہزاروں لوگ جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے جامع مسجد کا رُخ کرتے تھے وہیں لوگوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے نوہٹہ اور شہر خاص کے علاقے میں کافی گہماگہمی بھی رہتی ہے۔ مقامی تاجران کا کاروبار بھی خوف چلتا ہے اور شہر سرینگر کے قلب کی حیثیت رکھنے والے اس علاقے میں رونق بھی آجاتی ہے۔ لیکن حکومت وقت کے بےجا حفاظتی اقدامات کے نام پر مسجد کو محصور بنانے اور لوگوں کو نماز جیسے اہم اور ضروری فریضہ سے محروم رکھنے نے پوری وادی میں اضطراب کی کیفیت پیدا کر رکھی ہے۔ میر واعظ عمر فاروق کو بھی مسجد آنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے جبکہ دوسری جانب بزرگ حریت لیڈر سید علی گیلانی2010ء سے مسلسل گھر میں نظربند ہیں اور اس پوری مدت میں اُنہیں بھی نماز جمعہ اور عیدین کی نمازیں ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

کشیدہ حالات سے زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتا ہے۔ ابتر حالات کا ادراک کرکے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق ہر کوئی فرد کسی بھی طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار بھی ہوسکتا ہے البتہ جب حالات کی آڑ میں مذہبی معاملات پر قدغن عائد کی جائے گی، جب دینی تقاضوں کو پورا کرنے کی اجازت نہ دی جارہی ہو، جب نماز جیسے ضروری اور مقدس فریضے پر پابندی عائد کردی جائے گی تو پھر یہ کہا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کے دینی معاملات میں بےجا مداخلت کی جا رہی ہے۔ ریاست جموں و کشمیر میں گزشتہ کئی برسوں سے حالات آئے روز بگڑ جاتے ہیں۔ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے حکومتی سطح پر بیشتر اقدامات کیے جاتے ہیں۔ سڑکیں اور شاہراہیں پولیس اور فوج کے سپرد کی جاتی ہیں۔ دروازوں پر پہرے بٹھائے جاتے ہیں۔ لوگوں کی آمدورفت پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ عام کشمیری یہ سب نہ چاہتے ہوئے بھی مجبوراً سہہ لیتے ہیں البتہ اب گزشتہ کئی برسوں سے حالات کا بہانہ بنا کر انتظامیہ مسلمانوں کے اجتماعی مذہبی فریضوں پر بھی پابندی عائد کر رہی ہے۔ بڑی بڑی مساجد کو جمعہ کے موقع پر بند کر دیا جاتا ہے۔ 2010ء کی تاریخی عوامی احتجاجی تحریک سے آج تک انتظامیہ کی جانب سے بار بار اس مسجد میں نماز جمعہ کا فریضہ ادا کرنے کی اجازت نہ دی گئی۔

اس تاریخی مسجد کو محصور کرنے کا آغاز سابق وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے 2010ء میں کیا، پھر موجودہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی سرکار اور انتظامیہ بھی یہی روش اختیار کیے ہوئے ہے۔ تاریخ میں شاید یہ پہلی مرتبہ ہوا ہوگا کہ اس تاریخی مرکزی مسجد میں مہینوں جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ گزشتہ مسلسل پانچ ہفتوں سے اس مسجد میں جمعہ کی اذان نہیں ہوئی۔ یہ افسوس ناک صورتحال ہے اور انتظامیہ کی ان کارروائیوں کو دینی معاملات میں مداخلت ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ اب یہاں روز کا معمول بن چکا ہے کہ لوگوں کو نماز جیسی مقدس عبادت سے روکا جا رہا ہے۔ حالانکہ مسلمانوں کے لیے جمعۃ المبارک کی عظمت و فضیلت روز روشن کی طرح آشکارا ہے۔ یہ دن بہت ہی عظمت و برکت والا ہے۔اس دن میں نماز جمعہ سے محروم رہنا ایک مسلمان کے لیے سب سے بڑی محرومی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی سیڑھیوں پر ارشاد فرمارہے تھے کہ لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور وہ غافلوں میں سے ہوجائیں گے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے ایک اور حدیث مروی ہے کہ جس شخص نے تین لگاتار جمعے بغیر عذر شرعی کے ترک کیے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر غفلت کی مہر لگا دیتا ہے۔ الغرض اسلام میں جمعہ کی نماز کو جو اہمیت ہے اُس کے پیش نظر مسلمان کبھی سوچ بھی نہیں سکتا ہے کہ وہ نماز جمعہ کو ترک کرے یا اُس سے یہ نماز چھوٹ جائیں۔ یہاں حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ بڑی ہی آسانی کے ساتھ انتظامیہ اور اُن کی ایماء پر کام کرنے والی مختلف ایجنسیاں مسلمانوں کے اس مقدس مذہبی فریضے پر ہی پابندی عائد کردیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانا کا آزادی مارچ 27 اکتوبر ہی کو کیوں؟

