بحثیت قوم سوچنا پڑے گا – غازی سعید

اگر ہم بحیثیت قوم اپنا جائزہ لیں اور دیگر قوموں سے اپنا موازنہ کریں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگی کہ ہم پاک سرزمین کے رہنے والے 70 سال سے ذلتوں کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ مزید 30 سال بھی ہمیں اس سے نکال پائیں گے۔ کیوں؟ کیونکہ قومیں اپنے مقدر کا فیصلہ خود کرتی ہیں اور زندہ قوموں کی سب سے بڑی دلیل ان کے سربراہ اور حکمران ہوتے ہیں، جنہیں وہ منتخب کرکے ایوانوں میں بھیجتے ہیں۔

اگر ہم مغرب کی طرف نہ بھی دیکھیں تو ترکی کی صورت میں ہمارے سامنے ایک جیتا جاگتا نمونہ ہے۔ ہمارے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ترکی کو طیب اردوغان کی صورت میں ایک ایسا رہنما ملا ہے جس نے ان کی تقدیر بدل ڈالی ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ طیب اردوغان کسی دوسری دنیا سے نہیں آئے بلکہ ووٹ کی طاقت سے ہی اس مقام تک پہنچے ہیں اور استنبول کی گلیاں اس کی گواہ ہیں۔ جب انہیں اس شہر کا میئر منتخب کیا گیا تو انہوں نے اسے بہاروں اور پھولوں کی بستی بنا دیا۔ وہ دلوں کے بادشاہ اور عوام کے خادم بنے، آف شور کمپنیوں یا اقاموں کے چکر میں نہيں پڑے۔ اپنی پہلی ذمہ داری میں اس طرح کامیاب اترے کہ استنبول خوبصورت، صاف ستھرا اور روشنیوں کا شہر بن گیا۔ عوام اتنے اندھے بھی نہيں ہوتے جتنا انہیں سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے ہیرو کو پہچاننے میں ذرا بھی غلطی نہ کی اور پھر اپنی قسمت کے فیصلے ان کے ہاتھ میں دے دیے۔ پھر طیب اردوغان نے اس قرض کو اس طرح چکایا کہ آج ترکی ایک غیرت مند، بہادر اور خوش قوم ہے اور اقوام عالم میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔

اس کے برعکس ہم عیاروں اور مکاروں کی غلامی پر راضی ہیں، نظریات نہیں، کردار نہیں بلکہ شخصیات کے پجاری۔ ایسے بے رحم، سنگدل، عیاش اور بدعنوان چوروں کے پیچھے جو نسلوں سے ہمارا خون چوس رہے ہیں اور ہم اندھے ہوکر ان کی غلامی پر فخر محسوس کر رہے ہیں۔

ہمیں ان اژدہوں کا خاتمہ کرنا ہے اور اپنے درمیان کسی طیب اردوغان کو پہچاننا ہے۔ نہ قوم کی بیٹیوں کو سڑکوں پر نچانے والا ہمارا رہنما ہو سکتا ہے اور نہ ہی نسلوں سے اس ملک پر مسلط خاندان، نہ ہی پانامہ و اقامہ کی کالک سے سیاہ چہرے ہماری قسمت بدل سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے درباری غلام اور بیوپاری! اس ملک کے لیے خوشحالی کی نوید اگر ہے تو وہ صادق و امین قیادت ہی ہے۔ اگر ہم نے بحیثیت قوم ایسے لوگوں کو نہ پہچانا تو مستقبل میں بھی سلگتے انگارے ہی ہمارا مقدر ہوں گے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com