آج کل یہاں امرناتھ یاترا ہو رہی ہے، لاکھوں ہندو وارد کشمیر ہوجاتے ہیں اور یہاں پہل گام یا سونہ مرگ کے راستے امرناتھ گھپا کا درشن کرنے کے لیے جاتے رہتے ہیں۔ اس یاترا کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ 90ء کی دہائی میں یہ محض پندرہ دنوں پر محیط ہوتی تھی اور اس میں زیادہ سے زیادہ چند ہزار لوگ شریک ہوجاتے تھے، حالانکہ فرقہ پرست طاقتیں روز اول سے ہی اس یاترا کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی تاک تھے۔ فرقہ پرستوں کی اس خواہش کو حقیقت کا روپ دینے میں سب سے پہلے ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے اُس وقت آسانی پیدا کی جب اُنہوں نے یاترا کے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دینے اور اس کا نظم و نسق چلانے کے لیے امرناتھ شرائن بورڈ کو جنم دیا۔ پھر سابق گورنر ایس کے سنہا نے یاتراسے چن چن کر مقامی لوگوں کو الگ کردیا، اُنہوں نے اس کی مدت پندرہ دن سے بڑھا کر دو مہینے تک کردی، یاتریوں کے لیے تمام تر ساز و سامان باہر سے منگوایا حتیٰ کہ اُنہوں نے ناجائز طریقے سے جنگلاتی زمین شرائن بورڈ کے نام کروائی تھی جس پر 2008 ء میں یہاں زبردست عوامی احتجاجی مہم چھڑ گئی۔ یاترا کی مدت کو طویل کرنے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کا وادی کے اس چھوٹے سے حصے میں جمع ہونے نے جب یہاں کے ماحول کو بری طرح سے متاثر کرنا شروع کر دیا تو محکمہ ماحولیات کے ماہرین نے کئی رپورٹیں پیش کرکے حکومت کو خبردار کردیا کہ اگر پہلگام اور سونہ مرگ کی پہاڑیوں پر لوگوں کی آمد رفت کو محدود نہ کردیا گیا تو آنے والے برسوں میں یہاں کا ماحول بری طرح سے متاثر ہوجائے گا۔ گلیشر پگل جائے گے اور موسمی حالات بد سے بدتر ہوجائیں گے جس سے کشمیر کی پوری آبادی متاثر ہوسکتی ہے۔

جب سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے محکمہ ماحولیات کی اس وارننگ کے پیش نظر یاترا کی دورانِ مدت کم کرنے کے ارادوں کا اظہار کردیا توگویا ایٹم بم پھٹ گیا ہو، پورے ہندوستان نے آسمان سر پر اُٹھا لیا۔ ہفتوں ٹی وی مباحثے کیے گئے، کشمیری قوم کو نسل پرست اور مذہبی انتہا پسندی کے طعنے دیے گئے۔ حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ یاترا کا دورانہ بڑھانا فرقہ پرست طاقتوں کا سیاسی فیصلہ تھا اور اس دورانیے کو کم کرنے سے ہندوؤں کے مذہبی جذبات کسی بھی طرح سے مجروح ہونے کا کوئی احتمال نہیں تھا۔ یہ فیصلہ ماحولیات پر پڑنے والے برے اثرات کو مدنظر رکھ کیا جارہا تھا۔ دباؤ اس قدر بڑھایا گیا کہ بعد میں مفتی سعید کی یہ ہمت ہی نہ ہوئی کہ وہ یاترا کے دورانیہ کو کم کرنے کے بارے میں ایک لفظ بھی بول پائے۔ یاترا کے نام پر ہندو فرقہ پرست من مانیاں کررہے ہیں اور کسی میں ہمت ہی نہیں ہوتی کہ وہ اس یاترا کو ہندوتواکے سیاسی اثرورسوخ سے آزاد کراسکے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک جانب مذہبی جذبات کو ابھار کرسیاسی مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں جبکہ دوسری جانب کشمیر میں مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں بے جا مداخلت کرکے سنگین جرم کا ارتکاب کیا جارہا ہے۔جموں سے سرینگر، بٹوٹ سے کشتواڑ، بھدواہ، جموں سے راجوری کا سفر کریں جگہ جگہ سرکاری زمین پر نئے نئے مندر تعمیر کیے جارہے ہیں۔ جن جگہوں پر چند سال پہلے کوئی مندر نہیں تھا وہیں پراسرار حالات میں مندر تعمیر کیے جارہے ہیں۔ یہ تعمیرات سرکاری اور جنگلاتی اراضی پر ہورہی ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔یہ تہذیبی اور فرقہ پرستی کی یلغار ہے جس پر سب آنکھیں موند رہے ہیں، اگر کوئی بات کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اُس پر ہندووں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کا الزام لگ جاتا ہے۔ اس کے برعکس مسلمانوں کی آباد مساجد پر تالے چڑھا کر اُنہیں مذہبی فریضے کی انجام آوری سے باز رکھا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا - قادر خان یوسف زئی

مسجد اقصیٰ میں جب اسرائیل، فلسطینی مسلمانوں کو نماز ادا کرنے سے روکتا ہے اور اُن پر گولیاں چلا کرنہتے فلسطینیوں کو خون میں نہلاتا ہے تو پورا عالم اسرائیل کی ان دین اور انسانیت دشمن کارروائیوں پر اُن کی شدید الفاظ میں مزاحمت کرتا ہے۔ اسرائیل کھلے عام مسلمانوں کو اپنا دشمن تصور کرتا ہے، اس کے برعکس ہندوستان سیکولراور جمہوری اسٹیٹ کا دعویٰ کرتا ہے، اس ملک میں کروڑوں مسلمان رہتے ہیں، متنازعہ ریاست جموں وکشمیر میں حکمران اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لیکن اسرائیلی طرز پر یہاں کی تاریخی مسجد میں لوگوں کو جانے سے روکا جارہا ہے۔ نماز جیسے مقدس فریضے پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔اس پر دنیا بالخصوص عالم اسلام کوآواز بلند کرلینی چاہیے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ مسلم دنیا کے امیر ترین ممالک صہیونیوں اور صلیبیوں کو تحفے اور تحائف فراہم کرنے میں لگے ہوئے ہیں، جس سرزمین کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک جیسی لعنت سے پاک کیا ہے اُس سرزمین پر وہاں کے حکمران بڑے بڑے بت خانے تعمیر کروانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ اُنہیں اپنے اقتداری مفادات نے اس قدر غافل کردیا ہے کہ اُنہیں کشمیر کے مسلمانوں پر ہورہے ظلم و زیادتی اور یہاں مذہبی معاملات میں ہورہی مداخلت دکھائی ہی نہیں دے رہی ہے۔کشمیر میں جتنے بھی دینی حلقے ہیں، خصوصاً علماء دین کو اس مرتبہ اپنی خاموشی توڑنی چاہیے۔ مصلحت اور حکمت سے کنارہ کشی اختیار کرکے اُنہیں ریاستی سطح کے جید علماء کرام کا اجلاس طلب کرلینا چاہیے اور حکومت کی جانب سے دینی معاملات میں مداخلت کے اس رحجان پر اُنہیں ٹوکنے کی ضرورت ہے، اُن پریہ واضح کرنا وقت کا تقاضا ہے کہ اسلام میں مساجد پر تالا چڑھانا اور لوگوں کو نماز سے روکنا اللہ کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہے۔ علماء دین کو عوام کی رہنمائی کرنے کے ساتھ ساتھ ظالم کا ہاتھ بھی پکڑنا ہے۔ یہ اُن کی منصبی ذمہ داری ہے۔

لوگوں کو نماز سے روکنا اورمسجدوں پر پہرے بٹھانے سے حالات بہتر ہونے کے بجائے ابتر ہی ہوسکتے ہیں۔ جان بوجھ کر نئی نسلوں میں یہ احساس پیدا کیا جارہا ہے کہ اُنہیں یہاں کھلی فضا میں سانس لینے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی وہ مذہبی فرائض انجام دے سکتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک رحجان ہے اس سے ذہنی طور پر پورا سماج متاثر ہوسکتا ہے۔ احساس محرومی پیدا ہوجائے گی، جس کے نتیجے میں نفرت جنم لے سکتی ہے اور نفرت کو دلوں سے نکالنا پھر آسان نہیں ہوتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ انتظامیہ میں جتنے بھی لوگ پالیسیاں ترتیب دیتے ہیں وہ اس بات کو سمجھ لیں کہ لوگوں کو نماز پڑھنے سے روکنا اور مسجدوں کو بند کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، نہ اس طریقہ کار سے حالات ٹھیک ہوسکتے ہیں او رنہ ہی امن و قانون کی صورتحال پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ مسائل کو سمجھنے کی کوشش کی جانی چاہیے، لوگوں کے خواہشات کا احترام کیا جانا چاہیے، اُن کے حقوق کا پاس و لحاظ رکھا جانا چاہیے تب جاکے مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ بصورت دیگر ان نقلی اقدامات میں پائیداری نہیں رہے گی بلکہ جتنا عوام کو دبایا جائے گا اُتنا ہی شدت کے ساتھ اُن کے جذبات میں اُبال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔جتنا جلد وقت کے حکمران اس بات کو سمجھ لیں گے اُن کے لیے بہتر رہے گا۔

Comments

ایس احمد پیرزادہ

ایس احمد پیرزادہ

ایس احمد پیرزادہ کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے، مقامی اخبارات میں کالم لکھنے کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی کشمیر کے لیے مقدور بھر کوشش کر رہے ہیں۔ دلیل کےلیے وادی کے حالات پر لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.